صدقۃ الفطر — کچھ قابل توجہ پہلو !

شریعت اسلامی کا مزاج یہ ہے کہ جب بھی کوئی خوشی اور مسرت کا موقع آئے تو صرف امیروں کے دولت کدہ ہی میں خوشی کا چراغ نہ جلے ؛ بلکہ غریبوں اور ناداروں کے غربت کدہ میں بھی اس کی روشنی پہنچے ؛ اسی لئے خوش کے موقع پر سماج کے غریب افراد کو یاد رکھنے کی تلقین کی گئی ہے ، بقرعید کی قربانی میں ایک تہائی غریبوں کا حق قرار دیا گیا ، ولیمہ کے بارے میں آپ انے فرمایا کہ بدترین ولیمہ وہ ہے ، جس میں سماج کے امیر لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نظر انداز کردیا جائے ، اسی طرح عید الفطر کی خوشی میں غرباء کو شریک کرنے کے لئے صدقۃ الفطر کا نظام مقرر کیا گیا ۔
چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے مرد و عورت پر صدقۃ الفطر فرض کیا ہے ، جو ایک صاع کھجور یا جَو ہونا چاہئے ، ( بخاری ، حدیث نمبر : ۱۵۱۱) صحابہ اہتمام سے صدقۃ الفطر ادا کیا کرتے تھے ، ( بخاری ، عن ابی سعید خدری ، حدیث نمبر : ۱۵۰۶) زکوٰۃ ہی کی طرح صدقۃ الفطر نکالنے کا حکم ہجرت کے دوسرے سال آیا ، اس کا ایک مقصد غرباء کی مدد کرنا ہے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ روزوں میں جو کمی اور کوتاہی رہ گئی ہو ، اِس صدقہ کے ذریعہ اس کی تلافی ہوجائے ۔
رمضان المبارک شروع ہونے کے بعد کبھی بھی صدقۃ الفطر نکالا جاسکتا ہے ؛ البتہ عید سے پہلے نکال دینا بہتر ہے ؛ تاکہ غریب مسلمانوں کو عید کا سامان فراہم کرنے میں سہولت ہو ، اگرچہ بعض اہل علم نے رمضان سے پہلے بھی صدقۃ الفطر نکالنے کی اجازت دی ہے ؛ لیکن جس بات کو ترجیح ہے ، وہ یہ ہے کہ رمضان شروع ہونے بعد صدقۃ الفطر مستحق کے حوالہ کیا جائے ؛ کیوںکہ عید الفطر اور صدقۃ الفطر کا رمضان سے گہرا تعلق ہے : ’’لکن المفتی بہ اشتراط دخول رمضان ، فلا یجوز تقدیمھا عن رمضان‘‘ ( الفقہ الاسلامی وأدلتہ : ۳؍۲۰۴۱ ، المبحث الثانی ، وقت وجوب زکوٰۃ الفطر وحکم تعجیلھا) لیکن اگر رمضان میں ادا نہیں کیا تو عید کے دن نماز عید سے پہلے تو ادا کرہی دینا چاہئے ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے اس کو سنت قرار دیا ہے کہ جب عید کی نماز کے لئے نکلے تو کچھ کھاکر نکلے اور نماز سے پہلے صدقۃ الفطر ادا کردے ۔ 
( سنن دار قطنی ، حدیث نمبر : ۱۷۰۹)
صدقۃ الفطر مالداروں پر واجب ہے اور غرباء اس کا مصرف ہیں ، اس میں مال دار سے مراد وہ لوگ ہیں ، جن کے پاس اپنی بنیادی ضروریات — مکان ، کپڑے ، گھر کے ضروری سامان ، استعمال کی سواری وغیرہ — کے علاوہ کوئی بھی چیز نصاب زکوٰۃ کی قیمت کی موجود ہو ، زکوٰۃ اور صدقۃ الفطر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ کچھ مخصوص مالوں ہی میں واجب ہوتی ہے ، یعنی : سونا ، چاندی ، روپے ، مالِ تجارت ، بعض جانور اور زرعی پیداوار ، اگر کسی کے پاس ڈھیر ساری زمینیں ہوں ، کئی مکانات ہوں ؛ مگر بیچنے کے لئے نہیں رکھے گئے ہوں تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ؛ لیکن صدقۃ الفطر کے لئے مخصوص اموال کا ہونا ضروری نہیں ، کوئی بھی مال نصابِ زکوٰۃ کی قیمت کا موجود ہوتو صدقۃ الفطر واجب ہوجائے گا ؛ ( فتح القدیر : ۲؍۲۹) کیوںکہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے پاس دولت نہ ہو اس پر صدقہ واجب نہیں : ’’ لا صدقۃ الا عن ظھر غنی‘‘ ( نصب الرایہ : ۲؍۴۱۱) اور شریعت نے دولت مندی کا معیار نصابِ زکوٰۃ کے بقدر مال کو قرار دیا ہے ۔
صدقۃ الفطر اپنی طرف سے اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے ؛ بالغ لڑکے ، لڑکیاں ، بیوی ، اس کے زیر پرورش چھوٹے بھائی بہن اور والدین کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کرنا واجب نہیں ہے ؛ لیکن ہندوستانی سماج میں بیوی اور شوہر کا مال ملا جلا ہوتا ہے اوربالغ لڑکے جب تک ماں باپ کی کفالت میں ہوتے ہیں ، اور تعلیم وغیرہ میں مشغول ہوتے ہیں ، تو ان کی بھی ساری ذمہ داریاں گھر کا ذمہ دار خود انجام دیتا ہے ، یہی حال اُن چھوٹے بھائی ، بہن اور والدین کا ہے ، جن کی کفالت گھر کا کوئی مرد انجام دیتا ہو ؛ اس لئے بہتر ہے کہ ان سب کی طرف سے بھی صدقۃ الفطر ادا کردیا جائے ، جس غلام کو اپنی خدمت کے لئے رکھا جائے نہ کہ بیچنے کے ارادہ سے اس کا صدقۃ الفطر نکالنا بھی مالک پر واجب قرار دیا گیا ہے ، موجودہ دور میں بعض دفعہ کسی لڑکے یا لڑکی کو گھر کی خدمت کے لئے رکھا جاتا ہے ، یہ اگرچہ غلام نہیں ہوتے ، خادم ہوتے ہیں ؛ لیکن یہ انسان کو قریب قریب وہی سہولتیں بہم پہنچاتے ہیں ، جو غلام پہنچایا کرتے تھے ؛ اس لئے ان کی طرف سے بھی صدقۃ الفطر ادا کردینا بہتر معلوم ہوتا ہے ؛ کیوںکہ چاہے یہ واجب نہ ہو ؛ لیکن باعث اجر و ثواب تو ہوگا ہی ۔
صدقۃ الفطر ہر اس شخص کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے ، جو عید الفطر کی صبح میں موجود ہو ، اگر اسی شب کو بچہ پیدا ہوتو اس کا بھی صدقۃ الفطر واجب ہے — صدقۃ الفطر کے مصارف تقریباً وہی ہیں جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں ، جن لوگوں کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی ، ان کو صدقۃ الفطر بھی نہیں دیا جاسکتا ہے ؛ البتہ زکوٰۃ تو غیر مسلم کو نہیں دی جاسکتی ، صدقۃ الفطر ان کو بھی دیا جاسکتا ہے ، (بدائع الصنائع : ۲؍۴۹ ، کتاب الزکوٰۃ ، فصل الذی یرجع إلیٰ المؤدی إلیہ) ملک کے موجودہ حالات میں جب مذہبی منافرت شعلہ سے آتش فشاں بنتی جارہی ہے ، مسلمانوں کو الگ تھلگ کیا جارہا ہے اور یہ تصور دیا جارہا ہے کہ مسلمان صرف اپنے لئے سوچتا ہے ، دوسروں کے لئے اس کے دل میں کوئی جگہ نہیں ہے — حالاںکہ یہ غلط ہے — تو اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے اگر مسلمان غیر مسلم پڑوسیوں کو بھی صدقۃ الفطر دینے کا اہتمام کریں تو یہ ایک بہتر قدم ہوگا ، اور اس سے یہ پیغام جائے گا کہ مسلمان نہ صرف سماجی جذبہ سے ؛ بلکہ اپنے مذہبی حکم کے تحت برادران وطن کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھاتا ہے اور بلا امتیاز مذہب تمام لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ اختیار کرتا ہے ۔
اصل میں صدقۃ الفطر سے متعلق اس وقت جو بات عرض کرنی مقصود ہے ، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ا نے صدقۃ الفطر کے لئے چند چیزوں کو معیار بنایا ہے : کھجور ، جَو ، کشمش ، پنیر ، ( نیل الاوطار ، عن ابی سعید خدری : ۴؍۱۷۹) ان میں سے کھجور ، جو ، کشمش اور کھانے کی دوسری چیزوں کے بارے میں اتفاق ہے کہ قدیم پیمانے کے لحاظ سے ایک صاع نکالنا واجب ہے ، گیہوں کے سلسلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ، امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نصف صاع گیہوں کا نکالنا کافی ہے ؛ کیوںکہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت میں ایک صاع کھجور یا جَو اور نصف صاع گیہوں کا تذکرہ آیا ہے ، ( مصنف ابن ابی شیبہ ، عن ابن عباسؓ ، حدیث نمبر : ۱۰۳۳۴) ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کی حدیث میں بھی یہی مضمون آیا ہے ، دیگر فقہاء امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک گیہوں میں بھی صدقۃ الفطر ایک صاع ہی واجب ہوتا ہے ؛ کیوںکہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ نے عید الفطر سے ایک دو دنوں پہلے ہی صدقۃ الفطر ادا کرنے کی تلقین فرمائی اور اس میں ایک صاع گیہوں کا تذکرہ کیا ، ( نصب الرایہ : ۲؍۴۰۶) اور حضرت ابوسعید خدریؓ سے منقول ہے کہ کوئی بھی کھانے کی چیز ہو ، ہم لوگ اس میں ایک صاع صدقۃ الفطر کے طورپر نکالا کرتے تھے ۔ ( بخاری ، حدیث نمبر : ۱۵۰۶)
پھر احناف کے بشمول بہت سے فقہاء نے صدقۃ الفطر میں غلہ کے بجائے اس کی قیمت نکالنے کی اجازت دی ہے ؛ کیوںکہ صدقۃ الفطر کا مقصد غرباء کی ضرورت پورا کرنا ہے ، اور یہ ضرورت بمقابلہ سامان کے پیسوں سے زیادہ بہتر طورپر پوری ہوسکتی ہے اور ہندوستان میں اسی طورپر صدقۃ الفطر ادا کرنے کا رواج ہے ، معمولی آمدنی کے حامل لوگ ہوں یا بڑے صاحب ثروت ہوں ، سبھی حضرات پونے دو کیلو گیہوں بطور صدقۃ الفطر کے ادا کردیتے ہیں ، اب اس میں دو باتیں قابل توجہ ہیں : اول یہ کہ پونے دو کیلو گیہوں احناف کے نزدیک کافی ہے ، دوسرے فقہاء کے نزدیک کافی نہیں ، ان کے یہاں ساڑھے تین کیلو گیہوں سے صدقۃ الفطر ادا ہوگا ، جن مسائل میں اختلاف ہو ، ان میں ایک اہم اُصول یہ ہے کہ احتیاط کے پہلو کو اختیار کیا جائے اور ایسا عمل کیا جائے جو تمام دلیلوں اور فقہی رایوں کے مطابق درست ہوجائے ، تو اگر ساڑھے تین کیلو گیہوں کے لحاظ سے فطرہ ادا کیا جائے تو یہ زیادہ محتاط عمل ہوگا ، اور تمام فقہاء کے اقوال پر صدقۃ الفطر ادا ہوجائے گا ۔
دوسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ رسول اللہ ا نے جیسے گیہوں کو صدقۃ الفطر کا معیار مقرر کیا ہے ، اسی طرح جَو ، کھجور ، کشمش اور پنیر کو بھی صدقۃ الفطر کے لئے معیار بنایا ہے ، ( بخاری ، حدیث نمبر : ۱۵۰۶) عہد نبوی میں ان تمام چیزوں میں سب سے قیمتی شئے گیہوں تھی ؛ کیوںکہ حجاز میں گیہوں کی پیداوار نہیں ہوتی تھی ، گیہوں شام یا یمن سے امپورٹ کیا جاتا تھا ؛ اس لئے جن غذائی اشیا کو صدقۃ الفطر کا معیار بنایا گیا تھا ، ان میں گیہوں ہی سب سے قیمتی چیز تھی ؛ اس لئے دوسری چیزیں ایک صاع کی مقدار میں واجب قرار دی گئیں اور گیہوں نصف صاع ، اب صورت حال یہ ہے کہ اگر کشمش کے لحاظ سے صدقۃ الفطر ادا کیا جائے تو اس وقت اوسط درجے کی کشمش دو سو روپئے ہے اور اوسط درجے کی کھجور بھی اسی قیمت میں ہے ، اس لحاظ سے ایک شخص کا صدقۃ الفطر سات سو ہوتا ہے اور اگر ان حدیثوں اور زیادہ تر فقہاء کے اقوال کی بنیاد پر ایک صاع گیہوں صدقۃ الفطر کے طورپر نکالا جائے تو فی کس ساڑھے تین کیلو گیہوں ہوجاتا ہے ؛ اس لئے اگرچہ پونے دو کیلو گیہوں سے فطرہ ادا ہوجاتا ہے ؛ لیکن تمام لوگوں کا اسی پر قانع ہوجانا شریعت کی روح کے خلاف ہے ۔
اس لئے اس حقیر کا مشورہ ہے کہ جن لوگوں پر صدقۃ الفطر واجب ہے ، ان میں جو بڑے تاجر اور اصحابِ ثروت ہیں ، ان کو کھجور اور کشمش کی قیمت سے صدقۃ الفطر ادا کرنا چاہئے ، جو لوگ معاشی لحاظ سے ان سے کم درجے کے ہوں ، ان کو پونے دو کیلو کے بجائے ساڑھے تین کیلو گیہوں کے لحاظ سے صدقۃ الفطر ادا کرنا چاہئے ؛ تاکہ تمام حدیثوں پر عمل ہوجائے ، اور جو معاشی اعتبار سے اُن سے بھی کم درجہ کے ہوں ، وہ پونے دو کیلو گیہوں کے لحاظ سے صدقۃ الفطر ادا کریں ، اس میں غرباء کا فائدہ ہے اور اس طرح رسول اللہ ا کی تمام سنتوں پر عمل ہوجائے گا اور اگر گیہوں ہی کے ذریعہ صدقہ ادا کرنا ہو تو گیہوں کی قیمت کے بجائے بہتر ہے کہ خود گیہوں مستحقین کو دے دیں ؛ کیوںکہ اگر پونے دو کیلو گیہوں کی قیمت بطور فطرہ ادا کی جائے تو وہ حضور ا کے قائم کئے ہوئے دوسرے معیارات — کشمش اور کھجور — کے اعتبار سے نامکمل ہوگا ، واللہ اعلم و باللہ التوفیق ۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019