سری لنکا کے دو سبق

ابھی ہفتہ عشرہ پہلے راقم الحروف کو پہلی بار سری لنکا کا سفر کرنے کا موقع ملا ، اس سفر کی دعوت اگرچہ دو سال پہلے ہی ملی تھی ؛ لیکن تکنیکی غلطی کی وجہ سے اس وقت حیدرآباد ایئر پورٹ سے واپس آنا پڑا ، پھر رمضان المبارک سے دو ماہ پہلے سری لنکا کے علماء اور تجار کا ایک وفد آیا اور مؤرخہ : ۸؍جولائی ۲۰۱۷ء کی تاریخ سفر کے لئے طے ہوگئی ؛ لیکن رمضان المبارک سے کچھ پہلے وہاں بودھ انتہا پسندوں کی طرف سے مسجدوں اورمسلمانوں کی اَملاک پر حملہ کا کچھ ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ ڈر ہونے لگا کہ خدا نخواستہ یہاں بھی برما کی سی صورت حال نہ پیدا ہوجائے ؛ اس لئے فی الحال سفر کی اُمید جاتی رہی ؛ مگر رمضان المبارک کے اخیر ایام میں وہاں کے احباب کے اس قدر فون آنے لگے کہ انکار کی گنجائش باقی نہیں رہی ، بہر حال حیدرآباد سے براہ چنئی ۸؍ جولائی ۲۰۱۷ء کو کولمبو پہنچا ، خیال تھا کہ وہاں مسلمان اچھی حالت میں نہیں ہوں گے ، خوف و ہراس ہوگا ، گھبراہٹ اور بے اطمینانی ہوگی ، مسلم آبادیوں پر غربت اور پسماندگی کا سایہ ہوگا ، مسلمانوں کے گھرلُٹے پِٹے ہوں گے ، اسی اندیشہ کے ساتھ میں نے اس نسبتاً چھوٹے سے ملک میں قدم رکھا ، جو جنوبی ہند سے لگا ہوا ہندوستان کا قریب ترین پڑوسی ہے ، جس کو سِیلون بھی کہا جاتا ہے اور جس کو عرب ’’ جزیرۂ سرندیپ‘‘ کہتے تھے اور اسے ہندوستان ہی کا ایک حصہ مانتے تھے ۔ تقریباً ایک ہفتہ مجھے اس ہرے بھرے ، سرسبز و شاداب ، خوبصورت ، آلودگی سے پاک اور بہار بداماں جزیرہ میں رہنے کا موقع ملا اورسوائے جافنا کے علاقہ کے — جو تمل ٹائیگرس کا مرکز تھا — اکثر علاقوں میں جانے کی نوبت آئی ، اس پورے سفر میں ایک طرف مسلمانوں کے دینی مراکز کو دیکھ کر قلب و روح کو سکون حاصل ہوا ، دوسری طرف وہاں کے قدرتی مناظر نے نگاہوں کو شاد کام کیا ، اس سفر میں دو ایسی باتیں میرے سامنے آئیں ، جو کسی بھی ملک میں بسنے والی مسلمان اقلیتوں کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہیں ، ایک : مکاتب کا نظام ، جو جمعیۃ علماء سری لنکا کے تحت ہے ، یہ جمعیۃ اس ملک میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے انداز کا پلیٹ فارم ہے ، جس میں تمام مکاتب فکر اور تنظیمیں جمع ہیں ، انھوںنے یہاں مسلمان بچوں کی تعلیم کے لئے منظم اور منصوبہ بند نظامِ مکاتب کا قائم کیا ہے ، جس کا کورس دس سال کے عرصہ پر مشتمل ہے ، اس نصاب میں دین کی تمام بنیادی باتیں آگئی ہیں اور کچھ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اختلافی باتوں سے محفوظ رہے ؛ اسی لئے شوافع ( جو وہاں کی غالب آبادی ہے ) کے ساتھ ساتھ اہل حدیث اور دیوبندی حضرات کے ساتھ ساتھ بریلوی مسلک کے حاملین سب اسی نصاب کو پڑھتے ہیں ، اس نصاب میں ہندوستان کے ادارہ دینیات ممبئی کے نصاب کو بنیاد بنایا گیا ہے اور اس کے علاوہ جنوبی افریقہ اور بعض دوسرے ملکوں کے نصاب سے بھی فائدہ اُٹھایا گیا ہے ، جمعیۃ کے ذمہ داروں نے طے کیا تھا کہ وہ دس سال میں سری لنکا کی تمام مسلمان آبادیوں تک مکتب کا یہ نظام پہنچادیں گے ؛ تاکہ کوئی مسلمان بچہ دین کی بنیادی تعلیم سے محروم نہ رہ جائے ، اس منصوبہ کو تقریباً چھ سال کا عرصہ گذرا ہے اور وہ اپنے ہدف کے قریب ہے ؛ بلکہ اُمید ہے کہ اپنے مقررہ وقت سے ایک دو سال پہلے ہی پورے سری لنکا کا احاطہ ہوجائے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اقلیت کے لئے مکاتب کا نظام صرف تعلیم کا ذریعہ نہیں ہے ؛ بلکہ یہ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کی ایک مؤثر تدبیر ہے ، سری لنکا کی آبادی دو کڑور ہے اور وہاں مسلم آبادی بیس لاکھ ہے ، اس طرح دس سال کی منصوبہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال مسلمانوں کی ایک لاکھ آبادی مکتب کے نظام سے جڑ جائے ، اندازہ ایک لاکھ افراد میں سے مکتب میں پڑھنے والوں بچوں اور بچیوں کی تعداد بیس ، پچیس ہزار ہوگی ، یہ ایک بڑا کام ہے ، ہندوستان میں بھی اس وقت شدید ضرورت ہے کہ ملک کے چپہ چپہ پر مکاتب کا جال بچھادیا جائے ، محتاط اندازہ کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کم و بیش بیس کڑور ہے ، اس میں اگر مکتب کے بچوں کی تعداد پچیس فیصد مانی جائے ، تب بھی یہ تعداد پانچ کڑور ہوجاتی ہے ، اس لئے بظاہر ان سب کو مکتب سے جوڑنا مشکل معلوم ہوتا ہے ؛ لیکن اگر اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ ہندوستان میں بہت سے علاقوں میں مکاتب کا نظام پہلے سے قائم ہے ، گاؤں گاؤں مسجدیں موجود ہیں اور مساجد میں ایسے ائمہ و مؤذنین مقرر ہیں ، جو بنیادی دینی تعلیم انجام دینے کے لائق ہوتے ہیں ، نیز علاقہ میں ایسے مدارس بھی موجود ہیں جو اپنے مضافات میں مکاتب کے نظام کی نگرانی کرسکیں ، یہاں اگر اس کی منظم کوشش کی جائے ، خاص کر مدارس مقامی مسلمانوں کی مدد سے حسب ِضرورت مکاتب قائم کریں تو یہاں بھی دس سال میں مکاتب کے اس نظام کو پورے ملک میں پہنچایا جاسکتا ہے ۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ ہندوستان میں ایک ایسا نظام تعلیم لانے کی کوشش کی جارہی ہے جو بچوں کو مشرکانہ افکار سے قریب کرسکے ، ہندو دیو مالائی کہانیوں پر ان کا یقین قائم ہوجائے ، اسلام اور مسلمان کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس صورت حال کا علاج اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا کہ نظامِ مکاتب کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ ہر مسلمان بچہ بنیادی دینی تعلیم حاصل کرلے ، مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا مسئلہ نہ سیاسی کوششوں سے حل ہوگا نہ مسلمانوں کی معاشی ترقی سے ، اس کا حل ایسی بھرپور جدوجہد میں ہے کہ کوئی مسلمان بنیادی دینی تعلیم سے محروم نہ رہ جائے ۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ سری لنکا میں حالیہ رمضان المبارک کے شروع میں نہایت ہی تباہ کن سیلاب آیا ، یہ ایسا سیلاب تھا جس نے پوری پوری بستی کو اُجاڑ دیا ، اس موقع پر مسلمانوں نے دل کھول کر متاثرین کی مدد کی ، اپنے اپنے گھروں کے ساتھ ساتھ مدرسے اور مسجدیں بھی برادرانِ وطن کے لئے کھول دیئے ، لوگوں پر اس کا غیر معمولی اثر ہوا ، ہندوستان میں جیسے : آر ، ایس ، ایس نفرت کے پودے لگانے کا کام کرتی ہے ، اسی طرز پر وہاں بودھ انتہا پسندوں کی تنظیم بی ، بی ، ایس قائم ہے ، جس نے پورے ملک میں نفرت کی آگ سلگا رکھی تھی ، اس ہنگامی صورت حال میں مسلمانوں کی خدمت سے متاثر ہوکر عوام نے اِن نفرت کے سوداگروں کو بُرا بھلا کہنا شروع کردیا اور فضا یکسر تبدیل ہوگئی ، ملک کے وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ تم لوگ مسلمانوں کے ساتھ ایسی زیادتی کرتے تھے ؛ لیکن اِس مشکل وقت میں انھوںنے تمہاری ایسی مدد کی ہے کہ تم نے خود بھی اپنے لوگوں کی ایسی مدد نہیں کی ، اس تجربہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہاں کی مسلم تنظیموں نے طے کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مزید کوشش کریں گے ، خدمت اور اخلاق کے ذریعہ — انشاء اللہ — نفرت انگیز فضا کو تبدیل کریں گے ، یقینا مسلمان اقلیتوں کے لئے ہرجگہ یہی عمل نسخۂ کیمیا کا درجہ رکھتا ہے ، اسلام نے اخلاق کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کو فتح کرنے کی دعوت دی ہے ، مسلمانوں کو اسی وصف نے بہت کم عرصہ میں دنیا کے کونے کونے میں پہنچادیا اور پھر وہ جہاں بھی پہنچے ، لوگوں کے محبوب بن کر رہے ، نہ کہ مبغوض اور سماج میں ہر دلعزیز شمار کئے گئے نہ کہ ناپسندیدہ ۔ اسلام نے تصور دیا ہے کہ تمام انسان انسانی رشتہ سے بھائی بھائی ہیں ؛ کیوںکہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں ، (النساء : ۱) رسول اللہ ا نے فرمایا : تم سب کا خدا بھی ایک ہے اور تم سب کے باپ بھی ایک ہیں : ’’ ألا إن ربکم واحد وإن أباکم واحد‘‘ ( رواہ بیہقی  فی شعب الایمان ، حدیث نمبر : ۵۱۳۷) حضرت زید بن ارقمؓ نے آپ اکا ارشاد نقل کیا ہے کہ اللہ کے تمام بندے بھائی بھائی ہیں ، (ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۱۵۱۰) ایک موقع پر ارشاد فرمایا گیا : جو انسان پر رحم نہیں کرتا ، اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا : ’’ من لا یرحم الناس لا یرحمہ اﷲ ‘‘ ( مسلم حدیث نمبر : ۲۳۱۹) غرض کہ اسلام میں انسانی اُخوت کا رشتہ بلا امتیاز مذہب تمام لوگوں کو ایک ڈوری میں باندھتا ہے ، کفر و شرک اگرچہ اسلام کی نظر میں قطعاً ناقابل قبول عمل ہے ؛ لیکن اس پر گناہ اور پکڑ کا تعلق آخرت سے ہے نہ کہ دنیا سے ۔ ہندوستان کے موجودہ حالات میں جب کہ فرقہ پرست طاقتیں نفرت کی آگ سلگا رہی ہیں ، ہمارے لئے اس کا علاج یہی ہے کہ ہم اخلاق اور محبت کے ذریعہ اس پروپیگنڈہ کو بے اثر کردیں اور غیر مسلم بھائیو ںکے ساتھ اپنے سماجی تعلقات بہتر بنانے کی تیز تر کوشش کریں ، نیزاپنے مذہبی اور تہذیبی تشخص کی حفاظت کرتے ہوئے برادرانِ وطن کے ساتھ تعلق اُستوار کریں ، بحمد اللہ مسلم تنظیمیں اس کی طرف متوجہ ہوئی ہیں ؛ لیکن ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے اپنے طورپر بھی اس کام کو انجام دے ؛ تاکہ سماج میں نچلی سطح سے خوش گوار تعلقات قائم ہوں اور پوراملک امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے ۔

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
متعلقہ الفاظ
  • #شمع فروزاں
  • ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
    ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
    شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018