مضمون 2022/06/04 مشاہدات

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی خدمات

 

علم عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ”جاننا، دانش،دانائی،واقفیت،آگاہی،ہُنر،فن اور جوہر “کے ہیں۔

 تعلیم باب تفعیل کا مصدر ہے جس کے لغوی معنی ”سکھانا،بتانا،تلقین،ہدایت اور تربیت “کے ہیں۔

آج کے اس پُرفتن دور میں دیکھا جاۓ یا ماضی کے ادوار  کا مطالعہ عمیق گہراٸی سے کتابوں کو کھنگال کر کیا  جاۓ توجو بات دل و اذہان میں آتی ہے وہ سوچنے سمجھنے سے دوستانہ، محبتان اور عاشقانہ تعلُق رکھتی ہے۔

جس فرد نے بھی کامیابی و کامرانی کا تاج و تخت اپنے سر پر سجایا ہے اس نے سب سے پہلے خود کو تعلیم کے زیور سے ملبوس کیا۔علم کے قمیتی اور سنہری موتی چنے۔ 

چاہیے یہ سب کچھ کرنے کے لیے اسے زندگی کے بہت سارے لمحات صرف کرناپڑے یا مال و دولت کے انبار خرچ کرنا پڑے پھر جا کر کامیابی قدم چمتی نظر آٸی ہے۔

انسان کی تخلیق ہی کو دیکھا جاۓ جو چیز اس کی وجہِ شہرت اور سب مخلوق پر ترجیع کا سبب بنی تھی وہ تعلیم ہی تھی۔

اللہ پاک نے علم کے نور سے انسانیت کو گمراٸی سے نکالنے کے لیے پے در پے اپنے محبوب ترین” نفوس “یعنی ”انبیإ کرام “ کو بیجھا۔

حضرت آدم علیہ السلام سے آخری نبی حضرت محمد ﷺ تک جتنے بھی انبیا ٕ مبعوث کیے سب کا مشترکہ پیغام ”توحید“ کے بعد ”تعلیم“ہی ہے۔

دنیا میں علم حاصل کرنے کےلیے وقت،دولت اور ماحول (تعلیم ادارے ) کا ہونا ضروری ہے۔ جیسے انسان بغیر خوراک  کے زندہ نہیں رہ سکتا ایسے ہی تعلیم کا حصول بھی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔

اس ضمن میں دیکھا جاۓ تو لا متناہی ایسے لوگوں ہیں جن کے پاس وقت ہے مگر دولت نہیں
 یا دولت ہے تو وقت نہیں جب یہ دو چیزیں نہیں ہوں گٸیں تو ماحول نہیں ہو گا ماحول نہیں تعلیم نہیں۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی بے نظیر خطہ آزاد کشمیر  کی خدمات کے حوالے سےدیکھا جاۓ ان گنت ہیں۔
طلبإ کے لیے امید کی کرن ،آسانی سے تعلیم کے ملبوس تک رساٸی،دولت نہ ہو تو خود دولت کما کر تعلیم کا حصول ممکن۔علم کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو آسانی سے عبور کرنا۔مشکل ترین جگہوں پر آسانیاں جہاں تعلیم کے حصول کا کوٸی مداوا نہیں۔
زندگی کے گزر بسر کا بندوبست کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم کوجاری رکھنا۔

سب سے بڑی بات وقت ،دولت اور ماحول کے دِقت سے بالا طاق ہو کر تعلیم کا حصول آسان سے آسان تر علامہ اقبال یونیورسٹی کا طرہ ِامتیاز ہے۔

میری ذاتی راۓ ہے شاید اس سے کوٸی اتفاق کرے یا نہ کرے
آزادکشمیر کا کوٸی گھر ایسا نہیں ہوگا جہاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا طالب علم نہ ہو یا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی کتابیں نہ ہوں۔

میری اس راۓ پر صاحب ِدانش اور صاحب ِ علم و ثروت اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی خدمات کتنی ہیں ؟

 آزاد کشمیر کے کل رقبہ 4144 مربع میل ہے اگر یہ کہہ دوں تو بھی بے جا نہ ہو گا۔ہر 10 میل کے فاصلے پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی کچھ نہ کچھ نشانیاں ضرور(طبإ،استاد،کتابیں اور اس یونی مستفید لوگوں کا ہجوم) نظر آٸیں گی۔

آزاد کشمیر کا سب سے بڑا محکمہ تعلیم ہے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں شعبہ تعیلم کا ہر دوسرا یا تیسرا فرد علامہ اقبال یونیورسٹی کے ساتھ منسلک نظر آ ۓ گا جاہے وہ یونیورسٹی کا طالب علم ہو،یونیورسٹی کا ٹیوٹر ہو یایونیورسٹی کا ویل وشر ہو گا۔


آزاد کشمیر کی تین ڈویژن ہیں (میرپور ،مظفر آباد اور پونچھ)
ان تینوں میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا مین مین کیمپس موجود ہیں جو ادبی، علمی اور تفہیمی کاوش میں ہمہ تن کاوش میں مصروف عمل کا بہتریں منبہ ہیں۔

آزاد کشمیر کے 10اضلاع ہیں  اور 33 تحصیلیں ہیں ہر ضلع کے اندراور تقریبا ہر تحصیل میں علامہ اقبال اوپن یورنیورسٹی کے امتحانی سنٹرز موجود ہیں۔

اس کے علاوہ بڑے شہروں چھوٹے دیہات ،گاٶں اور قصبوں میں بھی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے بک سٹال اور داخلہ فارم کا حصول ممکن ہے۔

آخر پر موضوع کو سمیٹے ہوۓ یہ بات ضرور رقم کروں گا کہ اس یونیورسٹی سے مستفید طلاب کا آزاکشمیر بلکہ دنیا دینا کونے کونے میں بہترین ذریعہ روزگارہ ہےجو اس یونی کا نہ اعزاز ہے بلکہ دیگر طلاب کے لیے امید کی کرن بھی ہے۔

آج بھی اگر دیکھا جاۓ تو آزادکشمیر کے ہر شعبہ زندگی میں علامہ اقبال اوپن  یونیورسٹی کے طلبإ نظر آٸیں گے جن کے لیے یہ یونیورسٹی ”ماں“ کا درجہ رکھتی ہے۔جن کے پاس دولت کم تھی وقت نہیں تھا ماحول نہیں تھا ان کے لیے یہ یونیورسٹی” باپ“ کا درجہ رکھتی ہے۔سب سےبڑا فائدہ تعلیم نسواں کا ہے کہ بنت حوا گھر کے کام کاج اور دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوٸیں جن کا شمار کرنا ناممکن ہے اور لامتناٸی تعداد میں مستفید ہو رہی ہیں۔

آزاد کشمیر کے جتنے بھی پیشہ ِ معلمی سے منسلک ہر مرد وزن کا تعلق ہے وہ تقریبا اقبال اوپن یونیورسٹی کے مستفید ہیں
واللہ اعلم۔

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!