لطائف المحدثین

عربی زبان کا محاورہ ہے
قد يوجد في النهر ما لايوجد في البحر
یعنی کبھی چھوٹی سی نہر میں وہ جواھر ہاتھ آتے ہیں جن سے بڑے بڑے سمندر خالی ہوتے ہیں۔بعض لوگوں کا کلام ایسا جامع ہوتا ہے کہ لفظوں کے پہناووں میں معانی کے سمندر چھپے ہوتے ہیں ۔پھر ایسا کلام لانا جو اپنے ظاھر میں کچھ اور ہو اور بباطن کچھ اور یقینا کمال فن کی بات ہے ۔ایسے ہی ایک شاعر کا قصیدہ آج پڑھنے کو ملا جو بظاھر تو کسی درد دل کے مبتلا کا حال دل تھا کسی مریض عشق کے جذبات کا اظہار تھا اورحقیقت میں غزل کے پہناوے میں ایک پورے علم کی تفصیل تھی ۔
اصل میں کسی علم کی اصطلاحات کو یاد رکھنے کے لئے قدیم علماء شاعری کا سہارا لیا کرتے تھے ۔لیکن وہ عموما مشکل اصطلاحات پر مشتمل ایسی شاعری ہوتی تھی جس میں غزل کا کوئی رنگ نہ ہوتا تھا ۔پر یہ عجیب شاعر تھا کہ ایک جانب گویا کہتا ہے ۔
تیز رکھنا ہرسرخار کو اے دشت جنوں
شاید کہ آجائے کوئی آبلہ پا مرے بعد
اور دوسری جانب انہی اشعار میں مصطلح الحدیث کو بھی سموتا چلا جاتا ہے ۔ اشعار ایسے خوبصورت ایسے موزوں اور برمحل کے کہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ شاعر درد محبت کے علاوہ کچھ اور بھی بیان کرنا چاہتا ہے ۔
کچھ شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
صلوا صحيح غرام صبره ضعفا
وبدلوا قطع من في حسنكم شغفا

گویا پہلے مصرعہ میں بقول غالب

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک

اور دوسرے مصرعہ میں

مل بھی جاؤ یوں ہی تم بہرخدا آپ سے آپ
جس طرح ہوگئے ہو ہم سے خفا آپ سے آپ
کا مضمون باندھا ہے ۔جبکہ حقیقت میں حدیث صحیح، حسن اور ضعیف کی تقسیم کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
دوسرا شعر دیکھیں
وارثوا لحال علیل فی محبتکم
وانحوا غریبا علی ابوابکم وقفا
پہلا مصرع گویا بقول داغ
اب تو بیمار محبت تیرے
قابل غور ہوئے جاتے ہیں۔
یا
پوچھ لیتے وہ بس مزاج میرا
کتنا آسان تھا علاج میرا
کی تفسیر ہے اور دوسرا مصرع
بقول میر
دروازے پر کھڑا ہوں کئی دن سے یار کے
حیرت نے عشق کی مجھے دیوار کردیا
کی تشریح ہے ۔
لیکن یہاں درحقیقت حدیث معلل غریب اور موقوف کی طرح اشارہ کیا گیا ہے ۔
قصیدہ کے کچھ اشعار مزید ملاحظہ فرمائیں اور ان میں مصطلحات الحدیث تلاش کریں۔
له من البعد وجد ناره اشتعلت
بين الضلوع عضال عز منه شفا
ومرسل من دموع غيرمنقطع
قد سلسلته جفوني فيكم شغفا
انا المحب ولو ادرجت في كفن
انا الذي لم يزل بالعشق متصفا
لا ينكر الحب الا جاهلوه ولا
معنعن العشق الا غير من عرفا
محمد سيد الكونين من وضعت
كل المكارم فيه اشرف الشرفا
یہ قصیدہ ابوالعرفان محمد بن علی الصّبّان کا لکھا ہوا ہے ۔16 اشعار پر مشتمل اس قصیدہ میں 29 مصطلحات بیان کی گئی ہیں اور منظومۃ الصّبّان کے نام سے معروف ہے شیخ محمد محمد عویضہ نے 350 صفحات پر مشتمل اس کی شرح لکھی ہے جوحسن ترتیب، اختصار اور جامعیت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے ۔

دار الفکر لاہور

مفتی عبد اللہ اسلم صاحب

مدیر مدرسہ مصباح العلوم لاہور ۔
کل مواد : 20
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019