طلبہ وطالبات کے لئے ہاسٹل کا انتظام

تعلیم اور تربیت کے درمیان اگرچہ گہرا رشتہ ہے ؛ لیکن بہر حال نتیجہ اور اصل کے اعتبار سے ان دونوں کا مفہوم الگ الگ ہے ، تعلیمات کے معنی معلومات فراہم کرنے کے ہیں اور تربیت سے مراد ان کو عملی زندگی میں لانا ہے ، تعلیم کے ذریعہ انسان جانتا ہے اور تربیت کے ذریعہ انسان کے اندر ماننے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ، قرآن مجید نے رسول اللہ ا کی اہم ذمہ داریوں کا ذکر فرماتے ہوئے تین باتوں کا ذکر کیا ہے : تلاوت آیات ، تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیہ ، (البقرۃ:۱۲۹) تلاوت آیات اور تعلیم کتاب و حکمت سے تعلیم کے مختلف شعبوں کی طرف اشارہ ہے اور تزکیہ سے تربیت کی طرف اشارہ ہے ، یہ دونوں ہی باتیں ضروری ہیں ، تعلیم سے محرومی ایمان سے محروم ہونے کے بعد سب سے بڑا نقصان ہے ، جو شخص شکل و صورت اور اخلاق و عادات کے اعتبار سے بہتر ہو ؛ لیکن علم سے محروم ہو ، اس کی مثال اس شخص کی ہے ، جو یوں تو خوبصورت اور صحت مند ہو ؛ لیکن آنکھوں سے محروم ہو ، اور جو شخص تعلیم یافتہ ہو ؛ لیکن اس کی تربیت نہیں ہوئی ہو ، اس کی مثال اس بینا شخص کی سی ہے ، جو ظالم اور مظلوم میں فرق نہیں کرتا ہو اور ایک خنجر آبدار اس کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہو ، پہلا شخص اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا اور دوسرا شخص سماج اور معاشرہ کو ؛ چنانچہ دن و رات اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ تعلیم سے محروم افراد پسماندگی اور محرومی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور کردار و اخلاق سے محروم تعلیم یافتہ شخص پوری قوم کے لئے درد سر بن جاتا ہے ، اس کا تکبر ، اس کی زبان درازی ، دوسروں کی حق تلفی اور رشوت کی گرم بازاری پورے سماج کو بے سکون بنادیتی ہے ۔
اسی لئے اسلام نے تعلیم اور تربیت دونوں کو یکساں اہمیت دی ہے ، اسلام نے جہاں تعلیم حاصل کرنے اور اپنے نونہالوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے پر زور دیا ہے ، وہیں خاندان اور سماج کے ذمہ دار لوگوں کو اپنے چھوٹوں کی تربیت کی بھی نہایت تاکید کے ساتھ تلقین کی ہے ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : دوزخ کی آگ سے اپنے آپ کو بھی بچاؤ اور اپنے زیر پرورش لوگوں کو بھی : ’’قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَأَھْلِیْکُمْ نَاراً‘‘ (التحریم : ۶) صرف نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا گیا ؛ بلکہ فرمایا گیا کہ اپنے اہل و عیال کو بھی نماز کی تاکید کرو : ’’ وَأْمُرْ أَھْلَکَ بِالصَّلوٰۃِ‘‘ (طٰہٰ : ۱۳۲) بچوں کی تربیت کا رسول اللہ ا کا اتنا زیادہ لحاظ تھا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بچے سات سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو انھیں نماز پڑھنے کا حکم دو ، اوردس سال کی عمر کو پہنچ جائیں اور نماز ترک کریں تو ان کی سرزنش کرو ، نیز اس عمر کو پہنچنے کے بعد ان کے بستر الگ الگ کردو ، ( سنن ابوداؤد ، باب متی یومر الغلام بالصلاۃ، حدیث نمبر : ۴۹۵) والد کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے خاص طورپر تربیتی پہلو کو ذکر فرمایا اور والد پر اولاد کا یہ حق قرار دیا کہ وہ اپنی اولاد کا اچھا نام رکھے اور اس کو ادب سکھائے : ’’ فلیحسن اسمہ وادبہ‘‘ ۔ (مسند بزار ، حدیث نمبر : ۸۵۴)
آپ انے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ کسی باپ نے اپنی اولاد کو بہتر تربیت سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا : ’’ ما نحل والد ادباً أفضل من ادب حسن‘‘ (ترمذی ، حدیث نمبر : ۱۹۵۲) اور حضرت جابر بن سمرہ ؓسے آپ اکا ارشاد منقول ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بچے کی تربیت کرے اور اسے ادب سکھائے ، یہ ہر دن مسکینوں پر آدھا صاع یعنی صدقۃ الفطر کے مقدار گیہوں صدقہ کرنے سے افضل ہے ، (مسند بزار ، حدیث نمبر : ۴۲۷۴) رسول اللہ ا بچوں کی ہر پہلو سے تربیت کرتے تھے ، یہاں تک کہ کھانے پینے میں بھی ، آپ کے ربیب (سوتیلے بیٹے ) عمر بن ابی سلمہ کھانا کھاتے ہوئے اِدھر اُدھر ہاتھ ڈال رہے تھے تو آپ نے فرمایا : بسم اللہ پڑھو ، داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ ۔ (بخاری ، باب التسمیۃ علی الطعام الخ ، حدیث نمبر : ۵۳۷۶)
اسی طرح آپ بچوں کو اچھی اچھی نصیحتیں فرماتے تھے ، ایسی نصیحتیں جو زندگی کے ہر مرحلہ میں کام آئیں اور بچوں اور نوجوانوں کی زندگی کے رُخ کو صحیح رکھیں ، ایک بار حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں : اللہ کو یاد رکھو تو اللہ تمہیں یاد رکھے گا ، اللہ کو یاد کروگے تو اللہ کو اپنے سامنے پاؤگے ، کوئی چیز مانگنی ہوتو اللہ ہی سے مانگو ، مدد چاہئے تو اللہ ہی سے چاہو ، تمام لوگ مل کر تم کو فائدہ پہنچانا چاہیں ، تب بھی جو فائدہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے وہی پہنچے گا ، لوگ کوئی نفع نہیں پہنچاسکیں گے ، اگر سب مل کر نقصان پہنچانا چاہیں تو جو نقصان اللہ نے مقدر کیا ہے ، وہ اس کے سوا کوئی اور نقصان نہیں پہنچاسکتے ، سہولت کے وقت اللہ کو یاد رکھو تو دشواری کے وقت اللہ تم کو یاد رکھے گا ، جان لوکہ اللہ کی مدد صبر کے ساتھ ہے اور مصیبت کے ساتھ کشادگی اور تنگی کے ساتھ سہولت ہے ۔ ( ترمذی ، عن عبد اللہ بن عباسؓ ، حدیث نمبر : ۲۵۱۶)
چھوٹے بچوں کی تربیت کافی نہیں ہے ؛ بلکہ جب بچے بڑے ہوجائیں ، تب بھی ان کی تربیت کا خیال کرنا والدین کی ذمہ داری ہے ، اسی لئے آپ انے فرمایا کہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ جب بچے بالغ ہوجائیں تو ان کا نکاح کردو ، اگر والد نے اس سے غفلت برتی اور وہ گناہ میں مبتلا ہوگیا تو اس کے گناہ کا بوجھ اس کے والدین پر بھی ہوگا : ’’ … فان بلغ ولم یزوجہ فاصاب اثماً فانما اثمہ علی ابیہ‘‘ (شعب الایمان للبیہقی ، حدیث نمبر : ۸۲۹۹ ) اس لئے رسول اللہ ا کی بچوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ رہتی تھی ، آپ نے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : تم میں سے جو شادی کے بعد کی ضروریات پوری کرنے پر قادر ہو تو اس کو شادی کرلینی چاہئے کہ یہ چیز نگاہ کو پست رکھتی ہے اور عزت و آبرو کی حفاظت کا ذریعہ بنتی ہے ، اور جو نکاح کرنے کی گنجائش نہیں رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہئے کہ روزہ اس کے لئے گناہ سے ڈھال بن جائے گا : ’’ فأنہٗ لہٗ وجاء‘‘ ۔ ( بخاری،کتاب النکاح،حدیث نمبر:۴۷۷۹)
ایک موقع پر آپ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت سمجھو ! بوڑھاپے سے پہلے جوانی کو ، بیماری سے پہلے صحت کو ، تنگ دستی سے پہلے خوشحالی کو ، مشغولیت بڑھ جانے سے پہلے فراغت وقت کو ، (مستدرک حاکم ، حدیث نمبر : ۷۸۴۶) یہ تمام نصیحتیں ہر انسان بالخصوص نوجوانوں کے لئے بڑی اہم ہیں ؛ کیوںکہ نوجوان عام طورپر صحت مند بھی ہوتا ہے ، کمانے کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے خوشحال بھی اور عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ جس طورپر ذمہ داریاں بڑھتی ہیں ، اس لحاظ سے اس کو فراغت وقت بھی حاصل ہوتی ہے اور اگر واقعی وہ اس عمر کو سنبھال کر رکھے تو اس جیسا خوش بخت اور سعادت مند کوئی اور نہیں ۔
تربیت میں عام طورپر تین عناصر اہم کردار ادا کرتے ہیں : اساتذہ ، والدین اور دوست و احباب ، استاذ سے اس کے شاگرد صرف ان مضامین ہی کو نہیں پڑھتے جو نصاب کا حصہ ہوتا ہے ؛ بلکہ وہ اپنے اساتذہ سے بول چال ، انداز ملاقات ، طریقۂ تخاطب ، لباس و پوشاک ، یہاں تک کہ ہنسی مذاق سب کچھ سیکھتے ہیں اور پڑھنے والوں پر ان کی گہری چھاپ پڑتی چلی جاتی ہے ، مگر افسوس کہ آج کل اساتذہ پیشہ ورانہ حیثیت میں کام کرتے ہیں ، طلبہ ان سے خوبیوں کو حاصل کرنے کے بجائے کمزوریوں کو اخذ کرتے ہیں ، کام چوری ، ناشائستہ گفتگو ، نامناسب رویہ اور فرض ناشناسی کا سبق اکثر وہ اپنے اساتذہ ہی سے سیکھتے ہیں اور اپنی آئندہ زندگی میں اس کو دُہراتے ہیں ۔
والدین پر اولاد کی تربیت کی خصوصی ذمہ داری ہے ؛ کیوںکہ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ خود کیسا بھی ہو ؟ اس کے بچے اچھے ہوں ، شراب پینے والوں کو بھی یہ بات پسند نہیں ہوتی کہ اس کے بچے شراب پئیں ؛ لیکن تین باتیں تربیت میں رکاوٹ بنتی ہیں ، ایک تو ماں باپ کی جہالت ، مسلم معاشرہ میں آج بڑی تعداد ایسے والدین کی ہے ، جو اپنی اولاد کی تربیت کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ، دوسرے : معاشی تگ و دو کے لئے بڑھی ہوئی مشغولیت اور تفریحی وسائل کے سامنے وقت گذارنے کا مزاج ، شہروں میں بڑی تعداد ایسے ہی سرپرستوں کی ہے ، انھیں وقت ہی نہیں ملتا کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی وقت لگاسکیں ، ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے : کمانا ، کمانا اور کمانا ، تیسرے : وہ لوگ ہیں جو تعلیم یافتہ بھی ہیں ، بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال بھی ہے ؛ لیکن ان کے نزدیک تربیت کا مطلب صرف بچوں کو دنیوی زندگی کی آسائشوں کے لئے کو تیار کرنا ہے ، اخلاقی تربیت کی ان کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ، ہاں جب وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچتے ہیں اور اپنی اولاد کی غفلت و بے توجہی انھیں خون کے آنسو رلاتی ہے ، اس وقت انھیں اپنی اس غفلت کا احساس ہوتا ہے ۔
تربیت کا تیسرا ذریعہ انسان کے دوست و احباب ہیں ، انسان پر اس کے ہم نشینوں کا بڑا گہرا اـثر پڑتا ہے ؛ بلکہ بعض اوقات انسان اساتذہ اور والدین سے بھی بڑھ کر اپنے دوستوں اور ہم نشینوں کا اثر قبول کرتا ہے ، رسول اللہ انے انسان کی شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے میں ہم نشینوں کے رول کو بڑی عمدہ مثال سے سمجھایا ہے ، آپ انے فرمایا : اچھے ہم نشیں کی مثال عطر والے کی ہے کہ یا تو وہ تم کو عطر عطا کرے گا ، یا اس تم سے عطر خریدوگے ، یا کم سے کم اس سے خوشبو تو پاہی لوگے ، اور خراب ہم نشیں کی مثال بھٹی پھونکنے والے کی ہے کہ اگر کپڑا نہ جلے تو دھویں سے تو نہ بچ سکوگے ، (بخاری ، عن ابی موسیٰ اشعری ، باب المسک،حدیث نمبر : ۵۲۱۴)موجودہ دور میں سماجی بگاڑ کی وجہ سے عام طورپر تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو جو صحبت ملتی ہے وہ ان کو فائدہ بہت کم اور نقصان بہت زیادہ پہنچاتی ہے ؛ اس لئے تربیت کا عنصر بالکل ختم ہوتا جارہا ہے ؛ اسی لئے معاشرہ میں جیسے جیسے تعلیم بڑھتی جاتی ہے ، اخلاقی اقدار تباہ ہوتی جارہی ہیں ، پڑھ لکھ کر طالب علم ایک اچھی آمدنی حاصل کرنے والا شخص تو بن جاتا ہے ؛ لیکن وہ ایک اچھا انسان نہیں بن پاتا ۔
یہ صورت حال اس وقت اور بھی زیادہ پریشان کن ہوتی ہے ، جب نوجوان ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے دوسرے شہروں کو جاتے ہیں اور وہاں ان کو ایسے اساتذہ نہیں ملتے جو شفقت و محبت کے ساتھ ان کی تربیت کا فریضہ انجام دیں ، نہ وہاں کسی درجہ میں بھی والدین کی نگرانی ہوتی ہے اور نہ اچھے دوستوں کا ساتھ حاصل ہوتا ہے ، یہ چیز ان کو بہت تیزی سے بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے ، آج کل بہت سے طلبہ اپنی اعلیٰ تعلیم کے لئے دیہات سے شہر اور چھوٹے شہروں سے بڑے اور مرکزی شہر کا رُخ کرتے ہیں اور تربیت اور نگہداشت کا معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے جس طرح کے ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں ، وہ شب و روز اخبارات میں دیکھے جاسکتے ہیں ؛ اس لئے یہ بہت قابل فکر مسئلہ ہے کہ نوجوانوں کی تربیت کس طرح کی جائے اور بالخصوص وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جو تعلیمی مقاصد کے تحت اپنے وطن سے دور ہیں ، انھیں کس طرح سنبھالا جائے ؟
اس سلسلہ میں ایک قدیم تجویز معروف محقق اور صاحب نظر مصنف مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ کی ہے ، جس کا انھوںنے اپنی نوعیت کی منفرد فاضلانہ کتاب ’’ اسلام کا نظامِ تعلیم و تربیت ‘‘ (دو جلدیں ) میں ذکر کیا ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ شہروں میں مسلمان طلبہ کے لئے ہاسٹل قائم کیا جائے ، موجودہ حالات میں یہ تجویز مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے کہ طلبہ کے لئے بھی اور طالبات کے لئے بھی دینی ماحول کے ساتھ مسلمانوں کے اپنے ہاسٹل ہوں ، جن میں انھیں بنیادی دینی تعلیم دی جائے ، اسلامی ماحول فراہم کیا جائے ، جس طرح دینی درسگاہوں میں تربیت کی جاتی ہے ، اسی انداز پر اس کی تربیت کی جائے ، عقیدہ ، اعمال اور اخلاق کی سہ رُخی تربیت پر زور دیا جائے ، لڑکیوں کے ہاسٹل میں پردہ کا خصوصی اہتمام کرایا جائے ، اس پر بات بھی نظر رکھی جائے کہ الکٹرانک ذرائع کا غلط استعمال نہ ہو ، مخرب اخلاق سائٹیں بند کردی جائیں اور ایسے جامر نصب کئے جائیں ، جن کو صرف ضروری اوقات میں کھولا جائے ، اگرچہ یہ تجویز پہلے بھی اہم تھی ؛ لیکن اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ لوگوں نے پرائیوٹ طورپر جو ہاسٹل قائم کر رکھے ہیں ، ان کا مقصد صرف کرایہ حاصل کرنا ہے ، ان میں دینی تربیت کا کوئی خانہ نہیں ، چند طلبہ مل کر اگر شخصی طورپر کوئی کمرہ حاصل کرتے ہیں تو وہاں اخلاقی بگاڑ کے مواقع اور بڑھ جاتے ہیں ، حکومت کی طرف سے جو ہاسٹل بنے ہوئے ہیں ، وہاں کماحقہ نگرانی نہیں ہوتی اور موجودہ حالات میں وہاں مشرکانہ شعائر کو بھی فروغ دیا جاتا ہے ، برادرانِ وطن کے تیوہار کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اورمورتیاں بھی آویزاں کی جاتی ہیں ؛ اس لئے ضرورت ہے کہ ادارے دیہاتوں اور چھوٹے شہروں سے آنے والے طلبہ و طالبات کے لئے مناسب اور کم اُجرت پر قیام کا انتظام کیا جائے ، اگر دینی مدارس اپنے احاطہ میں طلبہ کے لئے اور لڑکیوں کے مدارس طالبات کے لئے ہاسٹل قائم کریں تو یہ بہت ہی مفید صورت ہوگی ، اس طرح ہم قوم کے بہت سے بچوں اور بچیوں کو گمراہ ہونے سے بچاسکیں گے اور جو لوگ عصری تعلیم سے آراستہ ہوکر آئندہ گورنمنٹ ملازمتیں حاصل کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ حکومتوں کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہوں ، وہ اسلامی ذہن کے ساتھ اپنے اپنے کاموں کو انجام دیا کریں گے ۔ 

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019