نظام مواخاۃ کی ضرورت

یوں تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیات طیبہ حرف حرف روشن ہے،سیرت کے جس صفحہ کوپڑھئے اورجس واقعہ کودیکھئے عبرت وموعظت کاایک نورپھوٹتاہوانظرآئے گا اورزندگی کے تمام مسائل اورہرطرح کے حالات کے لئے رہنمائی حاصل ہوگی؛لیکن بعض واقعات وہ ہیں،جومنفردنوعیت کے حامل ہیں اورمشکلات کے حل کے لئے اکسیرکادرجہ رکھتے ہیں۔

ایسے ہی واقعات میں مؤاخاۃ(آپسی بھائی چارہ کاقیام)ہے،جب آپﷺکی نبوت کاآفتاب طلوع ہواتوتین سال آپ نے خاموشی کے ساتھ دعوت دین کافریضہ انجام دیا،پھراللہ تعالیٰ کے حکم سے صفاکی پہاڑی پرچڑھ کراپنے نبی ہونے کااعلان فرمایااورایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی،اہل مکہ کو توخوش ہوناچاہئے تھاکہ جوشرف واعزازاب تک بنواسرائیل کے حصہ میں تھا،اب وہ بنواسماعیل کے نصیب میں آیاہے؛لیکن انہوں نے نبوت کی اس روشنی سے اپنے دل ونگاہ کے اندھیاروں کوروشن کرنے کے بجائے اپنی آنکھوں پربغض وعناد کی سیاہ پٹی باندھ لی،اس وقت بہت کم لوگ تھے،جن کی سلیم فطرت نے ان کی یاوری کی اوروہ ایمان سے مشرف ہوئے۔

اگرچہ ان ایمان لانے والے خوش نصیبوں کی متعین تعدادبتانی دشوارہے؛لیکن بہر حال ان کی تعدادسینکڑوں میں تھی،ان میں دولت مندبھی تھے،غریب بھی،وہ لوگ بھی تھے جن کے پاؤں میں غلامی کی زنجیریں تھیں یاصاحب خیرمسلمانوں کی مددسے غلامی سے آزادہوچکے تھے؛لیکن پھر بھی ان کوعرب کے معاشرہ میں نہایت حقارت کی نظرسے دیکھاجاتاتھا،مسلمانوں پردباؤڈالنے کے لئے تمام حربے استعمال کئے گئے اورکوئی ایسی تکلیف نہیں تھی جوانہیں پہونچائی نہیں گئی ہو،صبرواستقامت اورتوکل علی اللہ ،ہی وہ ہتھیار تھے،جن کے ذریعہ انہوں نے اپناایمان بچارکھاتھا،جب اذیت رسانی بہت بڑھ گئی توآپﷺنے مسلمانوں کوحبشہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی،جہاں ایک رحم دل عیسائی بادشاہ کی حکومت قائم تھی،تقریباََ۸۰؍افرادنے وہاں ہجرت کی۔

مگرمسلمانوں کی بڑی تعداداب بھی چھپتی چھپاتی مکہ میں ہی قیام پذیرتھی،وہ کھلے عام نمازنہیں پڑھ سکتے تھے،قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتے تھے،زیادہ ترافرادنے اپنے قبول اسلام کوچھپارکھاتھا،سینہ بسینہ ایک دوسرے تک اپنی بات پہونچاتے تھے،اورباہم رابطہ رکھتے تھے،اکٹھاہوناہوتاتوکسی خفیہ جگہ کاانتخاب کرتے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثارحضرت ارقم کامکان صفاکی پہاڑی پرتھا،یہ جگہ مکہ کی عام آبادی سے بالکل الگ تھی،اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تشریف فرماہوتے ،نمازاداکی جاتی اورتعلیم وتعلم کافریضہ انجام دیاجاتا۔

بالآخراللہ تعالیٰ نے ا ہل مدینہ کے دلوں کوایمان کے شجرہ طوبیٰ کے لئے منتخب فرمالیا،انہوں نے تین سالوں میں حج کی مناسبت سے الگ الگ تعدادمیں خفیہ طورپررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پراسلام قبول کیا،اوروعدہ بھی کیاکہ اگرمسلمان مکہ سے مدینہ ہجرت کرجائیں تووہ ان کوپناہ دیں گے،اورپوری طاقت کے ساتھ ان کاتحفظ کریں گے؛حالانکہ اہل مدینہ زیادہ ترغریب اورزراعت پیشہ تھے،مکہ کے تاجروں کے مقابلہ ان کامعاشی معیارکم تھا،اوروہ سودخواریہودیوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے،جسمانی طورپربھی وہ مکہ کے سورماؤں کے مقابلہ کمزورسمجھے جاتے تھے اوراہل مکہ کواسلام اورمسلمانوں سے جیسی سخت عداوت تھی،اس کے تحت اس بات کاپوراپورااندیشہ موجودتھاکہ مسلمانوں کوپناہ دینے پراہل مکہ ان کواپنانشانہ بناسکتے ہیں،اوران کی چھوٹی سی آبادی کوصفحۂ ہستی سے مٹایاجاسکتاہے؛لیکن ان تمام خطرات واندیشوں کے باوجودانہوں نے مسلمانوں کومدینہ آنے کی دعوت دی اورادنیٰ سی بھی تنگ دلی اوربُزدلی ان کے قریب بھی پھٹک نہ سکی۔

اس معاہدہ کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں موجودمسلمانوں کومدینہ منورہ ہجرت کرنے کاحکم دیا،غیرمحسوس طورپرآہستہ آہستہ صحابہ مدینہ منتقل ہوتے گئے،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کوبھی ہجرت کاحکم فرمایاگیا،اورہجرت کے لئے آپ نے دواہم رفقاء کاانتخاب کیا،ایک:حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ جوآپ کے رفیق سفرہوئے،دوسرے:حضرت علی رضی اللہ عنہ ،جن کوآپ نے اہل مکہ کی امانتیں سپردفرمائیں،دونوں جاں نثاروں نے جان کے خطرہ کوقبول کرکے ان ذمہ داریوں کولبیک کہا؛چنانچہ ۲۷؍صفر۱۳نبوی روزجمعرات کوآپ اپنی قیام گاہ سے نکلے اورتین دین کوہ ثورمیں روپوش ہوتے ہوئے عام راستہ سے ہٹ کرمدینہ کے لئے روانہ ہوئے،اور۸؍ربیع الاول ۱۳نبوی کوقباء پہونچے،یہاں آپ نے چودہ دن قیام فرمایا،پہلی نمازجمعہ بھی یہیں اداکی،پھراس کے بعدمدینہ منورہ تشریف لے آئے،اورعارضی طورپرحضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام فرمایا۔

انصارنے مکہ کے اس لٹے پِٹے ،بے آسراوبے سہاراقافلہ کااتنی محبت اورگرم جوشی کے ساتھ استقبال کیاکہ شایدہی آسمان کی آنکھوں نے اس کی کوئی مثال دیکھی ہو،اس موقع پرآپ نے جوپہلامختصرخطاب فرمایا،اس میں دوچیزوں کی فضیلت بیان فرمائی،سلام کوعام کرنے کی اورکھاناکھلانے کی،یہ گویااس بھائی چارہ کی تمہیدتھی،جوآپ مہاجرین وانصارکے درمیان قائم کرناچاہتے تھے،عرب اپنی شناخت اپنے قبیلہ کے نام سے ظاہرکیاکرتے تھے،آپ اہل مکہ کوقریش اوران کے مختلف قبائل کانام دے سکتے تھے، اوراہل مدینہ کوان کے مشہوراوس وخزرج کے خاندانوں کے نام سے موسوم فرماسکتے تھے؛لیکن آپ نے ان دونوں قسم کے مسلمانوں کے لئے ایسے ناموں کاانتخاب فرمایا،جواسلام کے لئے ان کی خدمت اورجذبۂ قربانی کاعنوان تھا،مکہ سے آنے والوں کو’’مہاجرین‘‘کانام دیاگیا،یعنی وہ لوگ جنہوں نے دین کے لئے اپنے محبوب وطن کوخیرآبادکہہ دیا،اوراہل مدینہ کے لئے’’ انصار‘‘کالقب استعمال کیاگیا،یعنی وہ لوگ جنہوں نے بے آسرامسلمانوں کواپنی سرزمین میں بساکراسلام کی نصرت اورمددکی،آپ نے ان کے لئے نام ہی ایسااختیارکیاجودین کے لئے جذبۂ قربانی کی آگ ان کے دلوں میں بھردے،وہ آگ جوجاہلیت کی عصبیتوں کوجلاکرراکھ کردے،اوروہ آگ جواسلامی رشتہ کے علاوہ تمام رشتوں کوبے وقعت بناکررکھ دے،یہ ایسی آگ تھی جسے کوئی بجھانہیں سکتاتھا،یہوداورمنافقین نے ہزارکوشش کی کہ اخوت ایمانی کی اس حرارت کوٹھنڈی کردیں؛لیکن انہیں منہ کی کھانی پڑی اورانصارنے ان کی ساری سازشوں کوناکام ونامرادکرکے رکھ دیا۔

ہجرت کے بعدآپﷺنے شروع میں جوکام انجام دیا،ان میں ایک اہم کام مؤاخاۃ واسلامی بھائی چارہ ہے،آپ ﷺنے دودوافرادکوایک دوسرے کااسلامی بھائی قراردیا،عموماََ اس رشتۂ اخوت میں ایک بھائی مہاجرہوتے اورایک انصاری،یہ صرف نام کابھائی چارہ نہیں تھا؛بلکہ سگے بھائی سے بھی بڑھ کراسلامی بھائی کواہمیت دی گئی ،جس انصاری کے ساتھ اس کامہاجربھائی مقرر کیاجاتا،وہ انصاری اپنامکان ،اپنی زمین،اپنے کھیت اورباغات نیزکاروبارکے دوحصے کردیتا،ایک حصہ خودرکھتااورایک حصہ اپنے مہاجربھائی کودے دیتا،مکہ کے لوگ عام طورپرتجارت پیشہ تھے،وہ زراعت کے فن سے واقف نہیں تھے؛اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارسے خواہش کی کہ وہ اپنے حصہ کی زمین میں بھی کھیتی کریں اوراپنے مہاجربھائی کی زمین میں بھی،اپنے حصہ کی پیداوارخودرکھیں اورمہاجرین بھائی کے حصہ کی پیداواران کودے دیں،انصارنے اس کوبسروچشم قبول کیا،پھرایک مرحلہ ایساآیاجب آپ کے پاس ڈھیرسارامالِ غنیمت آیاتوآپ نے انصارسے فرمایا:اگرچاہوتومیں یہ مہاجرین میں تقسیم کردوں،اوروہ تمہاری زمینیں،باغات وغیرہ واپس کردیں،یاوہ ان کے قبضہ میں رہیں اورمیں یہ مالِ غنیمت تم سبھوں میں تقسیم کردوں،انصارمدینہ نے کہاکہ مالِ غنیمت مہاجرین میں تقسیم کردیاجائے اورانصارکی جوزمین مہاجرین کودی گئی تھیں وہ بھی ان ہی کے پاس رہنے دی جائیں،واقعہ ہے کہ روئے زمین پرآج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جوایثاروقربانی میں انصارمدینہ کی مثال پیش کرسکے۔

مؤاخاۃ کے اس عمل نے مہاجرین وانصارکے درمیان ایک ایسامضبوط برادرانہ رشتہ قائم کردیاکہ نسل ورنگ اورعلاقہ وزبان کے تمام رشتے اس کے مقابلہ میں غیراہم ہوگئے،مہاجرین مدینہ میں تارکین وطن اوربدیشی نہیں سمجھے گئے؛بلکہ انہوں نے جس لمحہ مدینہ میں قدم رکھا،وہ اسی وقت سے مدینہ کے باشندے شمارکئے گئے،اورانہیں اس طرح گلے لگایاگیاجیسے کوئی محبت کرنے والابھائی اپنے پچھڑے ہوئے بھائیوں کوگلے لگاتاہے۔

اہل مغرب اوراعداء اسلام نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی کہ مسلمانوں کی صفوں میں بکھراؤپیداکردیاجائے،اس کے لئے انہوں نے قومیت کاتصورپیش کیا،اورنسل ورنگ،زبان اورعلاقہ ووطن کوقومیت کی بنیادبنایا،انگریزایک قوم قرارپائے،جرمن دوسری قوم،فرنچ تیسری قوم،ان قوموں کے درمیان شدیدنفرتیں رہی ہیں،یہاں تک کہ جنگ عظیم اول ودوم میں ان لوگوں نے ایک دوسرے کے مدمقابل رہ کربڑی خون ریزیاں کی ہیں؛اگرچہ مسلمانوں کی عداوت کے ایجنڈہ نے ایک حدتک ان کومتحدکردیاہے؛لیکن یہ صرف ظاہری اتحادہے،حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ان کی باہمی کدورتیں حسبِ سابق موجود ہیں،تحسبھم جمیعا وقلوبھم شتیٰ (الحشر:14)

اسلام نے عقیدہ ومذہب کی بنیادپروحدت کی جوروح پھونکی ہے ،مغرب نے اس کودرہم برہم کرنے کے لئے اسی وطنی ونسلی قومیت کاسہارالیا،اورمسلمان عرب،ترک،مصری،شامی اورمختلف خانوں میں بٹ گئے،اس نے اسلامی اخوت کے جذبہ کوپارہ پارہ کرکے رکھ دیا،آج صورت حال یہ ہے کہ پوری دنیامیں لاکھوں مسلمان پناہ گزیں کی حیثیت سے مقیم ہیں،فلسطین،شام،عراق،یمن،برما اورافریقی ممالک کے کتنے ہی پناہ گزیں ہے،جودردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں،خودمسلم ممالک انہیں اپنے لئے ایک بوجھ سمجھ رہے ہیں،ان کی کشتیاں ڈبودی جاتی ہیں،انہیں ان کے قاتل اورخون خواردشمنوں کے حوالہ کردیاجاتاہے؛تاکہ وہ ان کے لئے نوالۂ تربن جائیں،اوراگرپناہ گزیں کی حیثیت سے انہیں قبول بھی کرلیاجاتاہے توانہیں ذلیل وحقیرگداگروں کی طرح رہنے کی اجازت دی جاتی ہے،جن کوصرف جینے اورسانس لینے کی اجازت ہوتی ہے اورکھانے کے چندلقمے مل جاتے ہیں،انہیں مقامی سماج سے الگ تھلگ رکھاجاتاہے اورانہیں مسلسل یہ احساس دلایاجاتاہے کہ وہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں،اورانہیں برابری کے ساتھ جینے کاحق نہیں ہے،افسوس کہ مغربی ملکوں میں جتنی توقیرکے ساتھ پناہ گزینوں کورہنے کی اجازت دی جاتی ہے ،مشرقی ملکوں اورخودمسلمان ملکوں میں اس کاتصورنہیں ہے۔

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک مؤاخاۃ کے اصول پرباہمی معاہدہ کریں،کوئی بھی مسلمان جب بھی اپنے جان ومال اورعزت وآبروکی حفاظت کے لئے دوسرے مسلمان ملک کے دروازہ پردستک دے توان کااستقبال کیاجائے،ان کوامن فراہم کیاجائے،ان کوزندگی کی بنیادی ضروریات،خاص کرتعلیم اورعلاج کی سہولت دی جائے،انہیں تجارت وکاروبارکی اجازت دی جائے؛البتہ ان پریہ شرط لگائی جاسکتی ہے کہ ایک ملک میں رہتے ہوئے دوسرے ملک کے خلاف کوئی تحریک نہ چلائیں،جس سے خودان ملکوں کے آپسی تعلقات متأثرہوں،نیزان مظلوموں کے سلسلہ میں متحدہ طورپرظالم حکومتوں اورقوموں کوجواب دہ بنایاجائے،اورپناہ حاصل کرنے والے لوگوں کے اخراجات کابوجھ کسی ایک ملک پرنہ رکھاجائے؛بلکہ تمام مسلمان حکومتیں مل کرمطلوبہ اخراجات مہیاکریں۔

اس وقت روہنگیامسلمانوں کی صورت حال ہمیں خاص طورپرنظام مؤاخاۃ کی طرف متوجہ کرتی ہے،بنگلہ دیش کی سرحدیں برماسے ملی ہوئی ہیں،ملیشیا،انڈونیشیا اوربرونائی ایسی متمول مسلم ریاستیں ہیں،جوسمندرکے ذریعہ برماسے مربوط ہیں؛لیکن بے چارے روہنگیامسلمان سمندرکی بے رحم موجوں کے سہارے ادھرسے ادھربھٹکتے رہتے ہیں؛لیکن کوئی ملک انہیں پناہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا،اورروتے بلکتے بچے،بوڑھے،عورتیں اورجوان سمندرکی نذرہوجاتے ہیں؛اس لئے موجودہ حالات میں جب کہ اسلاموفوبیاکوقصداََ بڑھاوادیاجارہاہے ،مسلمانوں کے خلاف نفرت پیداکی جارہی ہے،ضروری ہے کہ مسلم ممالک آفاقی تصورکے ساتھ مسلمانوں کے مسائل کوحل کریں،ہرتیرجوکسی مسلمان کے سینہ میں چبھے،پوری دنیاکے مسلمان اس کی کسک اپنے دل میں محسوس کریں۔

ہندوستان کے حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں ،یہاں بھی اس نظام مؤاخاۃ کووجودمیں لانے کی ضرورت ہے،بغیرکسی قصورکے مسلمانوں کونشانہ بنایاجارہاہے،جمشیدپور،بھاگلپور،گجرات اورمظفرنگرکے تجربات نے یہ بات واضح کردی ہے کہ فرقہ پرست مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی آبادیوں کونشانہ بناتے ہیں؛اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان ایسی آبادیاں بسائیں،جہاں یکجاطورپران کی بڑی آبادیاں ہوں اوروہ خوداپناتحفظ کرسکیں،اس کے لئے شہرکے متمول مسلمان فراخ دلی کامظاہرہ کریں،انہیں کم قیمت پرزمین ومکان فراہم کریں،ان کے لئے تعلیم وعلاج کی سہولتیں مہیاکریں،اوراس کام کوتاجرانہ سوچ کے ساتھ نہیں؛بلکہ دینی جذبہ کے ساتھ انجام دیں،اس کے بغیردیہات وقصبات اورشہرکے چھوٹے چھوٹے محلوں میں آبادمسلمانوں کی جان ومال اورعزت وآبروکاتحفظ نہیں کیاجاسکتا،اوربالآخریہ محرومی پورے پورے گروہ کوفتنۂ ارتدادسے دوچارکرسکتی ہے۔

اس نظام مؤاخاۃ سے جہاں اُجڑے ہوئے مسلمانوں کوٹھکانہ ملے گااورمسلمانوں کے درمیان باہمی اخوت کاجذبہ پروان چڑھے گا،وہیں اُن نومسلم بھائیوں کے بھی مسائل حل کرنے میں آسانی ہوگی،جواسلام قبول کرنے کے بعددشوارکُن حالات سے دوچارہوتے ہیں،یہ اپنے سابق سماج سے بھی کٹ جاتے ہیں اورمسلم سماج کے اندربھی ایک اجنبی گروہ کی طرح زندگی گزارتے ہیں،ان کے لئے خاص کربال بچوں کی شادی بیاہ کامسئلہ بہت پریشان کُن ہوتاہے،وہ جس سماج سے باہرآئے ہیں،اس میں ان کے لئے سخت نفرت کے جذبات ہوتے ہیں،وہ نہ صرف انہیں روزگارکے مواقع سے دوررکھتے ہیں؛بلکہ پہلے سے بھی جوروزگارحاصل تھا،اسے بھی ان سے چھین لیاجاتاہے،نظام مؤاخاۃ کوتقویت پہونچاکران کے مسائل کوحل کیاجاسکتاہے،اوربرادران وطن میں دعوتِ اسلام کے کام کوآسان بنایاجاسکتاہے۔

کاش! ہم عبادات کی طرح ملی اوراجتماعی مسائل میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ مبارکہ کواپنے لئے نمونہ بنائیں۔ 

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019