بِلک اٹّھے زمیں والے، چراغاں آسمانوں میں
وفاتِ اہلِ دل کا سوگ ہے سارے جہانوں میں
بہت سی مشعلوں کو بجھتے دیکھا اور دیکھیں گے
مگر تیرے چلے جانے سے ہے ماتم اجالوں میں
یہ مے خانہ بھلا کس کام کا گر ساقی ہی نا ہو
تڑپ ہے مے کشوں میں، ساغروں میں اور دِوانوں میں
چمن کے پھول سارے حسبِ معمول اُس کو تکتے ہیں
تھی جس کی باغبانی سب سے اعلیٰ باغبانوں میں
تواضع، سادگی، للہیت، اخلاص سب کچھ تھا
حقیقی شاہ تھا گو خود کو گنتا تھا فقیروں میں
مبارک آپ کو ختمِ سفر اے فاتحِ عرفاں!
بس اب آرام کیجے رب کی جنت کے مکانوں میں
محمد ہانی رفیق عفی عنہ