اُمت میں اتحاد کی بنیادیں

ادھر چند ایسے دل دہلادینے والے واقعات سامنے آئے ہیں ، جنھیں سن کر کلیجہ منھ کو آتا ہے اور سر شرم سے جھکا جاتا ہے ، مثلاً یہ کہ مدھیہ پردیش کے ایک گاؤں میں ایک مسلمان میت کی لاش قبر کھود کر اس لئے نکال دی گئی کہ وہ کسی اور مسلک کا ماننے والا مسلمان تھا ؛ حالاںکہ اس نے پوری زندگی اسی گاؤں میں مسلمانوں کے ساتھ بھائی بھائی بن کر گذاری تھی ، ایک مسلک کے لوگوں نے موجودہ وزیر اعظم کے ساتھ مل کر کہا کہ فلاں فلاں مسلک کے لوگ دہشت گرد ہیں ، ان پر پابندی لگائی جائے ، کاش کہ وہ فرقہ پرست پارٹیوں کے بارے میں اس طرح کا مطالبہ کرتے ، اسی طرح صوفیاء کے مقدس گروہ کے نام پر ایک ایسی کانفرنس منعقد کی جارہی ہے ، جس کا مقصد دوسرے مسلک والوں کے خلاف حکومت کو اُکسانا اور موجودہ فرقہ پرست حکومت کو تقویت پہنچانا ہے ، دوسری طرف ایک اہم خبر یہ آئی ہے کہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مذہبی رہنماؤں نے صدیوں کے اختلافات کو بھلاتے ہوئے ایک دوسرے سے گلے مل لیا ہے ؛ حالاںکہ ان دو عیسائی فرقوں کے اختلاف کی وجہ سے لاکھوں عیسائیوں کی جانیں جاچکی ہیں ، یہ ہمارے لئے سرمایۂ عبرت ہے ! 
ملک کی موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دستوری طورپر مسلمانوں اور اقلیتوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ، ان کے تعلیمی اداروں کو غصب کرنے کے منصوبے بن رہے ہیں ، بے قصور مسلمان نوجوان گرفتار کئے جارہے ہیں ، رام مندر تعمیر کرنے کا اعلان ہورہا ہے اور مسلمانوں کو ان کے مذہبی تشخص سے محروم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے ، اس لئے اس حقیقت سے شاید ہی کوئی شخص انکار کرسکے کہ مسلمانوں کے لئے اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ، عالمی اور ملکی سطح پر ان کی محرومیوں اور نامرادیوں کا اصل سبب باہمی افتراق اورانتشار ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ اتحاد کس طرح پیدا ہو ؟ — ایسا اتحاد کہ تمام لوگوں کی سوچ ایک ہوجائے ، فکر و نظر کا کوئی اختلاف باقی نہیں رہے ، ممکن نہیں ہے ، کیوںکہ جیسے اﷲ تعالیٰ نے چہرے مہرے اور رنگ و روپ میں اختلاف رکھا ہے ، اسی طرح ان میں مزاج و مذاق کا اختلاف بھی رکھا گیا ہے ، اور یہ اختلاف ِذوق قدم قدم پر عیاں ہے ، ایک لباس ہی کو دیکھئے ، کتنی وضع کے لباس بنائے جاتے ہیں ، اور ہر وضع کسی نہ کسی کی نگاہ انتخاب کے لئے منظور نظر بن جاتی ہے ، پھر کپڑوں کا رنگ ، اور بناوٹ کے اعتبار سے ہر ایک کا ذوق جداگانہ ہے ، یہی حال مکان کی تعمیر کا ، سواریوں کی پسند کا اور انسان کے استعمال میں آنے والی تقریباً تمام ہی چیزوں کا ہے ۔
جیسے اشیاء کے انتخاب میں ، ذوق و نظر کی بوقلمونی کارفرما ہے ، اسی طرح افکار خیالات اور اخذ و استنباط میں بھی انسانی مزاج و مذاق کی نیرنگی جلوہ فرما ہوئی ہے ، اس لئے ملی ، سیاسی ، سماجی اور مذہبی مسائل میں فکر و نظر کا اختلاف واقع ہونا بالکل فطری ہے ، یہ اختلاف کبھی معمولی درجہ کا ہوتا ہے اور کبھی شد ید بھی ہوجاتا ہے ، ایسی صورت میں اگر اتحاد کا مطلب یہ ہوکہ تمام لوگ ایک ہی فکر کے حامل ہوجائیں اور ہر مسئلہ میں ایک ہی طریقہ پر سوچنے لگیں تو یہ ایسی ہی غیر فطری خواہش ہوگی ، جیسے کوئی اس بات کا آرزو مند ہو کہ دنیا کے تمام لوگ ایک ہی رنگ اور ایک ہی روپ کے بن جائیں ، اصل میں اتحاد کا راستہ یہی ہے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد کو قائم رکھا جائے ۔
’’ اختلاف کے باوجود اتحاد ‘‘ کے لئے چند باتیں ضروری ہیں :
دو گروہوں کے درمیان خواہ کتنا بھی اختلاف ہو ، لیکن بہت سے اُمور میں اشتراک بھی پایا جاتا ہے ، اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ اختلافی اُمور کے بجائے ان اُمور پر نظر رکھی جائے جو قدرِ مشترک ہیں ، مسلمانوں کے درمیان اتنی زیادہ باتیں مشترک ہیں کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں میں اس کا پچاس فیصد بھی شاید ہی مل سکے ، مثلاً ہندو بھائیوں کے یہاں آریہ سماجی اور سناتن فرقوں کے درمیان ، عیسائیوں میں کیتھولک ، پروٹسٹنٹ اور آرتھیوڈسک کے درمیان خدا کے تصور کے بارے میں بھی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے سکھ مذہب کے ماننے والوں میں عام سکھ اور اور نرن کاری مشن کے اختلاف کو دیکھئے ، لیکن مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ خدا کی توحید ، اﷲ تعالیٰ کی صفات ، نبوت و رسالت اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر ختم نبوت ، آخرت ، بنیادی فرائض ، واجبات اور محرمات و ممنوعات کے بابت کوئی اختلاف نہیں ، اس لئے مسلمانوں کے لئے اتحاد و اتفاق کا راستہ بہت آسان ہے ، اور وہ اختلافی چیزوں کے بجائے مشترکہ اقدار کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ سکتے ہیں ۔
غالباً ہندوستان میں مجلس مشاورت نے مسلمانوں میں پہلی بار یہ سوچ پیدا کی اور بعد کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام نے اس تصور کو اور تقویت پہنچائی ، پھر بعض اور تنظیموں کے قیام نے مسلمانوں میں یہ صلاحیت پیدا کی ہے ، کہ وہ مشترک مسائل کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں ، اس ہم آہنگی اور اشتراک کو مختلف میدانوں میں بڑھانے کی ضرورت ہے ، کیوںکہ جب آدمی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتا ہے ، مشترک مسائل پر گفتگو کرتا اور سوچتا ہے ، تو فاصلے سمٹتے ہیں ، مفاہمت پیدا ہوتی ہے ، اور ایک دوسرے کی توقیر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔
غور کیجئے تو یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات اور اسلام کے مزاج کے عین مطابق ہے ، قرآن مجید نے یہودیوں اور عیسائیوں کو دعوت دی کہ ہم قدر مشترک پر ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوجائیں اور وہ یہ ہے کہ ہم سب اﷲ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائیں ، تَعَالَوْا إلٰی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ اِلاَّ اﷲ َ وَلاَ نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا ، ( آل عمران : ۶۴ ) جب مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان قدر مشترک کی بنیاد پر اتحاد کی تشکیل ہوسکتی ہے ، تو کوئی وجہ نہیں کہ خود اُمت مسلمہ اس اُصول پر آپس میں متحد نہ ہوسکے ۔
دوسری ضروری بات یہ ہے کہ شخصیتوں کے بارے میں لوگوں کی پسند الگ الگ ہوتی ہے ، ابنیاء پر ایمان لانے کا تو ہر شخص مکلف ہے ، لیکن فقہا و محدثین اولیاء و صالحین اور مشائخ و سلاطین کے بارے میں ہوسکتا ہے کہ مختلف لوگوں کا ذوق اور ان کا رجحان الگ الگ ہو ، ایک شخص کچھ بزرگوں سے عقیدت رکھتا ہے ، دوسرے شخص کو کچھ دوسرے بزرگوں سے عقیدت ہو ، ایسی صورت میں کم سے کم یہ بات ضروری ہے کہ ہر آدمی اپنے بزرگوں کے بارے میں کلمۂ خیر کہتے ہوئے دوسروں کی خدمات کا بھی معترف ہو ، یا کم از کم ان کے بارے میں بدگوئی اور بدکلامی سے گریز کرے ، تاکہ ان کے متعبین کی دل آزاری نہ ہو ، بعض ضعیف روایتوں میں ہے کہ جب ابو لہب کی بیٹی درہ ایمان لائیں ، تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خواہ مخواہ ابولہب کو برا بھلا نہ کہا جائے ، کہ مناسب نہیں ہے کہ کافر باپ کی وجہ سے مومن بیٹی کو تکلیف پہنچائی جائے ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کا بھی اس درجہ پاس و لحاظ رکھا ہے ، کیا ہم مسلمانوں کے آباء و اجداد ، ان کے مشائخ و بزرگوں اور دین حق کے خدمت گاروں کے بارے میں بھی اس درجہ تہذیب و سائستگی اختیار نہیں کرسکتے ؟ یہ بات ظاہر ہے کہ جب آپ دوسروں کے بزرگوں کو برا بھلا کہیں گے ، تو وہ آپ کے بزرگوں کی شان میں منقبت نہیں پڑھیں گے ، اس لئے صحیح طریقہ وہی ہے ، کہ خود اپنی زبان کی حفاظت کی جائے ، قرآن مجید نے اس لئے معبودان باطل کو برا بھلا کہنے سے منع کیا ہے کہ جب تم انھیں برا کہوگے تو تم جس خدا کے پرستار ہو ، وہ ان کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوں گے ، وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ فَیَسُبُّو اﷲ َعَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ، (الأنعام : ۱۰۸ ) جو اُصول قرآن مجید نے غیر مسلموں کے معبودان باطل کے بارے میں دیا ہے کم سے کم ہم ان لوگوں کے بارے میں جو مسلمانوں کے لئے عقیدت و احترام کا مرکز ہیں ، یہی رویہ اختیار کریں ، تو بہت سارے اختلافات سے ہم بچ سکتے ہیں ۔
تیسری ضروری چیز یہ ہے کہ ہم اختلاف کا سلیقہ سیکھیں اگر کسی نظریہ پر آپ خوش سلیقگی اور خوش کلامی کے ساتھ تنقید کریں ، تو فریق مخالف آپ کی بات کو قابل غور بھی سمجھے گا ، اور کم سے کم یہ ضرور ہوگا کہ نفرت کا آتش فشاں سلگنے نہ پائے گا ، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَأَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ۔ ( حٰمٓ السجدہ : ۳۴ )
بہتر طریقہ پر رد کروتو ممکن ہے کہ جس شخص سے تمہاری عداوت ہے ، وہ تمہارا گرم جوش دوست بن جائے ۔
افسوس کہ ’’ دفاع احسن ‘‘ جس کو قرآن مجید نے دوسری جگہ ’’ جدال احسن ‘‘ ( النحل : ۱۲۵ ) سے تعبیر کیا ہے ، اب اس کی صلاحیت مسلمانوں میں باقی نہیں رہی ہے ، جب حضرت موسیٰ ں اور حضرت ہارون ں فرعون کو دعوت حق دینے کے لئے بھیجے گئے تو اﷲ تعالیٰ نے خاص طورپر ہدایت فرمائی کہ نرم لب و لہجہ اختیار کریں ، ’’ قولا لہ قولا لینا‘‘ ، ( طٰہٰ : ۴۴ ) مقام فکر ہے کہ حضرت موسیٰ ںاور حضرت ہارون ںاﷲ کے پیغمبر ہیں ، اور فرعون کھلا ہوا کافر بلکہ کافروں کا سرخیل ہے ، اس کے باوجود ان پیغمبروں کو نرم خوئی اور نرم گفتاری کا حکم دیا جاتا ہے ، لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اُمت کے باہمی اختلاف میں بھی اس اُصول پر عمل کرنے کو آمادہ نہیں ہیں ۔
اختلاف مذہبی ہو یا سیاسی اور تنظیمی و جماعتی ہو یا مسلکی و مشربی ہر جگہ ہماری زبان عدل اور اعتدال کے حدود کو پھاند جاتی ہے ، اور جن باتوں کو نرم لب و لہجہ اور سنجیدہ پیرایہ میں کہا جاسکتا ہے ، ان کو بھی ہم ایسی تلخی اور تندی کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ اس سے نفرت کی دیواریں اوراونچی ہوجاتی ہیں ، شاعر حقیقت شناس کلیم عاجز نے خوب کہا ہے :
بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیم
بات کہنے کا سلیقہ چاہئے
— یہ سلیقہ بہت ضروری ہے ، اور مسلمان جتنی جلد اسے سیکھ لیں گے ، اتناہی جلداپنے آپ کو انتشار اور بکھراؤ سے بچاسکیں گے ۔
انسان کے سامنے جب کوئی اہم کام نہیں ہوتا تو وہ غیر اہم کام میں اُلجھ جاتا ہے ، اس کی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے جب کوئی مثبت اورتعمیری میدان مہیا نہیں ہوتا تو وہ منفی اور تخریبی کاموں میں لگ جاتا ہے ، مسلمانوں سے ایک بہت بڑا فریضہ دعوت دین کا متعلق ہے ، کہ وہ برادران وطن تک اﷲ کے دین کو پہنچائیں ، اور ادیان باطلہ کی ایسی خوبصورتی کے ساتھ تردید کریں جس سے اختلاف و نفرت پیدا ہونے کے بجائے لوگوں میں قبولیت کا جذبہ بیدار ہو ، یہ بات ممکن بھی ہے اور جو لوگ تھوڑا بہت اس کام کو کررہے ہیں ، اس کے نتائج بڑے ہی بہتر اور امید افزاء سامنے آرہے ہیں ۔
اگر مسلمان اپنے باہمی مسلکی اختلاف میں پہلو تہی سے کام لیں اور اختلاف بڑھانے والی باتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے دعوت دین کی طرف متوجہ ہوں ، تو ان کو اپنی کاوشوں اور صلاحیتوں کے استعمال کے لئے ایک بہتر میدان مل جائے گا ، ان کی قوتیں صحیح سمت میں خرچ ہوں گی ، اور اس سے انشاء اﷲ اس ملک کی تاریخ میں ایک نیا انقلاب کروٹ لے سکتا ہے ۔
مشکلات اور دشواریاں بھیڑیا اور بکری اور سانپ اور نیولے کو اکٹھا کردیتے ہیں ، مقام افسوس ہے کہ جس اُمت کو اس کے پیغمبر نے آخر آخر تک اتحاد و اتفاق کی تلقین کی ہے ، اور جس کے درمیان اتفاق و اشتراک کے نکات کے مقابلہ اختلافی نکات شاید دو فیصد بھی نہ ہوں ، وہ اُمت نقش دیوار کو پڑھنا چھوڑ دے اور بلا امتیاز اس کے جان و مال اور عزت و آبرو کی ارزانی بھی اسے متحد نہ کرسکے ، وہ اپنے دشمنوں کی منصوبہ بندی کی طرف سے غافل ہوجائے اور اپنی صفوں کو متحدہ چٹان کے بجائے بکھرے ہوئے ذرات بنالے ، کیا اس سے زیادہ کم نصیب بھی کوئی گروہ ہوسکتا ہے ؟

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019