مطالعہ ماہنامہ النخیل رمضان 1440

[صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی مرحوم پاکستان کے مشہور ادیب و اہل قلم تھے،’’ قلم برداشتہ‘‘ کے عنوان سے ان کا کالم مقبول خاص و عام تھا، انہوں نے ’’مطالعہ ‘‘ کے عنوان سے ایک عمدہ کالم لکھا ،جو نذر قارئین ہے۔]

بیسیوں احباب ذاتی طور پر مل کر اور درجنوں لوگ خطوط لکھ کر مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ اچھی تحریر کا فن اور خوب صورت تقریر کا ہنر کیسے ہاتھ آتا ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں تحریر اور تقریر کے شعبے میں دلچسپی ہوتی ہے، یہ دلچسپی بھی آج کے دور میں غنیمت ہے، ورنہ آج کے نوجوان کو کرکٹ اور پاپ میوزک سے فرصت کیوں؟

ان کا متعین سوال یہ ہوتا ہے کہ تحریر و تقریر میں حسن پیدا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ میرا اس سلسلے میں ہمیشہ یہی جواب رہا ہے کہ ’’مطالعہ‘‘ مطالعہ کے بغیر لکھنے میں نکھار آتا ہے نہ بولنے میں سنوار، اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ کتنا، کس طرح کا اور کتنی دیر مطالعہ کرنا چاہیے؟ میرے نزدیک ان تین سوالوں کی تین ہی جوابات ہیں’’کتنا مطالعہ‘‘ کے جواب میں عرض کروں گا کہ’’ذوق مطالعہ‘‘ اصل بات ہے، اگر یہ پیدا ہو جائے تو نہ دماغ تھکتا ہے اور نہ دل بھرتا ہے، اچھی کتاب سے لے کر کاغذ کی اس پڑیا تک جس میں آدمی ہلدی مرچ لے کر آتا ہے سبھی ایک نظر دیکھنے کو جی چاہتا ہے، اگر ذوق نہ ہو تو کتاب سامنے بھی دھری ہو تو یا اباسی آنے لگتی ہے یا تھکن طاری ہو جاتی ہے یا سر بوجھل محسوس ہونے لگتا ہے، جس طرح دیوار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے بھی مشورہ کر لینا چاہیے، اسی طرح کاغذ کا ہر ٹکڑا ایک نظر کا ضرور مستحق ہوتا ہے، ذوق مطالعہ کی یہ قطعاً دلیل نہیں کہ آراستہ پیراستہ کمرہ ہو، چمک دار جلد کی کتابیں ہوں، چار رنگی طباعت ہو اور آرام دہ کرسی اور صاف شفاف میز ہو، جنہیں قدرت نے ذوق مطالعہ سے نوازا ہے، وہ گلی میں لگے بلب کی روشنی میں بھی اس کی تسکین کر لیتے ہیں، جنہیں مطالعہ سے وحشت ہو وہ ڈرائنگ روم کے قیمتی فانوس سے بھی کوئی استفادہ نہیں کر پاتے۔

 اگلا سوال ہے کہ’’کس طرح کا مطالعہ کرنا چاہیے؟‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ’’وسعت مطالعہ‘‘ موضوع اور کتاب کے انتخاب کا مرحلہ بہت دیر بعد آتا ہے، پہلے ہرنوع کی کتاب پڑھنی چاہیے، اخباری مضامین سے لے کر ٹھوس تحقیقی مواد تک سبھی کا مطالعہ ناگزیر ہے، ایک مدت بعد یہ ذوق پیدا ہوتا ہے کہ کتاب دیکھ کر یا سونگھ کر اس کا پورا متن سمجھ میں آجائے، ابتدائی مراحل میں رطب و یابس کی کوئی قید نہیں رکھنی چاہیے، مطالعہ میں وسعت آئے گی تو انتخاب کی نوبت آ سکے گی، درجنوں کتابوں میں سے ایک آدھ کا مواد ذہن میں اترے گا، ڈائنگ ٹیبل پر بہت سے کھانے سجے ہوں گے تو ایک دو پر دل آئے، اگر کھانا ہی ایک ہو تو انتخاب کیسا؟

تیسرا استفسار ہوتا ہے کہ کتنی دیر اور کب تک مطالعہ جاری رکھنا چاہیے؟ میں کہوں گا عمر بھر! وہ شخص کبھی عالم نہیں ہو سکتا جو زندگی کے کسی مرحلے میں مطالعہ سے خود کو بے نیاز سمجھ لے، آج جو گرد و پیش میں بہت سے’’علامہ‘‘ نظر آتے ہیں وہ ماشااللہ زیادہ تر ’’ علم لدنی‘‘ پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے دورانِ گفتگو ان کے ایک جملہ بولنے سے اندازہ ہو جاتا ہے تو جناب والا علامہ کتنے ہیں اور’’الاہمہ‘‘ کس قدر؟

ایک سچا عالم بستر مرگ پر بھی کتاب سے مستغنی نہیں ہوتا، آکسیجن سے کہیں زیادہ مطالعہ اس کی زندگی کی ضمانت ہوتا ہے، ہلدی کی گانٹھ ملنے پر کوئی چاہے تو پنسار بننے کا دعویٰ کر سکتا ہے مگر درجن ڈیڑھ کتابیں پڑھ اور سال چھ مہینے مطالعہ کر لینے سے کوئی اچھا ادیب اور اچھا خطیب نہیں بن سکتا، امام غزالیؒ اڑتیس برس کی عمر میں جامعہ نظامیہ کے وائس چانسلر کے عہدے سے الگ ہو کر غور و فکر اور مطالعے کے لیے شہر سے نکل کھڑے ہوئے، دس سال بعد واپس ہوئے، پچپن سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی، درمیان کے سات سال میں ان کے قلم سے’’تہافت الفلاسفہ‘‘ اور’’المنقذ من الضلال‘‘ جیسی کتابیں نکلیں جنہوں نے فلاسفۂ یونان کا بھیجا ہلا دیا، گویا غزالیؒ جیسا شخص رئیس الجامعہ بننے کے بعد بھی مطالعے کا محتاج اور تلاشِ حق کا آرزو مند رہا۔ میں اگر یہ دعویٰ کروں تو بہت زیادہ جھوٹا نہیں ہوگا کہ کم از کم اردو لٹریچر میں خوب صورت لکھنے والے لوگ خواہ وہ نثرنگار ہوں یا شاعر، زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہیں مکتبی تعلیم تو واجبی سی نصیب ہوئی، مگر مطالعہ کے ذوق، وسعت اور تسلسل نے ان کے ذہن کو مالا مال، زبان کو پاکیزہ اور قلم کو شستہ اور رواں دواں بنا دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد آخر کس دارالعلوم اور یونی ورسٹی کے فارغ التحصیل تھے؟ مگر ان کا اسلوبِ نگارش بیسیوں اہل قلم کا آستانہ بنا، جہاں وہ جھکتے رہے۔

خواجہ حسن نظامیؒ بھلا کہاں کے ڈگری ہولڈر تھے کہ علامہ اقبالؒ کو کہنا پڑا’’مجھے اگر خواجہ حسن نظامی جیسی نثر لکھنے پر قدرت حاصل ہوتی تو میں کبھی شاعری کو ذریعہ اظہار نہ بناتا۔‘‘ یہی حال شورش کاشمیری کا ہے، نہ اسکول گئے، نہ مدرسہ دیکھا، مگر ان کی شاعری ہو یا نثر، کہنا پڑتا ہے:

اٹھے تو بجلی پناہ مانگے، گرے تو خانہ خراب کردے

احسان دانش مرحوم بھی عمر بھر مزدور ہی رہے، کبھی کانجی ہاؤس کے چوکیدار، کبھی مالی، کبھی ماشکی، مگر ان کی شعری و نثری کاوشوں اور خوب صورتی دیکھ کر بے اختیار منہ سے نکلتا ہے:

یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

مرحوم غالبا پرائمری پاس بھی نہیں تھے، مگر شورش ان کی شاگردی پر عمر بھر نازاں رہے اور اپنے کلام کی اصلاح لیتے رہے۔

ماہرالقادری مرحوم جیسا زبان کی ثقاہت اور لطافت کا نمائندہ شخص بھی کوئی اندرون یا بیرون ملک جامعہ کا طالب علم نہیں رہا لیکن ذوقِ مطالعہ اور ممارستِ فکر نے ان کے قلم کو وہ جولانی بخشی کے دقیق سے دقیق موضوعات ان کے ہاتھ میں پہنچ کر پانی بن جاتے تھے، کس کس کا نام لیا جائے؟ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اسکول، کالج یا دارالعلوم کی تعلیم ضروری نہیں، بلکہ مدعا یہ ہے کہ اصل چیز ڈگری نہیں، پاکیزہ فکری ہے۔

میرا جو دوست یہ چاہتا ہے کہ اس کے قلب میں ذائقہ اور اس کی زبان میں رونق آ جائے، اسے چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرے، دینیات، تاریخ، فلسفہ، ادب، سوانح، عمرانیات، سیاسیات، عصریات جو کچھ میسر ہو، اسے نعمت سمجھے، ایک وقت آئے گا، اسے قدرت حق و باطل میں تمیز بھی عطا کر دے گی، جھوٹ سچ میں امتیاز کا ملکہ بھی پیدا ہو جائے گا، وہ ثقاہت اور ظرافت میں فرق بھی کرسکے گا اور معیاری اور بازاری لٹریچر میں حدفاصل بھی قائم کر سکے گا، بلکہ یہ کہو تو تعلّی نہ سمجھا جائے کے وقت آنے پر کتاب پڑھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، کتاب کے لفظ و حرف خود بولنے لگ جائیں گے کہ ہم یہ ہیں اور ہمارا مفہوم یہ ہے، جس طرح عشق بعد میں مچلتا ہے اور مذاق عاشقی پہلے پیدا ہوتا ہے، اسی طرح علم بعد میں آتا ہے، ذوق پہلے ابھرتا ہے۔

٭…٭…٭

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019