عملیات — شرعی نقطۂ نظر(۱)

دھر اخبارات میں کئی خبریں عامل حضرات کی گرفتاری سے متعلق سامنے آئی ہیں ، پریشان حال لوگ ان کے پاس دین کی نسبت سے آتے ہیں ، ایسے لوگوں کی طرف سے ضرورت مندوں کا استحصال ، ان سے غیر معمولی مقدار میں رقوم کی وصولی ، یہاں تک کہ عزت و آبرو پر بھی دست درازی کے واقعات حد درجہ افسوسناک ہیں ، اچھے اور برے واقعات سماج میں دن و رات پیش آتے رہتے ہیں ، اور جب کسی معاشرہ میں برائی کا دور دورہ ہوجاتا ہے ، اور جرائم روز مرہ کا معمول بن جاتے ہیں ، تو لوگوں کی نگاہ میں ان واقعات کی اہمیت کم ہوجاتی ہے ، کوئی بات کتنی بھی نامناسب ہو ، لیکن جب آنکھیں انھیں دیکھنے اور کان ان کے سننے کے خوگر ہوجائیں ، تو اس کی سنگینی اور شناعت کا احساس کم سے کم ہوتاجاتا ہے ، لیکن یہی واقعات اگر دینی مراکز اور دینی شخصیتوں کی نسبت سے سامنے آئیں ، تو دل پر چوٹ لگتی ہے ، اور دین اور اہل دین کا اعتماد و اعتبار مجروح ہوتا ہے ۔
اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید کو شفاء اور مومن کے لئے رحمت قرار دیا ہے ، وننزل من القرآن ماہو شفاء و رحمۃ للمؤمنین ، (اسراء : ۸۲ ) — اصل میں تو قرآن مجید دل کی بیماریوں کے لئے شفاء ہے ، وہ کفر و شرک اور نفاق کی بیماری سے قلب کو نجات عطا کرتا ہے ، شفاء لما فی الصدور ، ( یونس : ۵۷ ) — لیکن کیا اﷲ کی یہ ’ کتابِ اعجاز ‘ جسم انسانی کے لئے بھی باعث شفاء ہے ؟ اس میں اختلاف ہے ، اور اکثر اہل علم اور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ قرآن مجید سے شفاء جسمانی بھی حاصل ہوتی ہے ، ( تفسیر قرطبی : ۱۰/۳۱۶ ، نیل الاوطار : ۸/۲۱۲ ) — رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد میں ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں کہ بچھو گزیدہ شخص پر سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا گیا اور اﷲ تعالیٰ نے شفاء عطا فرمائی ، ( نیل الاوطار : ۸/۲۱۵ ) — خود رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشادات میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ فلق و ناس کے ذریعہ شفاء جسمانی کا ذکر موجود ہے ۔
اسی طرح بعض بیماریوں سے شفاء کے لئے دُعائیں بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے منقول ہیں ، بعض دُعائیں مطلق بیماری کے لئے ہیں ، اور بعض دُعائیں متعین بیماریوں کے لئے ، مشہور محدث امام ابوزکریا نوویؒ نے ماثور دُعاؤں اور اذکار کو ’’ کتاب الأذکار ‘‘ کے نام سے جمع فرمایا ہے ، یہ ایک ضخیم کتاب ہے ، اور اس میں ایسی بہت سی دُعائیں موجود ہیں — نیز یہ بات عقل و خرد کے بھی خلاف نہیں، جن مادی دواؤں کو ہم کھاتے اور ان سے صحت یاب ہوتے ہیں ، ان میں یہ خصوصیت اور نافعیت خالق کائنات ہی کی پیدا کی ہوئی ہے ، تو اگر اﷲ تعالیٰ وہی تاثیر وصلاحیت الفاظ اور کلمات میں پیدا کردیں تو یقینا یہ بھی باعث تعجب نہیں ہے ، اس پر انسانی تجربات بھی شاہد ہیں ، بہت سے مواقع پر کسی آیت کے پڑھنے یا دَم کرنے یا کسی دُعاء کے پڑھنے کی وجہ سے شفاء حاصل ہوتی ہے ، اور انسان عملاً اس کا تجربہ کرتا ہے ، اسی لئے صحیح یہی ہے کہ دُعائیں بھی ، قرآنی آیات بھی اور اﷲ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ بھی شفاء کی تاثیر رکھتے ہیں ، اور یہ اسباب کے درجہ میں ہیں ، اصل شفاء اﷲ ہی کی مشیت اور اسی کے حکم سے ہے ۔
روحانی عمل کے ذریعہ علاج کی مختلف صورتیں ہیں ، دُعاء کرنا ، کوئی آیت ، ذکر یا دُعاء پڑھ کر دَم کرنا ، قرآن مجید کی آیت ، دُعاء یا اﷲ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ کو لکھنا اور اسے دھوکر پینا اور لکھا ہوا تعویذ گلے میں لٹکانا — جہاں تک شفاء کی دُعاء کرنے کی بات ہے ، خواہ اپنے لئے یا دوسرے کے لئے تو اس کے جائز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ، ام المومنین حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ پر دایاں ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ دُعاء فرماتے تھے :
اللہم رب الناس ، اذہب البأس ، وأشف أنت الشافی ، لا شفاء إلا شفاء ک ، شفاء لا یغادر سقما ۔ ( بخاری ، حدیث نمبر : ۵۳۵۱ ، باب دعاء العائد للمریض)
اے اﷲ ! انسانیت کے پروردگار ! تکلیف کو دور کردیجئے اور شفاء عطا فرمائیے ، کہ آپ ہی شفاء عطا فرماسکتے ہیں ، ایسی شفاء جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے ۔
حضرت عثمان بن ابوالعاص ؓسے مروی ہے ، کہ مجھے اسلام قبول کرنے کے بعد سے جسم میں درد کا احساس رہتا تھا ، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جہاں پر تکلیف ہو ، وہاں ہاتھ رکھو ، تین دفعہ بسم اﷲ کہو ، اور سات دفعہ پڑھو :
اعوذ بعزۃ اﷲ و قدرتہ من شرما أجد وأحاذر ۔
( مسلم،حدیث نمبر:۲۲۰۲ ، باب استحباب وضع یدہ علی موضع الألم مع الدعاء)
میں اﷲ تعالیٰ کے غلبہ اور قدرت کی پناہ میں آتا ہوں ، ان چیزوں کی شر سے جس سے میں دو چار ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں ۔
دوسری صورت پڑھ کر دَم کرنے اور پھونکنے کی ، یہ بھی حدیث سے ثابت ہے ، حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کا سونے کے وقت معمول مبارک تھا کہ سوتے وقت قل ہو اﷲ احد ، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر اپنے اوپر دَم فرماتے ۔ ( بخاری، حدیث نمبر : ۵۰۱۷ ، باب فضل المعوذات )
— حضرت عائشہؓ ہی سے یہ بھی روایت ہے کہ جب گھر کے لوگوں میں کوئی بیمار پڑتا ، تو اس پر بھی آپ معوذات یعنی سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر دَم فرمایا کرتے ، پھر جب آپ مرض وفات کی حالت میں تھے ، تو حضرت عائشہؓ آپ پر دَم کیا کرتی تھیں ، ( مسلم ، حدیث نمبر : ۵۶۷۰ ) — پھونکنے اور دَم کرنے کو حدیث میں رقیہ ( راء پرپیش ) سے تعبیر کیا گیا ہے ، اور صراحتاً آپ سے اس کی اجازت ثابت ہے ، حضرت عوف بن مالکؓ راوی ہیں کہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں جھاڑ پھونک کرتے تھے ، ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا ، آپ نے فرمایا کہ مجھ پر پیش کرو ، کہ اگر اس میں کوئی مشرکانہ بات نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ، لا بأس بالرقی مالم یکن فیہ شرک، ( مسلم ، حدیث نمبر : ۵۶۸۸ ) — جب براہ راست جھاڑ پھونک کی اجازت ہے ، تو اگر پانی پر دَم کیا جائے اور اسے مریض کو پلایا جائے ، یا تیل پر دَم کیا جائے اور اس سے جسم کی مالش کی جائے ، تو یہ صورت بھی درست ہونی چاہئے ۔
یہ صورت کہ کسی برتن پر قرآن مجید کی آیت یا دُعاء زعفران یا کسی اور شیٔ سے لکھی جائے اور اسے دھوکر پلایا جائے ، ثابت ہے ، علامہ ابن تیمیہؒ نے حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے ایک طویل دُعاء نقل کی ہے ، جس کی ابتداء ’’ بسم اﷲ ، لاالہ الا اﷲ الحلیم الکریم ، سبحان رب العرش العظیم ، الحمد ﷲ رب العالمین‘‘سے ہوتی ہے ، کہ اس دُعاء کو صاف برتن میں لکھ کر اسے پلایا جائے ، اور بعض روایتوں میںیہ بھی ہے کہ ناف سے متصل چھینٹیں ماری جائیں ، اسی سے استدلال کرتے ہوئے علامہ موصوف لکھتے ہیں :
ویجوز أن یکتب للمصاب وغیرہ من المرضی شیئا من کتاب اﷲ و ذکرہ بالمداد المباح ویغسل ویسقیٰ ۔ ( فتاویٰ ابن تیمیہ : ۱۹/۶۴ )
بیمار اور مبتلائے مصیبت شخص کے لئے اﷲ تعالیٰ کی کتاب یا ذکر میں سے کچھ جائز روشنائی سے لکھنا ، دھونا اور پلانا جائز ہے ۔
البتہ جیساکہ علامہ ابن تیمیہ نے ذکر کیا ہے ، یہ ضروری ہے کہ جس چیز سے لکھا جائے وہ پاک ہو ، اور جس چیز پر لکھا جائے وہ بھی پاک ہو ، تاکہ قرآن مجید کی بے احترامی نہ ہو ، کیوںکہ قرآن کی بے احترامی سخت گناہ ہے ، بلکہ جانتے ، بوجھتے ایسا کرنے میں کفر کا اندیشہ ہے ، لہٰذا خون سے قرآنی آیات و اذکار کو لکھنا جائز نہیں ۔
عمل کی چوتھی صورت لکھا ہوا تعویذ ہے ، لکھا ہوا تعویذ گلے میں لٹکانا جائز ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے ، بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ تعویذ لکھ کر گلے میں لٹکانا ، بازو یا کسی اور حصے میں باندھنا جائز نہیں ، دوسری رائے اس کے جائز ہونے کی ہے ، بشرطیکہ مشرکانہ کلمات سے خالی ہو ، اور یہی رائے زیادہ درست معلوم ہوتی ہے ، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے شیاطین وغیرہ سے حفاظت کی دُعاء بتائی تھی ، حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ اپنے بچوں کو یہ دُعاء باضابطہ یاد دلاتے تھے ، اور جواُن میں سے بڑے نہیں ہوئے تھے ان کے لئے دُعاء لکھ کر ان کو پہنادیتے تھے ،ومن لم یدرک کتبہا و علقہا علیہ، ( مصنف ابن ابی شیبہ : ۸/۳۹ ) — علامہ ابن ابی شیبہ نے مختلف تابعین سے نقل کیا ہے کہ وہ تعویذ لکھنے اور اسے پہنانے کے قائل تھے ، مشہور محدث سعید بن مسیب سے نقل کرتے ہیں ، کہ اگر چمڑے پر لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں ، عطاء ، مجاہد ، محمد بن سیرین ، ضحاک بڑے پایہ کے تابعی علماء گذرے ہیں اور صحابہ کے صحبت یافتہ ہیں ، ان سب سے لکھے ہوئے تعویذ کا جواز منقول ہے ، حضرت عائشہؓ اور ائمہ مجتہدین میں سے امام احمد کی طرف بھی یہی بات منسوب کی گئی ہے ، ( دیکھئے : الموسوعۃ الفقہیہ :۱۳/۳۳ ) — علامہ ابن تیمیہ نے عورت کے درد زہ کے سلسلہ میں جو دُعاء لکھی اور دھوکر پلانے کی بات فرمائی ہے ، اس میں کاغذ پر لکھنے اور عورت کے بازو میں باندھ دینے کا بھی ذکر آیا ہے ، اس طرح حضرت عبداﷲ بن عباسؓ جیسے جلیل القدر صحابی سے بھی لکھے ہوئے تعویذ کا جواز ثابت ہے ۔
حضرت عبداﷲ بن مسعود ص سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ جھاڑ پھونک اور تعویذ ( تمیمہ ) لٹکانا شرک ہے ، اور اسی کی وجہ سے ہمارے زمانہ کے بعض اہل علم اس کو مطلقاً منع کرتے ہیں ، لیکن اگر حدیث کے الفاظ پر غور کیا جائے تو حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کا منشاء اور تھا ، اس روایت میں یہ ہے کہ حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کی زوجہ ایک یہودی کے پاس جھاڑ پھونک کے بارے میں جایا کرتی تھیں ، اسی بابت حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے یہ تنبیہ فرمائی تھی ، ( دیکھئے : ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۳۸۸۳ ) — اس لئے آپؓ کا منشاء غیر مسلموں کے پاس جھاڑ پھونک کرانے اور ان سے تعویذ لینے کی ممانعت کا تھا ، کیوںکہ ان سے علاج کرانے میں اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ وہ مشرکانہ کلمات کا استعمال کرتے ہوں ، اسی لئے حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے جھاڑ پھونک کو بھی شرک قرار دیا ، حالاںکہ پھونکنا اور دَم کرنا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے ۔
جھاڑ پھونک ہو ، لکھ کر اور دھوکر پلانا ہو ، یا لکھا ہوا تعویذ ہو ، ہر صورت میں چند باتیں ضروری ہیں ، جس کو حافظ ابن حجرؒ نے اس طرح لکھا ہے :
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تین شرطیں پائی جائیں تو جھاڑ پھونک جائز ہے ، اول یہ کہ اﷲ تعالیٰ کا کلام ہو ، یا اﷲ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کا ذکر کیا جائے ، دوسرے عربی زبان میں ہو ، یا ایسی زبان میں جس کا معنی سمجھ میں آتا ہو ، تیسرے اس بات کا یقین ہو کہ یہ جھاڑ پھونک بذات خود مفید و مؤثر نہیں ، اصل مؤثر اﷲ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ ( فتح الباری : ۱۰/۱۹۵ )
اﷲ تعالیٰ کے کلام اور اسماء و صفات کی شرط اس لئے رکھی گئی ہے ، کہ اﷲ ہی سے مدد اور شفاء کا طلب گار ہو اور شرک کا شائبہ تک پیدا نہ ہو ، عربی زبان میں ہونا اس کے مفہوم سے آگہی بھی اسی لئے ضروری ہے کہ کوئی مشرکانہ کلمہ شامل نہ ہوجائے ، تیسری شرط بھی اسی لئے ہے کہ انسان کا خدا پر یقین رہے ، گویا اصل یہی ہے کہ جھاڑ پھونک اور تعویذ شرک سے خالی ہو ، جیساکہ خود رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : لا بأس بالرقی مالم یکن فیہ شرک، (مسلم ، حدیث نمبر : ۵۶۸۸) — اسی سے یہ بات بھی نکل آئی کہ غیر مسلموں کے پاس تعویذ اور عمل کے لئے نہیں جانا چاہئے ، کیوںکہ اس صورت میں مشرکانہ تعویذ اور جھاڑ پھونک میں مبتلا ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے ؛ چنانچہ حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ کی روایت گذر چکی ہے کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کو اسی وجہ سے منع فرمایا تھا ، ہاں ، مسلمان عامل غیر مسلموں کا علاج کرسکتا ہے ، کیوںکہ یہ انسانی خدمت ہے ، اورانسانی نقطۂ نظر سے ایک دوسرے کی مدد کرنا واجب ہے ؛ چنانچہ حضرت ابوسعید خدریؓ کی روایت سے بھی ثابت ہے کہ مسلمانوں کے قافلہ نے ایک غیر مسلم سردارِ قبیلہ کا علاج کیا تھا ۔ ( نیل الاوطار : ۸/۲۱۵ )(جاری)

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020