ایک متبحر اور رجال ساز عالم کی رحلت ۔۔ مفتی عبداللہ صاحب مظاہری رحمہ اللہ

تعزیتی تحریر بر وفات حضرت مفتی عبداللہ صاحب مظاہری نور اللہ مرقدہ بانی و سابق شیخ الحدیث جامعہ مظہرِ سعادت ہانسوٹ

 

ہر آنکھ اشکبار ہے ہر دل سوگوار ہے

ابھی حضرت مولانا عبدالرحیم فلاحی صاحب نور اللہ مرقدہ کی وفات کا غم تازہ ہی تھا کہ جامع المعقول و المنقول حضرت الاستاذ مفتی عبداللہ صاحب مظاہری رحمہ اللہ (بانی و سابق شیخ الحدیث جامعہ مظہرِ سعادت ہانسوٹ گجرات) کے حادثہ ارتحال نے دل کو غمزدہ اور طبعیت کو نڈھال کردیا، کرونا کی اس وبا کے دوران بہت سوں کہ رخصت ہونے کی خبر ملی، دل شدید رنج میں مبتلا بھی ہوا لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جنکی وفات دلوں پر بجلی بن کر گرتی ہے جنکا آفتاب زندگی مشرق میں غروب ہو تو مشرق والے اندھیرا محسوس کرتے ہیں ،جنکی یاد لوگوں کے دلوں ہوک پیدا کردیتی ہے ، جن کے نام کے ساتھ ہمیشہ مدظلہ العالی کے بجائے آج رحمہ اللہ لکھتے ہوئے دل  لرزہ ہے ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہے،قلم توڑ دینے کو جی چاہ رہا ہے،نہ الفاظ میں اتنی طاقت ہے کہ میرے جذبات کی ترجمانی کرسکے، نہ قلم میں اتنی پختگی کہ چشم نم کی عکاسی کرسکے،آہ استاد محترم، محدث بے مثال، وسیع المعرفت ،غزیر العلم اور کثیر الحلم کے خوبصورت اوصاف سے متصف، تفقہ فی الدین ، تعمق اورتبحر علمی کی جیتی جاگتی مثال، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا مفتی عبد اللہ مظاہری رویدروی رحمہ اللہ بھی اس عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کرگئے ہیں

انا للہ وانا الیہ راجعون اللهم اغفر لہ وارحمہ و سکنہ فسيح جناتہ

جن اہل علم و اخلاص نے بر صغیر میں ایمان و ایقان کی شمع روشن کرنے میں اہم رول ادا کیا ، دین کے علم صحیح سے لوگوں کو روشناس کرنے میں ہر ممکن کوششیں کیں ، وہ امسال ایک ایک کرکے اپنے مالک حقیقی کی بارگاہ میں پہونچ رہے ہیں، وہ اشخاص رخصت ہورہے ہیں جن کے وجود سے پورا عالم مستفید ہورہا تھا اور اپنے پیچھے ایک ایسا مہیب خلا چھوڑ جارہے ہیں کہ جن کے پر ہونے کی کوئی ظاہری امید نظر نہیں آتی، لگ رہا ہے کہ شاید وہاں کوئی علمی محفل لگی ہوئی ہے

کسی نے کیا خوب کہا:

افق کے اس پار کوئی علمی اکٹھ ہے شاید

بڑی تمکنت سے اہل دل اٹھ کے جا رہے ہیں

جہاں تک علم کے حروف و نقوش، کتابی معلومات اور فنی تحقیقات کا تعلق ہے انکے ماہرین کی آج بھی کمی نہیں لیکن تعلیمات اسلاف کے امین، دین کا ٹھیٹھ مزاج رکھنے والے،تواضع اور للہیت کے پیکر اب مسلسل سمٹ رہے ہیں، دیکھتے دیکھتے کئی ایک کبار علماء کرام اپنے مالک حقیقی سے جاملے ہیں

ظاہری اوصاف و کمالات

حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ اپنے علم و فضل، زہد و ورع، جہد و عمل خشیت و انابت سے قرونِ اولی کی یاد تازہ کرنے والے تھے، اخلاص و للہیت ،مجاہدانہ عزم و عمل، اور پرخلوص خدمات کی وجہ سے علمی اور دینی حلقوں میں ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے، علمی دنیا میں آپ کا لوہا مانا جاتا تھا، بلا مذہب و ملت رفاہی خدمات اور اجتماعیت کو فروغ دینے کی وجہ سے اغیار آپ کے عاشق تھے،حسن انتظام اور نفیس ذوقِ طبع سے ہر نو وارد آپ کا عاشق ہوجاتا تھا،علوم دینیہ سے بے انتہا محبت کا اثر اسباق سے رستا تھا تو طلبہ عش عش کرتے تھے، کتابوں سے حد درجہ عشق کہ جامعہ کا کتب خانہ آپ کے زیر انتظام ایک حسین شاہکار بن گیا تھا، دور حاضر میں اس قدر علم دوست شخصیت کا وجود نایاب نہ سہی کمیاب تو ضرور ہے،یقیناً آپ کی وفات ہر اس شخص کے لئے سانحہ ہے جو علم و دین کی کچھ رمق اپنے سینہ میں پنہاں رکھتا ہے

جامعہ مظہرِ سعادت ہانسوٹ گجرات ؛ایک زندہ جاوید یادگار

جامعہ مظہرِ سعادت ہانسوٹ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کا ایک عظیم کارنامہ ہے جو آپ کے خوابوں کی تعبیر کی ایک زندہ تصویر ہے جس کے در و دیوار سے مفتی صاحب رحمہ اللہ کی جانفشانی، انتھک محنت اور مسلسل جد و جہد کے آثار نمایاں ہوتے ہیں،آپ کے زیر اہتمام جامعہ نے برق رفتاری سے ہمہ جہت ترقی کی ہے، تعلیمات ہو یا تعمیرات، مالیات کی فراہمی ہو یا طالبانِ علوم دینیہ کی کثرت، پورے ہندوستان مکاتب قرآنیہ کا جال پھیلانا ہو یا قرات قرآن کو ایک نئی جدت عطا کرنا ہو یا پھر تعلیمی بیداری ہو یا طلبہ کی استعداد سازی حضرت مفتی صاحب ہر ہر چیز پر خصوصی توجہ فرماتے تھے اسی کا اثر تھا کہ مختصر سے وقت میں جامعہ ہانسوٹ ایک عظیم یونیورسٹی کی شکل اختیار کرگیا تھا

منصبِ اہتمام اور حسنِ انتظام

حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ نے 1995 میں ایک غیر آباد علم ناآشنا، جہالت و ضلالت کی اندھیر نگری (ہانسوٹ) میں ایک چھوٹے سے مکتب کی بنیاد رکھی،جس نے مختصر سی مدت میں ترقی کی منزلیں طے کرکے عروج حاصل کیا اور ہندوستان کے عظیم مدارس میں اپنا ایک مقام بنایا اس لیے کہ آپ نے اپنی مکمل حیات جامعہ کی فلاح اور ترقی میں وقف کردی، تقریباً دورِ ابتلاء سے پہلے پہلے تک آپ نے اس ادارہ کی باگ ڈور اپنے ذمہ لے رکھی تھی، جس کی مکمل پاسداری کی، طلبہ کے ساتھ حسن سلوک ان تعلیم و تعلم، عمدہ سے عمدہ طعام کا التزام، ہر طرح کا وہ ماحول عطا کیا جو خال خال دیکھنے کو ملے گا، مہمانوں کی ضیافت، اساتذۂ کرام کا احترام، صفائی ستھرائی کا اہتمام، مطالعہ کے لئے ایک وسیع و عریض کتب خانہ کا قیام غرض ہر طرح کی سہولتیں آپ نے طالبان علوم نبوت کے لیے فراہم کر رکھی تھی اگر مفتی صاحب کے اس زندہ جاوید شاہکار اور کارنامہ کو دیکھنا چاہتے ہیں تو جامعہ کی پرشکوہ مسجد عائشہ کو دیکھیے!! جو تاج محل اور لال قلعہ کی نظیر پیش کرتی ہے جس کے منبر و محراب اور اس میں شاندار خط سے مکتوب قرآن مجید کی مقدس آیات شاہان مغل کی طرح مفتی صاحب رحمہ اللہ کا پاکیزہ ذوق دیکھنے کو ملے گا، بلکہ دارالسنہ کی وہ عمارت، دار الحدیث کا وہ خوشنما ہال،دار القرآن اور دار النظافه، دار الاقامہ اور دار الاساتذہ،دار الضیوف و دار الطعام اور پانی کی سبیلیں مفتی صاحب کے پاکیزہ اور نفیس ذوقِ طبع سے متعارف کرواتی ہیں،الغرض منصب اہتمام کو آپ نے ایک جدت عطا کی اور بعد کے لوگوں کے لیے ایک قابل تقلید راہ ہموار کرگئے بلاشبہ جامعہ کے درو دیوار اپنے اس عظیم معمار کے انتقال پر ماتم کناں اور سوگوار ہوں گے

ویران ہے میکدہ ، خم و ساغر اداس ہیں

تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

ذوق مطالعہ اور کتابوں سے بے پناہ محبت

آپ رحمہ اللہ کو کتابوں سے بے پناہ عشق تھا بچپن ہی سے مطالعہ کا ذوق اور اسکی حرص تھی اور دور طالب علمی میں مطالعہ کا انہماک بہت زیادہ تھا،حد درجہ مطالعہ کے باوجود بھی آسودگی نہیں ہوتی تھی، اسی کا اثر تھا کہ جامعہ کی لائیبریری کتابی ذخیروں سے مالا مال ہے، اور آپ کی علم دوستی کا مظہرِ اتم ہے

تصنیفات و تالیفات اور تبحر علمی

اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی صاحب نور اللہ مرقدہ کو علمی کمالات کا وافر حصہ عطا فرمایا تھا، آپ کا علم مضبوط، مطالعہ وسیع، درس مقبول اور انداز نرالا تھا، آپ درس کیا دیتے علوم کے خزانے لٹاتے، رجال سازی اور مردم گری میں آپ منفرد شان رکھتے تھے، جہاں آپ کامیاب مدرس، وسیع النظر فقیہ اور متبحر مفتی تھے وہیں ایک کہنہ مشق مصنف اور مؤلف بھی تھے، آپ کی تصنیفات میں اسعاد القاری شرح البخاری (5جلد) خاص وقعت رکھتی ہے بخاری شریف کو ایک الگ انداز اور تحقیق و تدقیق سے پر ہے اسکے علاوہ

  • مباحث فی الحدیث وعلومہ
  • غایۃ الوصول الی علم الاصول
  • فتاوی سعادت
  • اسعد الغایات بالتقدیم علی المشکوۃ

مختلف موضوعات پر علمی رسائل وجرائد آپ کے قلم گوہر بار سے منصہ شہود پر جلوہ گر ہوکر آپ کے لیے سرمایہ آخرت بنے ہوئے ہیں

اسکے علاوہ رفاہی سیاسی سماجی خدمات، مکاتب قرآنیہ کا جال، پھیلانے میں آپ نے ایک عظیم کردار ادا کیا ہے میں آپ نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں

ولیس علی اللہ بمستنکر

ملی اور رفاہی خدمات

حضرت مفتی صاحب نور اللہ مرقدہ نے گجرات فسادات اور قدرتی آفات کے متاثرین کی باز آباد کاری میں تاریخی و مثالی رول ادا کیا ہے، متاثرین کی تعمیری اور ٹھوس مدد اوراس کے لیے قریہ بہ قریہ اور کوبہ کو مسلسل چکر اور دوڑ دھوپ کرنا آپ اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے نیز قدرتی آفات کے موقع سے مصیبت زدگان کی ہمہ جہت مدد میں آپ نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی

حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ؛اکابر امت کی نظر میں

(1)مولانا اسعد اللہ رامپوری نور اللہ مرقدہ نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ تم سے وہ کام لےگا کہ تم پوری زندگی محسود رہوگے، لہذا تم ہمیشہ ایک دعا کا ودر رکھنا بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شیئ فی الارض ولا فی السماء وھو السمیع العلیم

(حضرت مفتی عبد اللہ مظاہری رحمہ اللہ کا عملی مقام علماء کی نظر میں)

(2)حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی علیہ الرحمہ :

آپ نے فرمایا تھااور بجا فرمایا تھا کہ گجرات میں دو عالم ہیں جن کا مطالعہ گہرا ہے اور دونوں کا نام عبد اللہ ہے ایک مفکر ملت حضرت مولانا عبداللہ کاپودروی نوراللہ مرقدہ اور دوسرے حضرت مفتی عبداللہ صاحب مظاہری نور اللہ مرقدہ،افسوس کہ آج وہ دنوں شخصیات سے عالم محروم ہوچکا ہے،

(3)رئیس المحدثین حضرت مولانا یونس جونپوری نور اللہ مرقدہ

عبد اللہ مظاہر علوم کا میرا آدھا علم لے گیا، ایک اور موقع پر فرمایا تھا :گجرات کے دو طالب علم مجھ سے کماحقہ پڑھ کر گئے ہیں، ایک عبد اللہ گجراتی (مفتی عبد اللہ مظاہری رحمہ اللہ) دوسرا (مولانا) اسماعیل چاسوسی

راقم آثم پر حضرت والا کے احسانات

اس المناک سانحہ پر راقم الحروف کیا تعزیت پیش کرے؟  خود راقم مستحق تعزیت ہے ، رہ رہ کر حضرت والا رحمہ اللہ کے راقم آثم پر نوازشات و عنایات یاد آرہے ہیں، دو سالہ دور طالب علمی میں جو محبتیں اور شفقتیں میں نے دیکھی ہیں وہ اپنی نظیر آپ ہے، مجھے حضرت والا رحمہ اللہ سے باقاعدہ کسب فیض کا موقع نہیں ملا، البتہ امتحانات اور خدمت کے دوران بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملا ہے، وہ مہمانوں کی ضیافت، وہ طلبہ کی حوصلہ افزائی،وہ جمعہ میں طلبہ کو مسجد میں جمع کرنا، وہ بعد نماز عصر مسجد عائشہ میں جلوہ افروز ہونا، وہ بعد نماز مغرب طلبہ کے مذاکرات کی نگرانی کرنا، وہ بعد نماز عشاء حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب باندوی کی آداب المتعلین پڑھنا، وہ اپنے اکابر کی تعظیم، وہ معانی اور نکات سے بھر پور درس بخاری  جس سے بالیقین بخاری کی روایت ابن الہمام کی فقاہت علامہ ذہبی کی درایت جھلکتی تھی، وہ فقہی گہرائیوں سر پُر رسم المفتی کا سبق جس سے علامہ شامی اور ابن نجیم کی یاد تازہ ہوتی تھی،

بلاشبہ حضرت مفتی صاحب نور اللہ مرقدہ کی زندگی ہمارے لئے سراپا جدوجہد اور قوم وملت کے لئے بے مثال قربانی پیش کرنے کی ترغیب اور تحریک و عمل کا پیغام ہے، آپ نے تعلیم و تعلم اصلاح و تربیت اور ملی جدوجہد کے جو مثالیں قائم کیں ہیں وہ غیر معمولی اور ناقابل فراموش ہے

ہوا تھی گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا تھا

وہ مرد درویش جس کو حق نے دئیے تھے انداز خسروانہ

سنت یوسفی اور دور ابتلاء

وفات سے دو تین سال قبل جامعہ مظہرِ سعادت ہانسوٹ گجرات ایک المناک حادثہ کا شکار ہوا، مشیت ایزدی اور قضا و قدر کے فیصلوں سے انسانی ذہن ناواقف رہتا ہے، اسلیے میں اس زخم کو کریدنا ہی نہیں چاہتا کیوں کہ

پنبہ کجا کجا بنہم

ہمہ تن داغ داغ شد

حضرت مفتی صاحب نور اللہ مرقدہ کو اپنی پیرانہ سالی کے باجود زنداں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا، مختلف الزامات و اتہامات، دجل و فریب اور دروغ گوئی و دھوکہ دہی کا سہارا لے کر پس دیوار زنداں محبوس کردیا گیا، بیماری کے باوجود پابند سلاسل کردیا گیا، پھر بھی آپ نے صبر و عزیمت کا بلند استعارہ ثابت ہوئے، حق ہوتے ہوئے بھی قدم پیچھے ہٹالیا اور عزم و استقامت کا پیکر بن کر سنت یوسفی اور سنت شعب ابی طالب کو ادا کرنے پر رضامند ہوگئے، بڑوں کی بڑائی اور ان کا بڑکپن یہی ہوتا ہے کہ اپنے درد وکرب کو چھپاکر چھوٹوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں،واقعی میرے مشفق و مربی استاد کچھ ایسے ہی تھے

فالی اللہ المشتکی وهو المستعان

کڑے سفر کا تھکا مسافر، تھکا ہے  ایسا  کہ  سوگیا  ہے

خود اپنی آنکھیں تو بند کرلیں، ہر آنکھ لیکن بھگوگیا ہے

انشاء اللہ یہ آزمائشیں آپ کو حیات جاودانی عطا کریں گی، اور آپ کا حشر سید الانبیاء و المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے اہل بیت کے ساتھ ہوگا، رب ذوالجلال آپ کا حشر خادمین حدیث کاندھلوی و باندوی جونپوری اور کاپودروی کے ساتھ فرمائے گا

راقم تمام متعلقین و متوسلین اولاد و احفاد سے بالخصوص اور تمام محبین اور شاگردوں سے بالعموم فردا فردا تعزیت پیش کرتا ہے، مفتی صاحب جدائی کا غم تازہ ہے، مفارقت دنیوی طور پر ہوئی ہے لیکن مفتی صاحب نور اللہ مرقدہ کی ذات گرامی "رفتید ولیکن نہ از دل ما" کی مصداق ہے

آپ کی زندگی ایک مشعل راہ ہے، اپنے اولاد و احفاد اور ہزاروں وابستگان کے لیے

ایک مشن ہے دین اسلام کی بے لوث خدام کے لیے کا،

استعارہ ہے عزم و عمل کے خوشہ چینوں کے لیے

اللہ پاک ہم تمام شاگردوں کو آپ کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2023

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2023