قادیانیوں کو مسلمان قرار دینے کی نازیبا کوشش

اسلام دشمن طاقتیں مختلف جہتوں سے اسلام اور مسلمانوں پر یلغار کر رہی ہیں؛ لیکن انہوں نے فکری یلغار کے لئے دو راستے اختیار کئے ہیں،ایک یہ کہ اسلام کو بے وزن اور بے وقعت قرار دیاجائے، جیسے قرآن مجید کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ تورات و انجیل کا چربہ ہے، پیغمبر اسلام ﷺ کو اللہ کا پیغمبر کے بجائے سماجی مصلح قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے، شریعت اسلامی کو بعثت نبوی کے وقت سماجی حالات کا رد عمل قرار دیاجاتا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلمانوں کے کارناموں کو یا تو نظر انداز کیاجاتا ہے یا اسے محض فلاسفہ یونان کے افکار کی تشریح کا نام دیاجاتا ہے۔
دوسرا طریقہ کار یہ ہے کہ جن لوگوں نے اسلام کو نقصان پہنچایا ہے، ان کو ہیرو بنا کر پیش کیاجاتا ہے اور ان کی ایسی تصویر کھینچی جاتی ہے کہ گویا وہی اسلام کے حقیقی ترجمان ہیں، اسی کا ایک مظہر یہ ہے کہ مغربی طاقتیں ہمیشہ قادیانیت کو خصوصی اہمیت دیتی رہی ہیں، قادیانوں کے ساتھ خصوصی دوستانہ اور خیرخواہانہ تعلق رکھتی ہیں اور انہیں ایک مسلمان کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں؛تاکہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین نے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی جو ناپاک کوششیں کی ہیں، اسے اسلام اور مسلمانیت کا لبادہ اوڑھایاجائے ، اسی طرح کی ایک ناپاک کوشش ابھی حکومت ہند کی طرف سے سامنے آئی ہے کہ 2011میں ہندوستان کی مردم شماری کا جو خلاصہ سامنے آیا ہے، اس میں مسلمانوں کے ایک فرقہ کی حیثیت سے احمدی مسلمانوں یعنی قادیانیوں کا ذکر کیاگیا ہے، پہلے مسلمان فرقوں کی حیثیت سے سنی، شیعہ اور اسماعیلی کا ذکر ہوتا تھا؛ لیکن اس بار اس میں اس فرقہ کا اضافہ کیاگیا ہے، ظاہر ہے کہ یہ مسلمانوں کے جذبات کو زخمی کرنے اور ان پر ایک ایسی بات تھوپنے کی کوشش ہے، جس کے غلط اور ناقابل قبول ہونے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور ایک ایسے گروہ کو مسلمان قرار دیاجارہا ہے جس کو مسلمانوں کے تمام فرقے دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں؛ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خود اس فتنہ کی سنگینی کو سمجھیں اور دوسرے بھائیوں کو اس سے واقف کرائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی بحیثیت نبی اور رسول سب سے بڑی خصوصیت اور امتیازی وصف آپ ﷺ کا ’’خاتم النبیین‘‘ ہونا ہے، یعنی نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ کی ذات اقدس پر ختم ہوچکا ہے، آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آیا ہے اور نہ آئے گا ، اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ایک پیغمبر کے بعد دوسرے پیغمبر کی آمد یا تو اس لئے ہوتی ہے کہ پہلے پیغمبر کے ذریعہ انسانیت کو جو تعلیم حاصل ہوئی ، وہ محفوظ نہ رہے اور اس میں ملاوٹ اور آمیزش ہوجائے، یا اس لئے کہ پہلے پیغمبر کی شریعت میں جو احکام نازل ہوئے ہوں، اس میں اللہ کی طرف سے کوئی تبدیلی یا کمی بیشی عمل میں آنے والی ہو، عام طور پر ان ہی دو اسباب کے تحت ایک پیغمبر کے بعددوسرے پیغمبر کی آمد ہوتی ہے، پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب الہی پوری طرح محفوظ و موجود ہے، اور خود اللہ تعالی نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے،’’إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحافظون‘‘(سورۂ حجر:۹)اور جہاں تک شریعت اسلامی میں ترمیم و تغیر کی بات ہے تو شریعت پایۂ کمال کو پہنچ چکی ہے اور احکام شرعیہ کی نسبت سے اللہ تعالی کی جو نعمت ہدایت انسانیت کو عطا کی جاتی تھی، وہ تمام ہوچکی ہے، ’’الیوم أکملت لکم دینکم وأتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الإسلام دینا‘‘(سورۂ مائدہ:۳) یہ گویا اس بات کا اعلان ہے کہ یہ شریعت آخری شریعت ہے، اب اس میں کسی قسم کی ترمیم اور اضافہ و کمی کی گنجائش نہیں۔
اس لئے ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کے بعد اب کسی نبی کے آنے کی نہ ضرورت باقی رہی اور نہ اس کی گنجائش ہے؛اسی لئے خود قرآن مجید نے پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ اعلان کردیا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں،’’ولکن رسول اللہ وخاتم۱لنبیین‘‘(سورۂ احزاب:۰۴)، قرآن کے اس صریح اور واضح اعلان کی مزید تائید و تشریح احادیث نبوی ﷺ سے ہوتی ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ بنو اسرائیل میں انبیاء قیادت و انتظام کا فریضہ انجام دیتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہوجاتی تو اس کے بعد دوسرا نبی آجاتا؛لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، البتہ خلفاء ہوں گے،’’إنہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء‘‘(بخاری ،باب ما ذکر عن بنی اسرائیل)، حضرت ابوہریرہؓ سے آپ ﷺ کا ایک ارشاد مروی ہے کہ مجھے انبیاء پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے، اس میں ایک خصوصیت آپ ﷺ نے یہ ذکر فرمائی کہ سلسلہ نبوت مجھ پر ختم ہوچکا ہے، ’’وختم بی النبیون‘‘(مسلم)، ایک موقعہ پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رسالت و نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا، اب نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی،’’إن الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول ولا نبی‘‘(ترمذی، باب ذہاب النبوۃ)، حضرت ثوبان ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، جونبوت کے دعویدار ہوں گے؛حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی اور نبی نہیں آسکتا(ابودائود، کتاب الفتن)۔
آخری نبی ہونے کی حیثیت سے آپ ﷺ کا صفاتی نام ’’عاقب‘‘ ہے، عاقب کے معنی ’’بعد میں آنے والے‘‘ کے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں’عاقب‘ ہوں، جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا،’’أنا العاقب الذي لیس بعدہ نبي‘‘(ترمذی،باب أسماء النبی)، ہر نبی کے ساتھ ظاہر ہے کہ اس کی امت بھی ہوتی ہے؛اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو؛’’أنا اخر الأنبیاء وأنتم آخر الامم‘‘(ابن ماجہ، باب الدجال)، ایک حدیث میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ میری مسجد نبوت سے نسبت رکھنے والی آخری مسجد ہوگی،’’إن مسجدی آخر المساجد‘‘(مسلم، باب فضل الصلاۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ)۔
رسول اللہ ﷺ نے سلسلہ نبوت کے اختتام کو بڑی عمدہ مثال سے سمجھایاہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے گھر تعمیر کیا، خوب عمدہ اور نہایت خوبصورت، لیکن کونہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے، لوگ آتے ہیں، اس کے حسن و جمال پر حیرت زدہ ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہیں لگا دی گئی؟ تو میں وہی ’’اینٹ ‘‘ ہوںاور خاتم النبیین ہوں(بخاری، باب خاتم النبیین) ، گویا اللہ تعالی نے بہترین انسانوں کا انتخاب کر کے ایک قصر نبوت تعمیر کیا، اس عظیم الشان محل میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی، جو پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات والاصفات سے پُر ہوگئی،اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر طرح کی نبوت آپ ﷺ پر ختم ہوچکی ہے، آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی صاحب شریعت آسکتا ہے اور نہ کوئی ایسا نبی جو آپ ﷺ کے تابع ہو اور آپ ہی کی شریعت کا متبع ہو، یہ بات آپ ﷺ کے بعض اور ارشادات سے بھی واضح ہوتی ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میرے بعد سلسلہ نبوت جاری رہتا تو عمر بن خطاب نبی ہوتے،’’لوکان بعدی نبیا لکان عمر بن الخطاب‘‘(ترمذی، کتاب المناقب)، اسی طرح ایک موقعہ پر حضرت علی ؓ سے ارشاد فرمایا کہ تم میرے مقابلہ میں ایسے ہی ہو جیسے حضرت موسی علیہ السلام کے مقابلہ ہارون علیہ السلام؛لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا، ’’ألا إنہ لا نبی بعدی‘‘(بخاری، کتاب فضائل الصحابۃ)، غور فرمائیے کہ اگرذیلی اور غیر مستقل نبوت کی گنجائش آپ کے بعد باقی رہتی تو حضرت عمرؓ اور حضرت علی ؓ اس سے کیوں نہ سرفراز کئے جاتے؟ حضرت ہارون علیہ السلام کوئی صاحب شریعت نبی نہیں تھے؛بلکہ شریعت موسوی ہی کے متبع تھے، اس کے باوجود آپ ﷺ نے حضرت ہارون علیہ السلام کی سی نبوت کو بھی حضرت علی ؓ کے لئے ناممکن قرار دیا، معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص حضورﷺ کے بعد کسی بھی طرح کی نبوت کو باقی مانتا ہو، تو وہ ایک ایسی گمراہی کی بات کرتا ہے کہ خداکے ساتھ شرک کے بعد اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہی نہیں ہوسکتی۔
اسی لئے رسول اللہ ﷺ کے بعد صحابہ کا اس بات پر اجماع و اتفاق تھا کہ آپ ﷺ کی ذات پر سلسلہ نبوت ختم ہوچکا ہے؛ چنانچہ جب مسیلمہ کذاب نے رسول اللہ ﷺ کو نبی مانتے ہوئے اپنی نبوت کا بھی دعوی کیا تو صحابہ نے بالاتفاق اسے مرتد قرار دیا، اس سے جنگ کی گئی اور بالآخر وہ اپنے کیفرکردار کو پہنچا، اسی لئے امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص نبوت کا دعویدار ہو اور کوئی مسلمان اس سے معجزہ اور نبوت کی علامت طلب کرے تو یہ مطالبہ ہی اس کو ایمان سے محروم کردے گا؛کیونکہ گویا اس نے رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کو ممکن تصور کیا۔
دراصل آپ ﷺ کی بعثت تمام انسانیت کے لئے ہے، قرآن کا ارشاد ہے:’’وما أرسلنک إلا کافۃ للناس‘‘(سورۂ سباء:۸۲)، تمام لوگوں میں قیامت تک آنے والے انسان داخل ہیں، گویا یہ اس بات کا اعلان ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت قیامت تک کے لئے ہے، جب آپ ﷺ کا دائرہ نبوت قیامت تک وسیع ہے، آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت محفوظ ہے اور آپ ﷺ کی شریعت میں کسی نسخ اور تبدیلی و اضافہ کا امکان نہیں تو آ پ ﷺ کے بعد کسی پیغمبر کی بعثت کے کوئی معنی نہیں، اگر آپ ﷺ کے بعد بھی سلسلہ نبوت جاری ہوتا تو ضرورتھا کہ جیسے ہر پیغمبر نے بعد میں آنے والے پیغمبر کے بارے میں اطلا ع دی اور اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی، آپ ﷺ بھی اس کا اعلان فرماتے؛لیکن یہی نہیں کہ آپ ﷺ نے آئندہ کسی نبی کی پیشین گوئی نہیں فرمائی؛ بلکہ یہ بھی اعلان فرمادیا اور اس کو بار بار واضح کردیا کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
بدقسمتی سے انگریزوں کے تسلط کے دور میں پنجاب کی سرزمین سے حکومت وقت کی شہ پر ایک شخص نے نبوت کا دعوی کیا، جس کے غلامانہ مزاج و مذاق کا حال یہ تھا کہ خود ہی اپنے آپ کو حکومت انگلشیہ کا خود کاشتہ پودا کہا کرتا تھااور حکمرانوں کی چوکھٹ پر جبیں سائی سے اسے ذرا بھی عار نہ تھا، افسوس کہ آج تک یہ گمراہ فرقہ موجود ہے اور وہ ناواقف مسلمانوں کو دھوکہ دے کر ان کو نبوت محمدی ﷺ کے سایہ سے محروم کرنا چاہتا ہے، یہ ایک ایسا فتنہ ہے، جس سے بڑا کوئی فتنہ نہیں، اور یہ ایسی گمراہی ہے جس سے بڑھ کر کوئی گمراہی نہیں، اگر اس دنیا میں اعتقاد و عمل کی نجاستیں محسوس پیکر میں ڈھل سکتیں اور اس کو محسوس کیاجاسکتا تو یہ ایسی بات ہوتی کہ اگر اسے سمندر میں ملادیاجاتاتووہ بھی متعفن ہوجاتا۔
حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت امت کے لئے ایک بڑی رحمت ہے، یہ اس امت کی عالمگیریت، اس کی وحدت، اپنے عقیدہ پر جمائو اوراستقامت اور اعتقادی انتشار اور فرقہ بندیوں سے حفاظت کا ذریعہ ہے؛کیونکہ اگر سلسلہ نبوت باقی ہو تو ہمیشہ ایک نئے نبی کا انتظار ہوگا اوراپنے عقیدہ پر استقامت نہ ہوگی، پھر جو شخص نبوت کا دعوی کرے اس کے سچے اور جھوٹے ہونے کو جانچنا اور پرکھنا خود ایک امتحان ہے؛کیونکہ حقیقی نبی کا انکار بھی کفر ہے اور جھوٹے نبی پر ایمان لانا بھی کفر؛ اس لئے جب بھی کوئی نبی آئے گا، تو کچھ اس پر ایمان لانے والے ہوں گے اور کچھ اس کے منکر ہوں گے،اوراس سے فرقہ بندیاں جنم لیں گی؛ اس لئے ختم نبوت مسلمانوں کے لئے اللہ تعالی کی بہت بڑی رحمت ہے اور اعداء اسلام چاہتے ہیں کہ امت مسلمہ کو اس عظیم نعمت سے محروم کردیں؛لیکن وہ کبھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکتے، ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو بھی اور برادران وطن کو بھی ختم نبوت کی حقیقت سے واقف کرایاجائے؛تاکہ وہ بکرے کی کھال میں آنے والے بھیڑیوں کو پہچان سکیں اور اچھی طرح سمجھ لیں؛کہ ختم نبوت کا عقیدہ ایمان اور کفر کی اساس اور ہدایت و گمراہی کے درمیان خط فاصل ہے، اور قادیانیت مسلمانوں کے فرقوں میں سے ایک فرقہ نہیں؛بلکہ ایک علاحدہ مذہب ہے۔
اس پس منظر میں عام مسلمانوں ،مذہبی اداروںاور ملی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ حکومت ہند کے خلاف پُر امن احتجاج کریں، صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور اپوزیشن لیڈران کو خطوط لکھ کر صحیح صورتحال سے واقف کرائیں اور مطالبہ کریں کہ قادیانیوں کو پارسیوں، جینوں اور سکھوں کی طرح ایک الگ قوم اور مذہب شمار کیاجائے، انہیں مسلمانوں میں شامل نہیں کیاجائے؛ کیونکہ وہ مسلمان ہیں ہی نہیں، جیسے کسی مسلمان کو ہندو، سکھ یا ایسائی قرار دینا اس کے لئے تکلیف دہ اور اہانت آمیز تعبیر ہے،یا جیسے ایک ہندو جو اپنے آپ کو ہندو کہتا ہو اور اسلام اس کے لئے قابل قبول نہ ہو، اگر اس کو مسلمان کہاجائے تو وہ اسے اپنے لئے بے عزتی تصور کرے گا، اسی طرح قادیانیوں کو مسلمان قرار دینا مسلمانوں کے لئے تکلیف دہ اور اہانت آمیز ہے۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2022

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2022