ایک مظلوم کی فریاد — انصاف کے ایوان میں !

مسلمانوں نے آزاد ہندوستان میں بہت سے غم دیکھے ہیں ، چوٹیں سہی ہیں ، زخم کھائے ہیں ، دکانیں لٹائی ہیں ، اپنے عزیزوں او ر بز ر گوں کی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ، کبھی کبھی عزت وآبرو کی قربانی بھی دین حق پر استقامت کی پاداش میں دی ہے اور اس ملک کے چپہ چپہ کو اپنے لہو کے انمٹ نقوش سے لالہ زار کیاہے ؛ لیکن ۶؍ دسمبر کا زخم ایسا ناسور ہے ، جو کسی طور مندمل نہیں ہوتا اور جب تک دوبارہ یہاں اللہ کا گھر نہ بن جائے اور اس کے میناروں سے اللہ کی کبریائی اور توحید کی اذان جانفزا بلند نہ ہونے لگے ، اس وقت تک اس غم کا مداوا نہ ہو سکے گا ، مسلمانوں کی اگلی نسلیںبھی اس غم کو فراموش نہ کرسکیں گی ، کہ متاعِ غم متاعِ حیات بن چکا ہے اور اسے لٹا یا نہیں جا سکتا ۔
فرقہ پرست عناصر کہتے ہیں کہ بابری مسجد رام جی کے پیدائشی مقام پر بنائی گئی ہے ، یہ دعویٰ عقل و نقل اور تاریخ و آثار ہر پہلو سے غلط ہے ، اولاً تو یہ بات ہی متعین نہیں کہ کیا رام جی کا حقیقی معنوں میں وجود تھا یا محض ایک افسانوی نام اور علامتی کردار ہے ؟ کیوںکہ رام جی سے وابستہ جو تاریخ ہندو مذہبی کتابوں میں بیان کی گئی ہے ، اس کے توھماتی اور دیومالائی ہونے میں کسی حقیقت پسند ہندو دانشور کو بھی شک و شبہ نہیں ؛ اس لئے بہت سے ہندو دانشوروں کا بھی خیال ہے کہ رام جی ، کی حیثیت ایک افسا نوی کردار کی ہے نہ کہ حقیقی شخصیت کی ، پھر اگر مان لیا جائے کہ رام جی کا حقیقی وجود تھا او ر آپ ایودھیا میں پیدا ہوئے تھے تو سوال یہ ہے کہ ایودھیا سے کون سا علاقہ مراد ہے ؟ کیوںکہ آثارِ قدیمہ کے ڈپٹی سپریڈنٹ ایم وی این کرشنا راؤ نے انکشاف کیا تھا اور ثبو تو ں کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا کہ اصل ایودھیا ہر یا نہ کا مقام ’’بناؤلی‘‘ ہے (قومی آواز دہلی ۶ ؍ مارچ ۹۸ء) واضح ہو کہ مسٹر راؤ آثارِ قدیمہ کے ماہرین میں سے ہیں ، رامپور کے ایک پنڈت جی کا دعویٰ ہے کہ رام جی کی پیدائش کی اصل جگہ رام پور ہے اوراس سلسلہ میں ان کے پاس ثبوت موجود ہے ، اس طرح کے دعویٰ کو بے دلیل نہ سمجھنا چاہئے ؛ کیوںکہ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ایک شہر کسی نام سے معروف تھا اور یہ اپنی جگہ سے ہٹتے ہٹتے کافی دور پہنچ گیا ، شہر کے باشندے اور کارو با ر ی نقل مکان کرتے رہے اور پھر وہی دوسری جگہ اس شہر کے نام سے موسوم ہوگئی ۔
اگر ایودھیا وہی جگہ ہے جو اس وقت ’’ ایودھیا‘‘ کہلاتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ اس شہر میں رام جی کی پیدائش کس جگہ پر ہوئی ؟ کیوں کہ اس وقت ایودھیا میں تقریباً نو دس ایسے مندر موجود ہیں ، جن کی بابت ان مندرو ں کے متولیوں کا دعویٰ ہے کہ یہی رام جی کی جائے پیدائش ہے ، پروفیسر سری واستو نے لکھا ہے کہ ۱۹۰۲ء میں رام جی کی اصل جا ئے پیدائش معلوم کرنے کیلئے باضابطہ ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی ، اس کمیٹی نے کافی تلاش و جستجو کے بعد دو مقامات کے بار ے میں اندازہ لگایا کہ شاید یہ رام جی کی جائے پیدائش ہو ، ان میں سے ایک کانام ’’ رام جنم استھل ‘‘ رکھا گیا اور دوسرے کا ’’ رام جنم بھومی‘‘ یہ دونوں جگہیں بابری مسجد کے علا وہ ہیں ، بابری مسجد کے محل وقوع کے رام جی کے جائے پیدائش ہونے کا ذِکر مفسد اور تفر قہ انداز انگریزوں سے پہلے نہ کسی تاریخی کتا ب اور سفر نامہ میں ہے اورنہ ہندو بھائیوں کی مذہبی کتابوں میں ۔
اگر یہ بات فرض بھی کرلی جائے کہ رام جی کی جائے پیدائش وہی جگہ ہے تو بھی اس بات کاثبوت مطلوب ہوگا کہ اس جگہ پہلے مندر تھا اور اس کو توڑ کر مسجد بنائی گئی تھی؟ اور اگر اس مقام پر مندر کے پائے جانے کا کوئی ثبوت ملتا ہے تب بھی یہ بات محتاجِ دلیل ہے کہ مسلمانوں نے اس جگہ جبراً مسجد بنائی ہے ؛ کیوںکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس مقام کے باشندوں نے اس جگہ کو مسلمانوں سے فروخت کردیا ہو اس لئے کہ مسلمانوں کے یہاں مسجد کی زمین خرید و فروخت نہیں کی جاسکتی ؛ لیکن دوسری قوموں کے یہاں مذہبی عبادت گاہوں کے بارے میں ایسا تقدس نہیں پایا جاتا ؛ چنانچہ یورپ میں یہودی اور عیسائی بے تکلف اپنے چرچ فروخت کرتے رہتے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ بابر نے اس مندر کو منہدم کر کے مسجد تعمیر کیا تھا ؛ لیکن یہ بات تاریخی حقائق کی رو سے قطعاً ناقابل یقین ہے ؛ کیوںکہ اس بات کاکوئی ثبوت نہیں کہ بابر کبھی ایودھیا گیا بھی ہو ، بابر نے خود ترکی زبان میں ’’بابر نامہ ‘‘ تحریر کیا ہے ، نہ اس میں اس کاذکر ہے اور نہ دوسرے مؤرخین نے اس کاذکر کیا ہے ، بابر نامہ کی عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بابر ایودھیا سے تقریباً ۷۲ میل دور مقیم ہوا تھا ؛ چنانچہ پروفیسر سری واستو نے لکھا ہے کہ کوئی ٹھوس تاریخی شہادت ایسی موجود نہیں ہے کہ بابر یا اورنگ زیب ایودھیا آئے ہوں ، (بابر ، ص: ۹۳) پروفیسر آرناتھ (یونیور سٹی جے پور راجستھان ) نے بھی لکھا ہے کہ بابر کبھی ایودھیا نہیں آیا۔ ( بابر ، ص : ۹۶) 
کسی شخص سے جو بات منسوب کی گئی ہو ، اس کی صداقت کو پرکھنے کے لئے ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ خود اس شخص کے مزاج و مذاق کی اس سے مطابقت اور ہم آہنگی دیکھی جائے ، اس پہلو سے بھی بابر کی طرف مندر کے منہدم کرنے کی نسبت قطعاً غلط معلوم ہوتی ہے ؛ کیوںکہ بابر کٹر مذہبی قسم کا آدمی نہیں تھا اور مذہبی رواداری کا بہت ہی زیادہ لحاظ رکھتا تھا ، منصف مزاج غیر مسلم مؤرخین نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے ، راجہ شیو پرشاد نے اپنی کتاب ’’ آئینہ تاریخ ‘‘ کے پہلے حصہ میں بابر کے عدل و انصاف اور نیک دلی کی بہت تعریف کی ہے ، اس کے دور میں نظم حکومت میںبھی بہت سے ہندو شریک تھے ، وہ ہندو جوگیوں سے بہت عقیدت سے پیش آیا کرتاتھا ، پروفیسر آرناتھ کابیان ہے کہ ایسی کوئی شہادت نہیںکہ بابر کو متعصب ٹھہرایا جاسکے ، پروفیسر سری رام شرما نے لکھا ہے کہ ایسی کوئی تاریخی شہادت موجود نہیں کہ بابر نے کبھی کسی مندر کو توڑا ہو ، یا ہندوؤں پر مذہبی اختلاف کی بنا پر کوئی ظلم روا رکھاہو ، پروفیسر آرسی رائے چودھری لکھتے ہیںکہ بابر وہ بادشاہ تھا جس نے مذہبی روا داری اور برداشت کی پالیسی کا بیج بویا ۔(بابر ، ص : ۸۰) 
مشہور محقق سید صباح الدین عبدالرحمن صاحب نے اپنی کتاب ’’ مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری ‘‘ میں بابر کی عالی ظرفی اورحسن سلوک پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ، پروفیسر بنر جی نے ہندوؤں کے ساتھ بابر کے مخلصانہ برتاؤ اور کلیدی عہدوں پرہندوؤں کے فائز کرنے کا ذِکر کیا ہے اور اس کی طرف مندر اور مقدس مقامات کے مسمار کرنے کی نسبت کو غلط قررار دیا ہے اور پروفیسر سری واستو نے اپنی پوری تحقیق کے بعد لکھا ہے کہ بابر پر الزامات اس کی شخصیت اورکردار سے قطعی میل نہیں کھاتے ( بابر ، ص : ۸۲) یہاں تک کہ بابر نے اپنے وصیت نامہ میں گاؤکشی سے منع کیا ہے ؛ تاکہ ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں ۔
رام شنکرا پادھیائے نے مارچ ۱۹۹۵ء میں بابری مسجد کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی لکھنؤ بنچ کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا ہے : میں نے ہندو دھرم کی کتابیں پڑھی ہیں … رام چرت مانش یا تلسی داس کے کسی دوسرے ساہتیہ میں ایسا کوئی ذکر نہیںملتا کہ ایودھیامیں شری رام کے مندر کو توڑ کر کوئی مسجد بنائی گئی ہو ، ہندو دھرم کی کسی بھی کتاب میں کوئی ایسا ذکر نہیں ملتا کہ رام چندر جی کے جنم استھل پر بابری مسجد بنائی گئی ہو ، یا رام چندر جی کی جنم استھل وہاں واقع ہوئی ہو ، جہاںبابری مسجد تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی غرض سے انگریزوں نے یہ بات گھڑی کہ یہ مسجد مندر کو منہدم کر کے بنایا گیا ہے ، اس مقصد کے لئے انگریز اسکالروں نے بابر نامہ کے ترجموں میں تحریف بھی کی اور اپنے قیاسات بھی ظاہر کئے کہ مسجد کے ستون غیر اسلامی ہیں وغیرہ ، ورنہ حقیقت کااس سے کوئی تعلق نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ اس مسجد کو بابر نے نہیں ؛ بلکہ بابر کے نام پر اس کے ایک افسر میر باقی نے ۱۵۲۸ء میں تعمیر کیا تھا ، اکبر کو چوںکہ وحدتِ ادیان کا جنون ساتھا ؛ اس لئے اس نے اس سے متصل چبوترہ پر رام کی مورتی بنوادی ، ۱۹۴۶ء سے پہلے بابری مسجد کے محل وقوع کے سلسلے میں کوئی جھگڑا نہیں تھا ؛ بلکہ صرف اس بات کا جھگڑا تھا کہ ہندو اس چبوترہ پر مندر بناناچاہتے تھے اورمسلمان اس سے روکتے تھے ، مارچ ۱۹۸۵ء میں پہلی مرتبہ جب یہ مسئلہ عدالت میں گیا اس وقت مہنت رگھو پرداس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ رام جی کو سردی گرمی اور برسات سے بچانے کے لئے چبوترے کو مندر میں تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے ؛ لیکن ۲۴؍ ڈسمبر ۱۹۸۵ء کو عدالت نے یہ عرض رد کر دی ، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خود ہندو بھائیوں کے یہاںبھی مندر کے انہدام اور مسجد کی تعمیر کاخیال پہلے نہیں پایا جاتا تھا ۔
پھر غور کیجئے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے غصب کی ہوئی زمین پر نماز پڑھنا جائز نہیں ؛ البتہ نماز پڑھ لی جائے تو اداہوجاتی ہے ؛ لیکن مغصوبہ زمین پر نماز ادا کرنے والا گنہگار ہے اور ظاہر ہے کہ مسجدیں ثواب کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں نہ کہ گناہ کے لئے ، تو کوئی مسلمان کیسے ایک زمین غصب کر کے مسجد تعمیر کر سکتا ہے ؟ اس لئے نہ عقل اس دعویٰ کو قبول کرتی ہے ، نہ تاریخ کی گواہی اس کے حق میں ہے ، علم الآثار سے اس کی تائید ہوتی ہے اور نہ عقل ہی اس دعویٰ کو قبول کرتی ہے ، اس لئے بابری مسجد کا مسئلہ اس ملک کی جمہوریت اور نظام عدل کے لئے ایک چیلنج اور امتحان ہے جب تک اس مظلوم مسجد کو انصاف نہیںملے گا ، اس ملک کی جمہوریت اور رواداری کا چہرہ داغ دار ہی رہے گا ۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019