تحقیق حدیث: اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھنا مسجد میں اعتکاف سے زیادہ محبوب ہے

مولانا حمید الرحمن صاحب نے عمان سے ایک پوسٹ بھیجی اور اس کی صحت کے بارے میں پوچھا ، اس میں یہ لکھا تھا کہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھنا مسجد میں اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے. مجموعہ ورام، ج2، ص121.

الجواب حامدا ومصليا :

اعتکاف سے متعلق صحیح روایات میں وارد اہمیت وفضائل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت " إذا دخل رمضان شد مئزره ثم لم يأت فراشه حتى ينسلخ " (شعب الإيمان للبيهقي ). " كان يعتكف العشر الأواخر" (صحيح البخاري ) ، "فلم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يعتكف فيهن حتى توفي" . (المعجم الكبير للطبراني ) وغیرہ نصوص کے پیش نظر اس پوسٹ کو پڑھتے ہی من گھڑت ہونے کا خیال دل میں آیا، مزید تحقیق کی تو اس خیال کی تصدیق ہوئی اور پتہ چلا کہ یہ در اصل شیعی روایت ہے.

حوالہ میں مذکور کتاب جو اہل تشیع عوام میں "مجموعہ ورّام" کے نام سے معروف ہے، اس کا اصل نام "تنبيه الخواطر ونزهة النواظر" ہے.

اس کا مصنف أبو الحسن ورام بن أبي فراس عيسى بن أبي النجم بن حمدان بن خولان الحلي، ت: 605 هج_ امامی شیعہ ہے.

منتخب الدین قمی شیعی نے اپنی کتاب الفہرست میں، الحر العاملی شیعی نے" آمل الآمل " میں اور علی نماری شاہرودی شیعی نے " مستدرکات علم رجال الحدیث " اس کا تذکرہ کیا ہے.

حاصل یہ ہے کہ یہ شیعی روایت ہے،
اہل سنت کے نزدیک ایسی کوئی روایت ثابت نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف نسبت کر کے اس کو بیان کرنا جائز نہیں.
واللہ اعلم بالصواب.

ابو الخیر عارف محمود
11اگست 20018م / 29 ذو القعدہ 1439ھج

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
متعلقہ الفاظ
  • #تحقیق حدیث
  • #سوال
  • ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
    ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
    شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019