"حدیث کی حجیت: قرآن کے بعد مصدرِ ہدایت"
مولانامحمدراشد شفیع
حدیث اسلام کا دوسرا اہم ترین ماخذ ہے جو قرآن کریم کی تشریح اور وضاحت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی، اقوال، افعال اور تقریرات کو حدیث کے ذریعے محفوظ کیا گیا، جو دین کے ہر پہلو کی وضاحت کرتی ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر نبی ﷺ کی اطاعت کو فرض قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "من یطع الرسول فقد اطاع اللہ" (النساء: 80)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رسول کی اطاعت، درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے، اور یہ اطاعت حدیث کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
قرآن کریم کے متعدد احکامات ایسے ہیں جن کی تفصیل حدیث کے بغیر ممکن نہیں، مثلاً نماز کے اوقات، رکعات اور طریقہ کار، زکوٰۃ کی مقدار، روزے کے مسائل اور حج کے ارکان۔ اگر صرف قرآن پر اکتفا کیا جائے تو ان تمام احکام کو عملی زندگی میں نافذ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الا انی اوتیت القرآن ومثلہ معہ" (سنن ابوداؤد: 4604)۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کو قرآن کے ساتھ اس کی تشریح کا علم بھی دیا گیا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حدیث کو عملی زندگی میں نافذ کیا اور اس پر عمل کر کے امت کے لیے نمونہ پیش کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "کل ما حکم به رسول الله صلی الله علیه وسلم فهو مما فهمه من القرآن" (الرسالة، ص: 39)۔
یہ قول اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ہر فیصلہ اور حکم قرآن کریم کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ امام شافعی مزید فرماتے ہیں: "ليس لأحد أبداً أن يقول شيئاً خلاف سنة رسول الله" (الرسالة، ص: 85)۔
یہ قول واضح کرتا ہے کہ حدیث شریعت کا ایسا مصدر ہے جس کی مخالفت کسی کے لیے جائز نہیں، کیونکہ نبی ﷺ کی سنت قرآن کی عملی تعبیر ہے۔
علاوہ ازیں، حدیث قرآن کی ناسخ اور مفسر بھی ہے، جو متشابہات کو واضح کرتی ہے۔
حدیث کے حجت ہونے پر امت کا اجماع ہے، اور اسے ترک کرنے والا گمراہی میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما: کتاب اللہ وسنتی" (موطا امام مالک: 1594)۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ قرآن اور سنت دونوں دین کے ستون ہیں، جنہیں تھامے بغیر ہدایت ممکن نہیں۔
قرآن کریم سے حدیث کی حجیت پر کئی دلائل موجود ہیں، ذیل میں پانچ اہم دلائل تشریح کے ساتھ ذکر کیے جاتےہیں:
- اطاعت رسول کا حکم
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:"مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ"(النساء: 80)
ترجمہ: "جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔"
تشریح:اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ اگر حدیث (رسول کی بات) حجت نہ ہو تو اس اطاعت کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہتا۔
- رسول کو تشریح کا ذمہ دار بنانا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:"وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ"(النحل: 44)
ترجمہ: "اور ہم نے آپ پر ذکر (قرآن) نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے وضاحت کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔"
تشریح:قرآن کو سمجھانے اور اس کی تشریح کرنے کا کام رسول اللہ ﷺ کے سپرد کیا گیا ہے، اور یہ تشریح حدیث کی صورت میں محفوظ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے ساتھ حدیث بھی حجت ہے۔
- رسول کو بہترین نمونہ قرار دینا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:"لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"(الاحزاب: 21)
ترجمہ: "یقیناً رسول اللہ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔"
تشریح:اگر رسول اللہ ﷺ کے اعمال اور اقوال (حدیث) حجت نہ ہوں تو ان کی زندگی کو نمونہ ماننے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ سنت رسول حجت ہے۔
- اختلافات کے وقت رسول کی طرف رجوع کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:"فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ"(النساء: 59)
ترجمہ: "پھر اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔"
تشریح:اختلاف کی صورت میں قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدیث بھی دین کے فیصلوں کے لیے حجت ہے۔
- رسول کی مخالفت پر سخت وعید
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:"فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ"(النور: 63)
ترجمہ: "پس وہ لوگ جو اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، ڈریں کہ کہیں وہ کسی فتنے میں نہ پڑ جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے۔"
تشریح:یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے احکام کی مخالفت کرنا گمراہی اور عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر حدیث حجت نہ ہوتی تو اس مخالفت پر ایسی سخت وعید نہ آتی۔
احادیث مبارکہ سے بھی ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قران کریم کی طرح حدیث بھی شریعت مطہرہ میں حجت ہے ،ذیل میں چند احادیث پیش کی جاتی ہے
- قرآن و حدیث دونوں پر عمل کی تاکید
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"تَرَكْتُ فِيكُمْ شَيْئَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي."(موطأ امام مالک: 1661)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم ان دونوں کو تھامے رکھو گے، کبھی گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔"
- رسول کی اطاعت فرض ہے
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ."(صحیح بخاری: 2956، صحیح مسلم: 1835)
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔"
- حدیث کا مقام قرآن کے ساتھ
عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رضي الله عنه، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ."(سنن أبو داود: 4604، مسند احمد: 16546)
ترجمہ:حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"خبردار! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اسی جیسا (یعنی حدیث) بھی دیا گیا ہے۔"
- قرآن کی وضاحت کے لیے حدیث ضروری ہے
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:"كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ."(صحیح مسلم: 746، مسند احمد: 25346)
ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:"نبی کریم ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔"
- حدیث کے بغیر شریعت ناقص ہے
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ، يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِنْ أَمْرِي، مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا نَدْرِي، مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ."(سنن أبو داود: 4605، سنن ترمذی: 2663)
ترجمہ:حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنی مسند پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور جب میرے کسی حکم یا ممانعت کی بات اس کے پاس پہنچے تو کہے: ہم نہیں جانتے، ہم تو صرف وہی مانیں گے جو اللہ کی کتاب میں ہے۔"
ان مذکورہ احادیث کا خلاصہ یہ ہے:
نبی کریم ﷺ نے قرآن اور سنت دونوں کو امت کے لیے ہدایت کا ذریعہ قرار دیا ہے، اور ان پر عمل کو گمراہی سے بچاؤ کی ضمانت دی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی اطاعت کو اللہ کی اطاعت اور اپنی نافرمانی کو اللہ کی نافرمانی قرار دیا، جس سے حدیث کی حجیت واضح ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں قرآن کے ساتھ وحی غیر متلو (حدیث) بھی دی گئی، جو دین کے لیے لازمی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی کے مطابق، نبی کریم ﷺ کا عمل اور اخلاق قرآن کی عملی تصویر تھا، جو ظاہر کرتا ہے کہ حدیث قرآن کی وضاحت کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے انکارِ حدیث کو گمراہی اور شریعت کی مخالفت قرار دیا، اور واضح کیا کہ صرف قرآن پر اکتفا کرنا شریعت کو ناقص بنا دیتا ہے۔ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حدیث قرآن کی تکمیل اور تفصیل فراہم کرتی ہے، اس لیے شریعت میں حدیث کی حجیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
ذیل میں ائمہ سلف کے چند اقوال نقل کیے جاتے ہیں جس سے حدیث کی حجیت کا علم ہوتاہے
- امام شافعی رحمہ اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: "الحدیث عن رسول الله ﷺ حجة على كل أحد، ومن لم يقبل الحديث فقد كذب الله ورسوله"۔ (الرسائل للشافعی، صفحہ 35) "رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہر شخص پر حجت ہے، اور جو حدیث کو نہ قبول کرے، اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو جھوٹا قرار دیا۔"
- امام بخاری رحمہ اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: "الحديث الصحيح عن رسول الله ﷺ لا يجوز تركه، بل يجب العمل به"۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم، حدیث نمبر 120) "رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث کو چھوڑنا جائز نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔"
- امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: "لا يجوز لأحد أن يترك الحديث الصحيح، ولو خالف رأيه، لأن الحديث حجة"۔ (مسائل الإمام أحمد، 1/50) "کسی بھی شخص کو صحیح حدیث کو چھوڑنا جائز نہیں، چاہے وہ اس کے اپنے خیال سے متفق نہ ہو، کیونکہ حدیث حجت ہے۔"
- ابن تیمیہ رحمہ اللہ
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: "الحديث النبوي معصوم من الخطأ، وهو حجة على الخلق في جميع الأحكام"۔ (مجموع الفتاوى، 19/98) "نبی ﷺ کی حدیث غلطی سے محفوظ ہے، اور یہ تمام احکام میں مخلوق پر حجت ہے۔"
- علامہ ابن قیم رحمہ اللہ:
ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا: "الحديث الصحيح يجب أن يُؤخذ به في مسائل الدين، وإن لم يكن موافقًا للقرآن في الظاهر"۔ (إعلام الموقعين، 1/35) "صحیح حدیث کو دین کے مسائل میں لیا جانا چاہیے، چاہے وہ ظاہری طور پر قرآن سے متفق نہ ہو۔"
خلاصہ تحریریہ ہے کہ"اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی ہدایت کو مکمل اور ثابت کر دیا ہے، اور نبی اکرم ﷺ کی حدیث کو بھی اسی طرح مکمل اور حجت قرار دیا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نبی ﷺ کی سنت اور حدیث کو بطور حجت پیش کیا گیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے صحیح طور پر فرمایا کہ حدیث کو رد کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب کے مترادف ہے۔ اگر ہم دین کے مسائل میں قرآن کے بعد حدیث کو حجت نہ سمجھیں، تو گویا ہم اس کے بنیادی اصولوں کو چھوڑ رہے ہیں، جو کہ دین کے تقاضوں کے منافی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا" (الحشر: 7)، یعنی جو چیز رسول اللہ ﷺ آپ کو دے دیں، وہ لے لو اور جس سے منع کریں، اس سے رک جاؤ۔ یہ آیت اس بات کا قطعی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی ہر بات اور عمل پر عمل کرنا لازمی ہے، اور یہ عمل دین میں کسی بھی گمراہی کا سبب نہیں بن سکتا۔
امام بخاری رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر علماء نے حدیث کو دین کے تمام مسائل میں برتر اور حجت سمجھا ہے۔ ان کے اقوال سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے، بالکل اسی طرح نبی ﷺ کی حدیث بھی ہماری زندگیوں کے ہر گوشے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
لہذا، ہمیں حدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو سمجھنا اور اپنی زندگیوں میں اپنانا انتہائی ضروری ہے، تاکہ ہم قرآن و سنت کے پیغام کو صحیح طور پر جان سکیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔ جب ہم حدیث کو حجت سمجھتے ہیں تو ہم دراصل اس علم کو قبول کر رہے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہم تک پہنچایا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہماری فلاح و کامیابی کا ضامن ہے۔