تاریخ کا تحفظ

ہندوستان میں مسلمان اس وقت جن حالات سے گذر رہے ہیں ، وہ بڑے صبر آزما اور تشویش ناک ہیں ، آر ، ایس ، ایس نے اپنے اصل نظریہ پر کام کرنا شروع کر دیا ہے ، فساد کی تو طویل تاریخ ہے ؛ لیکن مقصد تو صرف اس قدر ہے کہ مسلمان دہشت زدہ ہو جائیں اور ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں ، یہاں تک کہ بالآخر وہ اکثریت کے سامنے سپر انداز ہو جائیں ؛ لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہندو تہذیب میں جذب کر لیا جائے ، وہ اپنی شناخت سے محروم ہو جائیں ، ان میںاحساس کمتری پیدا ہو جائے ، اس کے لئے وسیع الاطراف پروگرام بنایا گیا ہے ، جواب آہستہ آہستہ بے غبار ہوتا جارہا ہے ، ایک طرف نصاب تعلیم میں تبدیلیاں عمل میں آرہی ہیں ، دوسری طرف ملک اور ملک کی آزادی کی نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے ، تیسری طرف الکٹرانک میڈیا کے ذریعہ ہندو تصورات اور تہذیبی طور طریقوں کو تقویت پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ، یہ اتنے خطرناک اقدامات ہیں کہ جن کی سنگینی کا اندازہ مستقبل میں ہی ہو سکے گا ، اگر ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی تو پھر اس کی تلافی شاید ممکن نہ ہوگی ۔
تاریخ کو بدلنے کا کام اتنی تیز رفتاری کے ساتھ کیا جارہا ہے کہ اب مغلوں کا ظالم و لٹیرا ہونا ، اورنگ زیب کا مندر شکن ہونا اور ایسے مسلمان فرمانروا جن کی ہندو دوستی مسلَّم تھی ، جیسے : اکبر ، یا جن کی رواداری کی مثال دی جاتی تھی ، جیسے : ٹیپو سلطان یا نظام حیدرآباد ، ان کا بھی فرقہ پرست اور ہندو دشمن ہونا عام پڑھے لکھے لوگوں میں بھی ایک مسلَّم بات بنتی جارہی ہے ، دوسری طرف دلتوں اور بودھوں پر برہمنوں کی طرف سے جو مظالم ہوئے ، اس سچائی کو مسخ کیا جارہا ہے ۔
یہ نہایت اہم مسئلہ ہے اور با شعور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے حل کی طرف متوجہ ہوں ، کسی بھی قوم کے لئے اس کی تاریخ بڑی اہمیت رکھتی ہے ، اسی لئے تاریخ کو قوموں کا حافظہ کہا جاتا ہے ، تاریخ سے انسان ہمت و حوصلہ حاصل کرتا ہے، تاریخ مایہ عبرت اوراثاثۂ موعظت ہے ، ماضی کی تاریخ مستقبل کے لئے خضر طریق کا درجہ رکھتی ہے ، جو قومیں تاریخ سے محروم ہوں ، ان کی مثال بے نسب آدمی کی سی ہے ، جو ہمیشہ احساس کمتری سے دو چار رہتا ہے اور مقابلہ و مقاومت کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے ، غور کیجئے کہ قرآن مجید ہدایت وموعظت کی کتاب ہے اور یہی اس کا موضوع ہے ؛ لیکن قرآن کا ایک قابل لحاظ حصہ قصص وواقعات پر مشتمل ہے ، اہل علم کا خیال ہے کہ قرآن مجید میں تقریباً ایک ہزار آیات واقعات وقصص سے متعلق ہیں ، ۲۶ پیغمبروں اور ان کی اقوام کا ذکر آیا ہے، حضرت نوح علیہ السلام،حضرت ہود علیہ السلام، حضرت صالح علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اقوام اور دعوت حق سے ان کے انکار کا تو بار بار ذکر آیا ہے اور چھ سورتیں تو ایسی ہیں جو خاص انبیاء کے نام پر ہیں ، اس کے علاوہ متعدد سورتیں کسی قوم ، کسی شخصیت یا کسی اہم واقعہ سے موسو م ہیں اور وجہ اس کی وہی ہے کہ تاریخ کسی بھی قوم کے لئے سامان حوصلہ بھی ہوتی ہے ، سرمایہ عبرت بھی اور نقش راہ بھی ، اسی لئے قرآن انبیاء اور اقوام کے قصص و واقعات کو نقل کرتے ہوئے عبرت وموعظت کے پہلو کی طرف بھی اشارہ کرتا جاتا ہے، کبھی کہتا ہے : ’’ فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ‘‘ ( النمل : ۱۴) کبھی کہتا ہے : ’’فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظَّالِمِیْنَ‘‘ ( القصص : ۴۰) یعنی دیکھو کہ مفسدین اورظالمین کا کیا انجام ہوا، حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا کہ یہ سامان موعظت ہے : ’’ ہٰذَا ذِکْرٌ‘‘( صٓٓ: ۴۹) کبھی فرعون کی سرتابی اور اس کا انجام نقل کرنے کے بعد ارشاد ہوا کہ اس میں اہل خشیت کے لئے عبرت ہے : ’’ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَن یَخْشٰی‘‘ (النازعات : ۲۶) اسی طرح احادیث میں انبیاء اور ان کی اقوام نیز عربوں کے ابتدائی حالات سے متعلق اچھا خاصا ذخیرہ موجود ہے ، اس سے تاریخ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔
چنانچہ مسلمانوں کے یہاں تاریخ اور تذکرہ کا موضوع ہمیشہ سے اصحاب تصنیف کا ایک مقبول اور پر کشش موضوع رہا ہے اور علم کی دنیا میں تاریخ کے موضوع پر جتنا بڑا سرمایہ مسلمانوں کے یہاں ملتا ہے ، شاید ہی کوئی اور قوم اس میں اس کی ہمسر ہو ، اسی لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ روشنی میں ہے، اسلام سے مسلمانوں کا رشتہ مستحکم اوراستوار رکھنے میں اس کا بڑا دخل ہے ، خود ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں نے جو پُرجوش کردار ادا کیا اس میں بھی مسلم تاریخ نے ایک اہم محرک کی حیثیت سے تقویت پہنچائی ہے ، مسلمانوں کا یہ احساس کہ انھوں نے کبھی غلامی کا جوا اپنی گردن پر برداشت نہیںکیا ہے اورانھوں نے سر جھکانے کے بالمقابل آزمائش اور ابتلاء کے موقعوں پر سر کٹانے کو ترجیح دی ہے ، ان کے جوش جنوں میں اضافہ کیا اور تمام تر بے سروسامانی کے باوجود ان کو ایک ایسی قوم کے مقابلہ استقامت و پامردی عطا کی کہ جس کی حکومت میں اس وقت کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا ۔
اس لئے کسی قوم کو اس کی تاریخ سے محروم کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی بچے کی خاندانی شناخت گم ہوجائے ، ایسے بچے کو اپنے ساتھ جذب کر لینا اور کسی دوسرے خاندان کے ساتھ ضم کر دینا چنداں دشوار نہیں ہوتا ، اسی طرح جب کوئی قوم اپنی تاریخ سے محروم ہو جائے یا اپنی تاریخ کے بارے میں احساس کمتری کی شکار ہو جائے ، تو اسے مرعوب کرنا اور فکری اور تہذیبی اعتبار سے اکثریتی اور طاقتور گروہ کے ساتھ جذب کر لینا کچھ زیادہ مشکل نہیں ، جس کی واضح مثال اس ملک میں دلت ہیں ، جو اپنی کثرت تعداد کے باوجود زبردستی ہندو تہذیب میں جذب کر لئے گئے ہیں اوربرہمنوں کے لئے آلۂ کار اور خدمت گار ہیں ۔
تاریخ کو مسخ کرنے کا مقصد مسلمانوں کے ساتھ اسی تجربہ کو دوہرانا ہے ، مسلمانوں نے کبھی کسی قوم کی تاریخ مسخ نہیں کی ، جن لوگوں سے صدہا برس ان کی جنگیں ہوئیں ، جن قوموں کے ساتھ ان کے معرکے ہوئے اور جن لوگوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی ، ان کے ساتھ بھی مسلمان مورخین نے کبھی نا انصافی روا نہیں رکھی ، اس لئے کہ قرآن مجید کی واضح ہدایت ہے ، کہ کسی قوم کی برائی ، اس کے ساتھ ناانصافی کا جواز فراہم نہیں کرتی : ’’ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْا‘‘( المائدۃ :۸ ) خود ہندوستان پر عرب مورخین اور سیاحوں نے قلم اُٹھائے ہیں ، جو خامیاں تھیں ان کا بھی ذکر کیا ہے اور خود ہندومورخین کو ان سماجی کمزوریوں کا اعتراف ہے اور جو خوبیاں تھیں ان کا اعتراف بھی پوری فراخ دلی کے ساتھ کیا ہے ، ہندوستان کے علم و حکمت ، طب و معالجہ کی صلاحیت اور بہادری وغیرہ کا تفصیل سے ذکر آیا ہے ؛ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ یہ ملک جس کو مسلمانوں نے وسعت ووحدت عطا کی ، معاشی فراخی دی ، امن و امان دیا ، عدل ومساوات سے آشنا کیا ، سماجی انصاف کی دولت دی ، اس کے چپہ چپہ پر تاریخی عظمت کے نقوش سجائے اور اسی زمین کو اپنا مسکن اورمدفن بنایا ، ان کی قربانیوں کو وہ لوگ مسخ کرنا چاہتے ہیں جن کے تلوؤں میں اس ملک کے بنانے ، سنوارنے اور بچانے میں شاید ایک کانٹا بھی نہ چبھا ہو ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک طرف ہم اس صورت حال کا قانون اور آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے مقابلہ کریں اور دوسری طرف مسلمان مؤرخین انصاف پسند غیر مسلم مورخین کے اشتراک کے ساتھ ہندوستان کی آزادی اور اس کی تعمیر کی بابت مسلمانوں کی جدو جہد کی تاریخ مرتب کریں اور درست علمی مواد قوم و ملک کے سامنے پیش کریں ، نیز اس ملک میں شُودروں کے ساتھ جو مظالم روا رکھے گئے ، تاریخی اورمذہبی حوالوں سے ان کو پیش کریں ؛ تاکہ لوگ حقائق سے واقف ہوسکیں ، یہ ایک طرف اس ملک کے ساتھ بہی خواہی ہوگی ، انصاف ہوگا ، اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا ہوگی ، لوگ حقائق سے واقف ہو سکیں گے اور دوسری طرف خود مسلمان نوجوان اور آنے والی نسل احساس کمتری سے محفوظ رہے گی اور اپنی تاریخ سے اس کا رشتہ مربوط اور استوار رہے گا ، اگر اس وقت اس صورت حال پر توجہ نہیں دی گئی تو پھر آئندہ شاید ان مضرتوں کی تلافی ممکن نہ ہو ۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019