کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ ؟

مدارس کے فارغین کو عصری تعلیمی اداروں سے استفادہ کرتے ہوئے عصری علوم کو حاصل کرنا چاہئے یا نہیں ؟ اس میں علماء و اربابِ دانش کے درمیان فکر و نظر کا اختلاف پایا جاتا ہے ، ایک گروہ کا خیال ہے کہ دینی مدارس کے فارغین کو عصری دانش گاہوں میں شریک نہیں ہونا چاہئے ، اِس کے دو نقصانات ذکر کئے جاتے ہیں ، ایک یہ کہ اس سے دینی خدمت کے میدان میں افراد کم ہوجائیں گے اور مدارس کا جو بنیادی مقصد ہے وہی حاصل نہیں ہوسکے گا ، دوسرے : جب مدارس کے یہ فارغین عصری درسگاہوں میں جائیں گے تو وہ وہاں کے ماحول سے متاثر ہوجائیں گے ، اُن کی وضع قطع تبدیل ہوجائے گی اور وہ اصل ڈگر سے ہٹ جائیں گے ، یہ دونوں باتیں بے اصل نہیں ہیں ؛لیکن موجودہ حالات میں طلبہ کی اتنی بڑی تعداد مدارسِ اسلامیہ سے فارغ ہورہی ہے کہ اُن کو جگہ نہیں مل پاتی ؛ بلکہ بعض دفعہ تو غول کا غول بڑے شہروں میں ملازمت کی تلاش میں مدرسوں اور مسجدوں کا چکر لگاتا ہوا نظر آتا ہے اور جب جگہ فراہم نہیں ہوتی ہے تو سخت مایوسی کا شکار ہوتا ہے ، اُن میں سے کچھ تو چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگ جاتے ہیں ، کچھ ہمت ہارکر بے دلی کے ساتھ کمیٹیوں کے تحت ایک طرح کی غلامی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور کچھ اور — جو کسی قدر ذہین و باصلاحیت ہوتے ہیں — بے ضرورت مدرسہ کھول کر بیٹھ جاتے ہیں ، بچوں کی تعداد اتنی کم ہوتی ہے کہ اگر ایسے دس مدرسوں کو جمع کردیا جائے تب بھی طلبہ کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوسکے ، گذشتہ دنوں مجھے ایک ایسے شہر جانے کا موقع ملا جہاں چھ سات منزلہ بلڈنگ تھی اور اس میں سے ایک ایک منزل میں تین مدرسے قائم تھے ، ظاہر ہے کہ کسی واقعی ضرورت کے بغیر قائم ہونے والے یہ مدارس اُمت پر بوجھ ہیں اور بہت سی دفعہ یہ مدارس کے بارے میں بدگمانی کا سبب بھی بنتے ہیں ؛ اس لئے آج سے تیس چالیس سال پہلے تک تو یہ بات کہی جاسکتی تھی کہ اگر مدارس کے فضلاء دوسرے کاموں میں مشغول ہوگئے تو دینی خدمت گذاروں کی کمی ہوجائے گی ؛ لیکن اب یہ صورت حال نہیں ہے ، رہ گیا دیہاتوں میں معلمین کا دستیاب نہیں ہونا تو یہ علماء کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے ؛ بلکہ اس لئے ہے کہ دیہاتوں میں سہولتوں کے مہیا نہ ہونے ، حق الخدمت کے ناقابل بیاں حد تک کم ہونے اور خود فضلاء میں داعیانہ جذبہ مفقود ہونے کی وجہ سے علماء و ہاں جانے کو تیار نہیں ہیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ عصری دانش گاہوں میں جانے والے بہت سے فضلاء مدارس اپنی اس پہچان کو قائم نہیں رکھ پاتے ، جو مدرسہ کی تعلیم و تربیت کی بنیاد پر انھیں حاصل ہوئی تھی ؛ لیکن اس سلسلہ میں خود مدارس کو غور کرنا چاہئے کہ اُن کے طریقہ تعلیم و تربیت میں کیا کمی ہے کہ وہ اپنا رنگ دوسروں پر ڈالنے کے بجائے خود دوسروں کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں ؛ حالاںکہ جو نوجواں دینی جماعتوں اور تحریکوں سے مربوط ہوتے ہیں وہ بہت جلد اپنے فکر و عمل میں اس درجہ پختہ ہوجاتے ہیں کہ ان پر مخالف ماحول کی کوئی آنچ نہیں آتی ، دوسرے : اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ عصری تعلیمی اداروں میں بھی ایسے اہل علم کی ضرورت ہے ، جو دین سے واقف ہوں ، اِس کی ضرورت پرائمری سطح سے لے کر یونیورسیٹیوں تک ہے ، اگر مدارس کے فضلاء کو اس میدان میں خدمت کا موقع مل جائے خواہ سرکاری ادارے ہوں یا پرائیوٹ ، تو ان کی تعلیم و تربیت طلبہ پر بہتر اثر ڈالتی ہے ، ہندوستان کی بعض یونیورسیٹیوں میں آج سے پچاس سال سے پہلے کمیونسٹ اور بے دین اساتذہ کا غلبہ تھا ، اسلامک اسٹیڈیز میں ایسے اساتذہ اسلامیات پڑھاتے تھے جو برملا قرآن و حدیث کا انکار کرتے تھے اور اسلام کے بارے میں طلبہ کے ذہن میں زہر گھولتے تھے ؛ لیکن گذشتہ کم از پچیس سالوں سے یہ صورت حال بدل چکی ہے اور اب عصری جامعات میں مدارس کے علماء نمایاں مقام حاصل کررہے ہیں ، یہاں تک کہ بعضوں نے آئی ، اے ، ایس اور آئی ، پی ، ایس بننے میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں ، ان میں سے بعض تو اپنی دینی وضع قطع کے ساتھ مخالف ماحول میں خدمت کررہے ہیں اور بعض وہ ہیں جو اگرچہ اپنی اس روایتی شناخت پر قائم نہیں رہ سکے ؛ لیکن کم سے کم ان کی وہ سوچ باقی رہی ، جو وہ مدارس سے لے کر گئے تھے ، اس کے نتیجے میں اِلحاد اور بددینی کی فضا دور ہوئی ، آج مختلف اقلیتی یونیورسیٹیوں میں اِس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں ، جو لوگ اتنے کمزور کردار اور کوتاہ فکر کے حامل ہوں کہ عوام کی ناک کی طرح اُن کی شکل بدلتی رہتی ہو ، اگر عصری اداروں میں نہ جائیں اور مدرسہ و مسجد کے علاوہ زندگی کے کسی اور شعبہ چلے جائیں ، تب بھی ان کا یہی رویہ سامنے آتا ہے ۔
اس لئے دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مدارس کے فضلاء کو دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی سہولت کے لحاظ سے عصری تعلیمی اداروں سے بھی استفادہ کی کوشش کرنی چاہئے ، خود تحریک مدارس کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے سر سید احمد خاں مرحوم کو خط لکھا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ مدرسہ عربیہ دیوبند سے تعلیم حاصل کرکے طلبہ علی گڑھ جائیں نیز آپ نے سرسید احمد خاں کی خواہش پر اپنے داماد عبد اللہ انصاری کو شعبہ دینیات کے ذمہ دار کی حیثیت سے وہاں بھیجا تھا ؛ اِس لئے معتدل رائے یہی ہے کہ جن فارغین مدارس کو فراغت وقت میسر ہو ، مالی استطاعت ہو اور مزید حصولِ علم کی پیاس ہو تو وہ اِس نیت سے عصری تعلیمی اداروں سے استفادہ کریں کہ وہ اِسے کسب ِمعاش کے ساتھ ساتھ کسب ِمعاد کا اور خدمت ِدنیا کے ساتھ ساتھ خدمت ِدین کا بھی ذریعہ بنائیں گے ۔
اِدھر کچھ عرصہ سے مدارس کے فضلاء مزید حصولِ تعلیم کے لئے عصری جامعات کا رُخ کررہے ہیں ، عام طورپر ان کا داخلہ شعبہ اسلامک اسٹیڈیز ، شعبہ عربی اور شعبہ اُردو میں لیا جاتا ہے اور اپنے سابقہ تعلیمی پس منظر کی وجہ سے وہ اِن شعبوں میں امتیازی مقام حاصل کرتے ہیں ، بعض اوقات یہ اُن کے لئے روزگار کا وسیلہ بھی بن جاتا ہے اور اس سے خود اُن کی ذات اور خاندان کو فائدہ پہنچتا ہے ؛ لیکن اُن کی یہ تعلیمی کاوش اسلام اور مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی ، اگر اُن کا داخلہ دوسرے تعلیمی شعبوں جیسے قانون ، معاشیات ، میڈیا ، تاریخ وغیرہ میں ہونے لگے تو اس سے اُن کو بھی فائدہ ہوگا اور قوم و ملت کو بھی ، وہ اِن شعبوں میں اسلام اور مسلمانوں کی ترجمانی کرسکیں گے ، جو غلط فہمیاں اسلام کے خلاف پھیلائی جارہی ہیں ، اُن کو دُور کرسکیں گے اور آئندہ اگر انھیں اِن ہی شعبوں میں تدریس کا موقع مل گیا تو وہ ایک بصیرت مند مسلمان قانون داں ، مسلمان صحافی اور مسلمان ماہر معاشیات وغیرہ تیار کرسکیں گے ، یہ یقینا ایک بڑا کام ہوگا ؛ لیکن یہ فضلاء اِن شعبوں میں کس طرح داخلہ لیں اور ان نامانوس مضامین کو کیوںکر پڑھیں ؟ اُس کے لئے برج کورس کا ایک طریقہ کار سوچا گیا ، اب حکومت مختلف اقلیتی یونیورسیٹیوں میں ایسے برج کورس کا راستہ کھول رہی ہے ؛ تاکہ مدارس کے فضلاء کو خصوصی تعلیم و تربیت کے ذریعہ دوسرے شعبوں میں داخلہ کے لئے تیار کیا جائے اور وہ امتحان پاس کرکے اِن شعبوں میں داخل ہوں ، یہ ایک بہتر قدم ہے اور اگر اِس کا صحیح استعمال ہوتو اس کا اچھے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
چنانچہ ملک کی پہلی اقلیتی یونیورسٹی ’’ مسلم یونیور سٹی علی گڑھ ‘‘ —جس کی ایک روشن تاریخ اور تعلیمی خدمت کا زبردست ریکارڈ ہے — نے بجاطورپر ’ برج کورس ‘ کے قیام میں پیش قدمی کی اور وہاں مدارس کے فضلاء داخلہ لینے لگے ، جو لوگ دینی وعصری تعلیم کے امتزاج کے سلسلے میں معتدل فکر رکھتے ہیں اور وسیع اُفق میں اسلام کی ترجمانی اور نئی نسل کی تربیت اور ذہن سازی کے بارے میں سوچتے ہیں ، ان کے لئے یقینا یہ خبر بڑی خوش آئند تھی ؛ لیکن افسوس کہ بقول علامہ اقبالؒ :
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر

لب ِخنداں سے نکلی جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
میں سمجھتا تھا کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما

لے کے آئی ہے مگر تیشہ فرہاد بھی ساتھ
بجائے اِس کے کہ دین دار ماہرین فن کے ذریعہ اِن فضلا کی تعلیم و تربیت کی جاتی ، وہاں ایک ایسے صاحب کو اِس کام پر مامور کردیا گیا جن کا نام ’’ شاذ ‘‘ ہے اور جو واقعی اسم بامسمیٰ ہیں ، ان کی فکر ’ الف ‘ سے ’ ی ‘ تک شذوذ ، تفرد ، توارت سے بغاوت اور سلف ِصالحین کے مسلمات سے انکار بلکہ اُن کی بے توقیری پر مبنی ہے ، اِس کی تفصیل یہ ہے کہ دین کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت ِرسول پر ہے ، قرآن مجید متن ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے اور حدیث پیغمبر کی زبان اور عمل سے قرآن مجید کی تشریح ہے ، خود قرآن نے آپ کے شارحِ قرآن ہونے کی حیثیت کا ذِکر کرتے ہوئے فرمایا ہے ’’ وَأَنْزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیَّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ‘‘ ( النحل : ۴۴) اور پھر آپ کی یہ تشریحات آپ کی طرف سے نہیں ہیں ؛ بلکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں ؛ کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کے بیان کی ذمہ داری بھی لی ہے : ’’ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘‘( القیامۃ : ۲۰) تو قرآن ہی کی طرح بیان قرآن یعنی حدیث بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے ، اسی لئے ارشاد فرمایا گیا : ’’ کہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں ، اپنی طرف سے نہیں فرماتے ؛ بلکہ وحی الٰہی کی بناپر فرماتے ہیں : ’’ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَویٰ ، اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی‘‘(النجم : ۳-۴) یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ جو کچھ تلاوت کرتے ہیں ، وہ اللہ کی وحی کی بناپر ، اگر ایسا کہا جاتا تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ صرف قرآن اللہ کی طرف سے ہے ، جس کی تلاوت کی جاتی ہے ؛ بلکہ فرمایا گیا کہ آپ جو کچھ بھی بولتے ہیں ، یہ سب اللہ کی طرف سے وحی ہے ، خواہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر الفاظ اُتارے ہوں جیساکہ قرآن مجید ہے ، یا اللہ تعالیٰ نے آپ ا کے سینے پر اپنی مرضیات کا القا کیا ہو اور آپ نے اُس کو اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہو ، جیساکہ حدیثیں ہیں ؛ اسی لئے حکم ربانی ہو ا کہ رسول جو کچھ بھی عطا فرمائیں ، اُسے قبول کرو اور جن باتوں سے بھی روک دیں ، اُن سے بچو ، خواہ یہ حکم اور ممانعت قرآنِ کریم مذکور ہو یا نہ ہو: ’’ مَا اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْ‘‘ ( الحشر : ۷) اِس لئے یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن مجید کے بیشتر احکام پر رسول اللہ ا کی وضاحتوں کو نظر انداز کرکے عمل نہیں کیا جاسکتا ۔
آپ ا نے دین کی وضاحت اپنے قول سے بھی فرمائی ہے اور عمل سے بھی ، جن لوگوں نے آپ کے اقوال کو اپنے کانوں سے سنا ہے ، اور جن باتوں کو سمجھنے میں دشواری ہوسکتی تھی ، اُن کے بارے میں استفسار کیا ہے ، نیز آپ کے ایک ایک عمل کو سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے اور آپ کی خاموشی سے کسی قول یا فعل پر آپ کی رضامندی کو محسوس کیا ہے اور پھر قرآن مجید اور رسول اللہ ا کے فرمودات و معمولات کو لوگوں تک پہنچایا ہے وہ ہیں اصحابِ رسول ، اُن کے ارشادات حدیث کے لئے شرح و وضاحت کا درجہ رکھتے ہیں اور گویا حدیث رسول ہی کا ایک حصہ ہیں ؛ اِسی لئے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے بعد بہت سارا اختلاف دیکھوگے ، اُس وقت وہ لوگ حق پر ہوں گے ، جنھوںنے میرا اور میرے صحابہ کا طریقہ اختیار کیا ہوگا : ’’ ما انا علیہ واصحابی‘‘ (ترمذی ، ابواب الایمان ، حدیث نمبر : ۲۶۴۱) نیز آپ کا ارشاد ہے کہ تم اُس طریقے کو اختیار کرو ، جو میرا اورمیرے خلفاء راشدین کا ہے ، ’’ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین‘‘ (ترمذی ، ابواب العلم ، حدیث نمبر : ۲۶۷۲) اِس طرح کتاب اللہ ، سنت ِرسول اور صحابہ کے وہ اقوال جو صرف اُن کے اجتہاد پر مبنی نہ ہوں اور جن میں عقل و قیاس کا دخل نہ ہو ، ایک اکائی کا درجہ رکھتے ہیں ، اِن میں سے ایک پر دوسرے کو چھوڑ کر مکمل عمل ہو نہیں سکتا ، نہ قرآن پر پورا پورا عمل کیا جاسکتا ہے ، اگر حدیثیں نظر انداز کردی جائیں ، اور نہ منشاء نبوی کو پوری طرح سمجھا اور عمل میں لایا جاسکتا ہے ، اگر صحابہ کی توضیحات سے صرفِ نظر کرلیا جائے ۔
قرآن و حدیث میں بعض اُمور کو اِس درجہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اُن کا ایک ہی معنی متعین ہے ، عام طورپر اُن کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ؛ لیکن کچھ احکام ایسے الفاظ میں دیئے گئے ہیں ، جن میں ایک سے زیادہ معنوں کی گنجائش ہے ، ایسے مسائل میں بعض وہ ہیں جن پر خود اُمت کا اتفاق ہے ، اِس اتفاق کو اصطلاح میں ’ اجماع ‘ کہتے ہیں ، یہ بھی شریعت کی ایک اہم دلیل ہے ؛ کیوںکہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت کسی غلط بات پر مجتمع نہیں ہوسکتی : ’’ لا یجتمع أمتی علی ضلالۃ‘‘ (ترمذی ، ابواب الفتن ، حدیث نمبر : ۲۱۶۷) اور یہ بات عقل میں بھی آتی ہے کہ کسی بات پر تمام اہل علم کا متفق ہوجانا کسی بنیاد و دلیل کے بغیر نہیں ہوسکتا ؛ اس لئے یہ بھی دین میں حجت ہے اور اس سے آیات و احادیث کی غلط معنی آفرینی ، دور اذکار تاویل اور ہوا ہوس پر مبنی تشریح کا دروازہ بند ہوتا ہے ۔
کتاب و سنت ، آثار صحابہ اور اُمت کی اجماعی و اتفاقی آرا کو سامنے رکھ کر اور جن آیات و احادیث میں ایک سے زیادہ معنوں کا احتمال تھا ، یا رسول اللہ ا کے مختلف افعال کا موقع و محل واضح نہ ہونے کی وجہ سے بظاہر تعارض تھا ، یا اُن کا صریحاً کتاب و سنت میں ذکر نہیں ہے اور غور و فکر کی مختلف جہتیں اُن کے سلسلہ میں موجود ہیں ، اُن سب کو سامنے رکھتے ہوئے اُمت کے معتبر ، بالغ نظر ، خشیت ِالٰہی سے مامور مخلص اور دیدہ ور علماء نے عام مسلمانوں کی سہولت کے لئے زندگی کا پورا نظام مرتب کیا اور جن مسائل کا تعلق اعتقادات و ایمانیات سے تھا ، اُن کو علم کلام کا نام دیا گیا اور اُن سے شغف رکھنے والے متکلمین کہلائے ، اور عملی زندگی کے احکام و قوانین کو ’’ فقہ ‘‘ کا نام دیا گیا اور اس کی خدمت کرنے والے فقہاء کہلائے ، نیز جن لوگوں نے قرآن و حدیث کی اخلاقی تعلیمات اور تزکیہ نفوس سے متعلق اُمور کو جمع کیا اور اُن کو سامنے رکھ کر افراد کی تربیت کی ، اُن کو صوفیاء کہا گیا اور اُن کے اس علم کو ’’ تصوف ‘‘ کا نام دیا گیا ، اس میں شبہ نہیں کہ تصوف میں بعد کے دین ناآشنا لوگوں نے بعض عجمی تصورات و رواجات کو اپنا لیا ، جو درست نہیں ہے ؛ لیکن بہتر حال وہ اپنی اصل کے اعتبار سے اسلامی اخلاق ہی کی مرتب شکل ہے اور اسی لئے اِس کو ’’ علم الاخلاق‘‘ بھی کہتے ہیں ؛ لہٰذا کلام ، فقہ اور بدعات و بے جا رسومات سے پاک تصوف دراصل قرآن و حدیث ہی کی عملی صورت گری سے عبارت ہے ، یہ ایک ایسی مرتب اور منضبط شکل ہے کہ اُس کے ذریعہ دین کے تمام شعبوں پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔
جناب راشد شاذ صاحب بہ مشکل قرآن مجید کے کتاب الٰہی ہونے کا اقرار کرتے ہیں ؛ لیکن حدیث رسول کے منکر ہیں ، صحابہ کے اقوال و افعال کی اُن کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ، اُمت کے اجماع اور اتفاق کو حجت ماننا اُن کے نزدیک ایک غلط مفروضہ ہے اور جب دین کے یہ بنیادی ماٰخذ اُن کی نظر میں غیر معتبر اور ناقابل تسلیم ہیں تو ظاہر ہے کہ علم کلام ، فقہ اور تصوف کا ان کے یہاں کیا گذر ہوگا وہ تو اُن کی نظر میں دریا بُرد کردیئے جانے کے لائق ہے ، اس لئے وہ اپنی کتابوں میں قدم قدم پر ایمان و عقیدہ کی تشریح کرنے والے متکلمین ، قرآن مجید کی شرح ووضاحت کا فریضہ ادا کرنے والے مفسرین ، اجتہاد و استنباط کے ذریعہ عملی زندگی سے متعلق احکام مرتب کرنے والے فقہاء نیز صوفیا اور سلف صالحین کا استہزا کرتے ہوئے خوب محظوظ ہوتے ہیں ، اُن کو مطالعہ تاریخ بھی انھیں یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں سب سے بُری قوم مسلمان ہیں ، اِس اُمت کی بد اعمالیاں ، بد اطواریاں اور کوتاہیاں اُن کی نگاہوں کے سامنے اِس طرح ہیں کہ گویا دوپہر کی دُھوپ ؛ لیکن اس اُمت کی اخلاقی خوبیاں اور اُن کے علمی و فکری کارنامے ان کی نظر میں اتنے کم ہیں کہ دور بیں کی آنکھوں سے بھی نظر نہیں آئیں ۔
یہ جو میں نے عرض کیا کہ وہ قرآن کے کتاب ِالٰہی ہونے کا بمشکل اقرار کرتے ہیں ، یہ ’’ بمشکل ‘‘ کا لفظ بے وجہ نہیں ہے ، وہ قرآن مجید کے کتاب الٰہی ہونے کا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تشریح و تفسیر میں ایسی بے جاتاویل و توضیح کی راہ اختیار کرتے ہیں ، جو گذشتہ چودہ سال کے عرصہ کے سلف صالحین کی تشریح سے یکساں مختلف ہے ، قرآن مجید ابدی کتاب ہے اور قیامت تک کی انسانیت کی ہدایت کے لئے ہے ؛ لیکن شاذ صاحب کی خنجر بے داد سے قرآن مجید کی یہ حیثیت بھی محفوظ نہیں رہ سکی اور وہ قرآن کے بعض احکام کو رسول اللہ ا کے عہد کے لئے مخصوص مانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اب یہ احکام تبدیل کردیئے جائیں ، جیسے قرآن نے بیٹیوں کے مقابلہ بیٹوں کا حصہ دوہرا رکھا ہے ؛ کیوںکہ خاندان کی ساری مالی ذمہ داریاں بیٹوں پر رکھی گئی ہے اور بیٹیوں کو اُن سے فارغ رکھا گیا ہے ، شاذ صاحب کا خیال ہے کہ اب دونوں کا حصہ برابر کردینا چاہئے ، گویا قرآن کو بھی وہ اس کے دوام و استمرار اور آفاقیت کے تصور کے ساتھ نہیں مانتے ؛ چوںکہ مسلم سماج میں رہتے ہوئے اور اسلام کا نام پر لے کر قرآن مجید کا سِرے سے انکار ممکن نہیں تھا ؛اس لئے انھوںنے بہ تکلف اس کے کتاب ِالٰہی ہونے کا اقرار تو کرلیا ؛ لیکن یہ بھی اُن کے لئے کڑوا گھونٹ ہے جو اُتارے حلق سے نہیں اُترتا ، اِس سلسلہ میں اُن کی کتاب ’’ ادارکِ زوالِ اُمت‘‘ نہایت گمراہ کُن کتاب ہے اور فکری شذوذ و انحراف کی ایک افسوس ناک مثال ہے ، جو اُمت کو الحاد ، مذہب بیزاری اور خدابیزاری کی طرف لے جاتی ہے ، افسوس اور بالائے افسوس یہ بات ہے کہ کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے مدارس اسلامیہ کے ’’ برج کورس ‘‘ کے لئے ایسے شخص کو ذمہ دار مقرر کیا ہے ، جن کی دینی و عصری تعلیم کے درمیان پل بننے کی اُمید تو کم ہی ہے ؛ لیکن اس بات کا پورا پورا اندیشہ ہے کہ یہ شعبہ اسلامی اقدار اور دینی مسلمات سے انکار کے درمیان ضرور پل بن جائے گا ، اور یہ اندیشہ واقعہ کی جو صورت اختیار کررہا ہے ، جیساکہ اس شعبہ کے فارغین کی تحریری نمونوں سے معلوم ہوتا ہے ۔
یونیور سٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے نام پر ایسی اسلام مخالف حرکتوں کو روکے ، اور مدارس کا فریضہ ہے وہ اپنے فضلاء کو حقیقی صورت حال سمجھائیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ سونا سمجھ کر بے قیمت پیتل خرید کرلیں ، نیز خود فضلا کو بھی چاہئے کہ وہ ایسی تحریک سے متاثر نہ ہوں ، اس حقیر نے جب اخبار میں دیکھا کہ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں بھی برج کورس شروع ہونے جارہا ہے تو دل کانپ اُٹھا کہ کہیں یہ شاذ صاحب کے ایجنڈے کی توسیع تو نہیں ہے اور میں نے مانو کے محترم وائس چانسلر سے اس موضوع پر گفتگو بھی کی ، مجھے بڑی خوشی ہے کہ انھوںنے اِس حقیر کے نقطۂ نظر کو قبول کیا اور کہا کہ یہاں ہرگز ایسا کچھ نہیں ہوگا ، خدا کرے دوسری اقلیتی یونیورسیٹیاں میں اس کو پیش نظر رکھیں ، اگر ایک شخص شراب کہہ کر شراب بیچے تو ہمیں ایک جمہوری ملک میں اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے ؛ لیکن اگر شراب کو شہد کہہ کر بیچا جائے تو سچائی کا اظہار اور حقیقت کی وضاحت ضروری ہے ؛ کیوںکہ یہ ایک دھوکہ ہے اور اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی کہ کوئی شخص پوری اُمت کو اپنے دھوکہ کا شکار بنادے ، اوربالخصوص ایسی صورت میںکہ یہ کسی شخص کے ذاتی افکار کا مسئلہ نہیں رہ گیا ہے ؛ بلکہ ایک ایسی دانش گاہ — جسے مسلمانوں نے اپنے خون جگر سے پالا ہے ، اس کے اقلیتی کردار کو بچاے کے لئے زبردست جدوجہد کی ہے اور آج بھی اس کا یہ کردار داؤپر لگا ہوا ہے — کو ایسے نادرست افکار کے رنگ میں رنگنا ملت ِاسلامیہ کی گرانقدر کوششوں کے ساتھ بے وفائی ہے ، اس پس منظر میں یہ سطور لکھی گئی ہے ، وما ارید الاصلاح واﷲ ھو المستعان.

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2024

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2024