مضمون 2025/12/22 مشاہدات

بدگمانی: قرآنی تعلیمات اور مغربی تحقیق کا تقابل

پروردگار کے ساتھ تعلق انسانی تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے، جب کسی کے دل میں اللہ سے وابستگی اور اُس کی محبت پیوست ہوجاتی ہے تو اللہ کی مخلوق کو دیکھنے کا زاویہ ہی بدل جاتا ہے ، جب کوئی شخص خدا کا منکر یا خدا بیزار ہو ، یا خدا سے غافل ہو تو مخلوق خدا سے برتاؤکے صرف مادی پیمانے ہی رہ جاتے ہیں ، جو مخصوص حدود میں اُسے انسانیت کے رسمی احترام پر مجبور تو کرسکتے ہیں ، لیکن انسانیت سے محبت اور انسانی ہمدردی کے اُس وسیع تناظر سے وہ محروم ہوجاتا ہے جو خالق اور مخلوق کے رشتہ کی گہرائی  کا تصور سکھاتا ہے۔

            یہی وجہ ہے کہ مغرب انسانیت کے ظاہری احترام کا سبق تو پُرزور انداز میں سکھاتی ہے لیکن قلب ووجدان انسانی عظمت کے احساس سے عاری رہتا ہے ،اس کے برخلاف آسمانی تعلیمات روح کی گہرائی میں انسانی تقدس کا بیج کچھ اس انداز میں پروان چڑھاتی ہے کہ ظاہری اور رسمی اقدار سے بڑھ کر فکری خیالات اور قلبی جذبات بھی احترامِ انسانیت سے لبریز ہوجاتے ہیں۔

            ‘‘کسی انسان کے ساتھ آپ کو بُرا سلوک اور رویہ نہیں اپنانا چاہیے’’! انسانی معاشرے میں اس پر کبھی بھی دو رائے نہیں ہوسکتی ، لیکن ‘‘کسی انسان کے بارے میں آپ کو بُرا بھی نہیں سوچنا چاہیے’’ ! کیا انسانی فلسفۂ حیات اس حوالے سے کوئی کامل رہنمائی اور جامع ہدایات فراہم کرتا ہے ؟ اگر انصاف سے جواب دیا جائے تو نفی کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ۔

            مغرب اپنا فلفسہ حیات سوشل سائنس کی تحقیقات کی روشنی میں مرتب کرتا ہے ، اور اُسے سینکڑوں تجربات اور ریسرچز سے گزر کا بالآخر اس نتیجے پر پہنچنا پڑتا ہے کہ کسی انسان کے بارے میں بُرا سوچنا بھی بُرا ہی ہوتا ہے ، لیکن یہاں بھی مغرب اپنی محدود مادی سوچ کی وجہ سے اسے اِس وجہ سے بُرا کہہ رہا ہے کہ خود بُرا سوچنے والے کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت پر اس کے بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ، وہ انسان جو دوسروں کے بارے میں بُرا سوچنے کا عادی ہوجائے (جسے ہم بدگمانی   یا ‘‘سوءِ ظن’’ کہہ سکتے ہیں ) اُس کے سماجی تعلقات کمزور ہوجاتے ہیں ، خاندانی روابط ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں اور کاروباری اعتماد بداعتمادی سے بدل کر معاشی تباہی کا سبب بن جاتا ہے ۔

 جرمنی کے پروفیسرز صاحبان متعدد تجربات کی روشنی میں یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بدگمانی کا عادی شخص تنہائی پسند اور خود غرض بن جاتا ہے ، اپنا گرداگرد مختلف انسانوں کے بارے میں مسلسل منفی سوچیں اسے ڈپریشن اور شدید ذہنی واعصابی دباؤ اور تناؤ میں مبتلا کردیتی ہیں ۔ بدگمانی بہت سی دیگر منفی عادتوں کے پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے جیسے بے جا تجسس اور دوسروں کی ٹوہ میں رہنا ، دوسروں کی برائیاں بیان کرنا ، یہ منفی سوچیں انسان پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں بسا اوقات محض تخیلات پر اُسے حقیقت کا گمان ہونے لگتا ہے اور محض امکانات  یقینی خدشات سے بدل جاتے ہیں ، یعنی دماغی اور نفسیاتی امراض بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اگر انفرادی سطح سے بڑھ کر یہ بیماری کسی قوم میں اجتماعی سطح پر پیدا ہوجائے تو بڑے پیمانے پر محض بے بنیاد تخمینوں پر ظالمانہ فیصلے وجود میں آجاتے ہیں اور اداروں اور طبقات کے درمیان محاذ آرائی کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔

            یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ مغرب کی اس قسم کی تحقیقات محض انسانی مفاد سے بحث کرتی ہیں اور انسانی احترام کے پہلو سے خالی نظر آتی ہیں اور وہ بُرے گمان کی اُن تفصیلات اور حدود بتانے سے بھی قاصر نظر آتی ہیں جن کے ذریعے فطری اور غیر فطری ، متوازن اور غیر متوازن خیالات میں فرق برتا جائے!

            قربان جائیں دینِ اسلام کی سادہ مگر انتہائی گہری تعلیمات پر ، جن کے ذریعے انسانی احترام کے اعلی ترین درجہ پر انسان کو فائز کیا جاتا ہے اور اُسے انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ ہدایت دی جاتی ہے : ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖوَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ﴾ (الحجرات:12) ترجمہ: اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

            قرآن ہرگمان کو نہیں بلکہ کچھ گمان کو گناہ قرار دیتا ہے ، یعنی پروردگار کی نافرمانی ! یہاں مخلوق اور خالق کے حقوق کا ہمیں حسین اسلامی امتزاج نظر آتا ہے ، ساتھ ساتھ احترامِ انسانیت کا کمال بھی ! کچھ گمان سے مراد  وہ گمان ہیں جنہیں انسان بار بار اپنے ذہن میں پکاتا رہے ، اُن پر بغیر کسی واضح ثبوت  اور روشن قرائن کے اظہار خیال بھی کرے ، الزامات بھی لگائے  اور اُن کی روشنی میں عملی اقدامات اُٹھانے کی بھی ٹھان لے ۔ سورہ نجم کی آیت 28 میں ایسے ہی گمان کے بارے میں کہا گیا: (وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا) ترجمہ:  اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔لیکن وہ فطری خدشات جو حفاظتی نقطۂ نظر سے انسانی ذہن میں آسکتے ہیں ، اسلام انہیں گناہ کے دائرہ کار سے باہر رکھتا ہے اور اُن کی بنیاد پر حفاظتی حکمتِ عملی کی بھی اجازت دیتا ہے۔ طرفین کے حقوق کی اس حد تک رعایت اور انسانی نفسیات کا اس حد تک خیال انسانوں کا خالق ہی کرسکتا ہے!

قرآن کے اس اہم معاشرتی اصول کو احادیث مبارکہ بھی بیان کرتی ہیں: (إياكم والظن؛ فإن الظن أكذب الحديث. )(بخاری ومسلم) یعنی برے گمان سے بچو کیونکہ برا گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے! دوسری حدیث  میں آپ ﷺ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر فرماتے ہیں :‘‘ کعبہ! مؤمن کی حرمت تیری حُرمت سے بڑھ کر  ہے، تیری صرف توہین حرام ہے لیکن مؤمن کی تین چیزیں حرام ہیں : اُس کی جان ، اُس کا مال، اور اُس کے بارے میں بُرا گمان کرنا ’’۔(السلسلۃ الصحیحۃ)

            سائنسدانوں کی ریسرچ انہیں اس نتیجہ پر بھی پہنچاتی ہے کہ کسی فرد ، طبقہ یا فریق سے مسلسل بدگمانی ہمیں صحیح فیصلہ کی صلاحیت سے محروم کردیتی ہے ، ہم دوست کو دشمن ، حامی کو مخالف ، اپنے کو بیگانہ، حلیف کو حریف اور معمار کو تخریب کار سمجھ بیٹھتے ہیں! صرف اڑتی خبروں ، سنی سنائی باتوں اور کمزور قرائن کی بنیاد پر بغیر تحقیق کے یقینی رائے قائم کرلینا ، قرآنی تعلیمات اس کی اجازت نہیں دیتی ، نہ انفرادی معاملات میں نہ اجتماعی فیصلوں میں، دیکھیے قرآن کتنی اہمیت سے اس خرابی کا سدباب کرتا ہے: ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ) (الحجرات:6) ترجمہ: مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔  

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!