معرکہ ٔ حق وباطل
ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
یہ دنیا میدان جنگ ہے، جہاں ہر گھڑی، ہر لمحہ حق وباطل کی یہ جنگ جاری ہے اور اس جنگ کی مختلف شکلیں، صورتیں اور کیفیتیں ہیں اور یہ اس لیے ہیں کہ حق کی صرف ایک ہی شکل اور ایک ہی صورت ہے کہ:
حق صرف حق ہے اور کچھ نہیں اور باطل کو حق کے مقابل آنے کے لیے مختلف حیلے بہانے، طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ باطل ہمیشہ نفس کو اپنا معاون و مددگار اور ہتھیار بناکر حملہ آور ہوتاہے اور نفس سب سے پہلے عقل پر قابو پاتا ہے یعنی سب سے پہلے عقل کو خبط کرتاہے اور عقل کو خبط کرنے کے ایسے ایسے طریقے استعمال کرتاہے کہ بڑے بڑوں کی عقل چکرا جاتی ہے اوروہ اس چکر بازا ور دھوکے باز کے جال میں ایسے پھنستے ہیں کہ سمجھ نہیں پاتے کہ یہ جال ہے اوردھوکاہے۔
جس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرشتوں اور ابلیس سے ارشاد فرمایا تھاکہ میں ایک مخلوق تخلیق فرمارہاہوں جو زمین پر میرا خلیفہ ہوگا اور جب میں اُس میں اپنا امر جاری فرمادوں تو تم اسے سجدہ کرنا اور ابلیس نے نہ صرف سجدہ کرنے سے انکار کردیا بلکہ اللہ تعالیٰ سے ایسی صفات بھی مانگیں کہ زمین پر بھی اس سے لڑائی جاری رکھوں گا۔ ابلیس کی یہ نافرمانی اوریہ انکار ابتدا تھی معرکۂ حق وباطل کی جو آج بھی جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اللہ رب العزت چاہیں گے۔ ایک وقت دنیا میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے مقرر فرما رکھا ہے جب حق بھی حقیقتاًاپنی اصل شکل میں ظاہر ہوگا اور باطل بھی۔ اور حق وباطل کے درمیان جیت، ہار کا ایک فیصلہ زمین پر بھی ہوگا جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے حق کی مکمل جیت کی صورت میں اور باطل کی مکمل شکست کی صورت میں طے فرما رکھا ہے۔جب کہ دائمی اور ہمیشہ ہمیشہ کا فیصلہ روزِ قیامت اللہ رب العزت فرمائیں گے۔ وہ فیصلہ بھی اللہ تبارک وتعالی نے طے فرما رکھا ہے،نہ صرف طے فرما رکھا ہے بلکہ ہر ایک فیصلہ کھول کر بتا اور سمجھا بھی دیا ہے۔
حق کی زمین پر مکمل فتح اور مکمل کامیابی کا ایک وقت تو وہ ہوگا جب حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کا ظہور ہوگااور اُن کی باطل کے خلاف جدوجہد کا آغاز ہوگا؛ اور اسی جدوجہد کے دوران حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ہوگی اور اس وقت کے سب بڑے فتنے دجال، اُس کے ساتھیوں،اس کے پشت پناہوںاور اس کے ماننے والوں کا خاتمہ ہوگا۔ اور یہ ایسا مکمل خاتمہ ہوگا کہ اُس دور میں باطل کا مکمل طور پر نام ونشان مٹ جائے گا۔ ہر طرف حق کا بول بالا ہوگا، حق کی حکمرانی ہوگی اور یہ دور بالکل ویسا ہی دور ہوگا جو آپ ۖ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے کرکے گئے تھے۔ یہ دور ویساہی دور ہوگا جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہمنے خلفائیر اشدین کی سیادت وقیادت میں آپ ۖ سے لے کر نہ صرف قائم اور نافذ رکھا ،بلکہ دنیا کے کونے کونے تک پہنچایایعنی عدل وانصاف اور مساوات کا دور،محبت اخوت اور بھائی چارے کاایسا ماحول،جہاںشیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے اورجہاں ظلم ،نا انصافی اور جھوٹ کا نام تک نہ ہوگا۔ ہر شخص پُر سکون اور مطمئن ہوگا ،ہر طرف چین اور خوشحالی ہوگی ،ہر طرف ہر ایک پر اللہ جل شانہ کی رحمتوں اور برکتوں کی بارش برستی ہوگی۔
لیکن وقت ان حالات تک کب پہنچے گا؟اس کے متعلق حتمی طور پہ کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ہاں!ایک بات حتمی ہے کہ انسانیت اس دور کے آغاز کے دہانے تک ضرور پہنچ چکی ہے ۔
حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے ظہور سے پہلے طاغوتی دجالی دوراور اس دور کے فتنوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ ظہورِ مہدی کے وقت کو ن خوش قسمت لوگ ہوں گے جو اُن کی تلاش میں نکلیں گے، ان تک پہنچیں گے، ان کی بیعت کا شرف حاصل کریں گے اور اُن کے شانہ بشانہ حق کی مکمل فتح، حق کی مکمل کامیابی،باطل کی مکمل ناکامی اور نیست ونابود ہونے تک اپنی جانوں کے نذرانے پیش کریں گے اور کرتے رہیں گے، تا وقتیکہ حق غالب آجائے اور باطل صفحہ ہستی سے بالکل مٹ جائے،اَن کی علامات احادیثِ طیبہ میں موجود ہیں،جو اِس وقت ہمارا موضوع نہیں۔شوق رکھنے والے اِس موضوع پر مولانا مفتی ابولبابہ شاہ منصور اور مولانا عاصم عمر زید مجدھم کی کتابوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
آپ ۖ کے اعلان نبوت سے پہلے ،یعنی نبوت کے حضرت اسحق علیہ السلام کی نسل سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں منتقل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل وہ واحد امت تھی، جس میں اللہ جل شانہ نے کم وبیش ستر ہزار انبیائے کرام علیھم السلام مبعوث فرمائے۔ یہ امت انہی انبیا علیھم السلام کی نسل سے ہے۔ ظہورِ اسلام سے پہلے دو امتیں تھیں جو اہل کتاب تھیں۔ بنی اسرائیل(یہودی)اور نصاریٰ(عیسائی) لیکن اس دور تک مذہبی اور نسلی برتری یہود کو حاصل تھی۔ عیسائیت ابھی اُن کے مقابلے مذہبی، نسلی ،سیاسی اور سماجی اعتبار سے پیچھے تھی۔ اپنی گزشتہ مذہبی اور نسلی برتری کے احساس کے ساتھ ساتھ ایک اور خوش فہمی بھی اس قوم کو تھی کہ اب دنیا میں جس آخری نبی ۖ کو آنا ہے وہ بھی حضرت اسحق علیہ السلام ہی کی نسل سے اور انہی کے کسی خاندان سے ہوںگے؛ اور یوں قیامت تک یہ مذہبی اور نسلی برتری بنی اسرائیل ہی کو حاصل رہے گی اور دنیا پر اور دنیا میں بسنے والوں پر بنی اسرائیل ہی کی مذہبی حکومت رہے گی۔
یہود کے مدینہ کے قریب آکر آباد ہونے کے پیچھے بھی یہی خیال اور یہی خوش فہمی تھی،کیوں کہ انہوں نے اپنے بزرگوں سے اور اپنے علما سے یہ سن رکھا تھا کہ آخری نبی ۖ جن کا نام محمد یا احمد ہوگا ،ان کا ٹھکانا اور ان کا شہر، جہاں سے وہ اپنی نبوت کے کام کو چلائیںگے اور جہاںاُن کی نبوی حکومت ہوگی وہ حجاز کا ایسا علاقہ ہوگا جو نخلستانی قسم کا سرسبز علاقہ ہوگا ۔وہ اِس بات کو جان کر یہاں آباد ہوئے تھے کہ یثرب اور ُاس کے ارد گرد کا علاقہ ان پیشین گوئیوںپر پورا اترتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بے شمار یہودی خاندان، جن میںیہودی علما بھی کافی تعداد میں موجود تھے، آپ ۖ کی پیدائش سے بھی بہت پہلے آکر وہاں آباد ہوگئے تھے۔یہودیوں کی ہر جانے و الی نسل اپنی اگلی نسل کو آنے والے آخری نبی ۖ کے اوصاف اور صفات ، عادات واطوار اور نشانیوں کے متعلق بتا اور سمجھا کر جاتی تھی۔ یوں یہ سب باتیں او رمعلومات نسل در نسل یہودی سنبھالے چلے آرہے تھے اور لوگوں کو بتاتے بھی تھے کہ ہمارے آخری نبی ۖ اسی علاقے میں اپنی نبوی حکومت قائم کریں گے۔اگر یہ کہا جائے تو شاید بیجا نہ ہو کہ یہودیوں کے مدینہ کے آس پاس بسنے کا مقصد آنے والے نبی ۖ کا استقبال کرنا تھا۔
نفس کے غلبے میں پھنسی، خواہشوں کی اسیر، خود غرض اور بے وفا اِس قومِ بنی اسرائیل کی تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے کبھی،کسی دور اور کسی زمانے میںکامل وبے لوث اطاعت اور اتباع والی زندگی اختیار نہیں کی۔ ہر دور میں خود سر اور ہٹ دھرم قوم نے اپنی مذہبی ونسلی برتری بلکہ اپنی ذات اور اپنے مذہب تک کو کو ہمیشہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔
اگر دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں اور اس تاریخ کے اندر انسانیت کے امن، چین، سکون کی بربادی کے پہلو تلاش کریں،شرو فتنہ فساد کی وجوہات کو ڈھونڈیں؛ تو ہر ایک کے پیچھے کہیں نہ کہیں قوم ِبنی اسرائیل کا ہاتھ ظاہرا ًیا پوشیدہ ضرور نظر آئے گا۔
جہاں اس نفس کی ماری قوم کی فطرت میں خود سری اور ہٹ دھرمی کی عادت ہر دور اور ہر زمانے کے ان کے ہر ہر طرز عمل میں دکھائی دیتی ہے، وہاں ان کی ایک اور بڑی بری عادت، جسے یہ دشمن اور مخالف کے خلاف بطور ہتھیار بھی استعمال کرتے ہیں دھوکادہی اور مکاری ہے۔ وہی پرانی مذہبی اور نسلی برتری اور اس مذہبی و نسلی برتری کا تکبر آج بھی اس قوم کے دل ودماغ سے نکل نہیں پایا۔ آج بھی اگر غور کیا جائے،دنیا کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھا جائے اور عالمی تناظر میں اس صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو عالمی سطح پر بننے والی تمام عالمی پالیسیوں اور منصوبہ بندیوں کے پیچھے وہی مذہبی ونسلی برتری( جواَب عالمی مذہبی ونسلی برتری کا خواب بن چکی ہے) کار فرما نظر آتی ہے۔ گو ظاہری طور پہ یہ عالمی برتری معاشی سیاسی سماجی غلبے کی شکل میں دکھا ئی دیتی ہے لیکن اس معاشی سیاسی اور سماجی برتری کے پیچھے در اصل وہی مذہبی و نسلی خواہش کی تکمیل ہے،یعنی وہ خواب، وہ خواہش،وہ تکبراور وہ غرور، جو آج سے ساڑھے چودہ سو برس پہلے حضرت محمد ۖ کی تشریف آوری سے چکنا چور ہوگیا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا مفہوم ہے کہ:
جس شب آپۖ کی پیدائش ہوئی تھی اُس شب مکہ میں موجود ایک یہودی عالم نے مکہ کے لوگوں سے کہا کہ معلوم کرو آج اس شہر میں کسی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہواہے؟ معلوم کرنے پر آپ ۖ کی ولادت کا پتہ چلا تو وہ یہودی عالم آپ ۖ کو دیکھنے آپ ۖ کے گھر گیا اور دیکھنے کے بعد جو سب سے پہلی بات اس نے کی وہ یہی تھی کہ'' بس! آج بنی اسرائیل کی وہ مذہبی برتری اختتام کو پہنچ گئی، آج وہ برتری ان سے چھین لی گئی، ان سے منتقل ہوگئیاور آج قومِ بنی اسرائیل اس مذہبی برتری سے محروم کردی گئی۔''
آپ ۖ کی ذات اور آپ ۖ کی نبوت وجہِ تخلیقِ کائنات ہے۔ جب آپ ۖ نے اعلانِ نبوت فرمایاتوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ۖ پرایمان لائے ، مگر یہ یہود ونصاریٰ نے آپ ۖ کی ذات،آپ ۖ کی نبوت ، آپ ۖ کی پیدائش اور اعلانِ نبوت کے بعد ایک نیا رخ بدلا۔
بنی اسرائیل کی مذہبی برتری کا غرور اس وقت چکنا چور ہوگیا ،جب اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز وبرتری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں منتقل فرمائی۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ ایک ایسا دھچکااور ایک ایسی اچانک شکست تھی جس کے بارے میں انھوں نے کبھی سوچا تک نہ تھا۔ اُن کے دل ودماغ میں بھی یہ خیال تک نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح ان کی نافرمانیوں کی سزا دیں گے کہ صدیوں سے جس مرتبے او اعزز کو وہ صرف اپنا حق سمجھے ہوئے تھے اس سے یوں محروم کردیے جائیں گے۔ یہ جھٹکا ایسا زبردست جھٹکا تھا کہ یہود کی پوری قوم بلبلا اٹھی۔
یہاں سے حق باطل کی جنگ نے ایک نیا موڑ لیا۔ باطل ایک نئی سوچ اور نئی منصوبہ بندی کے ساتھ میدان میں اترااور ایک نئے ایجنڈے کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا۔ اس ایجنڈے کا سب سے اہم نقطہ تھا اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ۔ اگر یہ ممکن نہ ہوتو پھر اسلام اور مسلمانوں کی مذہبی برتری کا خاتمہ؛ اور پھر سے کسی بھی طرح کسی بھی نام سے، کسی بھی شکل وصورت میں دوبارہ اپنی برتری کو قائم کرنا۔
دشمن ساڑھے چودہ سو برس سے اپنے اس ناپاک ایجنڈے اور ناپاک منصوبے پر مسلسل عمل پیراہے۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اس شکست کو فراموش نہیںکیا۔
یہود کی یہ عادت اور فطرت رہی ہے کہ انہوں نے کبھی بھی خود سامنے آکر اس جنگ کو نہیں لڑا بلکہ ہمیشہ خود پیچھے رہ کر اور دوسروں کو آگے رکھ کر اس جنگ کو لڑاہے۔ اعلانِ نبوت کے بعد انہوں نے اپنی چالاکیوں اور مکاریوں سے مشرکین کو اپنا ہتھیار بنایا اور مشرکین کوبھی خود سے کبھی براہِ راست جنگ اور مقابلے کے لیے نہیں کہا،بلکہ اپنے مکارانہ عمل اور گفتگو سے ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں سے نفرت وعداوت کے جذبات پیدا کرتے رہے۔
یہی طرز ِعمل اور یہی طریقۂ کار ان کا آپ ۖ کے بعد بھی رہا اور آج بھی جاری ہے،یعنی پیچھے بیٹھ کر منصوبہ بندی کرنا،سازشوں کے جال بننا، لوگوں کے درمیان غلط فہمیوں اور مغالطوں کا ماحول پیدا کرنا، لوگوں کو آپس میں لڑانا اور اس لڑائی سے خود فائدہ اٹھانا۔ اوریہ بات واضح ہے کہ اس تمام تر سوچ وفکر، طرز عمل اور اس کے نتیجے میںہونے والی تمام تر محنت، کوشش ،بھاگ دوڑ اور جدو جہد کا اصل نشانہ ہمیشہ اسلام اور مسلمان ہی تھے اور اب بھی ہیں۔