قصائی نے بیل کا آخری ٹکڑا اٹھاکر اندر رکھا اور گوشت کی کٹائ کیلئے بیٹھ گیا، سیٹھ نے آواز دی کہ او مولوی! یہ لو "اپنا" چمڑا، لے کر چلتے بنو اور نکلو جلدی۔
سر پر ہی کھڑے ہوجاتے ہیں پتا نہیں یہ مولوی مانگتے ہی رہتے ہیں بس۔۔
منہ ہی منہ میں کچھ کہتے ہوئے سیٹھ اندر قصاب کے پاس کرسی پر نیم دراز ہوکر گوشت کی کٹائ کی کڑی" نگرانی " کرنے لگے اور زبان پر الحمدللہ کا ورد شروع کردیا کہ اس بار بھی "شاندار قربانی" کی توفیق ملی۔
مدرسے کا معصوم طالب علم ٹوکری میں کھال رکھ کر جزاک اللہ کہ کر ممنون نگاہوں سے سیٹھ کو دیکھتے ہوئے "اپنا چمڑا" لئے روانہ ہوگیا۔
چشم فلک نے حیرت سے یہ منظر دیکھا اور بادلوں کو ذرا سرکا کر سورج کی چمک ڈالی کہ واقعی یوں ہی دیکھا ہے ۔۔۔۔
اور سمندروں میں دعائیں کرتی مچھلیاں حیرانی سے سوچ کے سمندر میں غوطہ زن ہوگئیں، چہچہا کر طلباء دین کا استقبال کرتی چڑیا سہم کر خاموشی سے تکنے لگی اور پاؤں میں پر بچھاتے فرشتے غور سے دیکھنے لگے کہ
یہاں ممنون کسے ہونا چاہیے؟!
احسان کس کا ہے اور احسان مند کسے ہونا چاہیے!!
اگر یہ دینی مدارس کے طلباء اپنی عید قربان کرکے ہمارے جانور کا چمڑا اکھٹا کرتے ہمارے دروازے پر نا آتے تو لمحہ بھر کیلئے سوچیے ہمیں کتنی مشقت ہوتی کھال جب تک مستحق تک نا پہنچاتے ہماری قربانی مکمل ہی نا ہوتی ہم تو مستحق ڈھونڈتے رہ جاتے اپنی قربانی پر الحمدللہ کا نعرہ لگاکر پرسکون انداز سے قصاب پر کڑی نگرانی نا کررہے ہوتے۔۔۔
اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور ان معصوم طالب علموں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں کہ دوسروں کی عبادت کی تکمیل کی خاطر اپنی عید کی چھٹی قربان کرکے دوسروں کی بدتمیزی سہتے ہوئے انہی کا مشکور ہوجانا کیسا لگتا ہوگا۔۔
یہ تو دینی مدارس کی تربیت اور تعلیم دین کی برکت ہے وہ طالب علم جزاک اللہ خیرا کی دعا بھی دیتا ہے اور "اپنا چمڑا"اٹھاتے ہوئے آپ کا احسان مند بھی ہوتا ہے۔
حالانکہ احسان ان کا ہے آپ پر آپ کا نہیں۔۔۔
ان کھال کے پیسوں سے مدارس کا ایک مہینے کا بجٹ بھی مکمل نہیں ہوتا مگر آپ کی اور میری قربانی مقبول کروانے کی خاطر وہ اپنی عید کی چھٹی قربان کرتے ہیں۔
کچھ کھلا پلا نہیں سکتے تو مسکراہٹ تو دے سکتے ہیں۔
احسان مندی سے گردن بوجھل لگتی ہے تو احسان جتانے سے گریز تو کرسکتے ہیں۔
خدارا! اپنی قربانیاں کسی معصوم طالب علم کا دل دکھاکر برباد نہ کریں۔