روزہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟

روزے کی نیت اور مقصد کی بارے میں ایک تحریر

بسم الله الرحمن الرحيم

 قابل صد احترم عزیزو، دوستو اور بزرگو! چونکہ ماہ رمضان ہر سال آتا ہے، اس لیے سوچنا یہ ہے کہ ہمارا یہ رمضان عادتاً گذرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ؟؟!! طبعی اَمر یہ ہے کہ بار بار ملنے والی نعمت عادتاً استعمال ہونے لگ جاتی ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ نیت کا اور روزے کے مقصد کا استحضار رہے، جناب نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

  ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیْمَاناً وَاحْتِسَاباًغُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ“.

 ترجمہ: جس نے رمضان کے روزے اللہ پر یقین کرتے ہوئے رکھے اور اس کو اجر وثواب کی اُمید میں تو اُس کے سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔ 
 اس حدیث مبارکہ میں روزے رکھنے کی نیت کا بیان ہے کہ روزہ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو راضی رکھنے اور اجر وثواب حاصل کرنے کی نیت ہونی چاہیے۔
 اور قرآن پاک کی آیت مبارکہ ہے: 
 (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ، لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ.) 
 ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے، تا کہ تم متقی بن جاؤ۔
 یعنی: اگر تم روزے رکھو گے اور روزے کی پابندیوں پر عمل کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اندر تقویٰ پیدا کر دیں گے۔
 تونتیجہ یہ نکلا کہ روزہ ہم سے چاہتا ہے کہ ہماری زندگی تقوی والی بن جائے۔ تقویٰ کا عام مفہوم یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والی زندگی چھوڑ دیں، گناہوں سے نکل جائیں، ہمارا سرکش نفس نفسِ مطمئنہ بن جائے اور اللہ تعالیٰ راضی ہو کر ہمیں جنت میں داخلہ نصیب فرما دے۔ یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ہم جنت میں داخل ہو جائیں، دلیل یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں یہ مبارک مہینہ عطا فرمایا ہے، اس بہانے سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے فرائض کو ستر گنا بڑھا دیا، نوافل اور سنن کو اجر میں فرائض کے برابر کر دیا، ہماری دعاؤں کی قبولیت کے وعدے کر لیے، گناہوں کی مغفرت، رحمتوں اور برکتوں کا نزول، جہنم کے دروازے بند، جنت کے دروازے کھلے، یہ سب کچھ بتلا رہا ہے کہ اللہ ہمیں نوازنا چاہتے ہیں۔ 

 کرنا کیا پڑے گا؟

فقط یہ کہ اس تربیتی کورس میں کامیاب ہو جائیں اور بقیہ زندگی اسی حاصل ہونے والی تربیت کے زیر اثر گذار لیں، صبح سے شام تک جس طرح کھانے پینے اور جماع سے رکنا ہے، اِسی طرح جسمانی اَعضاء سے سرزد ہونے والے ظاہری اور باطنی گناہوں سے رکنے والے بن جائیں۔ ہماری آنکھ؛ وہ دیکھے جو اللہ چاہتے ہیں، ہمارا کان؛ وہ سنے جو اللہ چاہتے ہیں، ہماری زبان؛ وہ بول نکالے جو اللہ کی مرضی والا ہو، ہمارے ہاتھ اور پاؤں کا استعمال بھی اللہ کی مرضیات کے مطابق ہو، اسی طرح جو لقمہ بھی پیٹ میں جائے وہ حلال ہو حرام نہ ہو۔ 
 اِسی طرح باطنی اَمراض؛ جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد، تکبر وغیرہ سے بچنا بھی ضروری ہے، تبھی یہ روزہ ہمیں حقیقی فائدہ دے سکے گا، ورنہ یاد رکھیں کہ جناب رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو سوائے بھوکا پیاسا رہنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا“۔ اس حدیث مبارکہ کا مصداق وہی لوگ ہیں جو روزہ تو رکھتے ہیں، لیکن اپنے آپ کو گناہوں سے دور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں روزے کے مقاصد پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے، اور روزے کے جو حقیقی انعامات ہیں ان کا وافر حصہ ہمیں نصیب فرمائے، آمین ثم آمین

مفتی محمد راشد ڈَسکوی

تدریس وتصنیف
مفتی محمد راشد ڈَسکوی عفی اللہ عنہ
دار الافتاء جامع مسجد اشتیاق، ڈسکہ، سیالکوٹ
سابق استاذ ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف، جامعہ فاروقیہ، کراچی

کل مواد : 11
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020