ترکی میں ناکام بغاوت، پس منظر اور مسلمانوں کے لئے لمحہ ٔفکریہ !

اس کو تاہ علم کے حقیر مطالعہ کے مطابق دنیا میں دو ایسی بڑی قومیں ہیں ، جن کی عزت و افتخار کی تاریخ اسلام سے وابستہ رہی ہے ، دامن اسلام میں آنے سے پہلے نہ ان کا اپنا کوئی قابل ذکر تمدن تھا ، نہ علوم و فنون کے میدان میں وہ قابل توجہ سمجھے جاتے تھے اور نہ ان کی کوئی ایسی سلطنت تھی ، جو دنیا کے نقشے پر نمایاں صورت میں نظر آئے ، ایک : عرب ، دوسرے : ترک ، عرب بدو اور دیہاتی سمجھے جاتے تھے اور ان کی بدویت ضرب المثل تھی ، ریگستان میں وسائل کے نہ پائے جانے کی وجہ سے ان کے بہت سے قبیلے خانہ بدوشی کی زندگی گذارتے تھے ، صحراء عرب کے دوش بدوش روم ، ایران اور حبش کی طاقتور حکومتیں قائم تھیں اور تمدن کے اعتبار سے یہ اوجِ کمال پر پہنچے ہوئے تھے ؛ لیکن ان ہی کے درمیان موجود اس ریگستانی علاقہ میں نہ کوئی حکومت تھی نہ لا اینڈ آڈر کا نظم ، نہ پڑھنے لکھنے کا تصور اور نہ تہذیب و تمدن کی روشنی ، ان حکومتوں کے لئے اس طویل وعریض صحرائی علاقہ پر قابض ہوجانا کچھ مشکل نہیں تھا ؛ لیکن اس کے باوجود وہ اس خطہ کو اس لائق ہی نہیں سمجھتے تھے کہ اس کو اپنی قلمرو میں شامل کریں ۔
دوسری قوم ترکوں کی ہے ، ترکوں کے مختلف قبائل بکھرے ہوئے تھے ، ان میں بھی بہت سے لوگ خانہ بدوش کی زندگی بسر کرتے تھے ، ان کے یہاں بھی قبائلی نظام چلتا تھا ، یہ بھی تہذیب و تمدن سے عاری اور علوم و فنون سے تہی دست تھے ، لوٹ مار اور غارت گری ان کا بنیادی ذریعہ معاش تھا اور ایسے ہی گروہ کی حیثیت سے ان کی پہچان تھی ۔
عربوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ فضل و کرم کا معاملہ کیا کہ اسی صحراء سے نبوت محمدی کا آفتاب طلوع ہوا اور اس کی روشنی نے ذروں کو آفتاب و ماہتاب کا ہمدوش بنادیا ، اونٹوں اور بکریوں کے چرنے والے انسانیت کے ہادی بن گئے اور روم و ایران کی عظیم الشان سلطنتوں نے بھی بالآخر ان کے سامنے سرتسلیم خم کردیا ، انھوںنے علم کے دیپ جلائے ، تہذیب و تمدن کے چراغ روشن کئے اور اپنے علم و فنون کے کمالات کا ایسا نقش ثبت کیا کہ دنیا کی متعدد قوموں نے ان کے نقش پا کو اپنے لئے نقش راہ بنالیا ؛ لہٰذا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ہی سے ان کی تہذیب اور علمی تاریخ کا آغاز ہوا اور پھر وہ ایک ایسی قوم کی حیثیت سے اُبھرے جن کی سلطنت نے ایشیاء ، یورپ اور افریقہ میں فتح کے جھنڈے نصب کئے اوریورپ کے عہد تاریک میں انھوںنے علوم و فنون کے قافلہ کو آگے بڑھایا ۔
تقریباً یہی حال ترکوں کا ہوا ، انھوںنے ایک لٹیرے اور جنگجو قبائل کے مجموعہ کی حیثیت سے ضرور ایک چھوٹے سے علاقہ میں اپنا اقتدار قائم کیا ؛ لیکن ان کا دامن علم و فکر کے سرمایہ سے خالی تھا اور ان کی زندگی تہذیب و تمدن کے جلووں سے محروم تھی ، ان کو عیسائیت کی طرف لانے کے لئے عیسائی بے قرار تھے ؛ لیکن اسلام کی کشش نے انھیں اپنی جانب کھینچ لایا اور زر و زمین کے فاتح قلب و نظر کے مفتوح بن گئے ، دامن اسلام میں آنے کے بعد ان کا ایک نیا عہد شروع ہوا ، وہ جنگجوئی اور خونخواری کے بجائے اخلاق و کردار سے آراستہ ہوئے ، جہالت کے دلدل سے نکل کر علم و فن کے اقلیم میں داخل ہوئے ، روایتی شجاعت و بہادری نے یاوری کی اور وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گئے ، تہذیبی و تمدنی ترقی کے جلوے ان کے ہم رکاب ہوئے اور انھوںنے دنیا کے ایک بڑے خطے میں ایک ایسی عظیم سلطنت قائم کی ، جو تاریخ عالم کی چند بڑی حکومتوں میں سے ایک قرار دی جاسکتی ہے اور جنھوںنے کم و بیش چھ صدیاں ایشیاء ، یورپ اور افریقہ پر اپنی خلافت کا علم لہرایا اور ہندوستان جیسے دُرو دراز ملک میں بھی ان کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا رہا ۔
اس لئے یہ ایک حقیقت ہے کہ روم و ایران کی اپنی ایک تہذیب و تاریخ تھی ، ہندوستان اور چین کا نام بھی علم وحکمت کی دنیا میں روشن تھا ؛ لیکن اسلام سے وابستہ ہونے سے پہلے عربوں اور ترکوں کی نہ کوئی قابل ذکر تہذیب تھی نہ وہ تاریخ میں قابل توجہ سمجھے جاتے تھے ، نہ ان کے یہاں علم و فکر کی جلوہ سامانیاں تھیں ، ان کی ترقی ، شہرت ، رُعب و دبدبہ ، حکومت و اقتدار ، تہذیبی و ثقافتی اقدار ، غرض کہ سب کچھ اسلام کا مرہون منت ہے ، سیدنا حضرت عمرؓ فتح بیت المقدس کے موقع سے بیت المقدس پہنچے اور اس حال میں پہنچے کہ اونٹنی کی سواری ہے ، کپڑوں پر پیوند ہے اورباری کے مطابق غلام اونٹنی پر ہے اور آپ خود اس کی نکیل تھامے ہوئے ہیں ، جب لشکر اسلام کے سپاہیوں نے درخواست کی کہ وہ اچھے کپڑے پہن لیں اور بہتر سواری پر سوار ہوں ؛ تاکہ دشمنوں پر ان کا رُعب طاری ہوسکے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا : اللہ نے ہمیں کپڑوں کے ذریعہ عزت نہیں دی ہے ، اسلام کے ذریعہ عزت دی ہے ، ہماری عزت و عظمت کی اساس اسلام سے وابستگی ہے ، یہ حضرت عمرؓ کی طرف سے اسی حقیقت کا اظہار تھا کہ دنیا کے نقشے پر عربوں کو جو کچھ عزت و وقار کا مقام حاصل ہوا ، وہ محمد عربی ا کی برکت اور اسلام کی نسبت کی وجہ سے ہوا ، بالکل یہی بات ترکوں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے ، اگر خلافت اموی ، خلافت عباسی اور دوسری طرف ترکوں کا عہد حکومت اور خلافت عثمانی کو شمار کیا جائے تو عالم اسلام پر عربوں اور ترکوں کا دورِ خلافت شاید اموی اور عباسی عہد کے مجموعہ سے بھی بڑھ جائے ۔
اس لئے مغربی طاقتوں کو یوں تو تمام ہی مسلمانوں سے ؛ لیکن خاص کر ان دونوں قوموں سے بڑی کدورت رہی ہے اور انھوںنے ان کو کمزور کرنے اور اسلام سے برگشتہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور وہ بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی رہے ، عباسی دور میں انھوںنے سیاسی چپقلش کو بڑھانے کی کوشش کی اور ان نام نہاد ایران نژاد نو مسلموں کو کھڑا کیا ، جنھوںنے فلسفہ یونان کا سہارا لے کر اسلامی معتقدات پر حملہ کرنے کوشش کی اور ایرانیوں اور مجوسیوں کے افکار کو مسلمانوں میں زیر بحث لایا ، تشکیک کی فضا پیدا کی ، وضع حدیث کے ذریعہ پیغمبر اسلام اکی طرف خلاف واقعہ باتیں منسوب کرکے اسلام کی وقعت و اعتبار کو کم کرنے کی کوشش کی ، علم کلام ، تفسیر ، حدیث ، تصوف اور خاص کر سیرت کی کتابوں میں ان ریشہ دوانیوں کو تلاش کیا جاسکتا ہے ۔
لیکن جب تک نظام خلافت قائم رہا ، ایسے عناصر کو کھل کر اسلام کے خلاف کچھ کہنے کی جرأت نہیں ہوئی اور مسلمان حکمرانوں نے اپنے باہمی اختلافات کے باوجود ایسے عناصر کی سرکوبی میں کوتاہی نہیں کی ؛ لیکن جب خلافت عثمانیہ کا آخری دور آیا ، عالم عرب میں ترکوں کے خلاف بغاوت کے جذبات پروان چڑھائے گئے اور دوسری طرف ترکوں کو عربوں سے متنفر کیا گیا اور طرفین کی کوتاہیوں اور غلط فہمیوں نے عداوت کی اس چنگاری کو آتش فشاں بنادیا اور حکومت کی گرفت کمزور ہوتی گئی ، صلیبی اور صہیونی طاقتوں کے اشارہ پر ان لوگوں نے جو مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے تھے اور جن کے نام مسلمانوں کی طرح کے تھے ، کھلے عام جنگ کا بگل بجادیا ، وہ الحاد و دہریت کی دعوت دینے لگے اور انھوںنے کھل کر اسلام کو اپنا نشانہ بنانا شروع کیا ۔ 
عالم عرب میں مصر کو اس کا مرکز بنایا گیا ، مصر و شام اور عراق کی بعث پارٹیاں جو زبردستی حکومت پر مسلط ہوگئیں ، وہ دراصل کمیونسٹ تحریک کا عرب ایڈیشن ہیں اور ان ملکوں کا انتخاب غالباً اس لئے کیا گیا کہ عالم عرب کے بہترین ادباء ، مفکرین اور قیادت کی بھرپور صلاحیت کے حامل افراد اسی خطہ میں پائے جاتے تھے ، خلیجی ممالک اگرچہ پٹرول کی دولت سے مالا مال ہیں ؛ لیکن علمی اور فکری اعتبار سے وہ ان ملکوں کے ہم پلہ نہ پہلے تھے اور نہ اب ہیں ، اور ان علاقوں میں یہودیوں اور عیسائیوں کی ایک آبادی بھی ہمیشہ سے رہی ہے ، یہ حکومتیں الحاد و دہریت کی غذا اپنے ساتھ لے کر آئیں ، انھوںنے تعلیمی اداروں میں اپنی فکر کو پروان چڑھایا اور ہر سطح پر اس بیج کی کاشت کی ، جو انھیں صلیبی اور صہیونی دنیا کی طرف سے ملی تھی ۔
اسی طرح ترکی میں خلافت عثمانیہ کے خلاف جن لوگوں کو اُبھارا گیا اور جنھیں اقتدار کی کلید حوالہ کی گئی ، وہ بھی مغرب کے پروردہ اور ان کی فکر کے گرویدہ لوگ تھے ، جنھیں اسلام سے زیادہ کسی اور چیز سے نفرت نہیں تھی ، ہاں استعماری طاقتوں نے پہلے تو عالم اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے کئے ، سمندر کو قطروں میں اور پہاڑوں کو ذروں میں بانٹ دیا ؛ تاکہ یہ ہمیشہ مغرب کے غلام بن کر رہیں ، ان میں دینی حمیت کو ختم کردیا جائے اور اگر کبھی یہ حمیت بیدار بھی ہو تو انھیں اپنے آقا سے آنکھ ملانے کی ہمت نہ ہو ، اسی سازش کے تحت خلافت عثمانیہ ختم کی گئی اور عالم عرب کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنادیئے گئے اور پھر اس بات کی کوشش کی گئی کہ خود ان چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کے درمیان بھی نفرت کی آگ سلگتی رہے اور وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے دُور ہی رہیں ۔
عالم عرب میں اس کاروانِ الحاد کی سپہ سالاری جمال عبد الناصر کے حوالہ کی گئی اور ترکی میں مصطفی کمال پاشاہ کے ، ان لوگوں کو جتنی نفرت اسلام اور اسلامی شعائر سے تھی ، شاید ہی کسی اور چیز سے رہی ہو ، پھر چوںکہ اسلام دشمن عناصر کو اس بات کا خوب اندازہ ہے کہ اسلام کا نشہ ایسا نہیں ہے ، جو ظلم و جور اور پروپیگنڈہ سے اُتر جائے ، عام مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا جو یقین اور محمد رسول اللہ اسے جو بے پایاں محبت ہے ، اس میں ایسی طاقت ہے کہ مسلمان کوتاہ عمل تو ہوسکتا ہے ؛ لیکن بے عمل اور بد عمل مسلمان کا دل بھی ان جذبات سے خالی نہیں ہوتا ؛ اس لئے ان سب کو اپنی راہ پر لانا دشوار ہے ، اس کے لئے انھوںنے تین ایسے گروہوں کا انتخاب کیا ، جن کو لالچ دے کر خریدا جاسکتا ہے ، جن میں چھپے ہوئے اسلام دشمنوں کو شامل کیا جاسکتا ہے اور جن کے سہارے عوام کی مرضی کے بغیر ان پر تسلط حاصل کیا جاسکتا ہے ، ایک : فوج ، جو ہتھیار کی طاقت سے ان کے ایجنڈے کو نافذ کرے ، دوسرے : عدلیہ ، جو مظلوم پر انصاف کا دروازہ بند کردے اور ظالموں کی ظالمانہ حرکتوں کو سند جواز دیتی رہے ، تیسرے : میڈیا ، جو کچھ اس طرح جھوٹ کو پھیلائے کہ وہ سچ بن جائے اور واقعات کو مسخ کرے کہ مسلمانوں کے اندر پائے جانے والے ایمانی جذبات کروٹ نہ لینے پائیں اور دینی حمیت و غیرت کی چنگاری سلگنے نہ پائے ، ان ہی تینوں ستونوں سے کام لے کر عالم عرب اور ترکی میں ڈکٹیٹروں اور آمروں نے اپنے اقتدار کے قلعہ کو مضبوط کیا اور جس کسی نے ان کے خلاف زبان کھولی ، اس کی آواز بند کردی گئی ۔
اس سارے کھیل میں دو طبقوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے ، ایک سابق استعماری طاقتوں نے ، یا دوسرے لفظوں میں صہیونیوں اور صلیبی دنیا نے ، جنھوںنے پوری فیاضی کے ساتھ اپنے لوگوں کو مادی وسائل فراہم کئے ، ہتھیار دیئے اور پروپیگنڈہ کے ذریعہ ان کو اخلاقی طاقت فراہم کی ، اور اقوام عالم کو گمراہ کیا — اس کے لئے دوسرا اہم کردار ان کالی بھیڑوں نے انجام دیا ، جن کو مسلمانوں کی صفوں میں گھسایا گیا اور اسلام اور اسلام پسند گروہ کے خلاف استعمال کیا گیا ، یہ وہ لوگ ہیں جو ادیبوں ، شاعروں ، اساتذہ ، سرکاری ملازمین ، سماجی کارکنوں کی شکل میں مسلمانوں کی صفوں میں موجود رہتے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ مذہبی طبقے میں کام کرنے کے لئے بظاہر مذہب کا لبادہ بھی اوڑھ لیتے ہیں ، جن کے ذریعہ مذہبی گروہوں میں انتشار پیدا کرنے کا کام انجام دیا جاتا ہے ، یہ وہی گروہ ہے جس کو قرآن مجید میں ’ منافقین ‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
رسول اللہ انے جب دعوتِ اسلام کا کام شروع کیا تو دو گروہوں نے کھل کر آپ اکی مخالفت کی ، انھوںنے اسلام سے اپنی عداوت کو چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ، یہ تھے مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے یہود ، پھر اسی صف میں بعد کو عیسائی بھی شامل ہوگئے ، مشرکین کی مخالفت کا سبب یہ تھا کہ یہ دین ان کے آبائی عقائد و تصورات کے خلاف تھا اور جو روایات پہلے سے جاری رہتی ہیں ، ان کو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا ، اس مخالفت میں کسی قدر بنو اُمیہ اور بنو ہاشم کی قدیم چشمک بھی شامل ہوگئی تھی ، اسی لئے اسلام کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والے زیادہ تر لوگ بنواُمیہ کے تھے ؛ مگر اس کا اصل سبب روایت پرستی ہی تھی ، یہود و نصاریٰ کی مخالفت فکری اختلاف سے زیادہ نسلی تفاخر پر مبنی تھی ، ان کا خیال تھا کہ نبوت بنی اسرائیل میں رہنی چاہئے ، بنو اسماعیل میں کیوں چلی گئی ؟
تیسرا مخالف گروہ منافقین کا تھا ، جب آپ امدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں ان سے سابقہ پیش آیا ؛ چوںکہ مدینہ کی غالب آبادی مسلمان ہوچکی تھی ؛ اس لئے یہ اپنے کفر و انکار کو ظاہر کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے ؛ لیکن یہ اندر سے مسلمان نہیں تھے اور انھوںنے اسلام دشمنی اپنے سینے میں چھپا رکھی تھی ، یہ زیادہ تر یہودیوں کے آلہ کار بن کر کام کرتے تھے اور یہودی سازشوں کے جو نقشے بنائے تھے ، یہ اس میں رنگ بھرتے تھے ، رسول اللہ انے اپنی بے پایاں رحمت و شفقت ، کرامت نفس اور حکمت و مصلحت کے تحت کبھی ان کے حقیقی چہرے سے پردہ نہیں اُٹھایا اور سوائے حضرت حذیفہؓ کے جن کو آپ انے اپنا خصوصی راز دار ( صاحب السِّر) بنایا تھا ، کسی اور سے یہ بات ظاہر نہیں فرمائی کہ مدینہ میں کون کون سے چہرے منافقین کے ہیں ؛ حالاںکہ آپ اکو من جانب اللہ اس کی اطلاع دی گئی تھی ، عہد نبوی میں مختلف غزوات ان ہی منافقین کی ناپاک کوششوں کی وجہ سے ہوئے ، غزوہ اُحد کے موقع سے اہل مکہ کو اُکسانے میں انھوںنے اہم کردار ادا کیا ، غزوۂ خندق میں توخاص طورپر ان کا اہم رول رہا ، غزوہ بنو قریظہ کی نوبت ان ہی کی وجہ سے آئی ، بنوقینقاع ، بنو نضیر اور اہل خیبر سے جو ٹکڑاؤ ہوا ، اس کے پیچھے بھی کہیں نہ کہیں منافقین کا ہاتھ موجود تھا ، اس گروہ نے مدینہ میں اسلام کی برکت سے شیر و شکر ہوجانے والے قبائل اوس و خررج کے درمیان اختلاف کے بیج بونے اور مہاجرین و انصار کے درمیان تصادم پیدا کرنے کی بڑی کوششیں کیں ؛ لیکن رسول اللہ اکے حسن تدبیر اور صحابہ کے بے پایاں اخلاص کی وجہ سے یہ ساری کوششیں ناکام و نامراد ہوگئیں ، اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت اندازی کے پیچھے بھی ان ہی کا ہاتھ تھا ، غرض کہ آپ اکی مدنی زندگی کا کوئی دن ایسا نہیں تھا ، جس میں منافقین نے اپنی ناپاک کوششوں میں کوئی کسر چھوڑی ہو؛ لیکن اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و احسان سے ان کی یہ کوششیں ناکام ہوتی رہیں ۔ 

قرآن مجید میں منافقین کے مزاج ، ان کے طریقۂ کار اور ان کی ناشائستہ حرکتوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور تقریباً پچاس آیتیں منافقین اور ان کے طرز عمل کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، ان کا مزاج یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں : ’’ یُخَادِعُوْنَ اﷲ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا‘‘ (البقرۃ : ۸) ؛ حالاںکہ وہ فساد و انتشار پیدا کرنے پر کمربستہ ہوتے ہیں ؛ لیکن دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ہی اصلاح کے نمائندہ ہیں : ’’قَالُوْا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ‘‘ ( البقرۃ : ۱۱) اہل ایمان کو وہ بے وقوف ، دقیانوس ، قدامت پرست ، انتہا پسند اور لکیر کا فقیر تصور کرتے ہیں : ’’قَالُوْآ اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآئُ‘‘ (البقرۃ : ۱۳) مسلمانوں کے سامنے تو وہ ان سے دوستی کا اظہار کرتے ہیں ؛ لیکن آپس میں ان کی مخالفت کی باتیں کرتے ہیں ، (البقرۃ : ۶) مسلمانوں کی کامیابی سے زیادہ ان کو کوئی چیز رنج و غم میں مبتلا کرنے والی نہیں ہوتی اور مسلمانوں کی تکلیف سے زیادہ ان کو کسی بات سے خوشی نہیں ہوتی : ’’ إِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ الخ ‘‘ ( آل عمران : ۱۲۰) بمقابلہ مسلمانوں کے ان کی دوستی غیرمسلموں کے ساتھ ہوتی ہے ، ( النساء : ۱۳۹) گناہ ، ظلم و زیادتی اور حرام خوری میں وہ آگے آگے رہتے ہیں ، (المائدۃ : ۶۲) وہ ہر وقت فتنہ کے متلاشی ہوتے ہیں ، (التوبۃ : ۴۸) مسلمانوں پر طعن و تشنیع ان کا شیوہ ہوتا ہے ، ( التوبۃ : ۵۷) اسلام کے مزاج کے برعکس وہ لوگوں کو برائی کی طرف بلاتے ہیں اور اچھے کاموں سے روکتے ہیں ، ( التوبۃ : ۶۸) وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کو نقصان پہنچانے والے ادارے ایسے خوشنما ناموں سے قائم کرتے ہیں کہ گویا اسلام کے بہت بڑے خادم ہیں ؛ لیکن ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنا ہوتا ہے : ’’ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیْقاً بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ الخ ‘‘ ( التوبۃ : ۱۰۷) وہ دشمنانِ اسلام کو اُکساتے ہیں کہ ہم ہرحال میں تمہارے ساتھ رہیں گے ، (الحشر : ۱۱) وہ اسلام کے اقرار اور بظاہر مسلمان ہونے کو اپنے لئے ڈھال بناتے ہیں ، ( منافقون : ۲) وہ اپنے چہرے بشرے ، رہن سہن کے اعتبار سے اس معیار پر ، نیز تعلیم اور زبان و بیان کے اعتبار سے اس درجہ کے ہوتے ہیں کہ لوگ ان کو دیکھ کر متاثر و مرعوب ہوجائیں : ’’وَاِذَا رََاَیْتَھُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُھُمْ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِھِمْ‘‘ ( منافقون : ۴) ان کا خاص ہدف یہ ہوتا ہے کہ وہ ملکوں اورزمینوں پر قابض ہوجائیں ؛ کیوںکہ وہ اپنے آپ کو برتر سمجھتے ہیں اور مخلص مسلمانوں کو نکال باہر کریں ؛ کیوںکہ وہ انھیں کمتر اور حقیر سمجھتے ہیں : ’’ لِیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلْ‘‘ ۔ (منافقون : ۸)
اگر غور کریں تو ان اوصاف کے حامل لوگ ہمیشہ مسلم سماج میں موجود رہے ہیں اور انھوںنے مسلمانوں کی شکل میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے ، ایسا نہیں ہے کہ رسول اللہ اکے بعد یہ گروہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا ، قرآن مجید جیسی قیامت تک باقی رہنے والی آسمانی کتاب میں اس تفصیل کے ساتھ منافقین کا ذکر بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ گروہ قیامت تک مختلف صورتوں میں اسلام مخالف حرکتیں کرتا رہے گا ، ایک ایرانی النسل مجوسی کے ہاتھوں سیدنا حضرت عمرؓ کی شہادت ، حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف عبد اللہ بن سبا اور اس کے متبعین کی شورش جس کے نتیجے میں بالآخر ان کی شہادت ہوگئی، حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کی صلح کو ناکام کرنا ، پھر خود حضرت علیؓ کی شہادت اور بنواُمیہ کے عہد میں اہل بیت کے ساتھ روح فرسا مظالم جیسے واقعات کی تہہ میں کہیں نہ کہیں اس گروہ کی فتنہ اندازی اور تفرقہ انگیزی کار فرما نظر آتی ہے ، اور پھر استعماری دور میں مختلف مسلم حکومتوں میں سازشی گروہ کی کارستانیاں ، عالم اسلام میں فوجی بغاوتیں ، جمہوری اداروں کی تباہی ، مغرب کی غلامی کرنے والے آمروں اور بادشاہوں کا تسلط ، اور بہت سی دفعہ عوامی مزاج کو دیکھتے ہوئے مسلم سماج میں تفرقہ پیدا کرنے کے لئے ایسے لوگوں کو کھڑا کرنا ’ جو مذہبی لباس میں عوام کو گمراہ اور خود اسلام کے نام پر انھیں اسلام سے برگشتہ کریں ‘ یہ سب اسی منافقانہ تحریک کا تسلسل ہے ، اُس زمانہ میں عبد اللہ بن اُبی کو منافقین کا سردار کہا جاتا تھا ؛ لیکن ہر دور میں ایسے سردار رہا کئے ہیں جن کا دماغ اسلام مخالف فتنوں کے پیچھے کارفرما ہوتا تھا ، عبد اللہ بن سبا اپنے زمانے کے منافقین کا سردار تھا ، ماضی قریب میں کمیونسٹ ذہن کے حامل فرماں روا اپنے عہد کے سردارانِ منافقین تھے ، اب بھی مصر و شام کے حکمراں اور ان کے ہم مزاج اور شریک کار مفسدین ’جو عالم اسلام میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں ، وہ اس دور کے داعیانِ نفاق ہیں ‘ جیسے ہندوستان کی تاریخ میں اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے ابوالفضل وفیضی جسے علماء سوء کو کھڑا کیا گیا ، اس طرح کے سرکاری لوگ ہر دور میں پیدا ہوئے ہیں ، مصر میں بعض مذہبی جماعتوں اور مذہبی شخصیتوں نے جس طرح سیسی کی تائید کی ، یہاں تک کہ اس کی اُن دستوری ترمیمات کو بھی تقویت پہنچائی ، جن کا مقصد یہ تھا کہ ملک کے مذہب کی حیثیت سے اسلام کو جو اہمیت دی گئی ہے ، اسے ختم کردیا جائے ، ظاہر ہے ایسے حکمرانوں اور ان کی تائید کرنے والے نام نہاد خدا ناترس علماء کے منافق ہونے میں کیا شبہ کیا جاسکتا ہے ؟
ترکی میں جس انقلاب کی کوشش کی گئی ، وہ اسی منافقانہ تحریک کا تسلسل ہے ، امریکہ اور مغربی طاقتوں نے جس طرح افغانستان ، عراق ، یمن ، شام ، لیبیا اور لبنان کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا اور مظلوموں کی مدد کے نام پر ایسے مظالم ڈھائے کہ انسانی تاریخ میں کم ہی اس کی مثال مل سکے گی ، وہ چاہتا ہے کہ وہی کھیل ترکی میں بھی کھیلا جائے اور اس کے لئے وہ مختلف سازشیں کررہا ہے ، جیسے ترکی کے خلاف ہتھیار اُٹھانے والے کردوں کی مدد ، شام کی جنگ میں ترکی کو کھینچنے کی کوشش ، یورپین یونین میں ترکی کو قبول نہیں کرنا ، ترکی کے سیاسی استحکام کو نقصان پہنچانے والی قوتوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انھیں اپنے یہاں پناہ دینا ، جن میں سرفہرست فتح اللہ گولن ہیں ، اسی سلسلہ کی ایک آخری کڑی کے طورپر وہاں بغاوت کرائی گئی ، جس کو خود فوج کے بڑے حصہ نے اور ترکی کی عوام نے ناکام و نامراد کردیا ۔
دراصل مشرق وسطیٰ میں امریکہ و روس نے اپنی پالیسی کے ذریعہ عرب ملکوں کو دوستی کی آڑ کی میں ہمیشہ اپنا محتاج بناکر رکھا اور ان کے بہترین قدرتی وسائل کو لوٹ لوٹ کر کھایا ، جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ، اس کا نتیجہ ہے کہ اپنے بہترین قدرتی وسائل ، محل وقوع کی اہمیت اورافرادی وسائل کی کثرت کے باوجود مسلم ملکوں کا حال یہ ہے کہ وہ چھوٹے سے اسرائیل سے اپنی آنکھیں نہیں ملاسکتے ، اس پورے خطے میں اگر کسی ملک کا اس ذلت آمیز صورت حال سے استثناء کیا جاسکتا ہے تو وہ ترکی ہے ؛ اسی لئے وہ اہل مغرب کی نظر میں بہت کھٹک رہا ہے اور اس کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جارہی ہیں ، اُردوگان سے ان کے عوام کی محبت کا سبب ان کے غیر معمولی کارنامے ہیں ، انھوںنے ایک طرف ترکوں کی خواہش کے مطابق ان کی اسلامی شناخت کو زندہ کیا ، یہاں عربی رسم الخط کی ممانعت تھی ، قرآن کریم کی اشاعت ممنوع تھی ، خواتین کے حجاب استعمال کرنے پر پابندی تھی ، داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں تھی ، ایک زمانہ میں اذان پر بھی پابندی تھی اور عربی زبان میں قرآن مجید کی تلاوت پر بھی ، غرض کہ کمال اتاترک نے اسلامی روایات کو مٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور وہاں فوج و عدلیہ کی ایسی تربیت کی گئی کہ وہ جبراً عوام کو ان کی اسلامی شناخت سے محروم رکھیں ، اردوگان نے اسلامی اقدار کو بازیاب کیا اور ترکی کے باحمیت اور غیرت مند مسلمانوں کو اسلام کی طرف واپس آنے کا موقع دیا ۔
اردوگان کا دوسرا بڑا کارنامہ ملک کی ترقی ہے ، اسی بات نے سیکولر لوگوں کے درمیان بھی ان کو مقبول و محبوب بنادیا ہے ، جب اردوگان نے اقتدار کی زمام اپنے ہاتھ میں لی تو ترکی ورلڈ بینک کا بہت بڑا مقروض تھا ؛ لیکن اب خود اس نے ورلڈ بینک کو پانچ ارب ڈالر قرض دے رکھا ہے اوراس کے خزانہ میں سو ارب ڈالر کا محفوظ ذخیرہ ہے ، اقتصادی اعتبار سے اُس وقت وہ ۱۱۱ ؍ نمبر تھا اور اب وہ ۱۶؍ نمبر پر ہے اور دنیا کے سب سے زیادہ صاحب ثروت ممالک گروپ ۲۰ میں شامل ہے ، ۱۰؍ سال پہلے ایک عام ترکی کی سالانہ آمدنی ساڑھے تین ہزار ڈالر تھی اور اب یہ ۱۱؍ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تین سو فیصد اضافہ ہوا ہے ، ۱۰؍ سال پہلے اس کی برآمدات ۲۳؍ ارب ڈالر تھیں اور اب ۱۵۳؍ ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے ، اس کی صنعتی ترقی بھی حیران کن ہے ، یورپ میں فروخت ہونے والی الیکٹرونک اشیاء میں ہر تیسرا سامان ترکی کا بنایا ہوا ہوتا ہے ، ان کے عہد میں تقریباً پچاس ایئر پورٹ اور ۱۹ ؍ ہزار کلومیٹر سڑکیں بنائی گئی ہیں ، تعلیمی ترقی کے لئے ۱۲۵؍ یونیورسیٹیاں اور ۱۸۹؍ اسکول قائم کئے ہیں اور ایک کلاس میں۲۱ سے زائد طلبہ کے رکھنے کی ممانعت ہے ، سائنسی تحقیق کے لئے ۳۵؍ ہزار لیباریٹریاں بنائی گئی ہیں اور اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک حکومت نے تمام شہریوں کے لئے مفت تعلیم کا انتظام ہے ، ترکی کا عزم ہے کہ ۲۰۲۳ء تک وہ ترکی کو دنیا کی پہلی اقتصادی اور سیاسی قوت بنائے گا اور ۳؍ لاکھ محقق سائنسداں تیار کئے جائیں گے ، ( یہ اعداد و شمار انور غازی کے مضمون ’’ دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ ‘‘ سے ماخوذ ہے )۔
واقعہ یہ ہے کہ رجب طیب اُردوگان کے زیر قیادت ترکی نے ترقی کا جو سفر طے کیا ہے ، وہ ایک مثال ہے ، یہاں تک کہ ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران نے بھی اس کے ترقی کے سفر کو نہیں روکا ، مغرب اپنے پرانے طریقۂ کار کے مطابق ترک عوام کے دینی جذبات کا استحصال کرنے اورانھیں بے وقوف بنانے کے لئے فتح اللہ گولن کا استعمال کررہاہے ، یہ شخص بظاہر ایک صوفی اور مذہبی مسلمان ہے ؛ لیکن اس کی فکر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو انسانی مدد پہنچانے اور اسرائیل جیسے ظالم و غاصب ملک سے ترک تعلق کی بناء پر اُردوگان کا مخالف ہوا اوروہ اسلام و عالم اسلام کے برخلاف صہیونیوں اور صلیبیوں سے ترکی کو قریب کرنے کا داعی ہے ، ترک فوج کی ایک ٹکڑی کی بغاوت کو ناکام کرنے کا سہرا دراصل ترکی عوام کے سرجاتا ہے اور مغربی طاقتوں کو اس بغاوت کی ناکامی پر بڑا افسوس ہے ؛ لیکن مصر میں جمہوری حکومت کی تباہی ، شام میں وقت کے سب سے بڑے سفاک ڈکٹیٹر کی خوں آشامی اور عراق میں مسلمانوں کے ایک گروہ پر ہونے والے مظالم پر انھیں کوئی ملال نہیں ، یہ ترکی ہی ہے جہاں عدنان مندریس کی منتخب حکومت کو ۱۹۶۰ ء میں ایک بددین جنرل کے ذریعہ ختم کردیا گیا ، مندریس نے جام شہادت نوش کیا اور ایک نئے ڈکٹیٹر کنعان کے اقتدار کو پورے مغرب نے تسلیم کرلیا ، حقیقت یہ ہے کہ اُردوگان صرف اپنی ترک عوام ہی کے دل میںنہیں ہیں ؛ بلکہ وہ پوری ملت اسلامیہ کے دلوں کا سرور اور آنکھوں کا نور بن چکے ہیں ، دُعا ہے کہ جیسے گذشتہ کئی مواقع پر انھوںنے ایمانی فراست اور حکمت سے کام لے کر فتنوں کا مقابلہ کیا ہے ، اب بھی وہ اسی طریقہ کو اختیار کریں اور اعتدال ، تدریج ، حزب مخالف ، عوام اور فوج کو اعتماد میں لیتے ہوئے اپنے قدم آگے بڑھائیں اور وہ قت آئے کہ ان کے ذریعہ خلافت عثمانیہ کی عظمت رفتہ واپس آئے اور ملت ِاسلامیہ کا سویا ہوا مقدر بیدار ہوجائے ۔
اس واقعہ سے مسلمانوں کو جو سبق ملتا ہے ، اس میں چند باتیں بہت اہم ہیں :
٭ اول یہ کہ اگر تعلق مع اللہ ہو اور مخلوق کے ساتھ بھی محبت اور خدمت کا معاملہ رکھا جائے تو کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے ، یہی اسلامی تاریخ رہی ہے ، مثلاً خلافت راشدہ اسلام کا عہد زریں ہے ، اس دور میں جس چیز نے مسلمانوں کو ایشیاء سے یورپ اور افریقہ تک پہنچادیا ، وہ تعلق مع اللہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف ، ہمدردی ، شہری ترقی کی طرف توجہ ، تعلیم کی ترویج اور غریبوں و کمزوروں کی مدد تھی ، حضرت عمرؓ کا دور اس کی بہترین مثال ہے ؛ لیکن آج کل مسلم حکمرانوں سے لے کر عام مسلمانوں تک ہر طبقہ میں یہ کوتاہی پیدا ہوگئی ہے کہ اولاً تو انھوںنے ترقی کے لئے مادی وسائل کے استعمال کو کافی سمجھ لیا ہے اور ان ہی پر محنت کی جاتی ہے ، انھیں اس کا یقین نہیں رہا کہ فتح و نصرت کی اصل کلید ، اللہ کے ساتھ تعلق ہے ، دوسری طرف جو لوگ دین دار ہیں اور مذہبی قیادت کے مقام پر فائز ہیں وہ عوام کی خدمت پر کوئی توجہ نہیں دیتے ، وہ اعمال نبوت پر تو کسی حد تک عمل پیرا ہیں ، مگر اخلاق نبوت سے بیگانہ ہیں ۔ 
٭ دوسرے : مسلمانوں کو ہمیشہ اس بات پر نظر رکھنی چاہئے کہ ایسا نہیں ہے کہ منافقین کا طبقہ دنیا سے ناپید ہوگیا ہے ؛ بلکہ یہ ہر زمانہ میں نام اور طریقۂ کار کی تبدیلی کے ساتھ موجود رہے ہیں اور آج بھی ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھاتے ہیں اور مسلمانوں میں انتشار و بکھراؤ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، یہ بہت سی دفعہ دیندار مسلمانوں کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں اور دین کے نام پر بے دینی کی دعوت دیتے ہیں ، یہ مسلم ممالک میں بھی ہوتے ہیں اور مسلم اقلیت ممالک میں بھی ، مسلمانوں کو ہمیشہ ایسے دوست نما دشمن سے چوکنا رہنا چاہئے ، یہ دینی کاموں کے ذمہ دار بھی ہوسکتے ہیں ، امام و خطیب کی صورت میں بھی سامنے آسکتے ہیں ، پیرِ طریقت کا حلیہ بھی اختیار کرسکتے ہیں ، آج کل حدیث کا انکار ، مسلمانوں کی تکفیر ، صحابہ کی بے احترامی ، قانون شریعت کی مخالفت ، دین کے مسلمات کا تمسخر ، مسیحیت ومہدویت کے دعوے ، جغرافیائی ، لسانی اور نسلی بنیادوں پر مسلمانوں کے درمیان نفرت کو ہوا دینا ، علماء و مشائخ کا استہزاء ، مدارس اور خانقاہوں کی بے وقعتی وغیرہ کے فتنے جو اُٹھ رہے ہیں ، یہ سب نفاق ہی کی مختلف شکلیں ہیں ؛ اس لئے یاد رکھنا چاہئے کہ اس گروہ کے دو بنیادی مشن سے ان کو پہچانا جاسکتا ہے ، ایک : مسلمانوں میں شکوک و شبہات کے بیج بونا ، دوسرے : ان میں اختلاف و انتشار کو ہوا دینا ، نہ جانے مسلمانوں کے درمیان آج بھی کتنے عبداللہ بن سبا ، ابوالفضل وفیضی اور فتح اللہ گولن چھپے ہوئے ہیں ؟ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ چوکنا رہیں ، فراست ایمانی سے کام لیں ، اپنے شعور کو بیدار رکھیں اور کسی دام ہم رنگ زمین بچھانے والے شکاری کے جال میں نہ پھنس جائیں ۔
٭ تیسرے : مسلمانوں کو اگر غلبہ اور کامیابی حاصل ہو اور وہ فتح سے ہمکنار ہوں تو ان کا رویہ وہی ہونا چاہئے جو رسول اللہ ا کا مدینہ کے منافقین اور فتح مکہ کے موقع پر مکہ کے مشرکین کے ساتھ تھا ، یعنی عفو و درگذر اور خفیہ شرپسند عناصر کے بارے میں چوکسی ، اس وقت ترکی میں باغیوں کے خلاف جس وسیع پیمانہ پر داروگیر ہورہی ہے ، اگر اس میں چوکسی اور بیدار مغزی سے کام لیتے ہوئے عفو و درگذر کا راستہ اختیار کیا جاتا ، جو سازش کے دماغ ہیں ، ان کے خلاف تو سخت کارروائی کی جاتی اور جو ان کے متبعین ہیں ، ان کی فکری تربیت پر توجہ دی جاتی ، ان کے لئے مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا اور نازک و حساس عہدوں سے ہٹاکر ان سے کام لیا جاتا ، تو یہ زیادہ بہتر بھی ہوتا اور اُسوۂ نبوی اسے ہم آہنگ طریقہ بھی ، اور لوگ محسوس کرتے کہ ایک دیندار ، اسلام پسند ، غلبہ حاصل کرنے والے قائد اور ایک بد دین ڈکٹیٹر اور آمر کے درمیان اخلاق و کردار کا کیا فرق ہوتا ہے ؟ اگر ایسا نہ ہوتو آہستہ آہستہ ان مخالفین کا ایک گروپ قائم ہوجاتا ہے ، وہ بیرونی دشمنوں سے اپنے روابط استوار کرلیتے ہیں اور زخم کھائے ہوئے سانپ کی طرح زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں ۔

 

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019