بابائے اردو کی شگفتہ مزاجی

 ایک دفعہ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے ایک بے تکلف دوست نے ان سے استفسار کیا: ’’مولوی صاحب! آپ خاصی عمر گزار چکے ہیںلیکن آپ نے اب تک شادی نہیں کی، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘ مولوی صاحب نے مسکرا کرجواب دیا: ’’میرے بھائی! میری شادی کو تو طویل عرصہ گزر چکا ہے۔‘‘ دوست سخت حیرت زدہ ہوا اور بولا: ’’آپ کی شادی کب ہوئی، کس سے اور کہاں ہوئی؟‘‘ مولوی صاحب نے اپنے دوست کو کان قریب کرنے کے لیے کہا اور جب ان کا دوست جھکا تو مولوی صاحب نے اس کے کان میں کہا: ’’میری شادی اُردو سے ہوچکی ہے اور اُردو ہی میری دلہن ہے۔‘‘
بابائے اُردو مولوی عبدالحق ریل گاڑی میں سفر کررہے تھے کہ ڈبے میں بیٹھے ہوئے کسی مغرب زدہ شخص نے ان سے کہا : ’’کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟‘‘مولوی عبدالحق نے جواب دیا:’’جی ہاں! پوچھ سکتے ہیں۔‘‘اس کے بعد دونوں خاموش ہوگئے اور بات آئی گئی ہوگئی۔ بعد میں مولوی صاحب کے کسی عقیدت مند نے ان سے دریافت کیا: ’’مولوی صاحب! آخر آپ نے اپنا نام انہیں کیوں نہیں بتایا تھا؟‘‘مولوی صاحب نے فرمایا:’’صاحب! گفتگو کا یہ کیا انداز ہوا؟ ہماری زبان میں اس طرح نہیں کہتے، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ ’’آپ کا اسم شریف یا جناب کا نام؟‘‘اِن صاحب نے اپنی روایات کو سمجھے بغیر انگریزی کے اس جملے کا محض لفظی ترجمہ کردیا کہMay I know your nameاور جتنی بات انہوں نے پوچھی، میں نے اس کا جواب دے دیا۔‘‘
ایک مرتبہ مہاتما گاندھی نے اعلان کیا کہ وہ ۱۲۵برس تک زندہ رہیں گے۔ اس پر بابائے اردو مولوی عبدالحق نے انہیں ایک خط لکھا کہ میری بھی دلی دعا یہی ہے کہ آپ ۱۲۵برس تک زندہ رہیں تاکہ آپ نے اب تک جو غلطیاں کی ہیں، ان کی تلافی کے لیے مناسب وقت مل سکے۔‘‘
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2024

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2024