تبصرے (2)
اپنا تبصرہ لکھیں
واضح ھوگیا... گویا "سھا فیہ" اور "سھا عنہ" دونوں کے معنی اصلا ایک ھی ھیں، یعنی: غفل عنہ. تاھم سیاقِ کلام کی بنا پر اس میں لطیف فرق پیدا ھوجائے گا؟ جیسا کہ کشاف میں ھے: ”فإن قلت: أي فرق بين قوله «عن صلاتهم» وبين في صلاتهم؟ قلت: معنى عن: أنهم ساهون عنها سهو ترك لها وقلة التفات إليها.... الخ. ومعنى في: أن السهو يعتريهم فيها بوسوسة شيطان أو حديث نفس.“
جی نہیں۔ دونوں درست ہیں۔ تاہم دونوں الگ الگ سیاق میں قدرے مختلف معنی میں استعمال ہوتے ہیں جیسے اردو میں بھول چوک یا بھولنا اور چوکنا میں لطیف سا فرق ہے۔ بھولنا گویا سہا فیہ کے ہم معنی ہے اور چوکنا سہا عنہ کے یا اس کے بر عکس۔ تاہم یہ بھی ہر موقع پر چسپاں نہیں ہوگا۔ “سہا عنہ” کا مفہوم ٹھیٹ اردو میں در اصل دانستہ لا پروائی اور بے اعتنائی برتنا ہے۔ جیسا کہ سورہ الماعون میں ارشاد ہے “الذين هم عن صلاتهم ساهون"... مگر اس لطیف معنوی فرق کو ہمارے اکثر اردو مترجمین نہیں سمجھ سکے۔ واضح رہے کے المعجم الوسیط یا کسی اور عربی لغت میں “قیل” اور “یقال” سے مراد یہ نہیں کہ وہ کوئی ضعیف یا مجروح یا مرجوح قول ہے جسے فقہی کتابوں میں “صیغۂ تمریض” کہا جاتا ہے۔ بلکہ اس کا مقصد صرف متعلقہ لفظ کے بارے میں اہل زبان کے یہاں متداول شواہد استعمال نقل کرنا ہوتا ہے نہ کوئی ترجیحی حکم لگانا۔اس بات کو بھی ہمارے اکثر اردو داں علماء نہیں سمجھ سکے اور اس کے نتیجے میں قرآن و حدیث اور دیگر عربی نصوص کے ترجمے یا ترجمانی میں اکثر چوک گئے ہیں اور انہوں ایسے معانی کو “راجح یا درست” قرار دینے کی کوشش کی ہے جو از روئے لغت نہ راجح ہے نہ درست کیونکہ اس کا تعین سیاق کلام سے ہوتا ہے۔