قربانی کے جانور کی ڈائری سے۔۔!

کیا جانور سوچتے ہیں؟ اگر ہاں تو کیسے سوچتے ہونگے؟ جانور کی سوچ کو آشکار کرتی ہوئی ایک تخیلاتی تحریر، جس کے پڑھنے کے بعد آپ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوں گے۔۔

اس دنیا کی وحشت اور اس کی حقیقت مجھ پر اس دنیا میں آتے ہی عیاں ہوگئی تھی، جب تک ماں  کے پیٹ میں تھا تمام رسم شعاروں سے محفوظ تھا گویا کہ میں ایک محفوظ کوہ میں تھا جہاں نہ کوئی زہریلے کیڑے مکوڑے نہ زہریلے لوگ تھے. بلکہ ماں کی ممتا ہی میری زیست کے لیے اہم کردار ادا کر رہی تھی اور مجھے تمام ناچاقیوں اور غموں سے محفوظ کرکے اپنی پرأمن آغوش میں لے لیتی تھی.
آنکھ کھلتے ہی میں نے لوگوں کا ٹولہ اپنے گرد پایا تو میں ایک پل کو حیران ہوگیا کہ شاید میں کوئی عجیب انوکھی چیز ہوں .. لوگ میرے سر پر ہاتھ پھیرتے اور شرارتی بچے کبھی میرے پیٹھ پر اور کبھی میرے پہلو پر ہاتھ مار کر یک دم پیچھے ہٹ جاتے گویا کہ میں حقیر چیز ہوں اور میرا جسم چھونے سے انھیں اچھوت کی بیماری ہوجائیگی. 
ان ہی انسانوں کے نرغے میں، میں نے اپنی بے بس ماں کو ، اپنے سے کچھ دور رسیوں کی قید میں جکڑا ہوا پایا ، وہ مسکراتے ہوۓ میری جانب دیکھ رہی تھی کہ اچانک فرط مسرّت سے اس کی آنکھ چھلک پڑی اور چمک دار موتی کی لڑ دھیمی رفتار سے بہنے لگی. اور یہ چمک ماں کی اس سوچ کی عکاسی کررہی تھی جس کے قصے مجھے سناتی رہتی تھی کہ ہمارے بڑوں نے کس طرح اپنے آپ کو اس قربانی کے لیے پیش کیا اور بنا چوں چراں من و عن احکامات پر عمل کیا جو کہ ہمارے تمام قبیلے کے لیے تا قیامت تک  باعث فخر بن گیا .
جہاں ایک طرف ماں کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی کہ آج میرا یہ فرزند بھی اس عظیم مقصد کے لیے قربان ہورہا ہے وہی ایک لہر خوف و غم کی بھی تھی کہ آج میرا یہ لال مجھ سے جدا ہوجائیگا. میرا جگر کا ٹکڑا ، ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا.. اور میرا یہ ٹوٹا ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ اور دوسرے سے تیسرے ہاتھ.. دیہات اور چہرے کی دھول چٹے گا.
خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ اچھی پرورش کے باعث اور ماں کے ممتا کے ساۓ میں ، کچھ ہی عرصے میں نے قد کاٹھ نکال لیا. حب بھی کوئی میرے پاس سے گزرتا اس کی رال ٹپکنے لگتی. میں نے اپنے مینٹور کی بدلتی ہوئی نیت بھانپ لی تھی بس مجھے ایک ہی بات کا غم تھا کہ مجھے میری عزیز ہستی سے دور کیا جائیگا  جو میری کل حیات ہے. جو میرے لیے مہکتا ہو گلاب ہے، میرے جینے کی وجہ ہے لیکن اسلاف کی قربانیوں کا استحضار کر کے یہ کیفیت کافی حد تک مغلوب ہوگئی.
پھر ایک دن وہی ہوا جس کا مجھے اندیشہ تھا. میری ناک پر نکیل ڈال کر،  میرے کمر کو تختہ مشق بنا کر زور سے گھسیٹ  کر مجھے ایک گاڑی کی طرف لے جایا گیا. جو گاڑی کم عقوبت خانہ زیادہ لگ رہی تھی. جہاں ہر طرف تعفن کا سماں تھا، تاحد نگاہ گندگی پھیلی ہوئی تھی، اور گاڑی کے پرزوں کا شور مسلسل میرے اعصاب کو تکلیف دے رہا تھا. جس کی بنا تناؤ کی کیفیت پیدا ہوئی اور میں نے  گاڑی پر چڑھنے سے انکار کردیا. مجھے زور دینے کی کافی کوشش کی گئی لیکن میں بھی ضد پر اڑا ہوا تھا ٹس سے مس نہ ہوا. اس ضد کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت جلد یہ شخص طیش میں آگیا اور میری نازک  خوبصورت  دُم کو ، اپنے آہنی دانتوں سے دبایا، مارے درد کے میں بلبلا اٹھا اور چار وناچار گاڑی پر سوار ہوگیا.
غلامی اور قربانی کا ایک نیا سفر شروع ہوا. میں گاڑی کی جالیوں سے باہر جھانکتے ہوۓ انسان اور اس کی سفاکی کو دیکھتا رہا اور انسان کے امتیازی سلوک کا رونا روتا رہا کہ خود تو عیش و عشرت سے نرم و ملائم گدوں پر سفر کر رہے ہیں. اور مجھے اس کڑکتی دھوپ میں ، غلاظت کے ڈھیر میں کھڑا کیا ہوا. 
دوران سفر ہر شخص میری طرف انگلیاں اٹھاتے ہوۓ توصیفی نگاہوں  سے  دیکھ رہا تھا اور میرے حسن و نزاکت، بھرے ہوۓ جسم  اور دیگر  جسمانی خدوخال کا نقشہ بیان کر رہا تھا، جسے سن کے شرم و حیاء سے میرا سر جھک رہا تھا. 
ایک جھٹکے سے گاڑی رکی اور میں اپنی سوچوں کے بھنور سے باہر نکلا  تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک وسیع چٹیل میدان میں میرے جیسے ہزاروں کی تعداد میں کھڑے تھے. مجھے گاڑی سے اتارا گیا، اتارنے کے نامکمل انتظام کے باعث میری نرم و ملائم دم گاڑی کے پچھلے حصے کو لگی اور درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں اور میں صبر کا گھوںٹ پی گیا. اس دوران مجھے اپنی پڑوسن آنٹی شکورن کا ایک مصرعہ یاد آیا کہ 
ابھی تو ابتداء عشق ہے پیارے 
آگے آگے دیکھ ہوتا ہے کیا؟؟؟
   مجھے ایک خیمہ کی طرف لے جایا گیا جہاں برقی قمقمے میرے وجود کو اور زینت بخش رہے تھے، اس روشن ماحول کے باعث میری آنکھوں میں چمک سی پیدا ہو رہی تھی جو آنے والے کو میری ذہانت ، چالاکی اور ہوشیاری پر مطلع کر رہی تھی. 
زیادہ وقت نہ بیتا کہ ایک لحیم شحیم شخص میرے جانب ، محبت بھری نگاہ ڈالے بڑھنے لگا. 
کچھ دیر میرے جسم کا معائنہ کرتا رہا میں پھر سے شرم کے ڈول بھرنے لگا کہ کیا واقعی میں اتنا خوبصورت اور اسمارٹ  ہوں. جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہا  ہوں. ہر آنے جانے والا اپنے دل میں چھپی ہوئی رغبت کو ظاہر کرتا. 
میں انھی خام خیالیوں میں مست تھا کہ اس نیک بندے نے بیوپاری کی منہ بولی قیمت پر مجھے خرید لیا. 
پھر سے ایک نئی غلامی اور قربانی کا سفر شروع ہوا. مجھے ایک وسیع و عریض گھر کے باغیچے میں منتقل کیا گیا. جہاں ہر طرح سے میرا خیال رکھا جاتا، نت نئے کھانوں کے آئٹم میرے سامنے پیش کیے جاتے. کبھی ہری گھاس کبھی سوکھا بھوسا، کبھی بڑے ہرے پتے کبھی مکس چنے کے دانے،غرض ہر طرح سے میری دلجوئی کی جاتی. چھوٹے بڑے آکر میرے ساتھ سلفیاں کھینچتے اور محبت اور شفقت بھرا ہاتھ میرے سر پر پھیرتے.. 
کچھ دنوں بعد خلاف معمول گھر کا مالک اور اس کے بچے جلدی اٹھے. اس دن کے سورج میں نہ حدت تھی نہ دھیما پنا، سورج اپنی سرخی کیساتھ دھیرے دھیرے بادلوں کی اوٹ سے سر اٹھا رہا تھا... میں اس دلفریب موسم میں بہکا ہوا آہستہ آہستہ جگالی کر رہا تھا کہ یکایک مالک بمع اولاد کے گھر داخل ہوۓ اور ان کے پیچھے ہی کچھ کرخت چہرے والے، ہاتھوں میں اوزار اٹھاۓ، آستینیں اوپر چڑھاۓ، منہ میں گٹکا دباۓ میرے جانب فاتحانہ تکبرانہ چال سے چلے آرہے تھے. میرے قریب پہنچتے ہی ، گٹکا تھوکتے ہوۓ استفساری لہجہ میں بولے: ’’یہ ہے بس؟‘‘ مالک نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا. 
سر کی جنبش کی دیر تھی کہ ایک نے میری نکیل پکڑی اور دوسرے نے میرے پاؤں کے درمیاں رسی ڈالی اور ایک قدم مجھے آگے کی طرف دھکا دیا. قدم اٹھاتے ہی اپنا بوجھ سنبھال نہ پایا اور دھڑم سے زمیں بوس ہوگیا۔
اس کرخت چہرے والے نے میری نازک خوبصورت لمبی سی گردن اپنے مضبوط ہاتھوں میں لی اور بےدردی سے موڑ دی.

میں نے مشیت ایزدی کے سامنے سر خم کیا اور خوشی کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑی کہ آج میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوا جس کے لیے میری تخلیق ہوئی۔ لیکن انسان کو دیکھ کر ایک پل کو افسوس ہوا کہ کیا انسان اسی نہج پر چل رہا جس نہج کی اتباع کا حکم دیا گیا ؟ کیا انسان کی تخلیق جس مقصد کے لیے ہوئی اس کے لیے تگ و دو کر رہا ہے؟؟؟ یا دنیا کی چکا چوند نے اسے اس کی منزل سے کوسوں دور کردیا ہے۔۔؟

رضوان اللہ

طالب علم
زیر تعلیم مدرسہ ابن عباس رضی اللہ عنہا
کل مواد : 6
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن

آپ بھی لکھئے

اپنی مفید ومثبت تحریریں ہمیں ارسال کیجئے

یہاں سے ارسال کیجئے

ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020