سید الانبیا ﷺ کی سیرتِ طیبہ رہتی دنیا کے لیے ایک پیغام، ایک درس، ایک تاریخ، ایک مثال، ایک نمونہ، ایک رہ نما اصول اور ایک لاجواب و سرمدی دستورِ حیات ہے۔ ربِ لم یزل کی شان اور نبوتِ محمدی کا اعجاز ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت کے 23 سال کی مختصر مدت میں ذاتِ نبوی پر ان سارے حالات و کیفیات کا گزر ہو گیا جن سے قیامت تک کسی انسان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ فتح و ظفر، شکست و ریخت، غربت و امیری، شاہی و گدائی، فرحت و مسرت، اقبال و ادبار، غلبہ و مغلوبیت، سفر و حضر، تجارت و مزدوری، رمز و غمز، کثرت و قلت ان تمام حالات کو طے کرنے کے بعد امتِ مسلمہ کو آں حضرت ﷺ کی حیات طیبہ کی صورت وہ نمونہ ملا جو راہِ راست سے آشنا کرتا ہے۔ آپ ﷺ کے اوصافِ حمیدہ، عمدہ اخلاق، نرم گفتار، پرسوز کردار، عاجزانہ چال، تواضعانہ لباس بلکہ پوری زندگی ، کہ اس کی اتباع دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی کا باعث ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی خدمتِ انسانیت کا پرتَو ہے۔ غریب پروری اور مسکین نوازی کی شہادتیں انہوں نے بھی دیں جن کو آپ ﷺ کی دعوت اور نظریے سے شدت کا اختلاف رہا۔ شہر کے ہر ضرورت مند کو ایک ہی گھر دکھائی دیتا تھا جہاں اسے حاجت روائی کی امید تھی، غمگین اور پریشان حال کو ایک ہی چوکھٹ نظر آتی تھی جو اس کے دکھوں کا مداوا اور اس کی خوشیوں کا مرکز تھی۔ حیاتِ طیبہ میں مختلف نشیب و فراز آئے، تعصب کے شعلے بھڑک اٹھے، صلابت و سنگ دلی کی انتہا ہو گئی، احسان فراموشیاں کی گئیں مگر محسنِ انسانیت (ﷺ) ہر آن و ہر لمحہ خلقِ خداوندی کی کامیابی و کامرانی کے لیے کوشاں رہے، شب و روز لاچار و بے یار لوگوں کے لیے متفکر رہے، تکلیفیں اور غم جھیلتے رہے، فقر و فاقہ سہتے رہے، آسودگی و غربت کی ہر ساعت میں ایثار کے دامن سے لپٹے رہے۔ امہات المؤمنین سے مروی ہے کہ آپﷺ کی راتیں تڑپتے اور کروٹ پر کروٹ لیتے گزرتی تھیں، کڑھن سونے نہیں دیتی، صدموں سے بے خواب و بے آرام رہتے تھے۔ جس کے کندھوں پر فکرِ انسانیت کا بوجھ ہو اور جو روئے زمین کے تمام انسانوں کا کفیل ہو اس کی قسمت میں نرم و گداز بستروں کی نیندیں کہاں؟
دوسروں کے لیے غم اٹھانے میں ان کی خوشی تھی، خلقِ خدا کا بوجھ اور کمر توڑ بارِ گراں ہی کے لیے تو وہ مبعوث ہوئے تھے ، کائنات بنی ہی انہی کے لیے، وہ فکر نہ کرتے تو جہان والوں کو اور کس ہستی کا آسرا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سب صفات ان میں تخلیق فرما کر اور پوری انسانیت کا بوجھ اٹھانے کا متحمل بنا کر فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ترجمہ: اور اے (محمد ﷺ) ہم نے آپ کو جہان کے لیے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے۔(الانبیاء :107)
یوں تو نبی آخر الزماں ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ہر شخص کے ساتھ اچھا سلوک و روش اور ہر ایک کے حقوق کی پاسداری و ادائیگی کا اہتمام ملتا ہے لیکن نبی کریم ﷺ کا بچوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ، ان کے ذہنی تاثرات و جذبات کی پاسداری اور ان کی پرداخت و تادیب میں بھی سارے عالم کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آں حضرت ﷺ بچوں کے ساتھ بہت شفیق و مہربان تھے، ان کا بوسہ لیا کرتے، مزاح فرماتے، معانقہ کرتے، مصافحہ فرماتے اور جب بھی بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کرتے تاکہ ان کے دلوں میں سلام کی اہمیت پیدا ہو جائے۔
بچے معصوم ہوتے ہیں وہ اس گلستانِ رنگ و بو میں پھولوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں، انہی کی تابانی سے رونقِ جہاں قائم و دائم ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا اندازِ تربیت سب سے بہترین اور منفرد تھا، آپ ﷺ کا بچوں کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ ہر شخص کے لیے رہنما و رہبر کی حیثیت رکھتا ہے۔
بچوں سے خوش مزاجی:
نبی کریم ﷺ معصوم بچوں سے بھی اکثر و بیشتر خوش مزاجی سے پیش آتے تھے اور کبھی کبھی ان سے مزاح بھی فرما لیا کرتے تھے۔ چناں چہ حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ بچوں کے ساتھ بڑے خوش مزاج، پر مزاح تھے۔ (دلائل النبوہ، ص: 331 / شمائل ابن کثیر، ص: 387) ۔
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ام سلمہ کی لڑکی زینب سے کھیلتے ہوئے آپ ﷺ فرماتے: اے چھوٹی سی زینب! اے چھوٹی سی زینب!۔ ( کنز العمال، ج: 7 ص: 140) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی اس سلسلہ میں روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت حسن یا حسین کا ہاتھ پکڑا، پھر اپنے دونوں قدم مبارک کو ان کے پیروں پر رکھ دیا اور (مزاحاً) فرمایا: کھینچو!۔ (الادب المفرد، ص: 590) ۔
حضرت انس ؓ کے چھوٹے بھائی "ابو عمیر" نے نغیر (جو ایک پرندہ کا نام ہے) پالا تھا، جب وہ پرندہ مر گیا تو آپ ﷺ نے ان سے (مزاحاً) فرمایا: یا ابا عمير، ما فعل النغير ترجمہ: اے ابو عمیر! تمہارا نغیر کہاں گیا؟۔ (صحیح بخاری، الرقم: 6129) ۔
بچوں سے معانقہ:
حضرت یعلی بن مرہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ آپ ﷺ کے ساتھ نکلے تو راستہ میں حضرت حسین ؓ کھیلتے مل گئے، آپ ﷺ جلدی سے لوگوں سے آگے بڑھے اور اپنا ہاتھ پھیلا دیا، وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے اور آپ ﷺ کو ہنسا رہے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے پکڑ لیا، آپ نے ایک ہاتھ ٹھوڑی پر اور دوسرا سر پر رکھا، پھر معانقہ فرمایا اور کہا: "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، خدا اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے، یہ میری اولاد ہے"۔ (الادب المفرد، ص: 116) ۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ہمیں اور عبد اللہ اور عبید اللہ کو جمع کر لیتے اور اپنے بازو مبارک کو پھیلا کر فرماتے: "جو جلدی سے میرے پاس دوڑ کر آئے گا اسے اتنا اتنا انعام دوں گا"، چناں چہ ہم سب دوڑ کر آتے کوئی پیٹھ مبارک پر اور کوئی سینے مبارک پر، آپ ﷺ چمٹا لیتے اور بوسہ لیتے۔ (طبرانی: سبل، ص: 9329) ۔
محبت و شفقت:
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسولِ اقدس ﷺ بچوں اور اہل خانہ پر بڑے شفیق و مہربان تھے۔ ( ابن عساکر / کنز العمال، ج 7 ص: 155) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت حسن ؓ کا بوسہ لیا تو اقرع بن حابس مجلس میں موجود تھا اس نے کہا میرے تو دس لڑکے ہیں، میں کسی کا بوسہ نہیں لیتا ہوں تو آں حضرت ﷺ نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ ( سبل الہدی، ج: 9 ص: 11368) ۔
حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ حضرت حسین ؓ کو کندھے پر اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: اے اللہ! میں حسین سے محبت کرتا ہوں آپ بھی اس سے محبت فرمائیے۔ ( صحیح بخاری، ص: 530 / ادب مفرد، ص: 39) ۔
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا ایک شیر خوار بچہ ابراہیم کو دودھ پلانے کے لیے ایک دائی مقرر ہوئی، آپ ﷺ اس کو دیکھنے کے لیے وہاں تشریف لے جاتے، گرد و غبار میں ہوتا پھر بھی آں حضرت ﷺ سینے سے لگاتے پیار کرتے اور بوسہ لیتے۔ ( اخلاق النبی، ص: 130) ۔
حضرت ثابت ؓ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ انصار کے قبیلہ میں تشریف لے جاتے، ان کے بچوں کو سلام کرتے، ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔ (حوالہ 14: حاشیہ ادب مفرد 306، نسائی) ۔
احساسات و جذبات کا خیال:
بچوں کے حقوق ادا کرنا اور ان کے احساسات کی رعایت کرنا بچوں کے دماغوں میں مثبت فکر پیدا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں جب کوئی چیز پیش کی جاتی تو آں حضرت ﷺ پہلے بچوں کو پلاتے، اسی طریقے سے جب نماز کے دوران کسی بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپ ﷺ نماز کو مختصر فرما دیتے تاکہ اس کی ماں بے چین نہ ہو۔
سہل بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ آں حضرت ﷺ نے پینے کی چیز میں سے کچھ نوش فرمایا، آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک لڑکا بیٹھا تھا اور بائیں جانب بزرگ حضرات بیٹھے تھے، آپ ﷺ نے اس لڑکے سے فرمایا کہ "کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں ان بزرگوں کو برتن دے دوں؟"۔ اس لڑکے نے کہا کہ نہیں، یا رسول اللہ! میں آپ ﷺ سے بچے ہوئے اپنے حصہ پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا، یہ سن کر رسول اکرم ﷺ نے برتن اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ ( بخاری و مسلم) ۔
ایک مرتبہ ایک لڑکا معرکہِ احد سے قبل آں حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! آپ نے میرے چچازاد بھائی کو معرکہ میں جانے کے لیے قبول فرمایا، حالاں کہ میرا اس سے مقابلہ (کشتی) ہو تو میں پچھاڑ لوں گا، نبی پاک ﷺ نے ان دونوں کو اپنے سامنے کشتی کرنے کا امر فرمایا تو وہ غالب آگیا، پھر آپ ﷺ نے اسے اجازت مرحمت فرمادی۔ ( بخاری) ۔
ام خالد ؓ کہتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ آپ ﷺ کی خدمت میں آئی، میرے اوپر زرد رنگ کا کپڑا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا "سنہ سنہ" (حبشی زبان میں: خوب اچھا خوب اچھا)۔ اور آپ ﷺ کی مہرِ نبوت سے کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا تو آپ ﷺ نے منع فرمایا(کہ اسے نہیں ڈانٹو) پھر مجھے دعا دی۔ ( صحیح بخاری، الرقم: 3071) ۔
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سجدہ فرماتے تو حضرات حسنین ؓ آپ علیہ السلام کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے تو ایسی حالت میں نبی کریم ﷺ سجدہ لمبا فرما دیتے۔ ( مطالب عالیہ، ج: 2 / ص: 72) ۔
بچوں کے لیے دعائیں:
محسنِ انسانیت ﷺ بچوں کو برکت کی، عمر درازی کی اور دیگر دعائیں دیا کرتے تھے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں بچے لائے جاتے، آپ ﷺ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے، تحنیک فرماتے۔ ( کنز مسلم، ج: 2 / ص: 209) ۔
حضرت انس ؓ سے مروی ہے آپ ﷺ نے ان کو دعا دیتے ہوئے فرمایا: اللهم أطل عمره واکثر ما له واغفر لہ ترجمہ: اے اللہ! اس کی عمر دراز فرما اور اس کی مغفرت فرما۔ (حوالہ 20: خصائص کبری، ج: 1 ص: 168) ۔
ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوا، آپ ﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھا، کھجور سے تحنیک فرمائی اور برکت کی دعا دی۔ (بخاری، الرقم: 5467) ۔
نبی کریم ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے حق میں یوں دعا فرمائی: "اللهم فقهه في الدين وعلمه التاويل" ترجمہ: اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور تاویل کا علم سکھا۔ (حوالہ 22: مسند احمد، الرقم: 3032) ۔
بچوں کے ساتھ کھیل فرماتے:
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ بچوں کے ساتھ کھیل فرماتے۔ ( مسند احمد، ج: 3 / ص: 362) ۔
بچوں کو تنبیہ:
آپ ﷺ کے مشفقانہ سلوک کے ساتھ ساتھ چند واقعات میں ہلکی پھلکی تنبیہ بھی ملتی ہے جو تربیت کا حصہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ گھر میں کوڑے لٹکائے رکھو۔ ( ادب مفرد، ص: 359) ۔
مقدام بن میکرب ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ میرا کان پکڑے ہوئے ہیں۔ ( سبل الہدی، ج 9، ص: 370) ۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میرے سر پر گیسو تھے، رسولِ پاک ﷺ اسے پکڑتے اور کھینچتے۔ ( طبرانی، سبل، ص: 370) ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا چھڑی اٹھا کر مت رکھو، ان کو اللہ کے معاملے میں خوف دلاتے رہو۔ ( مجمع الزوائد، ج: 8 / ص: 106) ۔
شاگرد بچے:
سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِماً" ترجمہ: ” میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ ( سنن ابن ماجہ، الرقم: 229) ۔
آپ ﷺ کے صحابی شاگردوں میں بچے بھی ہوا کرتے تھے۔ حضرت محمود بن بعید ؓ نے بچپن ہی میں نبی رحمت ﷺ سے علمِ حدیث حاصل کیا۔ (اسد الغابہ) ۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: "اے انس! جب تو اپنے گھر والوں کے پاس جائے تو سلام کر، اس سے تجھ پر اور تیرے گھر والوں پر برکت ہو گی"۔ ( شعب الایمان، الرقم: 8761) ۔
یہ تمام تر روایات نبی کریم ﷺ کے بچوں کے ساتھ سلوک و برتاؤ اور نہایت شفیقانہ انداز میں تربیت کا نمونہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں پر اپنا رعب و وقار نہ جھاڑیں اور نہ ہی ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کریں۔ رسولِ پاک ﷺ بچوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عمرو بن ابی سلمہ ؓ کا ہاتھ پلیٹ میں ادھر ادھر پڑ رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "يَا غُلامُ، سَمِ اللهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُل ما يليك" ترجمہ: ” اے بچے جب کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ (صحیح بخاری، الرقم: 5376) ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَلَم يُوقِرُ كَبِيرَنَا" ترجمہ: "جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن الترمذی، باب البر والصلة) ۔
اللہ رب العزت قدم قدم پر اتباعِ سنت سے سرشار فرمائے۔ (آمین)