توبہ و استغفار قربِ الٰہی کا ذریعہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

          ”توبہ و استغفار“ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے اپنے گناہوں ،اپنی خطاوٴں اور اپنی لغزشوں کی معافی مانگنے ،بخشش چاہنے اور مغفرت طلب کرنے کو۔انسان جب سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں، اپنی خطاوٴں اور اپنی لغزشوں کی معافی مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس سے بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں، اُس سے راضی ہوجاتے ہیں اور اُس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیتے ہیں ۔

          امام نووی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ علماء نے فرمایا ہے کہ ہر گناہ سے توبہ کرنا(آدمی کے لئے ) واجب ہے۔ گناہ کا تعلق اگر اللہ تعالیٰ سے ہو، کسی آدمی کا حق اُس سے متعلق نہ ہو تو اُس کی تین شرطیں ہیں: اوّل یہ کہ اُس گناہ کو چھوڑدے جس سے وہ توبہ کر رہا ہے۔ دوم یہ کہ اُس پر ندامت (پشیمانی) کا اظہار کرے۔ سوم یہ کہ پختہ ارادہ کرے کہ آئندہ کبھی وہ یہ گناہ نہیں کرے گا۔اگر اِن تین شرطوں میں سے ایک شرط بھی مفقود ہوگئی تو اُس کی توبہ صحیح نہیں ہوگی۔

          اور اگر گناہ کا تعلق کسی آدمی سے ہو تو اُس کی چار شرطیں ہیں: تین وہی جو اوپر مذکور ہوئیں اور چہارم یہ کہ وہ صاحب حق کا حق اداء کرے۔ اگر کسی کا مال یا اسی قسم کی کوئی چیز ناجائز طریقے سے لی ہو تو اُسے واپس کرے۔ کسی پر تہمت وغیرہ لگائی ہو تو اُس کی” حد“ اپنے نفس پر لگوائے، یا اُس سے معافی طلب کرکے اُس کو راضی کرے۔ اگر کسی ایک یا چند ایک گناہ سے توبہ کرے گا تو اہل حق کے نزدیک یہ توبہ تو صحیح ہوجائے گی، لیکن یہ توبہ صرف اُسی گناہ سے ہوگی ، دوسرے گناہ اُس کے ذمے (اُس وقت تک بدستور ) باقی رہیں گے ( جب تک اُن سے بھی مذکورہ شرائط کے مطابق توبہ نہ کرلے) توبہ کے وجوب پر کتاب و سنت کے بہ کثرت دلائل اور اُمت کا اجماع موجود ہیں ۔

          چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو! تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔“(النور:۲۴/۳۱) ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ”اپنے پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگو،پھر اُس کی طرف رجوع کرو!“(ہود:۱۱/۳) ایک اور جگہ ارشاد ہے: ”اے ایمان والو! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو!“ (التحریم: ۶۶/۸)

           اسی طرح احادیث نبویہ میں بھی توجہ کے واجب ہونے کے بہ کثرت دلائل موجود ہیں۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اُس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتے ہیں جس نے کسی جنگل بیابان میں اپنا اونٹ گم کرکے پھر پالیا ہو۔(بخاری و مسلم)

           حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن کو گناہ کرنے والا (رات کو) توبہ کرلے، اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات کو گناہ کرنے والا(دن کو) توبہ کرلے۔ (یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا) جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔ (جو قربِ قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے، اُس نشانی کے ظاہر ہونے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا)(بخاری و مسلم)

          حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر آدم کے بیٹے کو سونے کی ایک وادی مل جائے تو وہ آرزو کرے گا کہ اُسے دو وادیاں میسر آجائیں۔ آدم کے بیٹے کے منہ کو قبر کی مٹی علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی توبہ فرماتے ہیں۔ (بخاری و مسلم)حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آدمی کی توبہ عالم نزع کے طاری ہونے سے پہلے قبول فرماتے ہیں۔ (ترمذی)

          حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پہلی قوموں میں ایک آدمی نے ننانوے آدمیوں کو قتل کرڈالا۔ اُس نے معلوم کرنا چاہا کہ اِس وقت روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ ایک راہب کی نشان دہی کی گئی۔ اُس نے راہب سے کہا کہ اُس نے ننانوے آدمیوں کو موت کے گھاٹ اُتاردیا ہے، کیا توبہ کی کوئی صورت ہے؟راہب نے کہا نہیں! اُس نے راہب کو بھی قتل کرڈالا اور سو کی تعداد پوری کردی۔پھر اُس نے دریافت کیا کہ روئے زمین پر کون بڑا عالم ہے؟ چنانچہ ایک عالم کے متعلق بتایا گیا۔ اُس نے اُس عالم سے کہا کہ وہ سو آدمیوں کو قتل کرچکا ہے، کیا توبہ کی کوئی صورت ہے؟اُس عالم نے کہا ہاں ! توبہ کی قبولیت سے کون سی چیز رکاوٹ بن سکتی؟ فلاں علاقہ میں جاوٴ! وہاں کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں، آپ بھی اُن کی رفاقت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغولیت اختیار فرمالیں اور اپنے ملک کی طرف واپس مت جاناکہ وہ بُری زمین ہے۔ وہ شخص چل دیا۔ جب نصف مسافت پر پہنچا تو فوت ہوگیا۔ اب اُس کے متعلق رحمت اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان جھگڑا پیدا ہوگیا، رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ یہ توبہ تائب ہوکر اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ ہوا ہے۔ اور عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ اِس نے تو کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا۔ چنانچہ تصفیہ کے لئے ایک فرشتہ انسانی شکل میں آیا اور سب نے اُسے اپنا ثالث تسلیم کیا۔ اُس نے کہا کہ دونوں طرف کی زمین ناپ لو! جس طرف کی مسافت کم ہوگی اُس کا استحقاق اُس بنیاد پر ہوگا۔ جب زمین کو ناپا گیا تو جس طرف وہ جارہا تھااُس کی مسافت کم نکلی۔ اِس بنیاد پر رحمت کے فرشتوں نے اُس کی رُوح قبض کی۔(بخاری و مسلم)

          ”توبہ و استغفار“ کے صرف اُخروی فوائد ہی نہیں ہیں بلکہ اِس کے بے شمار دُنیوی منافع بھی ہیں، مثلاً موقع پر بارشوں کا برسنا، قحط سالی کا ختم ہونا، مال و اولاد میں برکتیں ہونا وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو دین کی دعت دی تو ”توبہ و استغفار“ کے دُنیوی و اُخروی ہر قسم کے فوائداُن کے سامنے رکھے اور اُنہیں بتایا کہ اگر تم لوگ ایمان لے آوٴگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دونوں جہانوں کے فوائد و ثمرات سے متمتع فرمائیں گے، تمہاری مغفرت اور بخشش کے فیصلے فرمائیں گے،تم پر کثرت سے بارشیں برسائیں گے، تمہارے مال و اولاد میں برکتیں عطاء فرمائیں گے ، تمہارے لئے باغات و باغیچے لگائیں گے ، اور تمہارے لئے پانی کی نہریں اور چشمے جاری فرمائیں گے، مگر انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی ایک نہ سنی ، بلکہ اُنگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں، کپڑے آنکھوں پر ڈال لئے اور اپنے کفر و انکار پر اصرار کرتے رہے اور حد درجہ غرور و تکبر سے پیش آئے تب اللہ تعالیٰ نے اُن کو پانی میں غرق و تباہ کیا اور ناقیامت آنے والے انسانوں کے لئے اُنہیں عبرت کا نشان بنادیا۔

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019