دینی مدارس کے فضلاء ہوشیار باش

 

کل ایک اشتہار دیکھا جس میں دینی مدارس کے طلباء کے لئے بھاری بھر کم کورسسز کی فہرست تھی منتظمین اور سرپرستان کے نام دیکھے تو خیال آیا کہ یہ دینی مدارس کے فضلاء کو روایت سے کاٹنے کے سنہری جال ہیں ۔

وہ کیسے ؟؟؟

وہ ایسے کہ ۔۔۔!!!
مدرسہ نے آٹھ سال آپ پر محنتت کی آپکو مکمل زندگی فراہم کی آپ سے ہاسٹل کی فیس مانگی نہ پڑھائی کے چارجز تو نہ ہی میس کی کوئی قیمت وصول کی کتاب سے لیکر استاد تک دارالاقامہ سے لیکر درسگاہ تک اسباق سے لیکر تکرار ( گروپ سٹڈی ) تک سب آپکو ایک ہی چھت کے نیچے مہیا کیا جو وعدہ کیا وہ پورا کیا ۔۔
مدرسہ کے معاونین نے اپنی محنت کی کمائی سے پیسہ پیسہ جور کر آپکو کھلایا پلایا وہ خود تو تپتی دھوپ میں کام کرتے ٹھٹرتی سردیوں اور چلچلاتی دھوپ میں کماتے لیکن اپکی سایہ کے نیچے جملہ ضروریات کا تکفل کرتے ۔
اساتذہ اپنی کئی ضروریات کو قربان کرکے رات رات جاگ کر مطالعہ کرکے آپکو سبق پڑھاتے رہے مہتمم سے لیکر چوکیدار تک آپکی خدمت میں مگن رہے ۔
آپکے والدین باوجود بیماری بڑھاپے کہ آپکو فارغ کرکے پڑھواتے رہے ذرا سوچیں جب آپ پڑھ رہے تھے تو آپکے والد صاحب کیسی مشقت کرتے تھے ؟؟؟
آپ جوان تھے انکے بڑھاپے کا سہارا بننتے والدہ بوڑھی ہڈیوں کیساتھ گھر کے کام کرتی لیکن اس نے آپ سے کام نہیں لئے آپکو اپنے دل کو نکال کر آپکے سامان میں رکھ کر آپکو اپنے سے دور کیا ابھی آپ کو تجربہ نہیں جب خود کے بچے ہونگے تو معلوم پڑے گا کہ کہ اولاد کو خود سے دور کرنا ناخن کو گوشت سے الگ کرنے سے زیادہ تکلیف دہ عمل ہے ۔
استاد معاون والدین انتظامیہ ملکر بنتا ہے
"مدرسہ "
تو مدرسہ نے آپ پر بہت محنت کی ۔۔۔۔۔

ان سب نے یہ محنت کیوں کی ؟؟؟

آپ ذراوقت نکال کر ان میں سے کسی سے بھی سوال کریں گے تو آپکو جواب ملے گا کہ آپ پر یہ ساری محنت اس لئے ہوئی کہ آپ دین سیکھ کر اپنے اور ہمارے دین کی حفاظت کرینگے خدمت دین کریئنگے رسول اللہ ﷺ جو دین لیکر آئے اور صحابہ نے جیسا آگے نقل کیا اکابرین نے جیسا سمجھایا آ پ وہ امانت لیکر آگے کی نسلوں کو منتقل کریں گے ۔۔۔۔۔

اس خواہش اور اس مقصد اور اس آس پر یہ سب اپ پر محنت کرتے رہے ۔۔۔۔

مدرسہ نے کبھی نوکری کا وعدہ نہیں کیا مدرسہ نے کبھی اچھے معاش کی ضمانت نہیں لی مدرسہ نے کبھی نام نہاد "روشن مستقبل " کی بات نہیں کی مدرسہ نے آپ سے کسی منصب وسٹیٹس کا وعدہ نہیں کیا
مدرسہ نے آپکو اعلائے کلمۃ کا گر سکھایا آپکو فہم دین کا ہنر دیا آپکو کتب بینی کی صلاحیت سے نوازا مدرسہ نے روشن آخرت اچھی آخرت اور اخروی ترقی کا خواب دکھایا ۔

جی ہاں !!!

مدرسہ دنیا کے لئے ایک فضول بے کار چیز ہے کیونکہ مدرسہ آپکی دنیا کے سنوارنے کی محنت ہی نہیں کرتا مدرسہ آپکی آخرت سنوارتا ہے ہاں ضمنا دنیا بھی سدھر جائے تو مالک کی شان بے نیازی کے کیا کہنے ،،،،،
مدرسہ چاہتا ہے کہ آپ بھی باہر جاکر لوگوں کو آخرت کی تیاری کروائیں جس کے ضمن میں دنیا بھی سنورتی چلی جائے گی ،
ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جو شخص جمہور سے جڑا روایت کے کھونٹے سے بندھا تراث کا وارث بنا تسلسل کی کڑی ٹھرا اکابر کے دامن سے وابستہ رہا اسکی دنیا بھی بنی آخرت بھی خوبصورت ہوئی اسے عزت بھی ملی شہرت بھی ملی جہاں وہ گیا وہیں بزم سجی جہاں وہ بیٹھا وہیں میخانہ بن گیا جہاں وہ چلا مخلوق چلی جہاں وہ رہا آفتاب ومہتاب رہا اسکی زندگی کی طوالت کی دعائیں پاک دامن بیبیاں مانگتی ہیں اسکے ایصال ثواب کے نہ ختم ہونے والی ترتیبات قائم ہوتی ہیں ۔
لیکن جو کٹ گیا وہ تو مر گیا نہ اسکا علم کسی کام کا نہ اسکی محنت کوئی رنگ لائی چند ظاہری چمک ومک کے لوگوں سے وقتی واہ واہ تو ملی لیکن ہمیشہ کی گمنامی انکا مقدر ٹھری ۔

یاد رکھیں ۔۔!

عزت شرافت نجابت سیادت قیادت استقامت لازم ہیں روایت سے جڑنے میں اکابر اور بڑوں کی مان کرچلنے میں ہے
انہی اوصاف نے مغربی تہذیب کی چکاچوند اور ہمہ جہتی غلبہ کے سامنے اسلامی تہذیب کو زندہ تہذیب کے طور پر رکھا ہوا ہے !!!
مغرب آپ سے پریشان ہے وہ اصل میں آپ سے نہیں آپکے بڑوں سے جڑنے اور اسلام کی حقیقی روایتی تعبیر سے خائف ہے اسکا مکمل زور ہے کہ آپکو بڑوں سے کاٹ دے آپکو اکابر سے برگشتہ کردے آپکو روایت سے توڑ دے آپ سے تسلسل کا انقطاع کردے آپکو سند کے سلسلۃ الذہب سے دور کردے ۔
اس کے لئے انکو خدمات حاصل ہیں آپکی اپنی صفوں میں گھسے چند انکے تلوے چاٹ اول جلول قسم کے فکری بے راہ روی کے شکار آپکے ہی ہم شکل اکابر کے باغیوں کی جو مکمل وضع قطع میں آپکی طرح دکھتے ہیں اور بڑوں کی مسند پر قابض بھی ہیں آپکا ان سے وہ تنفر نہیں جو کسی دوسری وضع وقطع والوں سے ہے تو وہ آپکے لیئے ایسے کورسسز ڈیزائن کرتے ہیں وہ آپکے لئے ایسے جال بچھاتے ہیں وہ اپکے لئے ایسے خشنما پھندے سجاتے ہیں وہ آپکو ایسے بھاری الفاظ کا دانہ ڈالتے ہیں ،

مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ آپکو آپکے تسلسل سے کاٹ دیں ۔۔۔۔۔

جب اپ ایک دفعہ کٹ گئے تو پھر کٹی پتنگ کی منزل کسے معلوم کہ کس کی جھولی میں جاکر گرتے ہیں جو ایک دفعہ فکری جھکڑوں کی زد میں آگئے تو کیا پتہ آندھی میں اڑتے شاپر کی طرح کس روڑی کے ڈھیر پر گریں ایک بار جو تشکیک کی وادی میں بھٹک گئے تو کیا خبر کس صحراء میں جاکر دم توڑیں ایک بار جو تفرق کے دریا کے نذر ہوگئے تو کیا جانیں کہ خسوخاشاک کی مانند کس بحر ظلمات میں جا ٹپکیں
اس لئے اے میرے مدارس کے پیارے فضلاء
جڑیں اپنے بڑوں سے جنہوں نے سالہاسال آپکو پڑھایا آب بھی اپنی اگلی راہیں انکے ہی مشورے سے طے کریں اپنی سمتوں کا تعین اپنے مشفق اساتذہ کی راہنمائی میں کریں اپنی منزل کی جانب سفر انہی کی سربراہی میں شروع کریں کیونکہ روئے زمین پر ان سے زیادہ آپکا مخلص کوئی نہیں !!!
وہ جانتے ہیں کہ روایت کا امین کون ہے وہ آپکو غلط ہاتھوں میں نہیں جانے دیں گے وہ دلیل کی قوت سے مالامال ہیں اپکو گمراہ سیٹ اپ میں جانے سے بچالیں گے بفضل اللہ ۔
تو گزارش ہیکہ یہ نیلے پیلے سرخ شوخ رنگوں کے اشتہاروں کے سحر میں مت آئیں
یہ اندھیروں کے اڈے ہیں آپ روشنیوں کے مسافر ہیں ۔
کسی بھی ادارے یا کورس خواہ کتنا ہی بڑے نام کا بابا شروع کررہا ہو
مت جائیں
جب تک استذہ اور اپنے بزرگوں سے پوچھ نہ لیں
کیونکہ ہمارے بڑے جانتے ہیں کہ اصلی بابے کون ہیں اور نقلی بابے کونسے ہیں
نقلی بابوں سے بچ جائیں اصلی بابوں کو پہچانیں
جاری ہے

تبصرے

  • محترم مفتی زاہد کے 'تفردات' تو ایک عرصے سے جاری ہیں، تو گرفت میں اتنی تاخیر کی وجہ؟ نیز مفتی زاہد کے علاوہ بھی افراد و ادارے ہیں جو 'تجدد' کے بخار کا شکار ہیں، حال ہی میں جامعۃ الرشید کا 'کانووکیشن' اور اس میں شعیب سڈل کی سنگین جرات اور اس پر معزز علماء کرام کی مجرمانہ خاموشی پر بھی لکھیے!

تبصرہ لکھیں

ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018