الزام اور بہتان تراشی کی وبا ماہنامہ النخیل شوال 1440

بے بنیاد الزام لگانا اور بہتان تراشی کرنا بڑے گناہوں میں شمار ہوتا ہے ، سوشل میڈیا نے جہاں رابطوں کو عام ، تعلقات کے دائرے کو وسیع اور ہر کہہ ومہہ کو کہنے لکھنے کا موقع فراہم کردیا ہے ، وہاں الزام تراشی کی وبا بھی عام اور آسان ہوگئی ہے ، اس سے قبل تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، مذہبی اور سیاسی اختلاف رکھنے والے ، نیچے سے اوپر تک اکثر اس وبا کا شکار نظر آتے ہیں ، ذاتی اختلاف رکھنے والے ، اسے انتقامی حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں …عام لوگوں کی کیا بات کی جائے ، ایک بڑے عالم کی خدمت میں  حاضری ہوئی جو خیر سے شیخ الحدیث بھی ہیں ، ایک دوسرے عالم کے بارے میں ان کا ارشاد تھا کہ ان کے بقول :’’ قرآن کریم ،کتابِ ہدایت نہیں ہے …‘‘پوچھا، حضرت ، انہوں نے کس تقریر میں، کب یہ بات کہی ہے ؟… حضرت کے پاس ، ا س کا تسلی بخش جواب نہیں تھا ، میں حیران رہا اور وہ اڑے رہے … حال ہی میں صحافیوں کی ایک فہرست جاری ہوئی ہے ، اہل دین کے گروپوں میں نشر ہوتی رہی ، کہا گیا …’’ یہ سب قادیانی ہیں ‘‘پوچھا گیا :’’دلیل ، ثبوت؟‘‘ کوئی ثبوت نہیں ، کئی حضرات سادگی میں اسے کارِ خیر سمجھ کر عام کرتے رہے ، جب کہ ان ناموں میں کئی ایسے نام تھے جنہوں نے خود قادیانیت کے خلاف کام کیا… سیاسی اختلاف رکھنے والے کارکنوں کی حالت ناقابل بیان ہے ، ابھی کل پرسوں میں دیکھ رہا تھا ، حکمران جماعت کے سوشل میڈیا  کے نیٹ ورک میں ایک عالم دین کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے پینتالیس لاکھ کی لسی نوش فرمائی ہے اور سینکڑوں کارکن اسے سچ سمجھ کر تبرا کر رہے تھے۔

قومی طور پر یہ ہماری اخلاقی گراوٹ ہے ، اس میں دین دار اور غیر دین دار سب ہی مبتلائے وبا ہیں ، یہ اس پیغمبر اسلام کے نام لیوا ہیں جنہوں نے ہر سنی سنائی بات بیان کرنے کو جھوٹ کی علامت قرار دیا اور جن کی شریعت میں تہمت تراشی پر باقاعدہ ’’ حد قذف ‘‘ کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

جو قومیں آسمانی تعلیمات کی ہدایت سے محروم ہیں ، خواہشات یا اپنے مفادات کی دل چسپی کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتی ہیں ، ان ہی کی باغی دنیا نے مدتوں قبل یہ روش اپنائی تھی کہ جھوٹ کو اس قدر عام کیا جائے کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگے ، سچائی تک رسائی ہو تو آدھی سے زیادہ فصلیں تباہ ہوچکی ہوں… دنیا نے عراق کی تباہی کا منظر دیکھاہے ، مشہور کیا گیا کہ ادھر کیمیاوی ہتھیار ہیں ، جسے جواز بنا کر مخالف قوتیں اس پر پل پڑیں اور اسے ادھیڑ کے رکھ دیا ، بعد میں اعتراف کیا گیا کہ کچھ نہیں تھا… قوموں کی جنگوں میں پروپیگنڈہ ایک مؤثر ہتھیار رہا ہے اور شاید رہے گا لیکن ایک مسلم معاشرے اور سماجی رابطوں کے دائرے میں الزام تراشی اور بہتان بازی حرام اور موجب سزا جرم ہے ، ہم کئی بار دانستہ یا نا دانستہ ، یہ گناہ کرتے ہیں ،الزام لگانا یا کسی کے الزام کو بلا ضرورت بغیر تحقیق کے عام کرنا ، دونوں حرکتیں کبائر میں سے ہیں ، حالت یہ ہوگئی ہےکہ اسے گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا … تحسبونہ ھینا وھو عند اللہ عظیم(جسے تم ہلکا سمجھ رہے ہو، وہ اللہ کے نزدیک سنگین جرم ہے)

ہمیں پیغمبرانہ تعلیمات کی روشنی میں اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے… اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

ابن الحسن عباسی

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019