لو جاں بیچ کر بھی

لو جاں بیچ کر بھی، جو علم و ہنر ملے
جس سے ملے، جہاں ملے، جس قدر ملے

          علم ایک ایساپودا ہے ، جسے دل ودماغ کی سر زمین میں لگانے سے عقل کے پھول لگتے ہیں، علم ایک طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان پوری دنیا پر حکومت کرتا ہے۔ ایک عالم میں ایک لاکھ جاہلوں کے برابر طاقت ہوتی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ: ایک عالم شخص شیطان پر ہزار عابدوں سے سخت تر ہوتا ہے اور عالم کو عابد پر ایسی فضیلت ہے؛ جیسے چودھویں رات کے چاند کو تاروں پر،کیوں کہ علما، انبیا کے ورثا ہیں۔ انبیا کی میراث دینار ہے نہ درہم، بل کہ ان کی میراث ”علم“ ہے ، پس جس نے وہ حاصل کیا اس نے وراثت بہت حصہ حاصل کیا ۔

          اللہ تعالی ”علم“ کی فضیلت واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان لوگوں کے برا بر ہو سکتے ہیں جو جانتے نہیں؟بے شک عقل والوں کے لیے یہ بڑی نصیحت ہے“۔ (القرآن)ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے :”جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم دیا گیا ، اللہ تعالی ان کے درجات کو بلند کرتے ہیں“۔(القرآن) اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :”فرشتے علم حاصل کرنے والوں کے پاوٴں تلے پر بچھاتے ہیں اور سمندر کی مچھلیاں ان کے لیے دعا کرتی ہیں“۔(الحدیث) دوسری جگہ پر فرمایا :”جو شخص علم کی تلاش میں سفر کرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے“۔ (الحدیث)

          حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ”علم کے سبب کسی نے اللہ ہونے کا دعوی نہیں کیا، برخلاف مال کے۔علم پیغمبروں کی میراث ہے، مال فرعون، قارون اور ہامان کی“۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :”علم مال سے بہتر ہے ،کیوں کہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اور تم مال کی حفاظت کرتے ہو۔علم کی خوبی اس پر عمل کرنے میں ہے اور احسان کی خوبی اس کے نہ جتلانے پر منحصر ہے۔ جس شخص کا علم اس کے عقل سے زیادہ ہو جاتا ہے، وہ اس کے لیے وبال بن جا تا ہے۔

          آج کے دور میں علم گھٹ رہا ہے اور تعلیم بڑھ رہی ہے، تعلیم برائے مال ہو چکی ہے؛ جب کہ مال خرچ کرنے سے کم ہو جاتا ہے اور علم ترقی کرتا ہے۔مال دیر تک رکھنے سے فرسودہ ہو جاتا ہے،مگر علم کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔مال کو ہر وقت چوری کا خطرہ ہے اورعلم ہر دم محفوظ ہے۔صاحب مال کبھی بخیل بھی کہلاتا ہے،مگر صاحب علم کریم ہی کہلاتاہے۔علم سے دل کو روشنی ملتی ہے اور مال سے تیرہ تار ہو جاتا ہے۔کثرت مال سے فرعون نے دعوی خدائی کیا ، مگر کثرت علم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ماعبدنا ک حق عبادک“ کہا۔ مال سے بے شمار دشمن پیدا ہوتے ہیں ، مگر علم سے ہر شخص دل عزیز ہو جاتا ہے۔روز قیامت مال کا حساب ہو گا ، مگر علم پر کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔

رضينا قسمة الجبار فينا

لنا علم، وللجُهّال مال

فإن المال يفنى عن قريب

وإن العلم يبقى لا يزالُ

          دور حاضر میں علم پستی کی طرف گامزن ہے،ہر طرف علم کی ناقدری ہے، آج جتنے بھی فتنے جنم لے رہے ہیں وہ بے علمی یا کم علمی کی وجہ سے ہیں۔ لہذا علم حاصل کرکے ہم اپنے دل و دماغ میں ایسا پودا لگالیں؛ جس سے عقل کے پھل حاصل ہوں، اللہ تعالی کے احکام کی ادائیگی اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جان نثاری آسان ہو جائے۔

سعادت، سیاست، عبادت ہے علم

بصیرت ہے، دولت، طاقت ہے علم

جو بھی مشکل ہو میری تو اسے آسان کر دے

علم کی دولت سے یا رب! میرا دامن بھر دے

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019