اس میں کوئی شک نہیں کہ سوال انسان کے ذہن میں گردش کرنے والے خیالات و افکار کا ترجمان ہوتا ہے، اور انسانی ذہن میں پیدا ہونے والی تشنگی کا عنوان ہوتا ہے اور جب تک اسکا کوئی موثر اور تسلی بخش جواب نہ ملے قلب و روح کو تسکین نہیں ملتی بشرطیکہ سچی طلب اور سیکھنے کا جذبہ کامل ہو.
مگر ایک بات قابل لحاظ ہے کہ ہر ایک بات پوچھنے کے لائق نہیں ہوتی اور ہر امر قابل بیان نہیں ہوتا، لہذا اس بات کا فیصلہ میزان عقل پر ہوتا ہے کہ کونسی بات پوچھنے کے قابل ہے اور کس بات سے کنارہ کشی بہتر ہے.
بہت سے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جواب کچھ صبر کرنے پر مل ہی جاتا ہے اور تجربہ اس بات کا شاہد ہے.
آج کل ہمارے معاشرے میں سوالات کے انبار لگے ہوئے ہیں، اس سے بڑھ کر آفت یہ ہے کہ ان سوالات کے ذریعے انگشت اعتراض اکثر و بیشتر دوسروں پر اٹھتی ہے جو بہت سے مفاسد کا ذریعہ بنتی ہے.
چونکہ ہمارے واسطے زندگی کے ہر شعبے میں اسوہ اور نمونہ حضور اکرم ﷺ کی زندگی ہے، اور آپ کی تعلیمات کا مصداق اور مظہر حقیقی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں، لہذا دیکھنا یہ ہے کہ صحابہ کرام کے ہاں سوال کرنے کا معیار کیا ہوتا تھا اور کن امور کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ حضرات سوالات فرمایا کرتے تھے.
قرآن مجید میں تدبر و تفکر سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح نظر آتی ہے کہ صحابہ کرام کے سوالات ان اعمال کے متعلق ہوا کرتے تھے جنکا روز مرہ کی عملی زندگی سے گہرا تعلق ہے اور جو سوالات آخرت کی طرف راغب کرنے والے ہیں.
جیسا کہ فرمان خداوندی ہے:
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ-قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘-وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَاؕ-وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ۬ؕ-قُلِ الْعَفْوَؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تتَفَكَّرُوْنَ.
آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں ۔ آپ فرمادیجئے: ان دونوں میں کبیرہ گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ دنیوی منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ بڑا ہے۔آپ سے سوال کرتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں ) کیا خرچ کریں ؟ تم فرماؤ: جو زائد بچے۔ اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْۚ
آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کے قائم ہونے کا وقت کب ہے ؟ تم فرماؤ: اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے۔
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ
اور تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تم فرماؤ: وہ ناپاکی ہے تو حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک پاک نہ ہوجائیں
یَسْتَفْتُوْنَكَ فِی النِّسَآءِؕ-قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِیْهِنَّۙ-وَ مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ
اور آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ مانگتے ہیں : تم فرماؤ کہ اللہ اور جو کتاب تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی ہے وہ تمہیں ان ( عورتوں ) کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں (کہ ان کے حقوق ادا کرو).
اب ایک نظر ہم خود پر ڈالیں کہ ہمارے اکثر سوالات صرف لا یعنی کاموں اور چیزوں کے بارے میں ہوتے ہیں جنکا نہ کوئی دنیوی فائدہ ہوتا ہے نہ اخروی، اسکی وجہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم نے آخرت کو بھلا رکھا ہے اور دنیا کے نشے میں چور ہیں اور اسکی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے ہیں جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے سامنے آخرت اور اسکے مناظر( قبر و برزخ، حشر و نشر، حساب کتاب، جنت و جہنم) ہمہ وقت تھے جسکے سبب انکے سوالات اسی کی تیاری کے متعلق ہوتے تھے.
لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ فضول قسم کے سوالات سے احتراز کریں اور اپنی آخرت کی فکر کریں اورعلماء کرام سے اپنے دین کے متعلق راہنمائی حاصل کریں اور اپنی عادت بنا لیں کہ کوئی بھی کام دین کا یا دنیا کا شریعت کی راہنمائی کے بغیر نہ کریں بلکہ پہلے اس بارے میں علم دین حاصل کریں پھر اس کام کو کریں تاکہ حیات اخروی میں سرخرو ہوسکیں.
اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین
تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!