المحيط البرهاني ماہنامہ النخیل شوال 1440

کچھ مصنف کے بارے میں:… آپ کانام نامی، نسب گرامی محمود بن الصدر السعید تاج الدین احمد بن الصدر الکبیر برہان الدین عبدالعزیز بن عمر بن مازہ اور لقب برہان الدین ہے، ائمہ کبار اور فقہائے نامدار میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ آپ کی ولادت ۵۵۱ھ میں مرغینان میں ہوئی۔

حصولِ علم اور اساتذہ:…اپنے زمانے کے جید اور ممتاز علماء اورمشایخ کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کئے اور علم حاصل کیا، آپ کے اساتذہ میں آپ کے والد الصدر السعید، چچا الصدر الشہید حسام الدین شامل ہیں۔۶۰۳ھ میں حج کی نیت سے حرمین شریفین کا رخت سفر باندھا، اس دوران علمائے حرمین سے بھی خوب علمی استفادہ کیا، آپ کا گھرانہ ’’ ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘ کا مصداق تھا، آپ کے والد، چچا ، دادا، نانا اور چچا زاد بھائی وغیرہ حضرات کا شمار اپنے زمانہ کے نابغۂ روزگار ہستیوں میں ہوتا تھا، ان تمام حضرات سے آپ نے کسب علم کیا۔آپ تاحیات درس و تدریس، فتاویٰ نویسی اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے اور علماء و طلبہ کو مستفید کرتے رہے، آپ سے ہزاروں کی تعداد میں علماء و طلبہ نے استفادہ کیا، جن میں آپ کے صاحبزادے صدر الاسلام طاہر بن محمود بھی شامل ہیں۔

وفات:…۶۱۶ھ کو۶۵ سال کی عمر میں علم کا یہ آفتاب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔

(الفوائد البھیۃ :ص ۲۰۵، کشف الظنون:۳/۲۰۵، حدائق الحنفیہ: ص۲۶۹)

علمی مقام و مرتبہ:… علامہ کفویؒ نے ’’ أعلام الأخیار‘‘ میں فقہائے احناف کے پانچ طبقات ذکر کئے ہیں اور صاحب محیط برہانی کو طبقہ ثانیہ میں امام طحاویؒ، امام کرخیؒ اور امام حلوانیؒ وغیرہ کی صف میں ذکر کیا ہے۔(النافع الکبیر:ص۸)جب کہ ابن کمال پاشا  ؒ نے فقہائے احناف کے سات طبقات ذکر کئے ہیں اور صاحب محیط کو طبقہ ثالثہ یعنی ’’طبقۃ المجتہدین فی المسائل‘‘ میں شامل کیاہے۔(التعلیقات السنیۃ علی الفوائد البھیۃ:ص۲۰۵)

تصنیفات و تالیفات:… اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو فقہ کا خصوصی ذوق اورفقہ میں مہارت کاملہ عطا فرمائی تھی، جس کا واضح ثبوت آپ کی تصانیف ہیں، آپ نے فقہ حنفی میں گراں قدر کتابیں لکھیں، لیکن افسوس کہ ان میں سے ایک بھی کتاب زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منصہ شہود پر نہ آسکی!!

(۱)…تتمۃ الفتاویٰ…(۲)…التجرید البرہانی فی فروع الحنفیۃ…(۳)… ذخیرۃ الفتاوی مشہوربـ الذخیرۃ البرہانیۃ…(۴)… شرح أدب القاضی للخصاف… (۵)… شرح الجامع الصغیر للشیبانی فی الفروع …(۶) شرح الزیادات للشیبانی…(۷)…الطریقۃ البرہانیۃ…(۸)… فتاویٰ البرہانی…(۹) … الواقعات فی الفقہ…(۱۰) …الوجیز فی الفتاویٰ …(۱۱)… المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی ، اس وقت یہی کتاب ہمارے زیر تبصرہ ہے۔

 ’’ المحیط البرہانی‘‘:…محیط برہانی کا شمار فقہ حنفی کی جلیل القدر اور عظیم الشان کتب میں ہوتا ہے اور اگر اسے فقہ حنفی کا انسائیکلو پیڈیا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس کتاب کے صرف اہم مسائل کی تعداد کو دیکھا جائے جنہیں مرقم کیا گیا ہے تو وہ ۳۳۹،۲۱ ہے، ان میں سے ہر اہم مسائل کے تحت دسیوں جزئیات ہیں، اس طرح یہ کتاب کئی ہزار مسائل کا مجموعہ اور اسم بامسمی ہے ۔

کتاب کا نام اور وجہ تسمیہ:… مصنفؒ نے ’’  خطبۃ الکتاب‘‘ میں کتاب کا نام ’’ المحیط ‘‘  ذکر کیا ہے ، جس کی وجہ بالکل ظاہر ہے کہ مصنف نے اپنی اس تصنیف میں دیگر کتب کے مسائل،فتاوی اورفوائد فقہیہ کا احاطہ کیا ہے ،البتہ ’’کشف الظنون‘‘ میں اس کتاب کا نام ’’ المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی‘‘ مذکور ہے، جبکہ بعض کتابوں میں صرف ’’ المحیط‘‘ مذکور ہے۔

اس اختلافِ نام کی وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ مصنفؒ نے تو اپنی اس کتاب کا نام صرف ’’ المحیط‘‘ رکھا تھا لیکن بعد میں مختلف فنون میں ’’ المحیط‘‘نام کی کتب آگئی تو اشتباہ سے بچنے کے لئے مصنف کی وفات کے بعد ’’ البرہانی‘‘ کا اضافہ کردیا تاکہ دیگر کتب سے امتیاز ہوجائے۔

لفظ  ’’ المحیط‘‘کا معنی:فقہاء کی اصطلاح میں  ’’ المحیط‘‘ اس کتاب کو کہتے ہیں ’’ جس میں فقہ کے اکثر مسائل مع اصول و فروع امام محمد کی کتب ستہ مبسوط ، جامع کبیر، جامع صغیر، سیر صغیر، سیر کبیر اورزیادات کے حوالے سے مذکور ہوں، اس کے ساتھ ساتھ کتبِ نوادرات،علماء کے فتاویٰ، فوائد فقہیہ، نکات غریبہ اور پیش آمدہ مسائل کا حل بھی مذکور ہو۔‘‘

زیرہ تبصرہ کتاب ’’ المحیط البرہانی‘‘ مذکورہ بالا تعریف کا بالکل صحیح مصداق ہے کہ اس کتاب میں مصنفؒ نے امام ابوحنیفہ ؒسے لے کر اپنے زمانہ تک جتنی اہم فقہی تصانیف تھیں ان کے مسائل کو بہترین اسلوب اور مرتب انداز میں جمع کردیا ہے۔

سبب تالیف:… مقدمہ میں کتاب کا سبب تالیف بیان کرتے ہوئے مصنفؒ لکھتے ہیں:

’’…وقد وقع لي في رأیي أن أتشبہ بھم بتألیف أصل جلیل یجمع فیہ جل الحوادث الحکمیۃ…والنوازل الشرعیۃ…لیکون عونًا لي حال حیاتي،وأثرًا حسنًا ليبعد وفاتي… وقد انضاف إلی ھذا الرأي الصائب التماس بعض الأخوان،فقابلت التماسھم بالإجابۃ۔ وجمعت مسائلالمبسوط، والجامعَین،والسیَر،… والزیادات، وألحقت فیھا مسائل النوادر،والفتاوی ،والواقعات، وضممت إلیھا من الفوائد التي استفدتھا من سیدي،ومولاي والدي ـ تغمدہ اللہ تعالی بالرحمۃ ـ والدقائق التي حفظتھا من مشایخ زماني،وفصّلت الکتاب تفصیلًا ، و جنّست المسائل تجنیسًا، وأیّدت أکثر المسائل بدلائل عول علیھا المتقدمون ، واعتمد [علیھا ] المتأخّرون ،وعملت فیہ عمل من طبّ لمن أحب،وسمیت الکتاب بـ ’’المحیط‘‘۔

(خطبۃ الکتاب:۱/۱۵۹)

 مصنف نے اس کتاب کی جووجہ تالیف ذکر کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اکابر کی اتباع کرتے ہوئے ایک ایسی کتاب لکھیں جو تمام مسائل فقہ کی جامع ہو اور زمانہ کی تبدیلی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احکام میں جو تبدیلی واقع ہوئی ہے ان کابھی ذکر ہو۔آپ نے اپنی اس تالیف میں مبسوط، جامع صغیر، جامع کبیر، سیر کبیر، سیر صغیر اور زیادات کے مسائل کو جامع کیاہے اور اس کے ساتھ مسائلِ نوادرات اور مشائخ کے فتاویٰ کا بھی ذکر کیا ہے اور اپنے والد محترم سے جو فقہی فوائد حاصل کئے تھے، ان کو اور اپنے زمانہ کو فقہاء و مشایخ کے فقہی نکات کو بھی کتاب کی زینت بنایا ہے۔

محیط برہانی کا صحیح مصداق: اکثر علماء اور مشایخ سے محیط برہانی اور اس کے مصنف کی بابت سہوہوا ہے:

(۱)… علامہ قرشیؒ نے الجواہر المضیئۃ میںاور حاجی خلیفہ ؒنے کشف الظنون میں ’’محیط رضوی ‘‘ کوشمس الائمہ سرخسیؒ کی تالیف قرار دیا ہے، جب کہ فیض الباری(۳/۲۶۸) میں ’’ محیط برہانی‘‘ کی نسبت شارح وقایہ کے دادا کی طرف کی گئی ہے۔

(۲)… بعض حضرات نے محیط برہانی کامصنف علامہ رضی الدین سرخسیؒ کو قرار دیا ہے۔

(۳)… بعض کتب میں’’ محیط کبیر‘‘ کا اطلاق محیط سرخسی پر کیا گیا ہے۔

یہ تمام باتیں خلاف حقیقت ہیں اور اس بابت ان علماء و مشایخ کو تسامح ہوا ہے، اس تسامح کی جو وجوہات سامنے آئیں ذیل میں ان کو ذکر کیا جاتا ہے:

(۱)…صاحبِ محیط برہانی اور علامہ رضی الدین سرخسیؒ دونوں ہم عصر ہیں اور دونوں کی ’’المحیط‘‘ نام سے تالیف موجود ہے، جس کی بنا ء پر اشتباہ ہوا۔

(۲)… محیط سرخسی / رضوی کے مصنف کا نام محمد بن محمد بن محمد رضی الدین سرخسیؒ ہے، جب کہ شمس الائمہ سرخسیؒ الگ ہیں، جن کا پورا نام محمد بن احمد بن ابی سہل ابوبکر شمس الائمہ سرخسیؒ ہے، شمس الائمہ سرخسی کی’’المحیط‘‘نام سے کوئی تصنیف نہیں، لہٰذا صاحب کشف الظنون کا’’ محیط رضوی‘‘ کا مصنف شمس الائمہ سرخسی کو قرار دینا خلافِ حقیقت بھی ہے اور باعث حیرت بھی!

(۳)…محیط برہانی کا شمار اپنے زمانہ تالیف سے لے کر آج تک ان کتب میں ہوتا ہے جو نایاب ہیں، علامہ ابن نجیمؒاور علامہ قرشیؒ وغیرہ حضرات کوبھی اس کتاب کے مطالعہ کا موقع نہیں ملا،’’المحیط‘‘ نام کی جو کتاب متداول رہی ہے وہ محیط رضوی ہے، اس بناء پر بھی بعض حضرات کوغلط فہمی واقع ہوئی کہ محیط برہانی کو علامہ رضی الدین سرخسیؒ کی تالیف سمجھ لیا گیا۔

(۴)…کتب فقہ میں جب بھی مطلقاً  ’’ المحیط‘‘کہا جائے یا ’’المحیط الکبیر‘‘بولا جائے تو اس سے مراد ’’المحیط البرہانی‘‘ ہوتا ہے،لہذا ’’المحیط الکبیر ‘‘ سے ’’ محیط سرخسی ‘‘ مراد لینا غلط ہے۔(مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: الفوائد البھیۃ:ص۱۸۹ تا ۱۹۱ اور ص۲۴۶)

کتب فقہ میں محیط برہانی کا مقام:…محیط برہانی کا شمار فقہ حنفی کی اہم کتب اور بنیادی مراجع میں ہوتاہے، اس کی اہمیت اور قابل اعتماد ہونے کے لئے یہی ایک بات کافی ہے کہ فقہ حنفی کی کوئی بھی کتاب محیط برہانی کے تذکرے اور حوالے سے خالی نہیں، صرف’’ فتاویٰ عالمگیریہ‘‘ (جو فقہ حنفی کا انسا ئیکلو پیڈیا اور مراجع میں سے ہے) کی جلد اول میں ۵۰۰ سے زیادہ مسائل میں محیط برہانی کا حوالہ مذکور ہے۔’’فتاویٰ تاتارخانیہ‘‘کے صفحات کے صفحات محیط برہانی کے حوالے سے بھرے پڑے ہیں اور صاحبِ فتاویٰ محیط برہانی کے حوالے کی طرف اشارہ کر نے کے لیے ’’ م‘‘ کا رمز استعمال کرتے ہیں۔

’’صاحبِ قنیۃ ‘‘نے بھی محیط برہانی سے خوب استفادہ کیا ہے اور اس کے حوالے کے لئے’’ بم‘‘ کا رمز مقرر کیا ہے۔ان چند کتب کے علاوہ فقہ کے دیگر اہم مراجع’’ البحرالرائق، در مختار، ردالمختار ‘‘وغیرہ محیط برہانی کے حوالوں سے بھرے پڑے ہیں۔

ان تمام کتب فقہ میں محیط برہانی کے حوالوں کا اس کثرت کے ساتھ ہونا اس کتاب کے مستند ہونے کی دلیل ہے اور یہ اس بات پر شاہد ہیں کہ ہر دور میں علماء و فقہاء نے اس کتاب سے عام مطبوع نہ ہونے کے باوجود بھرپور استفادہ کیا ہے۔

حاجی خلیفہ، کشف الظنون میں ’’ ذخیرۃ الفتاویٰ‘‘ کے تعارف میں لکھتے ہیں:

’’ذخیرۃ الفتاوی للإمام برھان الدین محمود بن أحمد بن عبد العزیزا بن عمرابن مازہ البخاري،المتوفی:۶۱۶ھ،اختصرھا من کتابہ المشھور بـ ’’ المحیط البرھاني‘‘کلاھما مقبولان عند العلماء‘‘۔

(کشف الظنون:۱/۸۲۳-۸۲۴)

یعنی’’ذخیرۃ الفتاویٰ‘‘ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ’’ المحیط البرہانی‘‘ کا اختصار ہے اور یہ دونوں کتابیں اہل علم کے ہاں مقبول ہیں۔

علامہ عبدالحئی لکھنویؒ محیط برہانی کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’منحني اللہ تعالی مطالعتہ فرأیتہ کتابًا نفیسًا مشتملًا علی مسائل معتمدۃ متجنبًا عن المسائل الغریبۃ الغیر المعتبرۃ،ورأیتہ لیس جامعًا للرطب والیابس،بل فیہ مسائل منقحۃ وتفاریع مرصعۃ‘‘۔(الفوائد البھیۃ:ص ۱۹۰)

المحیط البرہانی پرتنقیداور اس کی حقیقت:…علامہ ابن نجیمؒ اور علامہ ابن عابدین شامیؒ وغیرہ حضرات نے محیط برہانی کو غیر معتبر کتب فقہ میں شمار کیا ہے اور اس سے فتویٰ دینے سے منع کیا ہے، جس سے عام طور پر ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ جب ابن نجیم اور ابن عابدین جیسے فقہاء اس کتاب کو غیر معتبر قرار دے رہے ہیں تو اس کتاب میں ضرور کوئی نقص ہوگا۔ اس اعتراض کی اصل حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات نے اس کتاب سے جو فتویٰ دینے سے منع کیا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ کتاب غیر معتبراور غیر مفتی بہ مسائل کا مجموعہ ہے بل کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب وقت تالیف سے نایاب تھی اور نایاب اور غیر موجود کتب سے فتویٰ دینا اصول افتاء کے خلاف ہے۔

علامہ عبدالحئی لکھنوی ’’الفوائد البھیۃ‘‘ میں اس شبہ اور اس کا جواب ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’قال ابن نجیم المصري صاحب الأشباہ في رسالتہ التي ألّفھا في صورۃ وقف،اختلف الأجوبۃ فیھا رادًا علی بعض المخالفین المستندین بمسألۃ مذکورۃ في المحیط البرھاني:إنہ نقلھا من المحیط البرھاني،وقد قال ابن أمیر الحاج  في شرح منیۃ المصلي:إنہ مفقود في دیارنا،وعلی تقدیر أنہ ظفر بہ دون أھل عصرہ لم یحل النقل منہ، ولا الإفتاء عنہ، صرّح بہ في فتح القدیر من کتاب القضاء أنہ لا یحل النقل من الکتب الغریبۃ، وقد رأیت ھذہ العبارۃ بعینھا و حروفھا في المحیط الرضوي،فأخذھا منہ ،ونسبھا إلی البرھاني ظنّا  منہ أنہ لا یطلع علی کذبہ أحد… الخ۔(ص:۱۹۰)

اسی طرح علامہ لکھنوئی  ؒ خود ابتداً محیط برہانی سے فتویٰ دینے کے قائل نہیں تھے اور اس کو غیرمعتبر کتب فقہ میں شمار کرتے تھے، لیکن جب آپ نے خوداس کتاب کا مطالعہ کیا اور اصل حقیقت پر مطلع ہوئے تو اپنے سابقہ قول سے رجوع کرلیا، آپ خود فرماتے ہیں:

’’ومن ھذا القسم :المحیط البرھاني،فإنّ مؤلفہ وإن کان فقیھًا جلیلًا معدودًا في طبقۃ المجتھدین في المسائل لکنھم نصوا علی أنہ لا یجوز الإفتاء منہ،لکونہ مجموعًا للرطب والیابس‘‘۔

آگے اپنے اس سابقہ قول سے رجوع کرتے ہوئے حاشیہ میں فرماتے ہیں:

’’قد وفقني اللہ تعالی  بعد کتابۃ ھذہ الرسالۃ بمطالعۃ’’ المحیط البرھاني‘‘  فرأیتہ لیس جامعًا للرطب والیابس،بل فیہ مسائل منقحۃ وتفاریع مرصعۃ،ثم تأمّلت في عبارۃ فتح القدیر وعبارۃ ابن نجیم فعلمتُ أن المنع من الإفتاء منہ لیس لکونہ جامعًا للغث والسمین ،بل لکونہ مفقودًا نادرالوجود في ذلک العصر،وھذا أمر یختلف بحسب اختلاف الزمان فلیحفظ ھذا۔‘‘(النافع الکبیر: ص ۲۸الفوائد البھیۃ : ص۲۰۶)

ہمارے اس دور میں یہ کتاب چوں کہ عام طبع ہوچکی ہے، لہٰذا اب اس کتاب سے فتویٰ دینے سے کوئی رکاوٹ اور مانع موجود نہیں، البتہ اگر کوئی مسئلہ اصولِ افتاء یا قواعد فقہ کے خلاف ہو تو الگ بات ہے۔

صاحب محیط برہانی کا اسلوب نگارش:… عام طور پر اکثر کتب فقہ کسی نہ کسی متن کی شرح ہیں، جس کی بنا پر شارحین کو اصحابِ متون کے اندازاور طریقہ کار کا تابع اور محتاج بن کررہنا پڑتا ہے ، وہ اپنی جانب سے کسی بحث اور باب وغیرہ کا اضافہ نہیں کرسکتے، جیسا کہ اکثر کتب فقہ متداولہ شامی ، البحرالرائق ، بدائع الصنائع ، ہدایہ اور فتح القدیر وغیرہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اصحاب متون کی عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ اگرچہ باب کے تمام مسائل کو ذکر کرتے ہیں لیکن تطویل سے بچتے ہوئے اختصار کو ملحوظ رکھتے ہیں، جس کی بناء پر شارحین ان مسائل کی گتھیاں سلجھانے میں لگ جاتے ہیں اور اصحاب متون کی قید میں مقید رہتے ہیں۔جب کہ محیط برہانی کا معاملہ ایسا نہیں، کیوں کہ یہ ایک مستقل تصنیف ہے، جس کی بناء پر مصنفؒ کسی دوسری کتاب یا مصنف کے مقید اور تابع نہیں،بل کہ مسائل کے ذکر کرنے میں اور مباحث کی ترتیب و تہذیب میں آزاد و خود مختار ہیں، اسی آزادی کا نتیجہ ہے کہ اس کتاب میں بعض ایسے اہم مباحث و مسائل اور نادر جزئیات موجود ہیں جن سے دوسری کتب فقہ خالی ہیں۔

یہ کتاب چوں کہ فقہ حنفی کی ہے اور مصنفؒ کا مقصد بھی فقہ حنفی کی کتب فقہ کے مسائل کو یکجا کرنا تھا، لہٰذا آپ نے اپنی ساری توجہ فقہ حنفی کے اصول و فروع اور ان کے دلائل کے ذکر کرنے پر مرکوز رکھی اور دیگر مذاہب کے اختلافی مسائل ذکر کرنے سے حتی الامکان اجتناب کیاہے۔

کتاب کا اسلوب و انداز دیگر کتب فقہ کی طرح ہے، سب سے پہلے مصنفؒ ’’ کتاب‘‘ کا عنوان قائم کرتے ہیں، پھر ہر کتاب کے تحت مختلف فصل قائم کرتے ہیں، اور پھر ان فصلوں کو انواع پر تقسیم کرتے ہیں، مثلاً: ’’ کتاب الطہارات ،… ھذا الکتاب یشتمل علی تسعۃ فصول: الفصل الأول في الوضوء،… ھذاالفصل یشتمل علی أنواع: نوع منہ فی فرائضہ… نوع منہ فی تعلیم الوضوء …وغیرہ۔‘‘

مسائل کے ذکر کرنے کی ترتیب یہ ہے کہ سب سے پہلے کتب ستہ ظاہرالروایۃ کے مسائل ذکر کرتے ہیں، پھر کتبِ نوادرات کے مسائل بیان کرتے ہیں ،اس کے بعد فتاویٰ اور واقعات کا ذکر کرتے ہیں، ساتھ ساتھ فقہی فوائد اور نکات بھی بیان کرتے ہیں۔

کتاب کا مطبوعہ نسخہ اور اس کی خصوصیات:…اس وقت ہمارے پیش نظرمحیط برہانی کا وہ نسخہ ہے جو مولانا نعیم اشرف نور احمد کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی نے چھاپا ہے، یہ کل ۲۵ جلدوں پر مشتمل ہے، آخری دو جلدیں (۲۴،۲۵)فہرست پر مشتمل ہیں، جلد اول کے شروع میں محقق کے قلم سے تقریباً ۱۵۶ صفحات پر مشتمل ایک وقیع اور گراں مقدمہ ہے۔یہ مقدمہ چار فصلوں پر مشتمل ہے: پہلی فصل میں فقہ حنفی کی تاریخ اور اس کی تدوین کے مراحل کا ذکر ہے۔دوسری فصل میں صاحب محیط کے مکمل حالات زندگی، علمی کارناموں ، آپ کے اساتذہ اور تصانیف کا ذکر ہے۔تیسری فصل میں محیط برہانی کا مکمل تعارف پیش کیا گیا ہے۔چوتھی فصل میں ان تمام مشایخ و فقہاء کا مختصر تعارف و تذکرہ پیش کیا ہے جن سے صاحب محیط نے اپنی اس تالیف میں استفادہ کیا ہے اور آخر میں خاتمہ کے عنوان سے محقق نے اپنا منہج تحقیق اور محیط برہانی کے نسخوں کا تعارف کرایاہے۔

کتاب پر تحقیق و تعلیق کے وقت محقق کے پیش نظر پانچ نسخے تھے، ان پانچ نسخوں میں انہوں نے ’’مکتبہ الاوقاف العامہ، موصل ، بغداد ‘‘والے نسخے کو بنیاد بناکر تحقیقی و تعلیقی کام کیا ہے، کیوں کہ یہ نسخہ دیگر نسخوں کے مقابلے میں مکمل ہے، یہ نسخہ بڑے سائز کی چار جلدوں اور5241 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس نسخے کی طرف اشارہ کرنے کے لئے محقق ’’ الاصل‘‘ کا رمز استعمال کرتے ہیں۔

دوسرا نسخہ: ’’ مظاہر العلوم سہارنپور، انڈیا‘‘ میں موجود ہے، یہ نسخہ 8 جلدوں میں5000 صفحات پر مشتمل ہے، اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ’’ظ ‘‘ کارمز استعمال کرتے ہیں۔

تیسرا نسخہ ’’ مکتبہ عارف حکمت مدینہ منورہ ‘‘میں موجودہے، یہ مکمل نسخہ4388 صفحات پر مشتمل ہے، اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ’’ م‘‘ کارمزاستعمال کرتے ہیں۔

 چوتھا نسخہ ’’کتب خانہ فاضلیہ اسلام آباد‘‘ میں موجود ہے، یہ دو جلدوں پر مشتمل ہے، جلد اول ناقص اور جلد ثانی مکمل ہے، اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ’’ ف‘‘ کارمزاستعمال کرتے ہیں۔

پانچواں نسخہ’’ مکتبہ مجلس الدعوۃ و التحقیق الاسلامی ، علامہ بنوری ٹائون، کراچی‘‘ میں موجود ہے، یہ نسخہ ناقص ہے، 1569 صفحات پر مشتمل ہے، اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ’’ ب‘‘ کارمز استعمال کرتے ہیں۔

محقق نے نسخوں کے درمیان تقابل اور حاشیہ میں ان کے درمیان اظہار فرق کے علاوہ کتاب پر درج ذیل تحقیقی و تعلیقی کام کئے ہے:

(۱)… اصل مراجع اور ماخذ کی طرف رجوع کرکے منقولہ عبارت ومسائل کا تقابل کیا اور ان کی تصحیح کی ہے۔

(۲)…جہاں کہیں مسئلہ میں لفظی یا فقہی لغزش نظر آئی تو اس پر استدراک لکھا اور حاشیہ میں اس کی وضاحت بھی کی۔

(۳)… کتاب میں جہاں کہیں بیاض ( خالی جگہ) تھی اور اس کے بیان کئے بغیربات کو سمجھنا مشکل تھا، وہاں اصل مراجع سے رجوع کرکے بیاض کی عبارت مربع قوسین [  ] میں لکھ دی ہے اور حاشیہ میں اس کا حوالہ پیش کیا ہے۔

(۴)…قرآنی آیات کے حوالے اور احادیث مبارکہ کی تخریج کی گئی ہے۔

(۵)… اہم مسائل پر ترتیب وار نمبر لگائے گئے ہیں۔

(۶)… آخری دو جلدوں میں مسائل کی کتاب،فصل اور نوع کے اعتبار سے جامع فہرست پیش کی گئی ہے، جس سے مسائل کا تلاش کرنا بالکل آسان ہوگیا ہے ۔

غرض یہ کہ محیط برہانی کی ما شاء اللہ یہ ایسی خدمت ہے کہ اس پر محقق و ناشر اہل علم کی جانب سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ تقریباًمصنف کے زمانۂ تصنیف سے آج ایک ہزار سال بعد اس عظیم الشان انداز میں یہ کتاب زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منصہ شہود پر آئی ہے،محقق موصوف نے اس کتاب کی تحقیق تعلیق میںپندرہ سال محنت کی ہے ،ان کی یہ خدمت علماء و فقہائے اسلام کی ایک دیرینہ خواہش کی تکمیل ہے ۔

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019