ساگو دانہ ماہنامہ النخیل شوال 1440

بچپن میں جب کبھی بیمار پڑتے ، خاص طور پر بخار یا ٹائیفائیڈ ہوتا تو ڈاکٹر صاحب کی کڑوی کسیلی دوائوں اور انجکشن کے ساتھ ساتھ پرہیز کی ہدایت بھی ملتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کہتے کہ ان کو ہلکی غذا دیجئے۔ امی پوچھتیں کہ ہلکی غذا میں کیا دیا جائے تو ڈاکٹر صاحب قدرے توقف سے فرماتے کہ چائے بسکٹ، ساگو دانہ، اگر گلا خراب اور کھانسی نہ ہو تو موسمی کا رس، دلیہ دودھ ڈال کر یا پھر مونگ کی دال کی کھچڑی جس میں دال دو حصے اور چاول ایک حصہ ہو۔ باقی تمام اشیا تو عام ہوتیں مگر ہم ہمیشہ ساگو دانہ کے بارے میں سوچتے کہ یہ کیا چیز ہے اور کہاں سے نکلتی ہے کیونکہ یہی ایک چیز صرف اس وقت بطور غذا دی جاتی تھی جب انسان بیمار ہو۔آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ ساگو دانہ آخر ہے کیا چیز!!!

ساگو دانہ عام طور پر دو ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے:‎1 ...:ساگو پام   ‎2 ...:کساوا

ساگو دانہ ایک پام نما درخت( جس کو’’ ساگو پام‘‘ کہا جاتا ہے )کے تنے کے درمیانی اسفنج نما حصے سے نکالا جاتا ہے۔ ساگو پام ایک انتہائی خوبصورت درخت ہوتا ہے۔ نیوگنی میں اس کے درخت بکثرت ہوتے ہیں اور وہاں کے مقامی لوگ اس کو پیس کر اس کا آٹا بھی بناتے ہیں اور اس کی روٹی بھی بناتے ہیں۔بلکہ یہ وہاں کی مقامی آبادی کی بنیادی غذا بھی ہے۔ ایشیا میں یہ سب سے زیادہ انڈونیشیا اور ملائشیا میں پایا جاتا ہے ،جہاں سے اسے یورپ اور دیگر ممالک کو برآمد کردیا جاتا ہے۔ ساگو پام سری لنکا میں بھی پایا جاتا ہے۔ اگر ساگو پام کے درخت میں پھل لگ جائے تو پھل پکنے کے بعد اس کا دور حیات ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ درخت مردہ ہو کر سوکھ جاتا ہے اور اس کے تنے کا درمیانی حصہ سخت ہو جاتا ہے جس میں سے ساگو نہیں نکلتا۔ اس لئے احتیاط کی جاتی ہے کہ اس درخت میں پھول آنے سے پہلے اس کو کاٹ لیا جائے۔ ساگو پام کا درخت سات سے پندرہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد پھول دینا شروع کرتا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ پھول آنے سے پہلے پہلے اس درخت کو کاٹ لیا جاتا ہے۔ تنے کے اوپری موٹی چھال اور لکڑی کے درمیان نرم اسفنج نما ساگو بھرا ہوتا ہے۔ ایک ساگو پام سے تقریبا آٹھ سو پائونڈ کے قریب ساگو دانہ حاصل ہوتا ہے۔ نرم گودے کو نکال کر خشک کیا جاتا ہے پھر اس کو پیس کر اس کا آٹا بنا لیا جاتا ہے جس سے مختلف پکوان تیار کئے جاتے ہیں اور روٹی بھی۔ بیرونی ممالک کو برآمد کرنے کے لئے ایک خاص طریقے سے اس کو دانہ دار بنایا جاتا ہے جیسا کہ آپ ساگو دانے کو دیکھتے ہیں۔

کساوا  Cassava:کساوا ایک ٹراپیکل پلانٹ ہے جو بھارت، سری لنکا، ملائشیا، جنوبی امریکہ اور دیگر گرم مرطوب علاقوں میں بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی آرائشی پودے کے طور یہ پودا استعمال کیا جاتا ہے اور نرسریوں پر دستیاب ہے۔اس کی جڑیں شکر قندی جیسی ہوتی ہیں۔کساوا سے ساگودانہ بنانے کے لئے اس کی جڑیں زمین کھود کر نکالی جاتی ہیں۔ ان کو دھونے کے بعد ان کا چھلکا اتارا جاتا ہے۔ چھلکا اتارنے کے بعد اس جڑ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے جاتے ہیں، پھر ان ٹکڑوں کو پیس کر پاوڈر بنا لیا جاتا ہے۔ اس پاوڈر میں دودھ ملا کر چھ گھنٹوں کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے یہ ایک طرح کے خمیر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پھر اس کو مشینوں کی مدد سے خشک کر کے دانہ دار ساگو دانہ بنا لیا جاتا ہے۔ پاکستان، بھارت میں دستیاب ساگو دانہ یہی کساوا کی جڑ سے تیارا کیا جانے والا دستیاب ہے۔

اگر آپ اپنی نسلوں کو معذوری سے بچانا چاہتے ہیں، آپ چاہتے ہیں آپ کی نسلوں کے قد بڑھیں اور بہترین دراز قد ہوں، خوبصورت ہوں، صحت مند ہوں، عقل مند ہوں، ان کا حافظہ بہترین لاجواب ہو، ان کی صحت بہت زیادہ قابل رشک ہو اور خود ان کی نسلوں میں معذور بچے، اپاہج، لولے، لنگڑے، کانے اندھے پیدا نہ ہوں تو آپ سے میری یہی مخلصانہ درخواست ہے کہ اپنی حاملہ خواتین کو آپ ساگودانہ کی کھیر ضرور کھلائیں صبح نہار منہ، یا کسی وقت بھی اور اپنے بچوں کو ساگودانہ کا استعمال متواتر کرائیں یہ بہت سستی غذا ہے۔ یاد رکھیں چمک دار اشتہار اور ایسے اشتہار جس میں ماں اور بچے کو دکھایا جاتا ہے اور ساتھ ایک چمکتا ہوا ڈبہ جس میں یہ کہاجاتا ہے کہ اس میں تمہارے بچوں کی صحت کا بھرپور خزانہ موجود ہے،کبھی اس میں کچھ نہیں ہوتا اور سب نقصان اور کمائی کے انوکھے انداز ہیں ۔بس! ساگودانہ کی کھیر خالص دودھ میں پکی ہوئی۔ آپ نے بچوں کی صحت کا راز پالیا اگر یہ استعمال کرلیا اورصحت مند ماؤں کو صحت و تندرستی کا دروازہ اگر دکھانا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیںکہ وہ مائیں ہمیشہ صحت مند بچے ہی جنیں ، انہیں ساگودانہ کا استعمال ضرور کروائیں۔ میرے پاس کتنے گھرانے ایسے ہیں انہیں یہ بات سمجھ آگئی اور انہوں نے پہلے دن سے ساگودانہ استعمال کروایا اور ساگودانہ نے ان کے بچوں کو جہاں فٹنس، صحت اور تندرستی دی وہاں خوبصورتی بہت زیادہ دی اور حسن و جمال بہت زیادہ دیا اور یہ خوبصورتی اور حسن و جمال ان کی نسلوں کیلئے ایک بہتری اور خوشنمائی کا ذریعہ بنا۔آئیے! اس صحت مند غذا کو ہم اپنی زندگی میں شامل رکھیں۔ اب تک سائنس نے اس کے بہت زیادہ ریسرچ کے بعد 23 فوائد لکھے ہیں ۔ان میں ایک فائدہ یہی ہے کہ اس کے استعمال سے بھینگا پن اور چھوٹے قد کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے اور اس کے استعمال سے دراز قد نسلیں معاشرے میں شامل ہوتی ہیں جو کہ ظاہری حسن و جمال کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کا دوسرا فائدہ جو سائنس نے ریسرچ کرکے بتایا ہے ایسے لوگ جن میں ہڈیوں کی خستگی ہوتی ہے تھوڑی سی چوٹ لگنے کے بعد ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں یا خم دار ٹیڑھی ہوجاتی ہیں یا ان میں لکیریں پڑجاتی ہیں اور انسان ہفتوں اور مہینوں بستر پر لیٹ جاتا ہے اور کوئی حرکت نہیں کرسکتا جو ساگودانہ کا استعمال کریں گے، ان کی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور اگر انہیں یہ عوارض ہیں یا ان کی نسلوں میں یہ عوارض ہیں کہ ان کی ہڈیاں ختم ہوجاتی ہیں یا کمزور ہوجاتی ہیں وہ سوفیصد ساگودانہ کا استعمال کریں۔

 

٭…٭…٭

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
متعلقہ الفاظ
  • #طب وصحت
  • #ساگو دانہ
  • ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
    ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
    شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019