مضمون 2026/03/11 مشاہدات

امت پہ کبھی بے بسی ایسی تو نہیں تھی

امت پہ کبھی بے بسی ایسی تو نہیں تھی

ملت میں کبھی بے حسی ایسی تو نہیں تھی 

 

کفار کے دامن میں ہے سر، پاؤں ہیں اس سمت

اپنوں سے کبھی بے رخی ایسی تو نہیں تھی

 

دکھ درد سے بھرپور صداؤں کی گرج ہے

دنیا میں کبھی بے کسی ایسی تو نہیں تھی  

  

خاموش مسلماں پہ ہے ٹوٹا ہوا کافر

  ظالم کی کبھی بھی ہنسی ایسی تو نہیں تھی 

 

نااہل سرِ تخت ہیں اور اہل تہِ تیغ

اس قوم پہ طاری غشی ایسی تو نہیں تھی  

 

اس قاتلِ انسان کی ہمدردی تو دیکھو

سفاک! تری دو رخی ایسی تو نہیں تھی

 

حاکم نے رگِ جاں خود ہی ظالم کو دکھائی

انصاف سے بے راہ روی ایسی تو نہیں تھی  

 

مانا کہ یہ دنیا ہے یہاں کچھ بھی ہے ممکن

پر دنیا کی حالت کبھی ایسی تو نہیں تھی

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!