جمعرات کا دن اور طالب علم

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ طلوع فجر کا منظر سحر افروز ہوتا ہے. جب دھیرے دھیرے سورج افق سے نمودار ہوتا ہے اور بیداری ایک خوشگوار طلسم کی طرح تاریکی کے باریک نقاب کو خاموشی سے پارہ پارہ کرتی ہے. ہر شخص خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں ان خوابوں کی تکمیل کے لیے ایک نئ امید کے ساتھ جاگتا ہے۔

   اس طلسم آمیز منظر کا اثر دوبالا ہوجاتا ہے حب سورج جمعرات کے دن کی نوید لے کر نمودار ہوتا ہے کیونکہ جمعرات کا دن طالب علم کی زندگی کو ایک نیا رخ دیتا ہے, اس کی زندگی میں باقی رمق کو ایک نئ کمک دیتا ہے، پھر سے جینے کی آرزو انگڑائی لینے لگتی ہے, کہیں دور دل کے کسی گوشے سے خود مختاری کے نعروں کا شور سا اٹھتا ہے اور خون کی رفتار حیرت انگیز طور پر تیز ہوجاتی ہے اور طبیعت میں نشاط پیدا ہو جاتا ہے.
   جمعرات کی صبح صادق سے اس کا چہرہ گلاب کے پھول کی طرح کِھل رہا ہوتا ہے. خلاف عادت جلد ہی بستر کو داغ مفارقت دے جاتا ہے اور خشوع و خضوع سے نماز فجر ادا کرتا ہے۔ امام صاحب کا نماز کو طویل کرنا، اور سات قراءتوں میں تلاوت کرنا اس کے اندر سوزوگداز کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
   اس دن ہر شخص سے خندہ پیشانی سے ملنا, بات بات پر باچھیں کھلنا, آپس کی چپقلشوں کو بھلانا, استادوں کا طلبہ کے ساتھ نرمی برتنا اور تھوڑا بے تکلف ہونا, طلبہ کا آپس میں ہفتے بھر کی کراری یادیں دہرانا, بے تکی باتوں میں تک ڈھونڈنا, اخوت و بھائی چارگی کو عام کرنا اور صاف ستھرا لباس زیب تن کرنا, ان تمام جذبات کو ایک طالب علم ہی سمجھ سکتا ہے۔ جو ہر طرح کے رنج و غم کو بھلا کر اس دن کے نشے میں مست ہو کر امن وسکھ  کے پھول بکھیرتا ہے اور جمعے کے دن کے لیے بہترین پلانز بناتا ہے کیونکہ جب وقت کم ہو تو حسن اختیار ہونا چاہیۓ۔
   آخری حصے کا منظر دل افروز ہوتا ہے. گھر جانے کی خوشی رگوں میں سرایت کر چکی ہوتی ہے جو امڈ کر ظاہر ہونے کے لیے سرکش گھوڑے کی طرح بے قابو ہو رہی ہوتی ہے استاذ کا کلام کم, اور گھڑی کی ٹک ٹک زیادہ سنائی دے رہی ہوتی ہے. گھڑی کے ہر ٹک ٹک پر دل میں ایک ترنم سا پیدا ہوتا ہے جو گیت آزادی کی ترجمانی کر رہا ہوتا ہے۔ استاذ محترم کے سامنے دو زانوں ہو کر, ان سے محو گفتگو ہوتا ہے لیکن دل بےقابو ہو کر زور زور سے دھڑکتا ہے گویا کے دل بھی پھیپڑوں کی قید سے آزاد ہونے کی سعی کر رہا ہو, بے اختیاری طور آنکھیں گھوم گھوم کے گھڑی پر رک جاتی ہیں اور بے قراری سے وقت مقرر کی منتظر ہو تی ہیں. گھنٹی کی آواز جیسے ہی کانوں سے ٹکراتی ہے, سارے وجود میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے.اور طالب علم اپنا بوریا بسترا کندھے پر لٹکاۓ گھر کی طرف رواں دواں ہوجاتا ہے۔

رضوان اللہ

طالب علم
زیر تعلیم مدرسہ ابن عباس رضی اللہ عنہا
کل مواد : 6
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
متعلقہ الفاظ
  • #جمعرات
  • #طالب علم
  • آپ بھی لکھئے

    اپنی مفید ومثبت تحریریں ہمیں ارسال کیجئے

    یہاں سے ارسال کیجئے

    ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
    ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
    شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020