معاف کریں اور خوش حال زندگی گزاریں

انسان خطاوٴں کا پتلا ہے۔ عقل مندہو یابے وقوف، عالم ہو یاجاہل لغزش سب سے ہوتی ہے۔ غلطی اور گناہ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس سے غلطی نہ ہوئی ہو اور نہ کوئی ایسا ہے جس نے صرف نیکیاں ہی کی ہوں۔نیکی و بدی، خیر و شر، حق و باطل، وفا و بے وفائی اور سچ و جھوٹ غرض سب متضاد چیزیں اللہ تعالی نے انسان کے مادے و خمیرے میں رکھ دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:پھر اس کے دل میں وہ بات بھی ڈال دی جو اس کے لیے بد کاری کی ہے اور وہ بھی ڈال دی جو اس کے لیے پرہیزگاری کی ہے۔( الشمس:۸)

اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے عفو و درگزر اور معافی و برداری کو پیدا فرمایا اوراس کو اپنی صفات حسنہ میں سے ایک صفت بنا دیاہے۔قرآن مجید میں ہی:”اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔“(الاحزاب:۲۴)ایک اور جگہ پر فرمایا:” الله تعالیٰ پچھلے گناہ معاف فرمادیتاہے۔“(المائدہ:۹۵)اگر گناہ وخطا نہ ہوتی تو عفو و بردباری بھی نہ ہو تی۔کسی بھی شخص کی بردباری کاعلم غصہ کے وقت اور اس کی سخاوت کا علم حاجت کے وقت ہوتا ۔ اگر رنگ ساز کے پاس سفید کپڑا نہ ہو تو کسی کو کیا معلوم ہوگاکہ وہ رنگ ساز ہے ۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی شفاعت بھی دراصل گناہ گاروں اور خطا کاروں کے لیے ہے۔

الله تعا لیٰ اپنے بندوں کو مخا طب کر کے فرمایا کہ :”لوگوں کے ساتھ معافی اور عفوو درگز والا معاملہ کرو،کیا تم یہ پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے۔“(النور:۲۲)یعنی جیسے کرنی ویسے بھرنی۔اگر تم لوگوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرو گے تو تمہارے ساتھ بھی اچھا معاملہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے تقویٰ کے اعلیٰ مراتب میں سے شمار کرتے ہوئے فرمایا:”اورمعاف کرنا تقویٰ کے بہت زیادہ قریب ہے۔“(البقرہ:۲۳۷)

اسی پر بس نہیں کیا، بل کہ اس پر اجروانعام کا اعلان کیا اور وعد لیا؛ تاکہ باہمی محبت و مودت کو باقی رکھنے میں رغبت ہو:”جس نے معاف کیا اور صلح کی تو اس کا اجروثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ، بے شک وہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔“(الشوری:۴۰) معاف کرنے سے بندے کو دو انعامات ملتے ہیں:ایک تویہ کہ لوگ اس کے مشکورومنون ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ اجر کا مستحق قرار پاتا ہے۔عموماََ لڑائی جھگڑوں اور باہم ناراضگیوں کا سبب غصہ بنتا ہے۔جو لوگ ایسی موقع پر غصہ پی جاتے ہیں اور بردباری اور درگزر کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف کر دیتے ہیں، ایسے لوگوں کو اللہ نے ” محسنین“ کا لقب دیاہے اور فرمایا کہ میں انہیں ”محبوب“ رکھتا ہوں:” غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور معاف کرنے والے ہیں، اوراللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا اور محبت کرتا ہے۔“(آل عمران:۲۰۰)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ مت جھگڑو۔ نہ ہی اپنے بھائی کے ساتھ مذاق کرو۔ایسا وعدہ بھی نہ کرو جسے پھرپورا نہ کر سکو۔آپ صلی اللہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ:جس نے جھگڑا چھوڑدیا اور وہ باطل پر تھا،تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے ایک طرف میں گھر بنائیں گے،اور جس نے جھگڑا چھوڑا جب کہ وہ حق پر تھا،تو اللہ تعالیٰ وسطِ جنت میں اس کے لیے گھر بنائیں گے۔(حدیث)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ آیت نازل ہوئی:”عفو و درگزر کو لازم پکڑو،نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرو“۔(الاعراف:۱۹۹)تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل امین سے معلوم کیا کہ : یہ کیا ہے ؟حضرت جبرئیل نے جواب دیا کہ:اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ جو آپ سے ناطہ توڑے آپ اس سے ناطہ جوڑو، جو آپ کو نہ دے اسے عطا کرو اور جو آپ پر ظلم کرے اسے درگزر فرماؤ“۔ (بخاری)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ :”مشرکیں مکہ کے لیے بددعا فرمائیں“۔آپ نے فرمایا:”مجھے رحمت بنا کر بھیجاگیا ہے نہ کہ زحمت “۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قوم کے لیے دعا فرمائی تو عرض کیا :اے اللہ!میری قوم کو معاف فرما دے کہ یہ جانتی نہیں ہے ۔(مسلم)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا بھی فرمائی اور ساتھ ہی عذر بھی پیش کیا۔

          ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جسے غصہ آجائے اور وہ اسے ضبط کر جائے تو اللہ تعالیٰ کی محبت ایسے شخص کے لیے لازم ہو جاتی ہے۔(حدیث) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ سفر میں تھے ۔آپ نے ایرانی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔اس کے دونوں اطراف موٹے تھے ۔ ایک اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چادر سے پکڑ کر زور دیا ،یہاں تک کہ اس کے نشانات گردن مبارک پر واضح دکھائی دینے لگے ، کہنے لگا کہ :اے محمد!جو کچھ اللہ نے آپ کو مال عطا کیا ہے اس میں سے مجھے کچھ دینے کا حکم صادر فرمائیں ۔ویسے بھی آپ مجھے اپنی ذاتی اور آباء اجداد کے مال سے نہیں دیتے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا کہ ”اسے مطلوبہ چیز دے دی جائے اور اسے کچھ بھی نہیں کہا جائے۔ دوسری روایت میں ہے کہ:”قیامت کے دن ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ جس شخص کا اللہ پر اجر واجب ہو وہ کھڑا ہو جائے۔ اس کے جواب میں کوئی شخص بھی کھڑا ہونے کی جسارت نہیں کر سکے گا۔سوائے اس شخص کے جس نے دنیا میں عفو و درگزر والا معاملہ کیا ہوگا“۔پس اگر کوئی معاف کرے تو وہ بھی اس مرتبہ تک پہنچنے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے ۔

ٍ       آج معاشرے میں لڑائی، جھگڑے، نفرتیں، ناراضگیاں اور بد اعتمادیاں عام ہو رہی ہیں۔ساتھ ساتھ امراض اور بیماریاں کے فیصد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ان دونوں مسائل کی زیادہ تر وجہ ٹینشن اور ڈپریشن ہے۔جسے ہم ہمہ وقت دل و دماغ پر سوار رکھتے ہیں۔مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہوتا، جتنا ہم اسے سوچ سوچ کر اپنی طبیعت خراب کر لیتے ہیں۔ انسان خطا کار ہے۔غلطیوں کا مجموعہ ہے۔اکثر غلطی بندہ جان بوجھ کر نہیں کرتا، بل کہ ہوجاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بلا جھجک معافی مانگ لیں۔یہی بڑا پن ہے۔اس سے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہوجاتا ہے اور پریشانی بھی کم ہوجاتی ہے۔اسی طرح معاف کرنے والے کو بھی چاہیے کہ وہ فراح دلی کا مظاہرہ کرے غصہ پی جائے اور کھلے دل سے معاف کر دے۔آج اگر ہم نے اپنے ماحول و معاشرے کو خوش گوار بنانا ہے تو ہمیں معافی کو عام کرنا ہوگا۔اس سے محبتیں بڑہیں گی، رشتے مضبوط ہوں گے، دوست قریب ہوں گے، اعتماد پختہ ہوگا اور پر سکوان اور چین سے بھر پور معاشرہ تشکیل پائے گا۔

احتشام الحسن ، چکوال

مدّرس:جامعہ اظہار الاسلام(جدید)چکوال
کل مواد : 10
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020