نسب اور تعارف
-
پورا نام: عبید بن عمیر بن قتادہ بن سعد بن عامر بن جندع بن لیث بن بکر بن عبد مناة۔
-
مرتبہ: ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ وہ کبار تابعین میں سے تھے۔
-
فصاحت و بلاغت: ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ان کی صحبت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ صحابی بھی شامل ہوتے تھے جو ان کی وعظ و نصیحت سے اتنا متاثر ہوتے تھے کہ ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑتے تھے۔ یہ بڑے فصیح و بلیغ تھے اور اپنے وعظ و تذکیر کے دوران خود بھی رونے لگتے تھے۔
وفات
-
امام المحدثین محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبید بن عمیر کا انتقال عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے ہو گیا تھا۔
اساتذہ اور علمی روایات
انہوں نے کئی ایک جلیل القدر صحابہ سے روایات بیان کی ہیں جن میں شامل ہیں:
-
حضرت ابی بن کعب، عبد اللہ بن حبشی، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر بن خطاب، عبداللہ بن عمر بن العاص، علی بن ابی طالب، عمر بن خطاب، ابو ہریرہ، ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
-
اساتذہ کی تعداد: ان کے اساتذہ کی تعداد 27 کے قریب ہے جن میں سے اکثر جلیل القدر صحابی ہیں۔
تلامذہ اور علمی ثقاہت
-
تلامذہ کی تعداد: ان کے تلامذہ کی تعداد 54 کے قریب ہے۔
-
ائمہ کی رائے: امام ابو حاتم بن حیان البستی، امام ابن حجر عسقلانی، امام محمد بن سعد کاتب الواقدی اور امام یحییٰ بن معین؛ ان سب نے عبید بن عمیر کو ثقہ راوی قرار دیا ہے۔
ایمان افروز واقعہ: توبہ اور اصلاح کا سبب
ان کے بارے میں ایک بہت مشہور واقعہ ہے کہ ایک عورت کو اللہ نے بہت حُسن دیا تھا کہ گویا اُس کا حُسن توبہ شکن تھا، اس نے اپنے خاوند سے کہا: "کیا کوئی ایسا ہے جو میرا حسن دیکھ کر متاثر نہ ہو؟" تو اس نے عبید بن عمیر کا نام بتایا۔
وہ حرم کے اندر ان سے فتوی لینے کے بہانے گئی اور ایک کونے میں لے جا کے اپنے چہرے سے پردہ سر کا دیا۔ عُبید بن عُمیر رحمہُ اللہ نے فرمایا: "اے اللہ کی بندی، اللہ کا خوف کرو اور اپنا چہرہ چھپاؤ"۔ وہ کہنے لگی: "میں آپ کی مُحبت میں مُبتلا کر دِی گئی ہوں، میرے معاملے میں غور فرمایے"۔
عُبید بن عُمیر رحمہُ اللہ نے کہا: "میں تُم سے کچھ پوچھتا ہوں، اگر تُم نے ہاں میں جواب دیا تو پھر میں تمہارے اُس معاملے کی طرف توجہ کروں گا"۔ وہ کہنے لگی: "آپ جو بھی پوچھیں گے میں اُس میں آپ کی ہاں میں ہاں ہی ملاوں گی"۔
-
پہلا سوال: آپ نے فرمایا، مجھے یہ بتاؤ کہ جب ملک الموت تُمہاری رُوح قبض کرنے کے لیے آئے گا تو کیا تمہیں یہ بات خوش کرے گی کہ میں نے تُمہاری یہ ضرورت پُوری کی ہو؟ عورت نے فوری کہا: "اللہ کی قسم، نہیں"۔
-
دوسرا سوال: آپ نے کہا، تو نے صحیح کہا۔ پھر پوچھا، جب تمہیں قبر میں داخل کر دیا جائے گا اور پھر تمہیں سوال وجواب کے لیے بٹھایا جائے گا تو کیا تمہیں یہ بات خوش کرے گی کہ میں نے تمہاری یہ ضرورت پوری کی ہو؟ وہ فوراً بولی: "اللہ کی قسم، ہر گز نہیں"۔
-
تیسرا سوال: عُبید بن عُمیر آپ نے فرمایا، دُرست کہا۔ اور پھر پوچھا کہ جب لوگوں کو اُن کے اعمال نامے دیے جائیں گے، اور تم جانتی نہیں ہو گی کہ تمہار ا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا بائیں ہاتھ میں، تو کیا تمہیں یہ بات خوش کرے گی کہ میں نے تمہاری یہ ضرورت پوری کی ہو؟ وہ پھر بولی: "اللہ کی قسم، نہیں"۔
-
چوتھا سوال: آپ نے کہا، تو نے دُرست کہا۔ ایک بار پھر پوچھا اور جب تم پل صراط سے گذرنے لگو گی اور تم نہ جانتی ہوگی کہ تم لڑکھڑاؤ گی یا ثابت قدمی سے گذر جاؤ گی، تو کیا تمہیں یہ بات خوش کرے گی کہ میں نے تمہاری یہ ضرورت پوری کی ہو؟ وہ بولی: "اللہ کی قسم، نہیں"۔
-
پانچواں سوال: آپ نے کہا، تو نے دُرست کہا۔ اور ایک بار پھر پوچھا "اور جب اعمال تولنے کے لیے ترازو پر لائے جائیں گے اور تم نہ جانتی ہو گی کہ تمہارے نیک کاموں کا پلڑا بھاری ہو گا یا ہلکا، تو کیا تمہیں یہ بات خوش کرے گی کہ میں نے تمہاری یہ ضرورت پوری کی ہو؟" عورت نے کہا: "اللہ کی قسم، نہیں"۔
-
چھٹا سوال: پھر سوال کیا کہ کیا جب تُم سوال و جواب کے لیے اللہ کے سامنے پیش کی جاؤ گی، تو کیا تمہیں یہ بات خوش کرے گی کہ میں نے تمہاری یہ ضرورت پوری کی ہو؟ کہنے لگی: "ہر گز نہیں"۔
کہنے لگے: "تو نے سچ کہا ہے"۔ پھر فرمایا: "اے اللہ کی بندی، اللہ کی ناراضگی اور عذاب سے بچو، اُس نے تُمہیں اپنی نعمتیں عطاء کی ہیں، اور تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے"۔
یہ سب سن کر وہ عورت اپنے خاوند کے پاس واپس پہنچی تو اُس نے پوچھا: "کیا کر کے آئی ہو؟" وہ کہنے لگی: "تم بے کار و بے ہودہ ہو، ہم سب ہی بے کار و بے ہودہ ہیں"۔ اور وہ عورت نماز، روزے اور عِبادات کی طرف پلٹ گئی۔ اِس واقعے کے بعد اُس کا خاوند کہا کرتا تھا: "میرے اور عُبید بن عُمیر کے درمیان کیا دشمنی تھی کہ اِس نے میری بیوی کو میرے لیے خراب کر دیا، پہلے میں ہر رات دُولہا ہوتا تھا اور اب اِس نے میری بیوی کو راھبہ بنا دیا ہے"۔
مآخذ و مراجع
-
التاریخ الکبیر / إمام المحدثین محمد بن اسماعیل البخاری رحمہُ اللہ
-
فتح الباری جلد 1 صفحہ 315
-
البدایہ والنہایہ جلد نمبر 9
-
تہذیب الکمال از حافظ جمال الدین ابوالحجاج یوسف بن عبد الرحمن المزی (742ھ)
-
جوامع الکلم (بحث علی عبید بن عمیر)
-
تاریخ الثقات / إمام احمد بن عبداللہ العجلی رحمہُ اللہ