مضمون 2025/12/22 مشاہدات

بچوں کی کردار سازی  میں جدید مغربی رجحانات اور قرآن کا معجزانہ اسلوب ومنہج

            مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم خاص طور پر کم سن اور نو عمر بچے بچیوں   کوجنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات کی کثرت نے اہل یورپ کو سنجیدہ بنیادوں پر سوچنے پر مجبور کردیا ۔ لیکن اُن کی عظیم بدقسمتی یہ ہے کہ وہ وحی کی مقدس روشنی سے محروم ہیں ، لہذا طویل غوروفکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان جرائم کی سطح کم کرنے کے لیے  بڑھتی عمر کے بچوں کو  جنس کی تعلیم فراہم کی جائے ! معصوم بچوں کو ابتدائی سمجھداری کی عمر ہی سے جنسی اعضا اور جنسی افعال کا ادراک پیدا کیا جائے تاکہ وہ کسی بھی فرد کی جانب سے  کیے جانے والے کسی بھی جنسی عمل  کو  جو بعد میں کسی جنسی جبری تشدد کی صورت اختیار کرے ، ابتدا ئی مدافعت کی بنیاد پر روک سکیں۔

            دنیائے مغرب میں جنس کی باقاعدہ تعلیم اسکول کے لیول سے شروع ہوئے  تقریبا تین چار دہائیاں گزرچکی ہیں ، جبکہ اس  تحریک کی تاریخ سو سال پرانی ہے،لیکن قریب میں ہونے والی ریسرچز اور ان سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار اُن کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے!جنسی عفریت اُن کے معاشرے کو انتہائی درجہ کھوکھلا کرچکا ہے ، جس کا بھیانک ترین روپ یہ ہے کہ امریکا میں بچوں کے خلاف جو جنسی جرائم ایک سال میں ریکارڈ پر آئے اُن میں  سے 50 فیصد کیسز میں مجرم بھیڑیے  کوئی اور نہیں بلکہ خود ان بچوں کے قریبی رشتہ دار اور محارم تھے!

ایسا نہیں کہ اہل یورپ اس جنس انارکی کے اصل اسباب سے بالکل ناواقف ہیں ، لیکن وہ خود اپنی تہذیب کی بنیادوں پر تیشہ چلانے کی اخلاقی اور معاشرتی سطح پر جرات نہیں کرپارہے، اخلاق وکردار کی پامالی  کے جس نظام اور فلسفے کے وہ دعویدار ہیں اُس کا لازمی نتیجہ اور شاخسانہ یہی نکلنا تھا اور اسی مشکل سے وہ دوچار ہیں!

 مغربی معاشرے میں جنسی تعلیم کی بنیاد کچھ اس قسم کی ہوتی ہے:

  1. انسان زمین پر پایا جانے والا ایک مخلوق ہے جس نے اپنی موجودہ شکل وصورت باوا بندر سے حاصل کی ہے۔
  2. تمام مخلوقات کی طرح اسے بھی جنس کی خواہش ہوتی ہے جس کی تکمیل اُس کا بنیادی حق ہے۔
  3. اس حق کے حصول میں جائز ناجائز ، حلال حرام کی کوئی قدغن نہیں ، یہ اختیار نہ کسی مذہب کے پاس ہے نہ کسی حکومت کو حاصل ہے۔
  4. لہذا اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے انسان باہمی رضامندی سے ہر طریقہ اختیار کرسکتے ہیں ۔
  5. قید صرف ایک بات کی ہے کہ یہ عمل طبی اور میڈیکل کے اعتبار سے صحت مندانہ انداز میں انجام دیا جائے  اور فریقین میں سے کسی کو کوئی جسمانی ضرر نہیں پہنچنا چاہیے ۔
  6. لہذا یہ عمل انسان سے کیا جائے یا جانور سے ، مخالف جنس سے کیا جائے یا ہم جنس سے ، اس خواہش کی خود لذتی کے ذریعے تکمیل ہو یا مشینوں اور جنسی کھلونوں کے ذریعے ، انسان یہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہے!
  7. لہذا نوجوان بچے اور بچیوں کو مخلوط مجلس میں جنسی اعضا اور ان کے محفوظ استعمال سے واقفیت فراہم کیا جانا اس معاشرے میں ایک عام سی بات ہے جسے بالکل بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا!

مغربی قوموں کا یہ طرزِ عمل افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ کسی حد تک منطقی ہے کیونکہ وہ وحی کی روشنی سے محروم ہیں ، لیکن اس سے بڑھ کر افسوس اسلامی معاشروں کے ان نام نہاد  مفکریں پر ہے جو اس قسم کی غلاظتیں مسلم معاشرے میں بھی شروع کرنے کی پرزور ترغیب اور تحریک چلارہے ہیں جو مغربی معاشرے میں 100فیصد ناکامی کی دھول  چاٹ چکی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ قرآن وسنت کی پاکیزہ تعلیمات کے بعد بھی کیا  ایک  مسلمان یہ سوچ سکتا ہے  کہ نور وحیا کے اس سرچشمے کی موجودگی کے باوجود بے حیائی اور بے شرمی کے  اُس پنڈورا بکس کو مسلم معاشرے میں کھولا جائے ؟

بعض لوگ اس کے جواز میں اُن واقعات کو دلیل بناتے ہیں جو کبھی کبھار مسلم معاشرے میں پیش آجاتے ہیں ، تو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ واقعات مغربی جنسی تعلیم دینے کی ضرورت کو ثابت نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کی قرآن وسنت اور دین وشریعت کی پاکیزہ تعلیمات سے دور ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں ،  کیونکہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں عمومی طور پر دین سیکھنے اور سکھانے کی ، قرآن وسنت کی تعلیم اور تعلم کی عمومی فضا ہو وہاں اس قسم کے واقعات  کا وقوع شاذ ونادر ہی رہ جاتا ہے ، یہی وجہ کہ جنسی جرائم کی شرح دنیا میں سب سے کم مسلم ممالک میں ہے!

اگرہم  ضروری جنسی تعلیم کے حوالے سے قرآن کے باحیا ، متوازن لیکن کامل اور منظم طریقہ تعلیم میں غور کریں تو قرآن کی عظمت کے قائل ہوئے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا! قرآن اپنی باحیا تعبیرات کے ذریعے تمام مسلمانوں کے دل ودماغ میں ،خاص طور پر مسلم معاشرے میں نشونما پانے والے معصوم ذہنوں پر نہات موثر اور انتہائی دیرپا نقوش قائم کرتا ہے جو ساری زندگی کے لیے اُن کے سوچ اور کردار کی بلند اخلاق پر تعمیر اور اُٹھان کا عظیم فریضہ نہایت سادہ اور دلنشین انداز میں انجام دیتے ہیں۔

سب سے پہلے معصوم دل ودماغ پر دستک دینے والی چیز قرآن میں زنا کی خطرناکی کا بیان ہے ، جس قرآن یوں تعبیر کرتا ہے(وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا)الاسرائ:32، ترجمہ:(خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے۔) یہ آیت بچوں کے دل ودماغ پر معجزانہ تاثیر مرتب کرتی ہے ، گویا اُسی کسی بہت بڑے خطرے سے ڈرایا جارہا ہو ، اگر ایسے موقع پر کم بچے والدین سے سوال کریں کہ زنا کسے کہتے ہیں؟ تو انہیں سمجھایا جائے گا کہ کسی اجنبی عورت جو محرم نہ ہو اُ س کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا ، معصوم ذہن کے لیے اس قدر تشریح کافی ہوگی جو اُس کے دل ودماغ میں ایک بیدار شعور پیدا کردے گی۔

اس خطرے کی نشاندہی کے ساتھ قرآن اسے انسانی فطرت سے بھی آشنا کرتا ہے ،(وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ) الروم:21، ترجمہ:(اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں  تاکہ تم آرام پاؤ  اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقیناً غورو فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں۔) لہذا شادی اور میاں بیوی کے رشتے کو مکمل حقیقت سمجھے بغیر بھی نکاح کو  فطری اور جائز رشتہ داری کے مفہوم میں اس کا ذہن قبول کرلیتا ہے ، ہم جنس پرستی کے غیر فطری ہونے کا بھی سادہ سا تصور نہایت گہرائی   اور لطافت سے دماغ میں پیوست ہوجاتا ہے ۔ جس کو مزید تقویت قرآن کریم میں قوم لوط کے قصے کا بار بار بیان ہا  ونفراہم کرتا ہے ، جس کے ذریعے وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس زمین پر پائی جانے وال برائیوں میں سے عظیم ترین برائی جو خدا کے غیظ وغضب اور قوموں پر بھیانک عذاب لانے کا سبب بنتی ہے وہ ہم جنس پرستی کا ملعون عمل ہے ،(فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ) ھود:82، ترجمہ:(پھر جب ہمارا حکم آپہنچا، ہم نے اس بستی کو زیر زبر کر دیا اوپر کا حصہ نیچے کردیا اور ان پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے۔)

سمجھداری کی عمر تک پہنچے کے بعد وہ قرآن کی اس پاکیزہ تعبیر کو بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں جو میاں بیوی کے تعلقات کو بڑے باحیا اور بامقصد انداز میں بیان کرتی ہے ، جس سے نہ حیا  وشرم کے جذبات مخدوش ہوتے ہیں اور نہ ہی شہوانی جذبات میں بھڑک پیدا ہوتی ہے :( نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ) البقرۃ:223، ترجمہ:(تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتوں میں جس طرح چاہو  آؤ اور اپنے لئے (نیک اعمال) آگے بھیجو اور اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوشخبری دیجئے۔) یہ آیت نکاح کو ایک عالی مقصد کے انداز میں پیش کرتی ہے ، جیسے کسان جس کی نگاہ حاصل ہونے والی فصل  اور اُس کے فوائد پر ہو ، زمین میں بیج بونے کا عمل کبھی بھی اس کا منتہائے نظر نہیں ہوسکتا ہے ، اسی طرح نکاح کے ذریعے قائم کیے جانے والے تعلقات محض عارضی تسکین  نہیں بلکہ یہ  بلند مقاصد یعنی اولاد اور پاکیزہ نسل کے حصول کا سبب اور ذریعہ ہے  ، لہذا اسے کامل پاکیزگی اور طہارت  کے ساتھ انجام دینا چاہیے :( وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ) البقرۃ:222، ترجمہ: (آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو  اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ ہاں جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے  اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ )

یوں بچپن ہی سے مسلم معاشرے کے بچے بچیوں کے ذہنوں کی ایسی پروگرامنگ ہوجاتی ہے جو انہیں جنس کو مقصود زندگی بنانے پر کبھی بھی آمادہ نہیں کرسکتی اور اس عمل پر عائد ہونے والی  قدغنوں اور پابندیوں کو شروع سے اُن کا ذہن قبول کرلیتا ہے۔پھر جنسی انارکی کے اس تابوت میں آخری کیل زنا  کی دنیوی سزا اور عقوبت کا بیان  ٹھونک دیتا ہے  جس سے پاکیزہ جنسی تعلیم کا یہ عمل بخوبی انجام پذیر ہوتا ہے:( الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ) النور:02، ترجمہ: (زنا کار عورت و مرد میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے ۔) لہذا زنا کا عمل اُس کے لیے ایک تنفر ، ذلت اور رسوائی کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے ، جسے وہ کسی بھی قیمت پر برداشت کرنا نہیں چاہتا ہے۔

اعلی انسانی اخلاق کے حصول کے ضمن اللہ کے محبوب بندوں کی صفات میں بے حیائی کا کاموں سے اجتناب کی ہدایت اس کی نظروں میں باحیا اور باعفت زندگی  کو قابل تقلید نمونہ بنا کر پیش کرتی ہے ، نیز نماز سیکھنے کے پہلے باقاعدہ اسلامی عمل  میں اسے ستر کا چھپانا سکھایا جاتا ہے ۔ یہ صرف چند مثالیں تھیں  ، درحقیقت قرآنی تعلیمات میں جس قدر غور کیا جائے اسے ہر لحاظ سے انسانوں کی بہبود وفلاح ، جسمانی اور روحانی صحت مندی اور اخلاقی وتہذیبی کمال کی چوٹی  پر پایا جائے گا ، جہاں تک انسانی عقل وسوچ کی رسائی بغیر وحی کی روشنی کے ناممکن بلکہ محال ہے ۔ لہذا ہمیں ضرورت اپنے معاشرے میں قرآن کی پاکیزہ ہدایات کو عام کرنے کی ہے ، نہ کہ یورپ ومغرب کی اندھی تقلید کی !

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!