دینی مدارس کے فضلاء ہوشیار باش (قسط دوم )


طریقہ واردات
ان نقلی " بابوں کا طریقہ واردات بہت ہی پرکشش ہوتا ہے اسپر بات آگے چل کرکرتا ہوں ۔۔۔
ابھی یہ وضاحت !!
جان لیں کہ یہ بابے اپنی اس روایت شکنی میں یا منھج میں بہت مخلص ہوتے ہیں مطلب انتہائی اخلاص اوردیانتداری کیساتھ روایت سے کٹے ہوتے ہیں انکے اخلاص میں شک کرنا نری حماقت ہے یہ بابے مکمل اخلاص کیساتھ جادہ اعتدال کو خداحافظ کہہ چکے ہیں ۔۔۔۔
انکے اس شکست کی وجہ انکے ایمانی کیفیت میں اس تعلق کی کمی ہے جو ایک مسلمان کو جمہور اہل علم کیساتھ ہوتا ہے جسکی بنیاد رسول اللہ کے مبارک فرامین ہیں کہ امت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی اس اعتماد کا فقدان ہے جو آدمی کو کسی بھی شاذ قول کے قبول کرنے سے روکتا ہے اس جرات کاعنقاء ہونا ہے جو رد کرنے کی صلاحیت سے معمور ہو اس لئے یہ مخلص منحرف بابے جب کسی کی کوئی تحقیق جو جمہور سے مختلف ہو دیکھتے ہیں تو رال ٹپکانے لگتے ہیں ۔۔۔

اب یہاں سے شروع ہوتی ہے وہ واردات !!!

یہ کرتے یوں ہیں کہ ان شاذ اقوال کو بغیر قائل کے نقل کرنے کے اپنی تحقیق کے نام سے پیش فرماتے ہیں لیکن اس میں بھی انکا اسلوب نگارش ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی پکڑ کرے تو پتلی گلی سے نکلنے کی کرتے ہیں اور یہ پتلی گلی پہلے ہی سے رکھی ہوتی ہے ۔
جب نابالغ ذہن انکی یہ تحریرات پڑھتے ہیں تو وہ بیچارے بس لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں اور انکے ٹریپ میں آجاتے ہیں چونکہ ان بابوں نے درسگاہوں میں ایسے ایسے دعاوی کئے ہوتے ہیں کہ کچے ذہن کا طالب تو مرعوبیت کی اس وادی میں اترا ہوتا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن ہوتا ہے مثلا
ہمارے ممدوح حضرت مفتی زاہد صاحب جب درسگاہ میں مشکواۃ کے سبق میں جناب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اپنے " تشیعانہ " اثرات کا چھڑکاو کرتے ہیں تو کوئی جھنگوی شہید کا مرید سوال کردیتا ہے
(صدقے مرشد جھنگوی تو نے جرات ومحبت اصحآب واہل بیت دی ) کہ حضرت آپکے شیخ حضرت شیخ الاسلام نے تو ،، تاریخی حقائق ،، میں یوں لکھا تو حضرت جھٹ سے جناح کیپ کو سر سے اتار کر دوبارہ رکھکر پہلے مسکراتے ہیں پھر آنکھوں میں سرخ دوڑے لاتے ہیں منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کیا تقی تقی لگارکھی ہے وہ تو میرے اگے بچہ ہے جب دیکھتے ہیں کہ طلباء سہم گئے تو پھر پینترا بدلتے ہیں اور گل افشاں ہوتے ہیں کہ بھائی وہ تو تقی نے جوانی میں لکھی تھی اگر اب اسپر نظر ثانی کرے تو اس سے رجوع کرلے ۔۔
اب جب ایک طالب علم دیکھتا ہے کہ جناب تو شیخ الاسلام کو ہی گھاس نہیں ڈال رہے تو حضرت خود کتنے بڑے شیخ المشائخ محقق العصر والمغرب والعشاء ہونگے
یا اسی طرح بدھ کے دن کچھ طلباء قریب میں سید جاوید حسین شاہ صاحب کی خانقاہ میں چلے جاتے ہیں تو حضرت انکے بارے یہ کلمات خبیثہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ صوفی الو کے پٹھے وہاں کیا لینےے جاتے ہیں میری 50 سالہ علمی تحقیقات کو چھوڑ کر طالب بیچارہ تو طالب ہوتا ہے دل ہی دل میں ہنستا ہوگا کہ حضرت کی عمر مبارک ہی کچھ 52 یا 55 کے قریب ہوگی حضرت نے تو فیڈر پیتے ہی علمی تحقیقات شروع کردی تھیں جبکہ اس زمانے میں بچے عموما " الٹیاں " کرتے ہیں جسکو یہ تحقیقات سمجھتے ہیں ۔۔۔
خیر جب کوئی سرپھرا پکڑ کرتا ہے تو وفاداران کی فوج موج ظفر( آنجناب نے مشکواۃ کی درسگاہ میں طلباء کے ردعمل سے زچ ہونے کے بعد درجہ ثالثہ سے البحث والتحقیق کے نام سے ایک رجمنٹ تشکیل دیا ہے کہ کچی عمر سے انکو پختگی سے محفوظ رکھا جائے تشکیک کے زہر سے انکے اذھان کو بھر دیا جائے انکو جمہور کی ہرتحقیق میں کیڑے نظرآئیں اور انکو اقوال متروکہ کے سحر میں مبتلاء رکھا جائے ) بل پڑتی ہے کہ
آہا۔۔۔۔۔!!!
ہمارے حضرت کو آنکھ بھر کہ دیکھا کیوں تم کیا جانو حضرت تو امام اعظم سے بھی اوپر کی چیز ہیں ارے خدانے تو وہ سانچہ ہی توڑ دیا ہے جسمیں مفتی زاہد صاحب کو بنایا تھا ساری دیوبندیت کا علم ایک طرف حضرت مفتی صاحب کی جوتی ایک طرف ایسے ایسے دعوے چھوڑتے ہیں کہ ابوزید سروجی بھی ہاتھ جوڑدیتا ہے کہ" استاد تسی گریٹ او "
ایک طریقہ واردات انکا یہ ہوتا ہے کہ پروپگنڈا کرتے ہیں کہ مدارس میں جمود ہے جمود ہے جمود ہے یہ تسبیح اعلی حضرت نے انکو دن میں دس ہزار مرتبہ کرنے کو دی ہوتی ہے یہ ہر بحثی والتحقیقی کا وظیفہ حیات ہے کہ بس ہر وقت مراقبہ مناقشہ مذاکرہ مباہلہ مباطنہ مراجلہ مبالغہ جو بن پڑے کرو کہ مدرسے میں جمود ہے جمود ہے اور استاد نے کلہاڑی پکڑی ہوئی ہے جو اس جمود کو توڑنا چاہتے ہیں استاد کا یہ امت پر احسان ہے کہ وہ 1400 سالہ جمود توڑ رہے ہیں یہ پرانا سسٹم اسے حضرت بدلنا چاہتے ہیں یہ جو مدارس کا دوتین سو سالہ تاریخ ہے اسکو مسخ کرنا چاہتے ہیں اور تم دوٹکے کے ملاں اسے بچانا چاہتے ہو تمھاری ایسی کی تیسی ۔۔۔
تم کتے ہو بھونکتے ہو حضرت استاد پر تم چمگادڑ ہو استاد کے سر پر الٹے لٹکے ہوئے ہو استاد مدارس کی کال کوٹھڑی میں اجالا کرنا چاہتے ہیں اور تم اجالوں کے دشمن ہو شکل دیکھی ہے اپنی عرب کے بدووں جیسی نہ زمانے کا پتہ نہ رواج سے آشانا بس وہی ٹخنوں سے اوپر شلواریں اور سر پر پرانے عربوں کی طرح پگڑ لمبے کرتے وحشی دکھتے ہو حضرت استاد تمھیں انسان بنانا چاہتے ہیں ۔۔۔
یہ ہوتی ہے تقریر بحثی تحقیقی فاضل کی اب اس چکنی چپڑی پر کس کافر کا دم نہیں نکلے گا لیکن
اچانک ایک مزدور قسم کا ریہڑی بان ملاں ایک سوال کرتا ہے کہ سیدی یہ جمود کی وضاحت تو ہو کہ مدارس میں کس چیز کو جناب جمود کہتے ہیں جسکو توڑنے کی قسم جناب نے کھارکھی ہے ؟؟؟
یار آگے کی کہانی کل پہ رکھتے ہیں
چلیں بحثی وتحقیقی بچے شروع ہوجائیں گالیاں دینے
جاری ثم ساری ہے

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018