آہ ! اکوڑہ کا روشن چراغ بجھ گیا۔۔ مولانا سمیع الحق رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت

اسلام آباد کے علاقے تھانہ لوہی بھیر کی حدود میں حضرت مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملہ اُن کی رہائش گاہ پر ہوا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے، انہیں روالپنڈی کے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔

حضرت مولانا سمیع الحق پر موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور پھر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، بیٹے مولانا حامد الحق نے والد کے شہید ہونے کی تصدیق کردی۔

صاحبزادے مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ ’مولاناسمیع الحق گھر پر آرام کررہے تھے کہ اسی دوران اُن پر حملہ ہوا، نامعلوم افراد نے چھرے سے کئی وار کر کے انہیں شہید کیا‘۔

مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ حضرت مولاناسمیع الحق گھر سے مظاہرے میں شرکت کے لیے روالپنڈی پہنچے تھے مگر وہ شرکت نہ کرسکے‘۔

 

تعارف اور خدمات

استاذ العلماء مولانا سمیع الحق صاحب 18 دسمبر ،سنہ 1937ء میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام مولانا عبد الحق تھا۔ انہوں نے 1366 ھ بمطابق سال 1946 ء میں دار العلوم حقانیہ میں تعلیم شروع کی جس کی بنیاد ان کے والد محترم نے رکھی تھی۔ وہاں انہوں نے فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، منطق (logic)، عربی صرف و نحو (گرائمر)، تفسیر اور حدیث کا علم سیکھا۔ 

 

مولانا سمیع الحق کی ذات گرامی علمی،ادبی، سیاسی، مذہبی، جہادی، صحافتی اور دینی حلقوں کے لیے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔یہ بات سب پر عیاں ہے کہ پاک وہند کی بنجرزمین کی سرسبزی وشادابی میں مولانا سمیع الحق کا حصہ سب پر بھاری ہے۔ مملکت عزیز کی دینی و قومی روایات کے تحفظ ، بدعات و خرافات میں توحید و سنت کی شمعیں روشن کرنے،احقاقِ حق اور ابطالِ باطل ،مجاہد، عالم، محدث و مفسر، مناظر و متکلم، قاری و حافظ اور فقیہ و مفتی اور ادبی و صحافتی شہسواروں کی فوج تیار کرنے میں مولانا کی شخصیت اور ان کا ادارہ ستاروں میں چاند کی مانند ہے۔ انشاء و نثرنگاری اور تصنیف وتالیف اور تحقیق میں مولانا کا نام سرفہرست تھا۔ اپنے دور کے ایک نامور خطیب تھے، مولانا نثر میں ایک خاص طرز اور اسلوب کے موجد ومالک تھے، الفاظ اور تراکیب کے حسن اور اندازِ بیان سے عبارت میں ایک مخصوص رنگ جھلکتا ہے، واقفانِ حال سمجھتے ہیں کہ آپ کی تحریر میں ابوالکلام آزاد اور شورش کاشمیری کی مکمل جھلک نظرآتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مولانا سمیع الحق اردو زبان کے ممتاز اورصاحب طرز ادیب ہونے کے ساتھ سحرالبیان مقرر و خطیب بھی تھے۔ مولانا موقع محل کے مناسب ایسا انداز گفتگو کرتے تھے کہ ہر مقام پر جدت و ندرت اور شائستگی پیدا ہوجاتی تھی۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جب مولانا نے قلم اٹھایا تو علمی دنیا کے شہنشاہ ادب بن گئے۔ ان کی کتابیں گواہ ہیں کہ وہ صاحب تخلیق اور بے مثال انشاپرداز کی شکل میں نصف صدی سے زیادہ عرصے سے اسلامی ادبی دنیا پر حکومت کررہے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مؤرخ نے ان کے ساتھ درست انصاف نہیں کیا۔
تحریک ختم نبوت کی کامیابی میں ان کا بہت بڑا حصہ تھا۔ ان کی کتاب ''قادیانیت، ملت اسلامیہ کا موقف'' اور دوسری کتاب ''قومی اسمبلی میں اسلام کا معرکہ'' اس پر دال ہے۔مولانا کی ایک کتاب انگلش میں ہے۔ یہ بھی انٹرنیشل پریس کو دیے گئے انٹرویو ز پر مشتمل خلاصہ ہے۔ برطانوی صحافی ایون ریڈلی (مریم) نے اس پر تبصرہ لکھا ہے۔ جہاد افغان میں ان کی خدمات ایک مکمل روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے شریعت بل کی ایک طویل داستان ہے۔ ان کی کتاب ''شریعت بل کا معرکہ'' لائق صد تحسین ہے۔ مولانا کی زندگی کا سب سے حیران کن باب''قومی اسمبلی میں شریعت بل، نفاذشریعت کی سیاسی و پارلیمانی جدوجہد اور افغان جہاد اور افغان لیڈروں سے تعلق کا ہے۔ مولانا کے اسمبلی کے مشترکہ فورم سے جتنے بھی خطاب ہوئے ہیں پڑھنے اور سننے کے قابل ہیں۔سینٹ کے چیئرمین جناب صدر اسحق خان صاحب کے سامنے ایون بالا(سینٹ) میں شریعت بل کا مقدمہ کے عنوان سے کی گئی تقریربار بار پڑھنے کے قابل ہے۔ سینٹ سیکرٹریٹ کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ اسمبلیوں میں تحفظ اہل بیت و تحفظ صحابہ پر مولانا کی تقاریرریفرنس کا کام دیتی ہیں۔

دنیا کے تمام بڑے لیڈروں، ریاستی سربراہوں، علمی و ادبی زعماؤں اور نامور شخصیات نے مولانا کو تفصیلی خطوط لکھے ہیں۔ ایران کا صدر ہو یا سعودی عرب کا بادشاہ، افغانستان کے حکمران و مجاہد رہنماء ہوں یا عراق و فلسطین کے زعمائ، نئی دنیا کے کرتا دھرتاؤں سے لے کر تیسری دنیا تک کے با اثر لوگ و حکمران طبقے کے ساتھ مولانا کسی نہ کسی صورت میں رابطے میں ہوتے تھے۔ دارالعلوم حقانیہ اور مولانا واحد انسان ہیں جن سے پاکستان کے کسی بھی ادارے اور لیڈر سے زیادہ مغربی دنیا نے انٹرویو قلمبند کیے۔ جدید دنیا کے ہر معتبر میڈیافورم نے ان سے طویل طویل انٹرویوبار بار کیے۔

برصغیر کے جید علماء میں یورپ کی آنکھوں کا سب سے بڑا کانٹا مولانا سمیع الحق تھے۔ یورپ کا پورا میڈیا اس بات پر اتفاق کرتا تھا کہ مولانا سمیع الحق فادر آف طالبان ہے۔ بلکہ فادر آف طالبان (افغان طالبان) کا لقب بھی مولانا کو یورپی میڈیا نے ہی دیا ہے۔ امیر المومنین ملا عمر سمیت کئی وزراء نے مولانا سمیع الحق سے تعلیم حاصل کی ہے اور ان کی جامعہ دارالعلوم حقانیہ سے سندفراغت حاصل کی ہے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ جب بھی افغان مجاہدن میں اختلافات ہوئے تو مولانا سمیع الحق نے ان اختلافات کو ختم کروایا ہے۔ ملا عمر اور اسامہ کے درمیان بھی کئی بار مولانا سمیع الحق نے رفع دفع کروایا۔ ملی یکجہتی کونسل، ایم ایم اے، متحدہ دینی محاذ،دفاع افغانستان کونسل، دفاع پاکستان کونسل کے بھی اصل بانی و خالق مولانا سمیع الحق ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں اوروں نے کڈنیپ کیا ۔تحریک ختم نبوت، 1973ء کے آئین کی تیاری، شریعت بل کی منظوری میں پاکستان کی کسی بھی مذہبی جماعت کے لیڈر یا عالم دین سے سب سے زیادہ کوشش اور کردار مولانا سمیع الحق کا ہے۔ تحریری و تحریکی جدوجہد اوردینی وملی اغراض کے لیے مولانا سمیع الحق ١٩٥٠ء سے مسلسل کوشاں رہے۔نصف صدی تک جمیعت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء رہے۔ ان کی تحریکی زندگی بلاشبہ قابل تقلید ہے۔مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبداللہ درخواستی اور شیخ القرآن غلام اللہ خان جیسے جلیل القدر علماء کے ساتھ طویل عرصہ تحریکی و سیاسی جد وجہد کی۔


''دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک'' پاکستان ہی نہیں برصغیر پاک و ہند کا بڑا دینی ادارہ ہے ، جہاں سے ہر سال دستار فضیلت حاصل کرنے والے فضلاء کی تعداد ایک ہزار سے زاید ہوتی ہے …ملک و ملت کے کئی ممتاز رہنما اسی ادارے کے فاضل اور تربیت یافتہ ہیں، جہادِ افغانستا ن کی صف اول کی قیادت یہیں کی خوشہ چین رہی ، مولانا محمد نبی ، مولانا یونس حقانی ، پروفیسر سیاف اور مولانا جلال الدین حقانی ،اسی چشمہ فیض سے وابستہ رہے اور'' دارالعلوم حقانیہ'' ہی کی نسبت سے خود کو حقانی کہتے رہے۔۔۔۔۔ 
پاکستان میں اسلامی سیاست کے صفِ اول کے رہنما حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہ بھی اسی ''دارالعلوم حقانیہ '' کے فاضل ہیں ، انہوں نے علوم دینیہ کی تقریباً ساری تعلیم یہیں حاصل کی اور نو سال تک یہاں سے طالب علمانہ فیض اٹھاتے رہے ۔
حضرت مولانا سمیع الحق صاحب رحمہ اللہ نے جس انداز سے اپنے عظیم والد کے بعد اس ادارے کو بڑھایا ، سنوارا اور اس کے فیض کو عام کر نے کے لیے ممتاز محدثین اور اساتذہ کو جمع کر کے وہاں کے منصب درس و تدریس کی رونقوں کو نہ صرف یہ کہ بحال رکھا بل کہ اسے مزیدجلابخشی ، یہ ان کے تدبر ، فہم و بصیرت ،علمی ذوق، علمی میراث کے تحفظ اور اہل علم کی قدر دانی کاایک نمونہ ہے ، انہوں نے اس علمی ادارے کی آبیاری میں سیاسی پکڈنڈیوں کے پیچ و خم اور ذاتی پسند و نا پسند سے بالا ہو کر بڑی وسیع الظرفی کا مظاہرہ قائم رکھا ، ان کی اسی مدبرانہ پالیسی اور مومنانہ صفات کا نتیجہ ہے کہ دارالعلوم حقانیہ آج بھی طالبان علوم نبوت اور اہل حق کے سیلِ رواں کا پاکستان میں سب سے بڑا مرجع ہے ۔

مولانا سمیع الحق صاحب رحمہ اللہ کا ایک بڑا کارنامہ ماہنامہ '' الحق '' کا اجراء ہے جو گزشتہ نصف صدی سے روشنی بکھیر رہا ہے ، ''الحق'' نے ایوانوں اور بیابانوں میں حق کی صدا بلند کی اور عرصے تک ویران راستوں کے اندھیروں میں قندیلِ ایمانی بنا رہا ، ۔۔۔۔۔نہ جانے بھٹکے ہوئے کتنے مسافر اس سے درست سمتوں کی رہنمائی لیتے رہے !!

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019