مضمون 2026/03/11 مشاہدات

مجھ کو آنچل میں اپنے بلا لو نا ماں!

بذریعہ

بلال أحمد

سوز فرقت نے مجھ کو پریشاں کیا پیاری ماں تیری یادوں میں غلطاں کیا

میری ماں تو تو جنت کا اک پھول ہے تیری یادوں میں دل میرا مشغول ہے

تجھ سے دوری بھی افتاد سے کم نہیں دل میں بن تیرے دنیا کا کچھ غم نہیں

زیست پردیس میں مجھ کو بہاتی نہیں تیری صورت نگاہوں سے جاتی نہیں

اب تو ہر ایک سو تجھ کو پاتا ہوں میں دل میں یادوں کی شمع جلاتا ہوں میں

جب کتابوں کے ورقے پلٹا ہوں میں تیری صورت کو ہر اک میں تکتا ہوں میں

چپکے چپکے سے تنہا ہی روتا ہوں میں ہار اشکوں کے دل میں پروتا ہوں میں

کون ہے جس سے غم اپنا کچھ کہ سکوں آہ بن تیرے اب کیسے میں رہ سکوں

خلوتوں میں پکاروں کہ اے میری ماں تیرے دم سے ہی روشن ہے میرا جہاں

تیری گودی میں سر رکھ کہ سونا مجھے تجھ کو تکنا ہے بس اور رونا مجھے

کاش اب ختم ہو جائیں یہ دوریاں آہ کب تک رہیں گی یہ مجبوریاں

مجھ کو آنچل میں اپنے بلا لو نا ماں قید فرقت سے اب تو چھڑا لو نا ماں

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!