مضمون 2025/11/14 مشاہدات

عم محترم مفتی محمد حنیف عبد المجید ؒ

بروز بدھ بوقتِ تہجد، 20 جمادی الاولیٰ 1447ھ بمطابق 12 نومبر 2025ء، میرے محترم تایا جان مفتی محمد حنیف بن عبدالمجید صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ اس فانی دنیا کو چھوڑ کر دارِ بقا، آخرت کی طرف روانہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

حضرت جامعۃ العلوم الاسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل تھے۔ 1984ء میں درسِ نظامی مکمل کیا۔ اس کے بعد حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ کے زیرِ تربیت  رہے۔ اس کے بعد جامعہ بنوری ٹاؤن میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں، بعد ازاں کئی سال جنوبی افریقہ میں تدریسِ حدیث و دیگر علومِ شرعیہ میں مشغول رہے۔ پاکستان واپسی پر، تقریباً 1990ء کے بعد، آپ نے البدر اسکول قائم کیا، اور 1995ء ٫ میں  بیت العلم مدرسہ کی بنیادرکھی۔

اسی طرح آپ نے مکاتبِ قرآنیہ کا ایک وسیع سلسلہ شروع کیا، جو آج بھی اللہ کے فضل سے جاری و ساری ہے، اور ان شاءاللہ تا قیامت جاری رہے گا۔ ان تمام اداروں اور مکاتب کا فیض آپ کو قبر میں بھی پہنچتا رہے گا۔

میری تعلیم وتربیت میں عم محترم مفتی حنیف صاحب ؒ کا بہت بڑا حصہ تھا، اور جب سے ہوش سنبھالا اس وقت سے ان کی وفات تک مختلف موقعوں پر ، مختلف حالات میں، ان کے ساتھ رہنے سے بہت کچھ  سیکھنے کو ملا،  آج  جب وہ دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، تو ان کے ساتھ بیتے ہوئے لمحات رہ رہ کر یاد آ رہے ہیں، آئندہ سطور میں حضرت تایا جان ؒ کی کچھ نمایاں صفات، جنہیں میں نے تایا جان  ؒ کے اندر دیکھا اور ان سے سیکھا، اس کو لکھ رہا ہوں، اللہ تعالی اس کو ہمارے لیے نافع بنائے، آمین:

دین کی فکر:

 تایا جانؒ پر ایک ایسی فکر سوار تھی، کہ جس میں گھلے جا رہے تھے، کئی دفعہ ان سے یہ جملہ سنا کہ یہ اتنے سارے بچے بچیاں جو اسکول جاتے ہیں، ان کی دینی  تعلیم وتربیت کی فکر کیسے ہو گی؟ اللہ تعالی نے ان سے اس سلسلے میں مکتب کا بہت بڑا کام لیا۔سب سے پہلا رائیونڈ اجتماع کا سفر ، غالبا ۲۰۰۹ ٫میں ، تایا جان کی رفاقت میں ہوا، چونکہ اس سفر میں میری عمر کم تھی، اس لیے انہی ہی سرپرستی میں تھا، اور ہر وقت اور ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، اس سفر میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا، اسی سفر میں مجھ سے ایک دفعہ فرمانے لگے: ’’حذیفہ، یہ دیکھو، مولانا الیاس صاحب ؒ نے ایسا کام کیا، کہ وہ چلے گئے، لیکن ان کا کام ان کے پیچھے چل رہا ہے، دعا کرو کہ اللہ تعالی ہم سے بھی کوئی ایسا کام لے لیں، کہ ہم چلے گئے اور کام چلتا رہے۔‘‘ میں اس وقت تو نہیں سمجھ سکا، بعد میں جب مکتب کا کام دیکھا، تو مجھے اندازہ ہوا کہ تایا جانؒ واقعی ایسا کام کر گئے ہیں۔

مشائخ اور بڑوں سے جڑے رہنا:

مجھے یاد ہے ایک دفعہ کسی دعوت میں شریک تھے، مفتی رفیع عثمانی صاحب ؒ بھی تشریف فرما تھے،  مجھ سے فرمایا: ’’حذیفہ، ان کے ہر ہر عمل کو غور سے دیکھو۔‘‘اور پھر  خود بھی ان کی ہر ہر ادا پر غور کرنے لگے، ایسے جیسے ایک طالب علم غور سے اپنے استاذ کی اداؤوں کو دیکھتا ہے۔

یکسوئی اور خلوت پسندی:

مفتی صاحب تنہائی اور خلوت کو پسند کرتے تھے، کہ خلوت میں وقت قیمتی بنتا ہے اور چونکہ علمی مزاج تھا، اس لیے یکسوئی کو پسند کرتے تھے، ایک دفعہ کراچی کے اجتماع میں دیکھا، کہ تایا جانؒ سب سے الگ تھلگ غیر معروف جگہ پر ایک درخت کے نیچے بیٹھے کچھ لکھ رہے ہیں، ان کی دلی چاہت ہوتی تھی کہ تنہائی اور خلوت کا کوئی موقع مل جائے، اور وہ اس کو غنیمت جانیں۔

گمنامی:

 تایا جانؒ  اپنا پورا زور اس بات پر  لگا دیتے تھے کہ ان کا عمل اور ان کی خدمات اور ان کی کاوش زیادہ سے زیادہ پوشیدہ رہے،  اس کی جھلکیاں حضرت کے کئی مختلف سرگرمیوں میں نظر آتی تھی۔ کتنے ہی اجتماعی مواقع پر ایسا ہوا کہ مفتی صاحب کے زیر نگرانی وہ تقریب منعقد ہوتی تھی، لیکن مفتی صاحب خود اس میں اگلی صفوف میں کہیں نظر نہیں آتے تھے، بلکہ بسا اوقات تو ان کو مدعو کرنے کے لیے اعلانات کیے جاتے تھے۔تایا جانؒ  کی ایسی تصانیف بھی ہیں جس میں انہوں نے اپنا نام لکھنا بھی گوارا نہیں کیا اور کئی دینی سلسلے ایسے شروع کیے جن کے وہ خود عملی طور پر سرپرست تھے، لیکن اپنا نام  ظاہر کرنا گوارا نہیں کیا،  اس کی اصل وجہ یہی تھی کہ وہ  اس بات کے حریص تھے کہ ہمارا کام جتنا ہو سکے وہ ڈھکے چھپے انداز میں ہو اور اللہ تعالی کے ہاں مقبول ہو جائے۔ مجھے  امام شافعیؒ کا قول یاد آتا ہے:

«لو أن الناس كتبوا كتبي هذه ونظروا فيها وتفقهوا ثم لم ينسبوها إلي أبداً»

’’(کیا ہی اچھا ہوتا ) کہ لوگ میری کتابیں نقل کرتے اور اس کو پڑھتے اور اس سے مسائل / فقہ کا علم حاصل کرتے، اور ان کو میری طرف منسوب نہیں کرتے (ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ یہ میری کتابیں ہیں)‘‘

صلہ رحمی:

اس کی ترغیب بھی بہت دیتے تھے، اور عمل بھی کر کے دکھا دیتے، مجھے ایسے بھی مواقع یاد ہیں جب تایا جانؒ نے خود اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر اپنے رشتہ داروں کو راحت پہنچانے کی کوشش کی، اور خاندان کے لوگوں کو مسلسل ہدایا بھجوانا تو عام معمول تھا۔

 دعاؤں کا اہتمام:

 مفتی صاحب کو بہت اہتمام تھا، یہاں تک کہ ۲۳ – اکتوبر ۲۰۲۵ ٫   کو ہسپتال میں عیادت کے لیے گیا ، تب بھی مجھ سے دعاؤوں کی کتاب کا پوچھنے لگے، کئی مختلف موقعوں پر مجھے مختلف دعائیں سکھائیں ، مانگنے کی تاکید کی، اور ایک نکتے کی طرف مفتی صاحب بہت تاکید کرتے تھے، اور اپنی تمام تصانیف میں بھی اس کو ملحوظ رکھا، وہ یوں فرماتے تھے کہ دعا پڑھی نہیں جاتی، بلکہ مانگی جاتی ہے، اسی لیے دعاؤوں کے معانی کے استحضار پر بھی بہت توجہ دلاتے تھے، بعض دفعہ  اجتماعی دعا اس طرح کروائی کہ ایک جملہ عربی کا اور اگلے جملے میں اس کا ترجمہ دہراتے ۔ مسنون ومأثور دعاؤوں کو یاد کرنے کا اہتمام بھی کرتے اور ترغیب بھی دیتے۔

عربی زبان سے شغف:

عربی زبان سے غیر معمولی شغف تھا، اس کی ترویج کے لیے بہت فکر مند رہتے ، مجھ سے کئی دفعہ فرماتے تھے کہ حب مدرسہ بیت العلم میں عربی زبان کی ترویج کی فکر کرو، چنانچہ اس سلسلے میں وہاں متعددبار جانا بھی ہوا۔ تایا جان بذات خود مدرسہ میں  عربی زبان کی ترویج کی فکر فرماتے تھے۔

صحت اور کھانے پینے کی فکر:

 تایا جان اچھی غذاؤں کی فکر کرتے تھے، بلکہ اس پر ایک کتاب بھی تصنیف فرمائی، کہ پھلوں سے مہمان نوازی کریں، اور خود بھی اس پر عمل کرتے تھے، کئی موقعوں پر ہم نے دیکھا پھلوں سے ضیافت فرماتے تھے،  اور اسی طرح طلبا کی بھی فکر کرتے تھے، کہ وہ گھروں سے ناشتہ کر کے آئیں، بلکہ تحفیظ القرآن کے طلبا سےپوچھتے بھی تھے اور اساتذہ کے ذمہ لگاتے تھے کہ وہ طلبا سے پوچھیں کہ وہ ناشتہ کر کے آئیں ہیں یا نہیں، اسی مناسبت سے میرے اپنے بچپن کی کچھ یادیں تازہ ہوگئیں،  حفظ کے زمانے میں  مدرسے جانے کے لیے مفتی صاحبؒ کے گھر پہنچ کر مولانا محمد (مفتی صاحب کے صاحبزادے)  کا انتظار کرتا  تھا،کہ ہم دونوں وہاں سے اکٹھے مدرسے جاتے تھے، اس موقع پر تایا جان اکثر مجھے اپنے گھر میں اندر بلا لیا کرتے تھے اور اپنے ساتھ بٹھا کر ناشتہ کروایا کرتے تھے،  مجھے یاد ہے کہ میں اس زمانے میں چونکہ حفظ کا بوجھ ہوتا تھا اس لیے ناشتہ برائے نام ہی کرتا تھا، تایا جان بہت اہتمام اور شفقت سے بہت سی چیزیں کھلاتے تھے، ایک دو بار نہیں، بلکہ کئی مرتبہ ان کے ساتھ اس طرح ناشتہ کیا، بلکہ جب بھی ان کو پتہ چل جاتا کہ حذیفہ باہر آ گیا ہے، وہ اندر بلا لیتے تھے، وہ لمحات آج بھی ایسے یاد آتے  ہیں جیسے کل کی بات ہو ، بچپن میں تایا جان کی صحبت کے وہ لمحات ناقابل فراموش ہیں۔

نماز کی پابندی اور اہتمام:

 ایک دفعہ گھر سے ہمیں اکٹھے کہیں جانا تھا، اتنے میں اذان ہو گئی، فرمایا: ’’پہلے نماز ادا کریں گے، پھر سفر کریں گے۔‘‘ دیکھنے میں یہ ایک معمولی عمل ہے کہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ اعمال  ہے جن کے سبب قبولیت ملتی ہے، جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اہمیت دی ہے، اس کو اگر ہم اہمیت دیں گے، تو اللہ تعالی کے یہاں ہمارے اعمال مقبول ہوں گے۔  ایک دفعہ تایا جانؒ کے ساتھ کسی سے ملاقات کے لیے عشا کے بعد  بیت المکرم مسجد میں داخل ہوئے، داخل ہوتے ہی فرمایا: ’’حذیفہ دو رکعت نفل   تحیۃ المسجد پڑھ لو،‘‘ اسی طرح ایک دفعہ مجھ سے فرمایا: سجدہ میں رب ارحمہما کما ربیانی صغیرا، مانگا کرو، اس طرح چھوٹی عمر سے ہی سجدہ میں دعا مانگنے کی عادت ڈلوائی۔

حوصلہ افزائی اور قدر دانی:

بہت لوگ جانتے ہیں کہ  حضرت مفتی صاحبؒ  تصنیف و تالیف کا بہت زبردست ذوق رکھتے تھے، ان کی کئی تصانیف ہیں،  جن سے امت آج بھی مستفید ہو رہی ہے، اور ان شاءاللہ قیامت لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔تایا جانؒ  مجھے اس کی ترغیب بھی دیتے تھے اس پر خوش بھی ہوتے تھے، مجھے یاد ہے کہ میں نے غالبا سب سے پہلی تحریر لکھی تھی، (غالبا ۲۰۰۸ ٫ میں) ایک کہانی لکھی تھی، سنت کے عنوان سے ، اور وہ فوٹو کاپی کروا کر تایا جانؒ کو دی تھی، انہوں نے خود اس کی تصحیح اور اصلاح فرمائی تھی، مختلف جگہوں پر تنبیہ فرمائی تھی، اور پھر خود حضرت نے مجھے گھر آکر وہ تحریر واپس کی تھی۔ وہ تحریر آج بھی میرے پاس محفوظ ہے، جو کہ میرے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے،  یہ ان کا وسیع ظرف تھا، اور میرے لیے حوصلہ افزائی تھی۔

اسی طرح بندہ نے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کو ایک خط لکھا تھا، جو کہ البلاغ میں شائع ہوا، میں پورا ہفتہ مدرسہ ابن عباس میں رہتا تھا، جمعرات کی شام کو گھر آیا، مغرب بعد دادی سے ملنے گیا، تو وہاں تایا جانؒ بھی تشریف لائے اور سب سے پہلے انہوں نے مجھے سراہا اور اس پر خوشی کا اظہار فرمایا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم سے مراسلت کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ بھی تایا جان ؒ کی وجہ سے ہی تھا، کہ انہوں نے ایک مجلس میں یوں ذکر فرمایا کہ انہوں نے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کو خط لکھا تھا، اس وقت دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ میں بھی لکھوں۔

 بہرحال ایسے بہت سارے مواقع ہیں، شاید ان سطور کو پڑھنے والے اس کو بہت اہمیت نہ دے سکیں،  لیکن جس شخص کا بھی تایا جانؒ سے تعلق رہا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کس قدر سامنے والے حوصلہ افزائی کرتے تھے اور اس کو کتنا سراہتے تھے، بلکہ دوسروں سے بھی تذکرہ کرتے ، حالانکہ ان کے عالی مقام کے آگے وہ چیز اتنی زیادہ وقیع نہیں ہوتی تھی، لیکن یہ ان کی وسعت ظرفی تھی!

شکر:

تایا جان مفتی صاحبؒ کی زندگی کا ایک بہت نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ ہر چیز کے اندر شکر کا پہلو تلاش کرتے تھے، اگر کسی کو ناشکری کے الفاظ کہتے ہوئے سنتے، تو حکمت کے ساتھ اس چیز پر منتبہ اور متوجہ فرماتے کہ اس چیز میں شکر کا بھی پہلو ہے، اس کو یاد کر کے شکر ادا کرو،  اپنے بیانات میں بھی اس کو بہت زیادہ بیان کرتے، اس سے متعلق کئی واقعات سناتے تھے، جس میں سے ایک واقعہ اکثر سناتے تھے: ’’حضرت حسن بصریؒ نے کسی کو دیکھا اس نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی، تو اس سے کہا کہ اتنے عرصے تیرے سر میں ٹھیک رہا اور تو صحت مند رہا ، اس کی علامت کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا،اور آج ایک دفعہ تیرے سر میں درد ہوا تو نے سب میں اعلان کیا!‘‘  اس طرح کے بہت سے واقعات اور قصے سنا کر شکر کرنے پر آمادہ کرتے تھے۔

کوئی ذاتی معاملہ ہو یا خاندانی، یا اداری، یہاں تک کہ ملکی اور عالمی حالات کا بھی کہیں تبصرہ وتجزیہ ہوتا تو اس کو شکر کے انداز میں بیان کرتے اور شکر کرنے کی ہی ترغیب دیتے، ملک پاکستان اور شہر کراچی کے بارے میں اگر کسی سے کوئی  برائ یا  ناشکری کا جملہ سنتے، تومناسب انداز میں تنبیہ فرماتے اور اس طرف توجہ دلاتے کہ اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے، اسی طرح کوئی یوں کہتا کہ آج کل کے لوگ اچھے نہیں، پہلے کے لوگ اچھے تھے، وہ کام کے تھے، آج کل سب بے کار ہیں،۔۔۔ تو اس کو پسند نہیں فرماتے، بلکہ یوں فرماتے:  ’’جو آج ہم دیکھ رہے ہیں، وہ آنے والے کل نہیں دیکھ سکیں گے، آج جو ہمارے پاس ہے، اور جو لوگ ہمارے ساتھ ہیں، اس پر شکر ادا کرو،‘‘

قرآن سے محبت وتعلق:

مفتی صاحب کو قرآنِ کریم سے بہت خاص لگاؤ تھا۔ باوجود اس کے کہ وہ باضابطہ مکمل قرآن کے حافظ نہیں تھے، لیکن نہ جانے کتنے ہی بچوں کو حافظِ قرآن بنایا۔ بے شمار ایسے خاندان تھے جن میں کوئی حافظ نہیں تھا، مگر مفتی صاحب کی ترغیب سے انہی خاندانوں میں کئی کئی حفاظ پیدا ہوئے۔ اسی طرح قرآن کو تجوید سے پڑھنے کی بھی بہت ترغیب دیتے تھے۔ محنت بھی فرماتے، اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مفتی صاحب عالمگیر سطح پر تجوید کی ترویج اور اشاعت کے لیے انتہائی فکرمند اور کوشاں تھے۔ضمنی طور پر عرض ہے کہ میں نے خود دیکھا کہ سفر کے دوران اپنی تجوید ایک قاری صاحب کو سنا رہے تھے  تاکہ کوئی کمی بیشی ہو تو وہ تصحیح فرما دیں۔ یعنی اپنی تجوید کے بارے میں بھی نہایت فکر مند تھے۔ مستقل اس بارے میں سوچتے اور فکر فرماتے تھے کہ ہر مسلمان مرد اور عورت  قرآن کریم کو اچھے انداز میں، صحیح مخارج اور درست ادائیگی کے ساتھ پڑھے۔

تایا جانؒ نے تجوید کے متعلق اس قدر زور دیا کہ ان کے زیر نگرانی کئی فضلاء، علماء بلکہ مفتیانِ کرام بھی تجوید پڑھنے پڑھانے میں مشغول ہوئے، اور تاحال پورے  ملک میں مکاتب کے زیر نگرانی یہ سلسلہ جاری ہے کہ کئی ایسے علما٫  جن کا اختصاص فقہ یا حدیث میں ہے، یا کسی دوسرے علوم میں ان کی مہارت ہے، لیکن مفتی صاحب کی ہمہ گیر محنت اور کوشش، اور بے لوث تحریک سے انہوں نے قرآن کریم اور تجوید کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ یہ بظاہر بہت بڑی قربانی ہے کہ ایک شخص جس نے کسی فن میں  اختصاص حاصل کیا ہو، وہ اپنی ذات کو تجوید کے مبادئ کے لیے وقف کر دے، اس قربانی کا اندازہ اس لائن كے حضرات اچھی طرح لگا سکتے ہیں۔  مثال کے طور پر مفتی نہالؒ، جو مکتب کے کام میں فعال شخصیت تھے،  کچھ عرصہ پہلے وفات پا گئے، وہ بھی متخصص فی الفقہ تھے، لیکن مفتی صاحب کی نگرانی میں صبح کے وقت قاعدہ پڑھاتے اور تجوید ٹھیک کرواتے تھے۔

اسی طرح تدبر فی القرآن، آیاتِ کریمہ میں غور و فکر، اور قرآن پر عمیق تدبر کا بھی بہت اہتمام فرماتے تھے۔ دوسروں کو بھی اس کی خوب ترغیب دیتے۔ ایک آیت کو بار بار پڑھنا، اس پر غور کرنا ان کا خاص معمول تھا۔ اسی وجہ سے بہت سی آیات انہیں ازبر تھیں، اور قرآن میں تدبر کا گہرا ذوق رکھتے تھے۔

سادگی:

ذاتی زندگی میں نہایت سادہ مزاج تھے۔ سادہ لوگوں کو پسند فرماتے اور سادگی کی ترغیب دیتے۔ وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتے کہ ضرورت سے زائد کسی چیز پر ذاتی خرچ نہ ہو۔ اداروں کے اندر بھی سادہ مزاجی کو فروغ دیتے اور اس کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔

الغرض، یہ سطور صرف ایک مختصر تعارف ہیں، ورنہ تایا جانؒ کی پوری زندگی خدمتِ دین، تعلیم، تربیت اور اخلاص سے تعبیر تھی، جسے ان شاءاللہ کسی موقع پر تفصیلاً مرتب کیا جائے گا، اور اسے مرتب ہونا چاہئے۔آپ کی  علمی و تعلیمی میدان میں آپ کی خدمات اس قدر وسیع ہیں کہ شاید کوئی ایک شخص ان سب کا مکمل احاطہ بھی نہ کر سکے۔ ہر فرد اپنے تعلق اور میدان کے مطابق آپ کے کارناموں سے واقف ہے۔ اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ تایا جانؒ اپنی کاوشوں میں زیادہ سے زیادہ چھپانے کی ہی کوشش کرتے تھے۔

ان سب باتوں کے واقعات اور تایا جان کی باتیں اس وقت میرے ذہن میں گردش کر رہی ہیں، آنکھ نم ہے، قلم  لکھ رہا ہے اور دل غمگین ہے! یہ چند باتیں ہیں، جو مجھے یاد آئیں، اور میں نے تایا جانؒ کا اپنے اوپر ایک حق سمجھ کر اور امت کی امانت سمجھ کر  اس کو سپرد قرطاس کیا، بہت کچھ ہے، جو دل  دماغ کے گوشوں میں ہے، لیکن غم کی اس کیفیت میں اس کو لکھنے کی ہمت نہیں، بہت سی یادیں ہیں، جن کو صرف سوچا ہی جا سکتا ہے، وہ تصور میں ہی حسین ہیں، زبان یا قلم پر لاکر اس کا حسن باقی ہی نہیں رہتا، مجھ سے بچپن میں انہوں نے جس طرح مذاق کیا، جس طرح ہمیں ہنسایا، ان کی مسکراہٹ، ان کے ہاتھوں کے اشارے ، ان سب کو تحریر میں کیسے لایا جائے، اور اس سے شاید پڑھنے والے کو کوئی فائدہ بھی نہ ہو، ہاں جنہوں نے تایا جانؒ کو دیکھا ہے ان کی نگاہ تصور میں ضرور مفتی صاحب کی شخصیت تازہ ہو جائے گی۔   

اللہ تعالی عم محترم مفتی محمد حنیف عبد المجیدؒ  کو  غریقِ رحمت فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے قائم کیے ہوئے علمی و دینی سلسلوں کو تا دیر قائم و دائم رکھے۔

آمین یا رب العالمین۔

از:

محمد حذیفہ رفیق

۱۴ نومبر ۲۰۲۵ ٫

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!