دینی اداروں ، تنظیموں اور جماعتوں میں اختلافات اسباب اور حل (۲)

اجتماعی کاموں میں دو باتوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے : امارت اور شورائیت — امارت یہ ہے کہ کسی ایک شخص کو ادارہ یا تنظیم کا سربراہ اعلیٰ منتخب کرلیا گیا ہو ، امیر ادارۂ و تنظیم کا امین ہوتا ہے نہ کہ مالک ، وہ گویا گاڑی کا انجن ہوتا ہے ، پہئے کتنے ہی مضبوط ہوں ؛ جب تک کوئی کھینچنے والا انجن نہ ہو ، گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی ، اور انجن کتنا ہی طاقتور ہو ، اگر اس کو پہیوں کا ساتھ حاصل نہ ہو تو اس کی طاقت اس کو فائدہ نہیں پہنچاسکتی ؛ اسی لئے دونوں کی اہمیت ہے ، سربراہ کی بھی اور اس کے شرکاء کار کی بھی ، سربراہ سے تو لوگوں کا تعلق اطاعت و فرمانبرداری کا ہونا چاہئے ، سربراہ کا حکم چاہے طبیعت کے خلاف ہو ؛ لیکن عمل اسی پر کیا جائے گا ؛ بشرطیکہ اس کا حکم شریعت کے خلاف نہ ہو ، اور عام مسلمانوں کی کامیابی سربراہ کی اطاعت میں ہے ؛ اسی لئے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ پورا پورا اسلام اسی وقت معاشرہ میں آسکتا ہے ، جب کہ مسلمانوں کا جماعتی نظام ہو اور یہ جماعتی نظام امیر کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا ، کسی سربراہ کے بغیر لوگوں کا اکٹھا ہوجانا بھیڑ تو کہلا سکتا ہے ، اسے جماعت نہیں کہا جاسکتا ، اور امیر کی امارت لوگوں کی اطاعت وفرمانبرداری ہی سے قائم ہوسکتی ہے نہ کہ طاقت و قوت سے : ’’ لا إسلام إلا بجماعۃ ولا جماعۃ إلا بإمارہ ولا إمارۃ إلا بطاعۃ‘‘ (سنن دارمی، حدیث نمبر :۲۵۳) — نظم امارت کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ انے فرمایا : اگر سفر میں تین اشخاص جارہے ہوں توان میں بھی کسی کو امیر بنالو ، (سنن ابی داؤد ، حدیث نمبر :۲۶۰۹) خود آپ ا کا معمول مبارک تھا کہ جب بھی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو مدینہ میں کسی کو والی یعنی عارضی امیر بناکر جاتے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ معیاری طریقہ تو یہی ہے کہ ایک شخص مستقل امیر ہو ؛ لیکن امارت کی مدت یا اس کے دائرہ کار کو محدود کیا جاسکتا ہے ، فقہی اعتبار سے اس کی اصل یہ ہے کہ امیر عام لوگوں کی طرف سے وکیل کی حیثیت رکھتا ہے اور وکیل بنانے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وکیل کے کام یا اس کے اختیارات کو محدود کردے ، پھر یہ بات ضروری نہیں ہے کہ ’ اصلح ‘ یعنی جماعت کا سب سے بہتر شخص ہی امیر ہو ، اس پر اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے ، رسول اللہ ا نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم پر کوئی ناک کٹا حبشی غلام بھی امیر بنادیا جائے تو اس کی اطاعت کرو : ’’ ولو کان عبداً حبشیاً مجدعا‘‘ (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر :۲۸۶۲) اسی طرح آپ انے فرمایا کہ ظالم سربراہ کی اقتداء میں بھی جمعہ قائم کرتے رہو ، ( سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر :۱۰۸۱) نیز فقہاء نے لکھا ہے کہ جب تک کسی امیر سے کفر کا ارتکاب نہ ہو ، اس کی اطاعت واجب ہے : ’’ وأجمع اھل السنۃ والجماعۃ علی أن السلطان لا ینعزل بالفسق … فلو طرأ علیہ کفر … سقطت طاعتہ ‘‘ (شرح طیبی علی المشکوٰۃ : ۸؍۲۵۶۰) بلکہ اگر کوئی شخص زبردستی امیر بن جائے اور غلبہ حاصل کرلے تو اس کی بھی اطاعت واجب ہے : ’’ وقد اجمع الفقہاء علی وجوب طاعۃ السلطان المتغلب والجھاد معہ ‘‘ (نیل الاوطار : ۷؍۲۰۸) امیر کی اطاعت کا یہ حکم ظالموں کی مدد کی تلقین نہیں ہے ؛ بلکہ اس کا مقصد اُمت کی اجتماعیت کی حفاظت ہے ؛ اس لئے جو لوگ کسی ادارہ ، جماعت یا تنظیم سے وابستہ ہوں ، ان کو جائز باتوں میں بہر حال اپنے امیر و سربراہ کی اطاعت کرنی چاہئے ، چاہے وہ اس کے فیصلہ کو نتائج کے اعتبار سے غلط سمجھتے ہوں ۔
اجتماعی کاموں کے لئے دوسری اہم ضرورت ’ شورائیت ‘ ہے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود کو صلاحیت کے اعتبار سے ایک ناقص وجود رکھا ہے ، اس لئے جب ایک فرد کسی کام کو نہیں کرپاتا ہے تو بہت سے افراد مل کر اس کو انجام دیتے ہیں اور اجتماعی قوت سے وہ کام ہوجاتا ہے ، ایک شخص ایک چٹان کو اپنی جگہ سے کھسکا نہیں سکتا ؛ لیکن جب لوگوں کا جم غفیر اپنا ہاتھ لگاتا ہے تو چٹان اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے ، یہ اجتماعی کاموں کی ایک مثال ہے ، انسان جیسے اپنی جسمانی قوت کے اعتبار سے عاجز و نامکمل ہے ، اسے دُور تک دیکھنے کے لئے چشمہ کی ، آواز پہنچانے کے لئے مائیک کی اور فاصلہ طے کرنے کے لئے سواری کی ضرورت پڑتی ہے ، اسی طرح وہ عقل و فہم کے اعتبار سے بھی عاجز ہے ، اس کو کسی صحیح نتیجہ تک پہنچنے کے لئے بہت سے لوگوں کی مدد درکار رہتی ہے ؛ اس لئے اجتماعی کاموں میں خاص کر شورائیت ضروری ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کے اہم کام مشورہ ہی سے انجام پانے چاہئیں : ’’ وأمرھم شوریٰ بینھم‘‘ (شوریٰ : ۳۶) رسول اللہ ا کو حکم فرمایا گیا کہ آپ اہم مسائل میں اپنے رفقاء سے مشورہ کیا کیجئے : ’’ وشاورھم فی الأمر‘‘ (آل عمران : ۱۵۹) ؛ حالاںکہ رسول اللہ ا کو وحی جیسا ذریعہ علم حاصل تھا اور آپ کو بظاہر مشورہ کی ضرورت نہیں تھی ؛ لیکن پھر بھی آپ کو مشورہ کی تلقین فرمائی گئی ؛ تاکہ اُمت اس کو اپنے لئے اُسوہ بنائے ، خلفاء راشدین کے عہد میں بھی امیر کے ساتھ شوریٰ ہوا کرتی تھیں ، اور اس کو اس درجہ اہمیت حاصل تھی کہ جب عراق کی زمینیں مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں اور ان زمینوں کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا کہ ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے یا بیت المال کی ملکیت بنالیا جائے تو تقریباً ایک ماہ تک مباحثہ و مناقشہ کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے بعد فیصلہ ہوا ۔
رسول اللہ انے نئے پیش آنے والے شرعی مسائل کے بارے میں حکم فرمایا کہ جب کوئی اہم اور نیا مسئلہ پیش آئے تو اہل علم و فضل کو جمع کرو ، ان سے مشورہ کرو اور تنہا اپنی رائے پر فیصلہ نہ کرو : ’’ تشاورون الفقھاء والعابدین ولا تمضوا فیہ رأی خاصۃ‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی ، حدیث نمبر : ۱۶۱۸) اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ انے یہ ہدایت سیدنا حضرت علیؓ کو دی ، جن کا تفقہ صحابہ کے درمیان بھی مسلّم ہے اور جن کو رسول اللہ انے اپنے رفقاء میں سب سے بڑھ کر قوتِ فیصلہ کا حامل قرار دیا : ’’ و أقضاھم علی بن ابی طالب‘‘ (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۱۵۴) ایک موقع پر آپ انے ارشاد فرمایا کہ جو مشورہ سے کام کرے گا ، اسے شرمندگی سے دوچار نہ ہونا پڑے گا : ’’ولا ندم من استشار‘‘ (المعجم الاوسط ، حدیث نمبر : ۶۶۲) ایک اور روایت میں ہے کہ جو کسی مسلمان سے مشورہ کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کو بہتر پہلو کی توفیق عطا فرمائیں گے : ’’ وفقہ اﷲ لأرشد أمورہ‘‘ ۔( المعجم الاوسط ، حدیث نمبر : ۸۳۳۳) 
لیکن مشورہ کے سلسلہ میں دو باتیں اہمیت کی حامل ہیں : ایک یہ کہ مشورہ اہم اُمور میں ہو نہ کہ معمول کے کاموں میں ، دوسرے : یہ ضروری نہیں ہے کہ مشورہ دینے والوں کا ہر مشورہ مان لیا جائے ، مشورہ دینے والوں کو چاہئے کہ زیر مشورہ مسئلہ سے متعلق اللہ نے جو بات اس کے دل میں ڈالی ہے ، اس کو پیش کردے اور حسب ِضرورت اس کے اسباب ووجوہ کو واضح کردے ، پھر اگر مشورہ مان لیا جائے تو یہ احساس پیدا نہ ہوکہ میں بہت صائب الرائے شخصیت ہوں ؛ اسی لئے میری رائے مان لی گئی ہے ؛ بلکہ خیال کرے کہ اب یہ سبھوں کی مشترکہ رائے ہے اور دُعا کرے کہ اس کی رائے کسی نقصان کا باعث نہ بن جائے ، اور اگر رائے قبول نہ کی جائے تو برا نہ مانے اور اجتماعی رائے سے جو فیصلہ ہو ، اس پر ایسی خوش دلی کے ساتھ عمل کرے کہ گویا یہ اسی کی رائے تھی ، اجتماعی کاموں میں بعض دفعہ لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زبان سے تو اپنی رائے کو مشورہ کہتے ہیں ؛ لیکن انداز ایسا اختیار کرتے ہیں کہ گویا یہی فیصلہ ہے ، یہ طریقہ درست نہیں ہے ، — امارت و شورائیت کے اسی متوازن امتزاج سے اسلام کے اجتماعی نظام کی تشکیل ہوتی ہے ، امارت ہو اور شورائیت نہ ہو تو انسان امیر کے بجائے آمر و ڈکٹیٹر بن جاتا ہے ، شورائیت ہو ؛ لیکن کوئی سربراہ نہ ہو تو اس کی مثال اس گاڑی کی ہے جس کو بیک وقت کئی ڈرائیور چلانے کی کوشش کریں ، اس سے قدم قدم پر اختلاف اور تضاد پیدا ہوگا اور کام میں ترقی نہیں ہوگی ۔
مذہبی گروہوں اور جماعتوں کے اختلافات کو حل کرنے کے لئے دو راستے ہیں ، ایک : صلح ، اور یہ سب سے بہتر راستہ ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’ الصلح خیر‘‘ (نساء : ۱۲۸) صلح میں تین پہلو اختیار کئے جاسکتے ہیں : ایک پہلو ایثار کا ، کہ کوئی ایک فریق اپنے دعویٰ سے دستبردار ہوجائے ، صلح نام ہی اسی کا ہے کہ نزاع کو ختم کرنے اور اختلاف کو دُور کرنے کے لئے کوئی فریق اپنا حق چھوڑنے یا اپنے حق کا کچھ حصہ چھوڑنے پر آمادہ ہوجائے ، اس کی بہترین مثال حضرت حسن بن علیؓ کا عمل ہے کہ رسول اللہ اکی پیشین گوئی کے اشارہ کے مطابق ان کی خلافت جائز تھی ، ان کو اکابر صحابہ کی تائید حاصل تھی ، اس کے باوجود انھوںنے خلافت سے دستبرداری کو قبول کرلیا اور مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کو ختم کردیا ، رسول اللہ انے بطور پیشین گوئی حضرت حسن ؓکے اس اعلیٰ کردار کی تعریف فرمائی تھی اور ان کی تحسین کی تھی ، حقیقت یہ ہے کہ ایثار سے آدمی چھوٹا نہیں ہوجاتا ؛ بلکہ بڑا بن جاتا ہے ، وہ عہدہ و منصب کو ہار جاتا ہے ؛ لیکن دلوں کو جیت لیتا ہے ۔
دوسرا پہلو انتظامی ڈھانچہ کی توسیع کا ہے ، عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اگر کچھ لوگ انتظامی ڈھانچہ سے الگ کردیئے گئے اور نظم و نسق میں شامل نہیں رکھے گئے تو ان کو ناگواری ہوتی ہے ، اسی سے انتشار پیدا ہوتا ہے ، اگر ایسے لوگوں کو نظم کا حصہ بنا دیا جائے تو ان کی زبان بند ہوجاتی ہے اوراتفاق و اتحاد کی فضاء قائم ہوجاتی ہے ۔
تیسرا پہلو اختیارات کی تحدید کا ہے ، شریعت میں واضح طورپر امیر و شوریٰ کے دائرہ کار کی تحدید نہیں کی گئی ہے ، صحابہ کے دور میں اس کی بالکل حاجت نہیں تھی ؛ کیوںکہ ورع و تقویٰ کا غلبہ تھا ، مشورہ دینے والے اخلاص کے ساتھ اور خیر خواہی کے جذبہ سے مشورہ دیتے تھے ، انھیں اپنے مشورہ پر اصرار نہیں تھا اور امیر بھی فراخ دلی سے مشورہ کو قبول کرتا تھا ، اس کے سامنے اُمت کی بھلائی اور اللہ کی رضا جوئی کے سوا کوئی اورجذبہ نہیں ہوتا تھا ، اختلاف کو دُور کرنے کے لئے یہ ہوسکتا ہے کہ امیر کو کچھ حدود کا پابند بنا دیا جائے ، مثلاً یہ کہ فیصلہ میں کچھ لوگ اس کے ساتھ شامل کر دیئے جائیں ، یافیصلہ کو تنہا اس پر چھوڑنے کے بجائے غلبۂ آراء کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے ، جیساکہ بڑے بڑے دینی اداروں اور مذہبی تنظیموں کا عرف ہے ، پڑوسی ملک میں اکابر علماء نے سربراہ ملک کے لئے اس اُصول کو قبول کیا تھا کہ ان کی مدت محدود ہوگی اور وہ پارلیمنٹ کی اکثریتی رائے کو قبول کرنے کے پابند ہوں گے ، اس کی نظیر حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کی ہے ، حضرت عمرؓ نے چھ آدمیوں کے بارے میں وصیت فرمادی تھی کہ ان میں سے کسی ایک کو خلیفہ بنادیا جائے اور اگر ایک نام پر اتفاق نہ ہوپائے تو غلبہ آراء پر فیصلہ کیا جائے ، اسی بنیاد پر حضرت عثمان غنیؓ کا انتخاب ہوا ؛ البتہ غلبہ آراء پر اتفاق کا فیصلہ ایسے انتظامی اُمور میں کیا جائے گا ، جن میں دونوں پہلو مباح ہوں ، جو بات شرعاً واجب یا ممنوع ہو ، اس میں غلبۂ آراء کا اعتبار نہیں ہوگا ، ان کے سلسلے میں تو قرآن وحدیث اور فقہاء کے اجتہاد کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا ، خواہ اس رائے کے حاملین کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو ، غرض کہ صلح کی یہ تین بنیادیں ہوسکتی ہیں ، ایک یہ کہ کوئی ایک فریق پیچھے ہٹ جائے اور ایثار سے کام لے ، دوسرے : انتظامی ڈھانچہ جیسے شوریٰ میں ایسی توسیع کردی جائے کہ ہر فریق مطمئن ہوجائے ، تیسرے : امیر و سربراہ کے اختیارات کو محدود کردیا جائے اور وہ شوریٰ کی رائے کا پابند ہوکر کام کرے ۔
اختلافات کو حل کرنے کی دوسری صورت ’ تحکیم ‘ ہے ، قرآن مجید نے نزاعات کو حَکَم کے ذریعہ حل کرنے کی تلقین کی ہے ، (نساء : ۳۵) رسول اللہ ا نے نبی ہونے کے باوجود غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان حضرت سعد ابن معاذؓ کو حکم بنایا ، اسی طرح حضرت علیؓ اورحضرت معاویہؓ نے اختلافات کو حل کرنے کے لئے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ اور حضرت عمر وبن عاصؓ کو اپنا حکم تسلیم کیا ، نیز فقہاء نے نزاعات کے حل کے سلسلہ میں تحکیم کو ایک مستقل طریقہ مانتے ہوئے اس کے اُصول و ضوابط اور حدود و شرائط مقرر کئے ، اس لئے اختلاف کو دُور کرنے کا یہ ایک بہترین حل ہے کہ چند معتبر ، معروف ، احکام شریعت سے واقف اور غیر جانبدار اہل علم کی کمیٹی دی جائے ، جو مختلف حضرات کے نقطۂ نظر کو سنیں ، اس ادارہ یا تنظیم یا جماعت کی مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے اور فریقین اس فیصلہ کو تسلیم کرلیں ۔
بہر حال جو لوگ ملت کے اجتماعی کاموں سے مربوط ہوں ، ان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ فرد سے زیادہ اہمیت اس ادارہ ، تنظیم اورجماعت کی ہے ، جس سے وہ وابستہ ہے ، اگر افراد کے مفادات مجروح ہوں تو اس کا نقصان انفرادی ہوگا ، اور اگر کسی ادارہ یا جماعت کا نقصان ہو تو اس کا نقصان ملی اور اجتماعی ہوگا ۔
ان سطورمیں جوکچھ عرض کیا گیاہے، اس کاخلاصہ یہ ہے کہ دینی اداروں اورجماعتوں میں اگراختلاف پیداہوجائے توان کوان امورپرتوجہ دینی چاہئے:
(۱) ذمہ داروں کواپنے گردوپیش کاجائزہ لینا چاہئے،کہیں ان کی صف میں ایسے لوگ توشامل نہیں ہیں،جودانستہ یانادانستہ دین سے یااس ادارہ یاجماعت سے بغض رکھنے والوں کے آلۂ کارہوں اوران کے لئے کام کررہے ہوں،ایسے لوگوں کوجلدسے جلدوہاں سے ہٹادیناچاہئے۔
(۲) ذمہ داروں کوخوداپنا احتساب کرنا چاہئے کہ عہدہ کوانہوں نے ایک اعزاز سمجھ رکھاہے یاذمہ داری؟اوران کواپنے دل کوٹٹولنا چاہئے کہ ان کے کام میں اخلاص کی قوت موجود ہے یانہیں؟اگرظاہری وسائل مہیاہوں؛لیکن جذبۂ اخلاص مفقود ہوتواس کی مثال اس گاڑی کی ہے جودیکھنے میں توبہت عمدہ اورسجی سجائی ہو؛لیکن اس کاانجن کام نہ کرتاہو،یہ دینی کاموں میں کامیابی اورفتنوں سے حفاظت کی کلیدہے۔
(۳) اجتماعی نظام کے قیام کی بنیادامارت پرہے،یعنی سب لوگ مل کرکسی کوامیرتسلیم کرلیں،خواہ وہ صلاحیت کے اعتبارسے ،عمرکے اعتبارسے اورمطلوبہ اوصاف کے اعتبارسے کم ہی درجہ کے ہوں؛کیوں کہ امیرکے لئے سب سے افضل ہونا ضروی نہیں ۔
(۴) انفرادی کمیوں کواجتماعی عمل کے ذریعہ دورکیاجاسکتاہے؛اس لئے یہ ہوسکتا ہے کہ امیرکے ساتھ ایک دوحضرات کومعاون کے طورپرشامل کرلیاجائے،کہ امیران کواعتمادمیں لے کر ہی فیصلہ کیاکرے،تنہافیصلہ نہ کرے۔
(۵) جوامورشوریٰ سے متعلق ہیں،ان میں امیرکوپابندکیاجائے کہ اختلاف رائے کی صورت میں وہ اس رائے پرفیصلہ اورعمل کرنے کاپابندہوگا،جواکثریت کی ہوگی۔
(۶) کام سے جڑے ہوئے مختلف حلقوں کی تشفی کے لئے شوریٰ میں ایسی توسیع کردی جائے کہ مختلف حلقوں اورعلاقوں کی نمانئدگی ہوجائے۔
(۷) اگرادارہ اورجماعت کےدائرہ میں موجودلوگوں کے ذریعہ اتفاق رائے نہ ہوسکے توتین ایسے بزرگ علماء کوحکم بنایاجائے، جومؤقراداروں اورتنظیموں کی نسبت سے امت میں معتمدسمجھے جاتے ہوں۔
خداکرے نقارخانہ میں طوطی کی یہ آواز سنی جائے اورمسئلہ کوحل کرنے میں معاون ثابت ہو،وباللہ التوفیق وھو المستعان

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019