اخلاق کےموضوع پر ماہنامہ النخیل شوال 1440

   صوبہ سرحد کے جنوب مغرب میں واقع بستی’’مارتونگ‘‘ ہے۔ آہ مارتونگ! جو کبھی علوم و فنون کا مرکز رہا۔ جہاں مختلف خطوں سے آنے والے ایک طویل عرصہ تک فیض حاصل کرتے رہے اور جہاں دارالعلوم دیوبند کے فاضل، مشہور بزرگ، مولانا خان بہادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ذات سے علوم و فنون کا ایک گلستان آباد تھا۔’’مارتونگ بابا‘‘ سے یاد کیے جانے والے یہ عظیم انسان اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، وہ علم کی ایک باغ و بہار شخصیت تھے، اور ان سے فیض حاصل کرنے والوں کا فیض آج ایک جہاں میں پھیل رہا ہے۔

قدرت کے عجیب و غریب نظام کا ایک کرشمہ یہ بھی ہے کہ زندگی کی پررونق محفلیں بسا اوقات یوں اجڑ جاتی ہیں کہ بعد میں آنے والوں کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ یہاں بھی کبھی آئینہ ایام کی بجلیاں چمکی ہیں، لکھا ہے کہ ٹھٹھہ میں ایک دور ایسا بھی گزرا ہے، کہ وہاں ایک ہزار مدارس تھے، آج وہاں کی ویرانیوں کو دیکھ کر کون یقین کر سکتا ہے کہ یہ علم کی کن کن نابغہ روزگار شخصیات اور علم و فن کے کیسے کیسے نغموں اور زمزموں کا مدفن ہے، کوفہ، بغداد، سمرقند و بخارا، ان سب سے بڑھ کر اندلس کی آٹھ صدیوں پر مشتمل اسلامی علوم و فنون کی روح پرور تاریخ کا گہوارہ!

 

آگ بجھی ہوئی ادھر ،ٹوٹی ہوئی طناب ادھر

 

کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کاروان!

مارتونگ کی علمی رونقیں بھی زمانہ کی خزاں کی نذر ہوگئی ہیں، لیکن ان رونقوں کو دیکھنے والے اب بھی ہیں، جن کی حسین یادیں ان اجڑی ہوئی محفلوں کے آثار سے وابستہ ہیں اور زبان حال سے کہتے ہیں:

 

دل کو تڑپاتی ہے، گرمئ محفل کی یاد

 

جل چکا حاصل، مگر محفوظ ہے حاصل کی یاد

مولانا کمال الدین صاحب اسی مارتونگ کے ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں، مولانا فنون کے ایک بہترین مدرس اور حدیث کے ایک اچھے استاد ہیں، انہوں نے اپنی تعلیم کا آغاز اپنی بستی’’مارتونگ‘‘ ہی میں کیا، بعد میں مختلف مقامات میں فنون کی کتابیں پڑھیں، اور جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے سند فراغت حاصل کی، اس کے بعد سے اب تک تدریس کا مشغلہ اپنائے ہوئے ہیں، اور اب انہوں نے’’اخلاقیات‘‘ کے موضوع پر’’نقش قدم‘‘ کے نام سے کتاب لکھ کر میدان تصنیف میں قدم رکھ دیا ہے۔

اسلام میں عقائد و عبادات کے بعد اگلا درجہ اخلاقیات کا ہے، اخلاق، خلق کی جمع ہے۔ جس کے معنی عادت اور خصلت کے ہیں، انسانوں کے باہمی تعلقات میں خوش نیتی اور اچھائی برتنے اور اس سلسلہ میں ایک دوسرے پر عاید ہونے والے فرائض کو خوش اسلوبی سے ادا کرنے کا نام اخلاق ہے۔ اخلاق کا اطلاق انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی خوبیوں پر ہوتا ہے، اسلام نے اخلاق کا ایک مکمل نظام پیش کیا۔

اور اس کے نظام اخلاق کی خوبیوں کے لئے بس یہی شہادت کافی ہے کہ وہ عرب جو اخلاق کے پست ترین نقطہ پر تھے، اسلام کے نظام اخلاق نے انہیں اس اوج کمال پر پہنچایا، جس کی بلندی تک کوئی سِتارہ آج تک نہ پہنچ سکا۔ عفو و درگزر، حلم و بردباری، جودوسخا، صبروتحمل، رحمت و شفقت، محبت و مودت، عدل و انصاف، نرم خوئی و خوش چینی اور عفت و پاکدامنی اسلام کے اخلاق حسنہ کی وہ تابناک کڑیاں ہیں، جن سے یہ پورا نظام جگمگا رہا ہے، حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے ہجرت حبشہ کے وقت نجاشی کے دربار میں جو ولولہ انگیز تقریر کی تھی، اسلام کے نظام اخلاق کی اس میں بہترین تصویر کشی کی گئی ہے، آپ نے بادشاہ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا:

’’ ایھا الملک!۔۔۔۔ ہم جاہل تھے، بتوں کی عبادت کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، بے حیائیوں کے مرتکب تھے، قرابتوں کو قطع کرتے تھے، پڑوسیوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے، قوی ضعیف کو کھا جاتا تھا، ہم جاہلیت کی اسی وحشت کا شکار تھے، کہ اللہ نے ہم ہی میں پیغمبر مبعوث فرمایا، ایسا پیغمبر کہ جس کا حسب اور جس کا نسب، جس کا صدق اورجس کی دیانت، جس کی امانت اور جس کی عفت ،سب سے ہم خوب واقف ہیں،اس نے ہمیں توحید ربانی کی دعوت دی ،بے جان پتھروں اور بتوں کی پرستش کو یکلخت چھوڑ دینے کی ہدایت کی ،بات کی سچائی اور امانت کی ادائیگی، اپنوں کے ساتھ صلہ رحمی، اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک، حرام کاموں سے رکنے اور فساد و خونریزی سے بچنے کا حکم دیا، بے حیائی سے ہمیں روکا، ناحق بات کرنے کی ممانعت کی، یتیم کا مال کھانے سے منع کیا، پاک دامن پر تہمت سے بچنے کی تاکید کی، اور ہمیں حکم دیا، کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، صرف اسی کی عبادت کریں اور نماز پڑھیں، زکوۃ دیں اور روزہ رکھیں۔‘‘

    (سیرۃ ابن ہشام ج1 ص 336)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاقی پہلو سے اپنی بعثت کی تکمیلی حیثیت کا اعلان فرمایا، ارشاد ہے:

(انما بعثت لأتمم مکارم الأخلاق)’’میں اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔‘‘

ایمان سے بڑھ کر اسلام میں اور کیا چیز ہوسکتی ہے، تاہم اخلاق کے بغیر اس کی تکمیل ممکن نہیں، فرمایا گیا:

(أکمل المرء منھم إیمانا أحسنھم خلقا)’’مسلمانوں میں کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔‘‘

حضرات محدثین’’کتاب الادب‘‘ کے عنوان سے اخلاق کے متعلق احادیث کا شاندار ذخیرہ پیش کرتے ہیں۔ تصوف اخلاق کو خاص طور سے موضوع سخن بناتا ہے، اور تصوف کی اکثر کتابیں اخلاقیات پر سیر حاصل بحث کرتی ہیں، تاہم تصوف سے ہٹ کر بھی اخلاق کے موضوع پر علمائے اسلام نے مستقل کتابیں تصنیف کی ہیں، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے’’الادب المفرد‘‘ ،مشہور محدث حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ کے استاد حافظ ابوالشیخ اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے’’اخلاق النبی ﷺ‘‘ اور اردو زبان میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا قاری محمد طیب صاحب نے اس موضوع پر مستقل کتابیں تحریر فرمائی ہیں، لیکن ہمارے محدود مطالعہ میں اس موضوع پر اردو زبان میں سب سے جاندار بحث مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے سیرۃ النبی جلد ششم میں کی ہے، اور اپنے منفرد اسلوب میں اس موضوع پر پوری ایک جلد لکھی ہے۔

مولانا کمال الدین صاحب نے بھی اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے، ان کی یہ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہیں، پہلے باب میں پانچ فصلیں قائم کر کے اخلاق کے تعارف اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دوسرے باب میں ان بری خصلتوں اور رذائل کا ذکر کیا گیا ہے، جن سے تطہیر کے بغیر اخلاقی پہلو سے انسان کی تکمیل ممکن نہیں ہے، یہ باب چودہ فصلوں پر مشتمل ہے۔ تیسرا باب ان اخلاق حسنہ کے بیان میں ہے، جن سے متصف ہو کر انسان ایک ایسے شجر سایہ دار کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جس کی آغوش میں ماندگی کا ہر احساس ختم اور تھکاوٹ کی ہر تکلیف مٹھاس میں ڈھل جاتی ہے، اس باب میں تیرہ فصلیں ہیں اور آخر میں کچھ متفرق باتیں’’خاتمہ‘‘ کے عنوان سے لکھ کر کتاب ختم کر دی گئی ہے۔

مولانا نے مختلف کتابوں سے استفادہ کرکے سلیس اور عام فہم اردو میں لکھنے کی سعی جمیل کی ہے، قرآن و حدیث کے نصوص سے کلام کو مزین کیا اور جابجا مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق مثنوی سے واقعات اور حکایات نقل کر کے مضمون کو دلچسپ اور مفید تر بنایا ہے۔

وہ اپنی اس کوشش میں کتنے کامیاب ہیں؟ اور ان کی یہ کتاب کس قدر مفید ہے؟ اس کے لئے اکابر علمائے کرام کی وہ آراء پڑھیے جو کتاب کی ابتدا میں شامل ہیں کہ اس سلسلہ میں وہی سند کا درجہ رکھتی ہیں۔

ہماری دعا ہے کہ مولانا کا یہ’’نقش قدم‘‘ نقش آخر نہیں بلکہ ان کا یہ نقش، نقش اول کی حیثیت اختیار کرے۔ان کے آئندہ کے نقوش کے لیے، ایسے نقوش جن میں خونِ جگر شامل ہو کہ جریدہ عالم کے سینہ پر صرف اس طرح کے نقوش ہی ثبت ہو سکتے ہیں، ورنہ ؎

نقش ہیں سب نا تمام خون جگر کے بغیر   نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر!

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019