پردہ اور فطرتِ انسانی

عورت کے لیے پردہ و حجاب کا حکم کیوں ہے۔۔۔؟!!مرد کے لیے غض بصر یعنی نظر جھکانے کا حکم کیوں ہے۔۔۔؟!!اسلام پر من جملہ اعتراضات میں سے چند اشکالات یہ ہیں کہ، اسلام عورت کو اس کے حقوق کیوں نہیں دیتا؟ اس کی آزادی کیوں چھینتا ہے۔۔۔؟اس کو مردوں کے شانہ بہ شانہ چلنے سے کیوں روکتا ہے۔۔۔؟اسے معاشرے میں اپنی ایک شخصیت قائم کرنے سے کیوں منع کرتا ہے۔۔۔؟عورت ہی پردہ کیوں کرے؟مرد اپنے نظروں میں حیا کیوں نہیں پیدا کرتے۔۔۔؟اس قسم کے بہت سے سوالات آج ہر اس شخص کی زبان و قلم پر گردش کر رہے ہیں ؛جو حقوق نسواں کے مثبت نعرے کو منفی بنا کر پیش کر رہا ہے۔وہ عورتوں کے حقوق کے لیے عورتوں کو ہی روڈوں اور چوکوں و چوراہوں کی خاک چٹا رہے ہیں۔

ان سب سولات کا ایک آسان وسمپل جواب یہ کہ،اللہ تعالی کے جاری و نافذ کردہ احکامات کا نام اسلام ہے۔یعنی اسلام دین فطرت ہے۔اسے ایک مثال سے سمجھیے۔آج جدیدٹیکنالوجی کا دور دوراں ہے۔روز بہ روز سائنسی ایجادات میں اضافہ ہورہا ہے۔آج کسی بھی مشین کے خالق کو سائنس دان کہا جاتا ہے۔سائنس دان جب کوئی چیز بناتا ہے،تواس کے ساتھ ایک دستاویز بھی تیار کرتا ہے۔جس وہ بتاتا ہے کہ ،میں نے اس میں کون کون سے پارٹس لگائے ہیں۔اس کے پرزوں کو کہاں کہاں اور کیسے کیسے لگایا ہے۔تاکہ اس مشین کو چلانے والا اسے صحیح طور و طریقہ سے استعمال کرے۔اسے کوئی پریشانی و دشواری پیش نہ آئے۔ اسے غلط استعمال کر کے خراب نہ کر دے۔اب آپ ہی بتائیں کہ ،جب کوئی انسان اس مشین کو سائنس دان کے وضع کردہ اصول و ضوابط کے خلاف چلائے گا تو کیا نتیجہ نکلے گا۔۔۔؟کیا وہ مشین صحیح رہ پائے گی۔۔۔؟کیا اس کے بقا کی کوئی امید رہے گی۔۔۔؟نہیں نہیں۔۔۔ہر گز نہیں۔۔۔!!یقیناًآپ اس بات پر مکمل اتفاق کریں گے۔
اب آپ بتائیے کہ،انسان کو کس نے بنایا اور پیدا کیا؟اسے کس نے تخلیق کیا؟اس کا خالق کون ہے؟ لازماََآپ کا جواب یہی ہوگا کہ،ہمارا خالق و مالک،ہمارا تخلیق کار وپالن ہارصرف اللہ ہے۔جب اللہ تعالی نے ہمیں بنااور سنوار کر اس دنیا میں بھیجا توساتھ ایک دستاویز یعنی قرآن دیا۔جس بتایا کہ میں نے تمہیں کیسے بنایا؟تمہاری طبیعت کیسی بنائی؟ تمہاری فطرت اور نیچر میں کیا رکھا؟

اللہ تعالی نے انسانی زندگی کے دو پیے مرد و عورت کو بنایا ۔دونوں کی فطرت و نیچر کو مختلف رکھا۔مرد کی فطرت میں اقدام رکھ دیا کہ ،اسے جو چیز پسند آجائے ،وہ اس کے حصول کی سعی میں پیش قدمی کرے۔جب کی عورت کی نیچر میں تمانع اور فرار رکھ دیاکہ،اگراس کی فطرت مکمل مسخ نہ ہوجائے تو ،وہ کبھی اس قدر دراز دست ،جری اور بے باک نہیں ہو سکتی کہ ،کسی کو پسند کر کے خود اس کی طرف پیش قدمی کرے۔اسی فطرت کو سامنے رکھ کر اللہ تعالی نے عورت کو پردہ وحجاب کا اور مردکو غض بصر یعنی نظر جھکانے کا حکم دیا۔اس مقصد یہ ہے کہ،مرد کی نظر کا مرکز و محور فقط اس کی بیوی ہو اور عورت کے حسن وجمال کی کشش صرف اپنے شوہر کے لیے ہو۔اسلام نے عورت کو مکمل حقوق دیے ہیں،مگر وہ جو اس کی فطرت کے مطابق ہیں۔اس پر بڑی بڑی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔اگر ہم نے اسلام کا مطالعہ کیا ہوتا تو، ہم کبھی اسلام پر یہ بے جا اور فضول کے اعتروضات اور سوالات نہ کرتے۔

آج جل حجاب اور پردے کے حوالے سے دن یا ہفتہ منایا جاتا ہے؛ اگرچہ یہ پردہ اور حجاب کوئی منانے والی چیز نہیں ہے بل کہ یہ اپنانے والی چیز ہے۔اس پر عمل اصل مقصود ہے۔البتہ یہ مختلف حجاب اور پردہ دن اور ہفتہ منانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں حجاب کا شعور پیدا کیا جاسکے۔مغرب حجاب کی پابندی پر جتنا بھی زور لگالے اور حجاب کے خلاف جتنے بھی پروپگنڈے کر لے،مگر وہ مسلمانوں کے ذہنوں سے حجاب کی اہمیت ختم نہیں کرسکتے،بل کہ مسلمانوں کا حجاب سے تعلق اور مضبوط سے مضبوط تر ہوجائے گا۔

اسلام کی فطرت میں ، رب نے لچک رکھی ہے
اسے جتنا دباؤ گے ، اتنا ہی ابھرتا جائے گا

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019