تعلیم اور ہماری ذمہ داری

ہمارے ملک کی تعلیمی روایت کے مطابق اس وقت مختلف علاقوں میں دسویں کلاس کا امتحان چل رہا ہے، یہ وقت مسلمانوں کے لئے بڑی چوکسی کا ہے، مسلمان بچوں میں سلسلۂ تعلیم کو منقطع کر دینے کا تناسب بہت زیادہ ہے، بہت سے طلبہ تو ساتویں آٹھویں جماعت ہی میں تعلیم منقطع کر دیتے ہیں، اور انٹر کے بعد تو تعلیم چھوڑنے کا سلسلہ بہت زیادہ ہے، مسلمان نوجوانوں میں گریجویشن تک پہونچنے کا تناسب برادران وطن کی بہ نسبت کافی کم ہے، اور یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ جس امت کو سب سے پہلے پڑھنے پڑھانے کا سبق دیا گیا، وہ تعلیم میں غفلت کے اعتبار سے ضرب المثل بنی ہوئی ہے۔
ہم دن و رات جن اقوام کے ساتھ رہتے ہیں ، ان کے یہاں حصولِ تعلیم کا جذبہ جتنا بے پناہ ہے ، ہم ابھی اس میں بہت پیچھے ہیں ، اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ د لِت جنھیں ہندوستانی معاشرہ میں کوے اور چیل کے برابر سمجھا جاتا تھا ، تعلیم کے میدان میں وہ بھی نمایاں مقام حاصل کرنے کے لئے شب و روز کو شاں ہیں ، جن گھروں میں اسکول جانے کا کوئی تصور نہیں تھا ، اور بچے عقل و ہوش سنبھالتے ہی اپنے ہاتھوں میں کدال اور پھاؤڑے لے کر محنت و مزدوری کے لئے کھیتوں اور بازاروں میں گھومتے رہتے تھے ، اب ان کی پیٹھ پر کتابوں کے بھاری بیگ ہوا کرتے ہیں اور انھوں نے اسکول کی دنیا کو اپنے آپ سے آباد کر رکھا ہے ؛ لیکن ہم مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہمارا سفر پیچھے کی طرف ہے ، ہم نے ترقی کی بجائے تنزل کو اور محنت کی بجائے تن آسانی و سہل انگاری کو اپنی منزل بنا لیا ہے ۔
اس کے کئی اسباب ہیں ، پہلا سبب تعلیم کے معاملہ میں ہماری بے شعوری ہے ، مسلمانوں میں آج بھی ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو تعلیم کی اہمیت سے نابلد ہیں ، مسلمانوں میں جو مزدور اور کم معاش طبقہ ہے ، وہ ابھی تک اسی فکر کا اسیر ہے کہ اپنے بچوں کو پتھر پھوڑنے ، ہوٹلوں کی میز صاف کرنے اور اس طرح کے دوسرے کاموں میں لگادیا جائے ؛ تاکہ یومیہ دس بیس روپے آجائیں اور گھر چلانے میں آسانی ہو ، باشعور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ انھیں بتائیں کہ یہ چند پیسے ان کے روشن مستقبل کو تاریک کرنے کا ذریعہ ہیں ، اس لئے وہ ابھی تکلیفیں اُٹھا کر اور مشقتیں جھیل کر اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں تو آج کے دس روپے کل دس ہزار لا سکتے ہیں ، رسول اللہ انے بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے لوگوں کے لئے دس بچوں کی نو شت و خواند سکھانے کو فدیہ قرار دیا تھا ، یہ وہ وقت تھا کہ مسلمان فاقہ مستیوں سے دو چار تھے اور ان کو مالی وسائل کی زیادہ احتیاج تھی ؛ لیکن آپ انے معاشی ضرورت پر تعلیمی ضرورت کو مقدم رکھا ۔
تعلیم سے غفلت تاجروں کے طبقہ میں بھی پائی جاتی ہے ، بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اگر یہ پڑھ لکھ کر اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر لیں تو اس کو اسی تجارت یا کاروبار میں لگنا ہے ، ایسی صورت میں زیادہ تعلیم کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر بہ قدر ضرورت تعلیم کے بعد اسے کاروبار میں لگادیا جائے تو پیسے بھی بچیں گے اور وقت بھی بچے گا ، نیز جتنی مدت اس کے حصولِ تعلیم میں لگتی ، اس میں اسے کام کا اچھا خاصا تجربہ ہو جائے گا ؛ لیکن یہ کھوٹی سوچ ہے ، کاروبار میں اُتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے ، یہ کوئی قابل بھروسہ ذریعۂ معاش نہیں ہے ، دُکانیں جلائی جاسکتی ہیں ، سامان واسباب لوٹے جاسکتے ہیں؛ لیکن علم ایسی متاع گراں مایہ ہے کہ نہ اسے لوٹا جاسکتا ہے اور نہ جلایا جاسکتا ہے ، علم انسان کا اصل جوہر ہے ، اس سے انسان کی عزت اور اس کے کنبے اور قوم کا وقار متعلق ہے ، اس لئے علم بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے ، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، قرآن نے اسی لئے کہا ہے کہ علم رکھنے والے اور علم سے بے بہرہ برابر نہیں ہوسکتے :
ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلََمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَاْیَعْلَمُوْنَ ۔ (الزمر: ۹)
تعلیمی پسماندگی کا دوسرا سبب ہمارا اسراف اور فضول خرچی ہے، صورت ِحال یہ ہے کہ شادی بیاہ، بچوں کی بسم اللہ، ختنہ اور عقیقہ کی تقریبات نیز موت سے متعلق طبع زاد رسم و رواج کی تکمیل میں ہم اپنے پیسے پانی کی طرح بہاتے ہیں، سودی قرض لینے اور اپنی بنیادی ضرورت کی چیزوں کو فروخت کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ، ظاہر ہے کہ جب ہمارے پیسے ایسی بیکار چیزوں میں خرچ ہونگے تو جائز ضروریات کے لئے پیسے کیسے بچ سکیں گے ؟ اگر ہم اس اسراف کے خلاف مہم چلائیں اور اپنے اور اپنی قوم کے بچوں کی تعلیم کی فکر کریں تو ان ہی پیسوں کے ذریعہ ہم ان کی تعلیمی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں، اگر متوسط آمدنی کے لوگ یہ طے کرلیں کہ وہ سادہ طریقہ پر اپنے بچوں کی تقریبات نکاح انجام دیں گے اور بچے ہوئے پیسوں سے اپنے بچوں کے علاوہ قوم کے ایک بچہ کی تعلیمی کفالت کریں گے ، تو اس طرح سماج کے کتنے ہی غریب بچوں کی تعلیم کی صورت نکل آئے گی ۔
ہماری تعلیمی پسماندگانی کا تیسرا سبب طلبہ و طالبات کے اولیاء کا اپنے بچوں کی تعلیم کی طرف سے بے تعلق اور غافل رہنا ہے، صورتِ حال یہ ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کر دیتے ہیں اور پھر کبھی پلٹ کر اس بات کا جائزہ نہیں لیتے کہ ان کا تعلیمی رجحان کیا ہے؟ وہ پابندی سے اسکول جابھی رہے ہیں یا نہیں؟ مسلمان اولیاء طلبہ و طالبات سے عام طور پر اسکول کے ذمہ داروں کو یہ شکایت ہے ، اولیاء کی غفلت کا نوعمر اور مستقبل کے نفع و نقصان سے بے خبر بچے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ کثرت سے غیر حاضر رہتے ہیں، مفوضہ کام انجام نہیں دیتے، ڈسپلن شکنی کرتے ہیں، اساتذہ او رذمہ داروں کے ساتھ بد تمیزی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، اور اولیاء کے عدمِ تعاون کی وجہ سے ان کی بروقت فہمائش نہیں ہوپاتی؛ اس لئے ان کی بیماری بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ ناقابل علاج ہو جاتی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ تعلیم میں طلبہ ، اولیاء ِطلبہ اور اساتذہ تینوں کی ذمہ داری برابر درجہ کی ہے ، اولیاء ِطلبہ کی غفلت کی وجہ سے نہ صرف ایک تہائی ذمہ داری متأثر ہوتی ہے ؛ بلکہ طلبہ بھی اپنے فرائض سے غافل ہو جاتے ہیں ، اس طرح دوہرا نقصان ہوتا ہے ؛ اس لئے اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ جو اولیاء ِطلبہ خود تعلیم یافتہ ہوں وہ تو آپ اس کی اہمیت محسوس کریں اور جو اولیاء ناخواندہ یا کم پڑھے لکھے ہیں ان میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں اسکول پہنچ کر تفتیش حال کریں ۔
ہماری تعلیمی پسماندگی کا ایک اہم سبب مسلمانوں کے زیر انتظام تعلیم گاہوں کی زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنے کی پالیسی رہی ہے ، ہم اسٹیج پر تو اپنی قوم کو تعلیم کی طرف متوجہ کرتے ہیں ؛ لیکن جو اسکول ہمارے زیر انتظام ہیں ، ہم نے ان میں ’’ نہ نفع اور نہ نقصان ‘‘ یا’’کم نفع‘‘کے بجائے ’’زیادہ سے زیادہ نفع ‘‘حاصل کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور اب تعلیم ایک نفع خیز تجارت بن چکی ہے ، یہ نہایت ہی تکلیف دہ رجحان ہے ، جو لوگ اصحابِ ثروت ہیں ، وہ تو اپنے بچوں کو کہیں بھی تعلیم دِلالیں گے ؛ لیکن قوم کے غریب لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کا کیا انتظام کریں ؟ اصل تو ان کی تعلیم کا مسئلہ ہے ، یہ ضروری نہیں ہے کہ ہماری درس گاہوں کی عمارتیں عظیم الشان ہوں ، اعلیٰ سے اعلیٰ فرنیچر ہو ، اگر سادہ عمارت اور بنیادی ضروریات کے ساتھ ہم معیاری تعلیم فراہم کر سکیں اور اسے سستی بنا سکیں تو یہ قوم و ملت کے ساتھ بڑا حسن سلوک ہو گا اور اس کام کو انجام دینے والے نہ صرف دنیا میں نیک نام بلکہ آخرت میں بھی انشاء اللہ سرخرو ہوں گے ، کاش ! درس گاہوں کے ذمہ داران اس پر توجہ دیں !!

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019