"خدا کی زمین پر، چلے حکم خدا کا" یہ نعرہ آج سے ایک صدی پہلے خطہ ہندوستان میں ایک خواب کے مترادف تھا اور اس خواب کی تعبیر ناممکن تھی۔ خدا کے منکروں کے استعمار و استبداد کی بابت احکام خداوندی پس پشت ڈالے جا رہے تھے، تعیشِ اقتدار کے سبب عقائد مسخ ہو رہے تھے اور اس کے علاوہ طرح طرح کے مسائل میں امت مرحوم سسکیاں لے رہی تھی۔
کافروں سے اختلاط کے باعث مسلمانوں کے عقائد متزلزل ہو رہے تھے، مزید یہ کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے سبب کسی قسم کی بیرونی کمک یا امداد کی اُمید بھی دم توڑ چکی تھی تھی۔ اسی اثنا میں چند غیور، دور اندیش، بالغ نظر، بیدار مغز اور مخلص قائدین، زعماء ملت اور علماء کرام نے اس بات کا ادراک اور فیصلہ کر لیا کہ مسلمانوں کے لیے آزاد سر زمین ناگزیر ہے اور اس کے لیے ہر قسم کی جدو جہد اور سمجھوتہ لازم و ملزوم ہے۔
یہ فیصلہ ایسی فضا اور ایسے ماحول میں کیا گیا تھا کہ جب اس کا تصور و محل بالکل نہیں تھا لہذا بہت سے طبقات کی جانب سے اس کی پر زور مخالفت بھی کی گئی، اغیار کی مخالفت تو ظاہر تھی مگر کچھ با اثر مسلمان بھی اختلاف الرائے کی وجہ سے اس فیصلے کی حمایت نہ کر سکے۔ تاہم ارباب دانش نے جان، مال، اہل و عیال، اپنے خاندان، پسندیدہ علاقے، مناصب، ذخائر الغرض ہر قسم کی قربانی دی اور چشم فلک نے دیکھا کہ کس شان سے لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر یہ سبز ہلالی پرچم کرۂ ارض پر جلوہ افروز ہوا کہ شرپسندوں کی جملہ شر انگیزیوں کے باوجود حق کی حقانیت اور باطل کا بطلان روز روشن کی طرح واضح ہو گیا۔
اس بات میں کوئی تحیر و تعجب نہیں کہ کسی کہنے والے نےخوب کہا کہ اسلام کو اللہ نے مکہ میں نازل فرمایا پھر اسے ریاست مدینہ کی سر پرستی نصیب فرمائی پھر وہ کوفہ منتقل ہوا پھر اس کے ذریعے بغداد کو چار چاند لگے پھر قاہرہ اور پھر استنبول دار الخلافہ رہا اور اب اس دور جدید میں خداوند قدوس نے اسلام کا علمی و دینی مرکز اس مملکتِ خداداد کو مقرر فرمایا، اے پاکستان والو! اس کی قدر کر لو۔
جب ٧ ستمبر ۱۹۷۴ء کو عدالت نے قادیانیت کو کافر قرار دیا تو ایک بزرگ نے کہا کہ آج پاکستان کے قیام کا فائدہ باقاعدہ نظر آگیا۔ یوں ہی نہیں یہ وطن عالم کفر کی نگاہوں میں کھٹک رہا ہے، اس کی وجہ اس کی ناقابل تسخیر بنیاد ہے جو بظاہر انحطاط کا شکار ہونے کے باوجود قائم ہے اور ان شاء اللہ تا روز محشر تک اہل حق کا وطن اور باطل کا مزار ثابت ہوتا رہے گا۔