مسلم مینجمنٹ تعلیمی ادارے (۱)

اللہ کا شکر ہے کہ گذشتہ دو دہوں میں مسلمانوں نے درسگاہوں کے قیام پر خصوصی توجہ دی ہے اور ملک کے اکثر علاقوں میں مسلمانوں نے اپنی درسگاہیں قائم کی ہیں، پرائمری اور میڈل اسکول سے لے کر کالجز اور اعلیٰ فنی تعلیم کے بہت سے ادارے ہیں ، جو اس وقت مسلم انتظامیہ کے تحت کام کر رہے ہیں، ہندوستان کے جن شہروں میں اس اہم کام کی طرف زیادہ توجہ دی گئی ہے ، ان میں ایک ہمارا شہر ’’ حیدرآباد ‘‘ بھی ہے، یہ نہایت ہی مبارک اور مسعود قدم ہے اور انشاء اللہ مستقبل میں اس کے بڑے مفید نتائج ظاہر ہونگے، عام طور پر لوگ اعلیٰ فنی تعلیم کے اداروں ہی کو اہم سمجھتے ہیں اور اہمیت دیتے ہیں؛ لیکن شاید ایسا سمجھنا درست نہیں، اگر ہم اپنے بچوں کو پرائمری سطح سے ہائی اسکول کی سطح تک بہتر تعلیم نہ دلا سکیں، اورمعیاری تعلیم کا اہتمام نہ کر پائیں ، تو میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں کا قیام چنداں مفید نہ ہوگا ؛ کیوں کہ ہمارے بچے مقابلاتی امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے، نتیجہ یہ ہوگا کہ محنت آپ کریں گے، پیسے آپ لگائیں گے؛ لیکن خود آپ کے بچے ان درسگاہوں میں پڑھنے سے محروم رہیں گے ؛ اس لئے یہ اولین ضرورت ہے کہ ہائی اسکول سطح تک تعلیم پر ہم بھر پور توجہ دیں، یہی زمانہ ہے جس میں ذہن و فکر کی تعمیر ہوتی ہے اورتعلیم کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں، اگراس مرحلہ پر توجہ نہ دی گئی، تو وہ طالب علم ہمیشہ کمزور اور پست ہمتی کا شکار ہی رہے گا کہ :
خشت اول چوں نہد معمار کج
تاثریا می رود دیوار کج
لیکن سوال یہ ہے کہ مسلمان انتظامیہ کے تحت مستقل درسگاہوں کے قیام کا مقصد سرکاری یا غیر مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے نجی درسگاہوں کی طرح مجرد تعلیم ہے ، یا کوئی اور بڑا مقصد بھی ہے ؟ اس مقصد کے لئے تو پہلے ہی بڑی تعداد میں اسکولس او رکالجز موجود ہیں ، اصل مقصود مسلمانوں کے زیر انتظام درسگاہوں کا یہ ہے کہ ان کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی ماحول میسر ہو ، ان کے دِلوں میں اسلامی اقدار کی عظمت بیٹھے ، وہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں، وہ سب کچھ ہوں ؛ لیکن پہلے مسلمان ہوں، بہ قول اکبر اؔلٰہ آبادی :
تم شوق سے کالج میں پڑھو پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں پر اُڑو چرخ پر جھولو
لیکن یہ سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو
اس کے لئے چند باتیں نہایت ہی ضروری ہیں اور مسلمان انتظامیہ کا مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ ان پر توجہ دے ۔
پہلی بات یہ ہے کہ اسکول کے ماحول میں اسلامی معاشرہ کو فروغ دیا جائے اور بچوں کا رہن سہن اسلامی تہذیب اور اسلامی کلچر کا نمائندہ ہو ، افسوس کہ مسلمانوں کے زیر انتظام بعض اسکولوں میں بھی طلبہ اور طالبات کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ملاقات کے وقت ’’ گڈ مورننگ ‘‘ Good Morning گڈ آفٹر نون Good Afternoon گڈ ایوینگ Good evening ، کہا کریں، ظاہر ہے کہ یہ ملاقات کا غیر اسلامی طور و طریق ہے ، اسلام سے پہلے عربوں میں سلام و ملاقات کے لئے اس قسم کے فقرے تھے : ’’ انعم اﷲ بک عینا‘‘ ( اللہ تمہاری آنکھ کو ٹھنڈی رکھے ) اور ’’ انعم صباحا‘‘ ( تمہاری صبح بخیر ہو) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کو پسند نہیں فرمایا ، اور ارشاد فرمایا کہ اس کے بجائے ملاقات کے وقت کہا جائے : السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ یعنی تم کو اللہ تعالیٰ دین و دنیا کے تمام نقصانات سے محفوظ رکھے اور تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں یہ نہایت جامع دُعاء ہے ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو اس سے بہتر اور کوئی دُعا ء نہیں دے سکتا ، ہماری درسگاہوں میں بچوں کو اس طرز ملاقات کا عادی بنایا جائے ، کہ اس سے ہماری شناخت اور پہچان بھی متعلق ہے ۔
اسی طرح یونیفارم کا مسئلہ ہے ، یونیفارم ایسا ہونا چاہئے ، جو شریعت کے دائرہ میں ہو ، آج کل بہت سے مسلمان اسکولوں میں بھی لڑکیوں کو ’’اسکارف ‘‘ کے استعمال سے منع کیا جاتا ہے، ایسی قمیص پہننے کو کہا جاتا ہے جس میں بازو کھلے ہوئے ہوں ، بعض اسکولوں میں پائجامہ کے بجائے لڑکیاں ’’ اسکرٹ‘‘ پہنتی ہیں ، قریب البلوغ اور بالغ لڑکیاں ہیں ؛ لیکن ان کے بال کھلے ہوئے، بازو کھلے ہوئے، ٹانگیں کھلی ہوئیں، کپڑا چست، ظاہر ہے کہ یہ نہ صرف اسلام بلکہ شرافت ِانسانی کے بھی مغائر ہے ، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عورت سراپا پردہ ہے : ’’المرأۃ عورۃ‘‘ ایسے کپڑے جس سے جسم کی رنگت چھلکتی ہو ، جن سے اعضا کا نشیب و فراز نظر آتا ہو اور جسم کی ساخت نمایاں ہوتی ہو ، قطعاً جائز نہیں ہے ، اورنفسیاتی اعتبار سے بھی ایسے یونیفارم مقرر کرنا نقصان دہ ہی ہے، جس ماحول میں اس طرح بے حجاب لڑکیاں چلتی اوررہتی ہوں، آنکھوں سے آنکھیں ٹکراتی ہوں ، کھلے ہوئے بازو اور ٹانگوں پر نگاہ پڑتی ہو ، تو ضرور ہے کہ یہ چیز لڑکوں کی ذہنی یکسوئی میں خلل انداز ہوگی ، دل میں وساوس پیدا ہونگے اورذہن میں ہیجان کی لہریں اُٹھیں گی ، ایسا طالب علم کیوںکر اپنے سبق اور استاذ کے لکچر کی طرف متوجہ رہ سکتا ہے؟ اورجب توجہ اوریکسوئی باقی نہ رہے، تو کیسے وہ کتاب کے مضامین کو حل کر سکے گا، لڑکیو ںکو اس کی وجہ سے دو چیزوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایک تو یہی نفسیاتی اُلجھن لڑکیو ںکے ساتھ بھی پیدا ہوگی ، دوسرے ایسے لباس کی وجہ سے ان کو اوباش اور آوارہ لڑکوں کی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ، فقرہ بازی، چھیڑ چھاڑ، مسلسل نظربازی کے نتیجہ میں لڑکیاں ذھنی تناؤ سے دو چار رہتی ہیں، اور درسگاہ میں آتے جاتے اوراُٹھتے بیٹھتے یہ احساس ستاتا رہتا ہے کہ کچھ اوباش نگاہیں ان کا تعاقب کر رہی ہیں، ظاہر ہے ایسے خوف اور ذہنی تناؤ کے ماحول میں کیسے ان کو ذہنی یکسوئی حاصل ہو سکتی ہے ؟
اس لئے یونیفارم میں اسلامی اور اخلاقی قدروں کا لحاظ ہونا چاہئے ، شرٹ ، پتلون اسکارف اور بالغ لڑکیوں کے لئے نقاب تاکہ جسم ڈھکا چھپا رہے، لڑکوں کے لئے بھی دیدہ زیب ؛ لیکن اسلامی وضع قطع کا نمائندہ لباس ہو، بعض پڑوسی ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ پٹھانی سوٹ اسکول کایونیفارم متعین کیا گیا ہے ، یہ خوبصورت بھی ہے ، ڈھیلا ڈھالا ہونے کی بناپر طبّی نقطۂ نظر سے صحت کے لئے مفید بھی اور پوری طرح ساتر بھی ، اگر مسلمان انتظامیہ اسکولوں میں ایسے یونیفارم مقرر کرے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ کیا جسم کی نمائش اور غیر ساتر لباس سے طالب علم کی ذہنی وفکری قوت میں اضافہ ہو جاتا ہے ؟ کیا انسان کی قوت حفظ اور ذکاوت میں بھی اسکو کچھ دخل ہے؟ اور علم و فن کی تاریخ میں جو ممتاز شخصیتیں گذری ہیں ، وہ اس قسم کے یونیفارم پہن کر ہی علمی اور قلمی کام کیا کرتے تھے ؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیںہے ، یہ مغربی تہذیب سے مرعوبیت اور اپنی تہذیب وتمدن کے بارے میں احساس کمتری اور فکری ہزیمت کا آئینہ دار ہے !
اسی سے متعلق دوسری اہم چیز لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے جداگانہ تعلیمی نظام کا ہے ، بدقسمتی سے اس وقت مخلوط تعلیم ’’ کو ایجوکیشن ‘‘ کا فیشن سا ہوگیاہے، فخر یہ تشہیر کی جاتی ہے کہ ہمارے یہاں ’’ کو ایجو کیشن ‘‘ (Co_Education) ہے ، یہ سراسر نادانی ہے اور نہ صرف اسلام سے دوری ؛ بلکہ تعلیمی نفسیات سے ناواقفیت اور نا آگہی بھی ہے ، تعلیم و تعلم کے وقت استاد اور طالب علم کا ذہن پوری طرح ان مضامین پر مرتکز ہونا چاہئے ، جواس وقت ان کے سمجھنے اور سمجھانے کا موضوع ہے ، درس گاہ کے ماحول میں کوئی ایسی چیز نہ ہونی چاہئے جو توجہ کو بانٹنے والی ہو کہ یہ تعلیم کے لئے سم قاتل ہے ، سبق کی حیثیت ایک زنجیر مسلسل کی ہے ، اگر بیچ سے ایک کڑی بھی غائب ہوگئی ، تو پورا سبق ضائع ہو جائے گا ۔
اور یہ فطری بات ہے کہ ایک ہی ماحول میں لڑکوں اور لڑکیوں کا وجود ایک دوسرے کے لئے کشش کا باعث ہے ، ایک ہی جگہ ان دونوں کا موجود رہنا اور نگاہوں کا ٹکرانا یقینا ذہن کو متأثر کرے گا، توجہ کو بانٹے گا اور مدرس کی طرف تسلسل کے ساتھ توجہ برقرار رکھنی دشوار ہو جائے گی، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے نمازیوں کے سامنے سے گزرنے کو منع فرمایا اور اس کو ’’ قاطع صلاۃ‘‘ قرار دیا ،یعنی یہ نمازیوں کی توجہ کو بانٹنے والی چیز ہے، سماج میں بڑھتے ہوئے موجودہ اخلاقی بحران ؛ بلکہ اخلاقی انا رکی کے پس منظر میں جداگانہ نظام تعلیم ایک بہت بڑی ضروت ہے اور اگر مسلمان بھی اس جانب توجہ نہ کریں ، جو شرم و حیا اور عفت و عصمت کے علم بردار ہیں ، تو کن سے اس کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ 

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
متعلقہ الفاظ
  • #شمع فروزاں
  • ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
    ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
    شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019