باجوڑ اور بے جوڑ

وطنِ عزیز کے علاقے ضلع باجوڑ کی موجودہ بد امنی پر لکھی گئی ایک المناک تحریر

 ضلع باجوڑ میں جو اندوہناک اور الم ناک سانحہ پیش آیا وہ کسی پر مخفی نہیں ،اب تک شہداء کی تعداد پچاس سے تجاوز کر گئ ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد سو سے بھی زائد بتائی جارہی ہے،یہ باجوڑ کی سر زمین پر پہلا سانحہ نہیں ہے بلکہ جب سےمیں نے اس دنیا میں آنکھ کھولی ہے اس وقت سے میں مسلسل ظلم و ستم کی داستانیں سنتا اور دیکھتا آرہا ہوں؛

مجھے اپنی تاریخ پیدائش کا علم تو نہیں ہے اور نہ اب تک ہمارے گھرانے میں اس چیز کا اہتمام ہوتا تھا کہ بچے کی تاریخ پیدائش نوٹ کی جاۓ ،البتہ میری عمر تقریباً نو ماہ کی تھی کہ میری والدہ نے مجھے نیا سوٹ اور نٸی واسکٹ پہناکر بناسنوارکرمجھے اپنی بہنوں کے حوالے کردیا تاکہ وہ مجھے باہر گھمائیں پھرائیں۔ خود میری والدہ محترمہ  گھر کے کام کاج میں مشغول ہوگئں ،جیسے ہی میری بہنیں مجھے گھر سے باہر لے گئں تو اسی وقت ایک بم دھماکا ہوا جس میں ہمارے گھر کے تین افراد (ایک میں اور دو میری بہنیں )اور ہمارے پڑوس کے چھ افراد زخمی ہوگئے تھے ،اس سانحہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ ان میں سے بعض زخمیوں کو الگ الگ اعضا سے ہاتھ دھونا پڑا،اور یہ تقریباً سن دو ہزار کا واقعہ ہے؛

 اس وقت خاندانوں کے آپس کی دشمنیاں اور ناچاقیاں زور و شور پر تھیں ،ہمارے گاؤں میں  دن کے چار پانچ جنازے ایک معمول سا بن چکا تھا ،جس میں بہت سارے گھر اجڑ اور ویران ہوگئے ،بچے یتیم ہوگئے ،بیویاں بیوہ ہوگئں ،یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا ،دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن ہماری قوم اور عوام مزید جہالت، پستی اور تنزلی کے گہرے دلدل میں پھنستی  گئی ،ان حالات کا غیروں نے بہت فائدہ اٹھایا جنہوں نے زندگی کے ہر موقع پر پختون قوم کو آپس کے معاملات میں الجھایا اور موقع ملتے ہی پختونوں پر اپنے ہا تھ صاف کیے؛

انتیس اکتوبر دو ہزار چھ کا واقعہ شاید قارئین کے علم میں ہوگا جب مدرسہ ضیاءالعلوم تعلیم القرآن کے اسّی غریب الدیار،مہمانان رسول ،چشمِ زدن میں چلتے پھرتے ،ہنستے مسکراتے،ذکر و تلاوت کرتے طلبہ پر دھشت گردی کے الزام میں بمباری کی گئی ،اس وقت میری عمر بہت کم تھی۔مجھے یہ سانحہ یاد نہیں ہے لیکن بعد میں گاؤں کی دکانوں میں ان کی تصویریں ضرور دیکھی تھیں ،قطار در قطار چارپائیوں پر لاشیں ہی لاشیں تھیں ،اور بہت سوں کی پہچان تک نہیں ہورہی تھی ،آٹے کی خالی بوریاں مظلوم اور بے لوث طلبہ کی ہڈیوں،گوشت کے لوتھڑوں اور بکھرے ہوئے اعضا سے بھر لی گٸی تھیں۔

مقامی محبِّ وطن اور محبِّ اسلام قبائلیوں نے آدھ جلے انسانی ٹکڑوں کو اِدھر اُدھر سے جمع کرکے بوسیدہ چارپائیوں پر رکھا اور آہوں ،سسکیوں اور نالہ وفریاد کے ہجوم میں سپردِ خاک کردیا،خاک نشیوں کا خون تھا خاک ہی میں مل گیا،جن کی تصاویر اور ویڈیوز آج بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔

خیر کچھ عرصہ بعد جو حالات و واقعات،مشقتیں،سختیاں اورظلم وستم میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا وہ میں کبھی نہیں بھول پاؤں گا، اور وہ بدبخت ،ملعون جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں باجوڑ کےمختلف علاقوں پر بمباری ،اور وہ دن مجھے اچھی طرح یاد ہے ،میں اور مجھ سے بڑا بھائی عبداللہ عصر کے وقت مدرسہ سے جب آئے تو والدہ نے ہمارے لئے چاۓ لاکر دے دی ،میں اور میرا برادر محترم چاۓ پینے کے لئے گھر کی چھت پر چلے  گئے ،ابھی چاۓ پی ہی رہے تھے کہ اتنے میں جہازوں کا شور سنائی دیا اور تھوڑی ہی دیر میں بمباری کا خوف ناک سلسلہ شروع ہوا ،جہاز کی پہلی گولی ہمارے گھر سے کافی دور لگی لیکن اس کے نتیجے میں اڑنے والی مٹی اور پتھر ہمارے گھر کے اندر تک پہنچ گئے تھے ،خیر یہ بہت ہی لمبی کہانی ہے اگر پھر کبھی موقع ملا تو اس بر ضرور لکھوں گا ،اس کے بعد باجوڑ کے مقامی لوگ  مختلف علاقوں کی جانب ہجرت کرنے لگے ،ہجرت اور نقل مکانی کے دوران بہت سے گھرانوں کو مختلف راستوں میں ماردیا گیا اور جو زندہ سلامت بچ گئے تھے ان میں سے بعض حاملہ خواتین نے راستے ہی میں بچوں کو جنم دیا۔

ہم نے شروع میں پہاڑوں میں پناہ لی تھی بعد میں پشاور کی طرف رُخ کیا ،ایک گاڑی میں ہم سات گھرانےسفر کر رہے تھے ،سفر کے دوران میں نے بذاتِ خود مختلف مقامات پر ،راستوں اور کھیتوں میں پڑی بڑوں اور بچوں کی ایسی لاشیں دیکھیں جن پر کپڑے تک نہ تھے ،جو جل جل کر سارے کالے ہوگئے تھے ،راستوں میں جگہ جگہ تلاشی اور چیکنگ ہوتی تھی جس کی وجہ سواری میں موجود مرد حضرات(چاہے وہ بوڑھے ہوں یا جوان یا بچے)سب کو پیدل چلنا پڑتا تھا ،اللہ اللہ کرکے ہم پشاور پہنچ گئے ،اللہ ان تمام گھرانوں اور بھائیوں کو جزاۓ خیر عطا فرمائیں جنہوں نے ہمارے لئے اپنے گھر خالی کیے،ہمیں سینے سے لگایا اور ہمدردی و ایثار کی ایک نئی تاریخ رقم کی،چاہے وہ پشاور کے لوگ ہوں یا دیر اور سوات کے،انہیں ہم نے اس وقت بھی دعائیں دی تھیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔

وہ وقت تو گزرگیا لیکن آج بھی باجوڑ کے لوگ امن اورسکون کے متلاشی ہیں،رواں سال خیبر پختون خواہ میں مختلف مقامات پر دھشت گردی کے واقعات میں بہت اضافہ ہوا ہے،جن میں ضلع باجوڑ سرِفہرست ہے، پولیس اہل کاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت مختلف لوگوں کی جانیں چلی گئیں، مگر چاروں طرف ایک خاموشی سی چھائی ہوئی ہے، کیونکہ یہ پختون ہیں ،مسجدیں اور مدارس اڑا دیے گئے مگر خاموشی ہے کیونکہ یہاں پختون آبادی ہے؛
 باجوڑ میں جمیعت علمائے اسلام کے کارکنان کنونشن میں پچاس سے زائد افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہو گئے مگر اسے انتہائی معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،خدانخواستہ اگر یہ واقعہ پنجاب کے کسی علاقہ میں  پیش آتا  تو صدر اور وزیراعظم سے لے کر تمام سیاسی و مذہبی قائدین، تمام سیاسی،سماجی اور رفاہی ادارےاور
جماعتیں،انسانیت کے عَلم بردار طبقے لائن لگا کر اظہار ِ تعزیت کے ساتھ ساتھ نقصانات کے ازالے کے واسطے بڑھ چڑھ کر اعلانات کرتے نظر آتے  مگر یہاں تو ان کی جانوں اور خون پر سیاست کرتے نظر آتے ہیں،

میرے کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں بھی خیبر پختون خواہ کی طرح حالات خراب ہوں،بلکہ ہماری  عرض و گزارش یہ ہے کہ ہم سب ایک جیسےپاکستانی ہیں،ایک جیسے انسان ہیں اورہم سب اس وطن اور ریاست کے بیٹے ہیں؛

کہتے ہیں  کہ "ریاست ماں  جیسی ہوتی ہے" مگر اس ریاست نے پختون قوم سے ہمیشہ بدترین سوتن سے بھی برا سلوک کر رکھا ہے،کوئی ہے جو اس ماں ریاست کو سمجھائے کہ یہ لوگ بھی انسان ہیں، محب وطن پاکستانی بھی اور غیرت و حمیت سے مزین مسلمان بھی؛

ہاۓ افسوس! کہ ہم میں بحیثیت مسلمان ، بحیثیت  ایک قوم کے یہ احساس ہوتا کہ ہم سب کے سب مسلمان ہیں، سب کے سب ایک طرح کا دل وجگر رکھتے ہیں ،سب برابر تکلیف محسوس کرتے ہیں، سب کے اجسام میں برابر خون ہے پانی نہیں ، البتہ ملک و قوم کے امن و استحکام کے لئے پختون برادری کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں
مگر پھر بھی ہر جگہ ظلم وستم کا شکار ہے،

ممکن ہےکہ جو "حقائق"اوپرذکرکیے گئے ان میں سے  بعض کو چالاک اور ہوش مند قارئین "بے جوڑ "قرار دیں مگر انہیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ "جہاں با جوڑ ہو وہاں بے جوڑ "بھی تو ہوسکتا ہے۔
طاقت والوں کی بے جوڑ اور ہوائی باتیں بھی زمینی حقائق بن جاتی ہیں ،اور کمزور لوگوں کی با جوڑ میں بھی کوئی جوڑ نہیں رہتا !!

عثمان خان دولت

طالب علم ،جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ
میرا تعلق ضلع باجوڑ سے ہے ،اور گذشتہ سال جامعہ فاروقیہ سے فراغت ہے،اور رواں سال جامعہ بنوریہ عالمیہ میں ماس کمیو نیکیشن کا کورس کررہا ہوں
کل مواد : 4
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2024

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
متعلقہ الفاظ
  • #باجوڑ
  • #حادثہ
  • آپ بھی لکھئے

    اپنی مفید ومثبت تحریریں ہمیں ارسال کیجئے

    یہاں سے ارسال کیجئے

    ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
    ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
    شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2024