مضمون 2026/03/11 مشاہدات

قلم کی آواز سے تخیل کی پرواز تک

بذریعہ

بلال أحمد

شعر ایک کیفیت کا نام ہے جو شاعر پر طاری ہوتی ہے اور اس پر تخیلات کی پرواز کا دروازہ کھلتا ہے اور وہ افکار کی دنیا میں سفر کرتا ہوا فلک کی بلندیوں کو چھوتا ہوا ایک ایسے عالم میں پہنچ جاتا ہے جہاں حقیقت مجاز کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے، اور معنوی چیزیں حسی بن کر دکھائی دیتی ہیں، جہاں جذبات کے سمندر میں طغیانی برپا ہوتی ہے اور اسکی ٹھاٹھیں مارتی موجوں میں افکار کے مابین تنازع کا بھنور اپنے جوبن پر ہوتا ہے، ماضی حال اور مستقبل ایک میز پر محوِ گفتار دکھائی دیتے ہیں، یادوں کے پنچھی گاتے گنگناتے اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے اڑتے پھرتے ہیں، کہیں وصالِ یار کی خوشیوں میں جشن کا سماں ، اور کہیں فراق کے غم میں صفِ ماتم بچھی ہوئی، کہیں انتظارِ آمد میں راہ تکتے چراغ، اور کہیں دل کے کواڑ بند کیے مایوس دریچے، کہیں شکایتِ بے رخی سے جنم لیتی تلخیاں، کہیں شرکتِ غیر پر غیرت کی چادر میں چھید کردینے والے تیر ، کہیں عاقل اور سمجھدار کو بھی غلام کردینے والی ادائیں، تو کہیں قیدِ محبت کی بیڑیوں کا مزہ چکھانے والی آنکھیں، کہیں میزان وفا پر کھلنے والے بھید، اور آتشِ عشق میں کودنے والے پتنگے، کہیں باہمی سمجھوتے کے نام پر فدا ہوتے جسم، کہیں ملاقات کی سہانی اور میٹھی راتیں، اور کہیں غم فرقت کی کڑوی کسیلی اور زہریلی خلوتیں، کہیں چاند سے تاریکیوں میں دیوانہ وار گفت و شنید، کہیں محفلِ ادب میں وزن کی لڑی میں پروئے کلمات کی دھوم دھام، کہیں میخانے میں ساقی کے ہاتھوں چھلکتے جام، کہیں پینے پلانے کا بیاں،کہیں رونے رلانے کی داستاں، تو کہیں ہنسنے ہنسانے کی باتیں انہی کے درمیاں ، اور اس کے سوا اور بہت کچھ

یہ وہ عالم دیوانگی ہے جس تک پرواز ہر کسی کے بس کی بات نہیں، یہ شاعر کا دل نازک ہے جو اس جہاں کا باسی ہے جسکی کامیابی کا یہ عالم ہے کہ اس عالم دیوانگی سے جو متاعِ جاں خرید کر لاتا ہے وہ ہاتھوں ہاتھ نکل جاتا ہے اور مہنگے داموں فروخت ہوجاتا ہے مگر سب بک جانے کے بعد شاعر تنہا رہ جاتا ہے اور یہی تنہائی اور اکیلا پن اسے دوبارہ پرواز پر مجبور کرتے ہیں، یہ ایک راز ہے جو ہرکسی پر آشکارا نہیں ہوا کرتا، اور ہر کوئی اسے سمجھ نہیں پاتا، کہنے کو تو شعر بھی موزون کلمات کا مجموعہ ہی ہوتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک الگ دنیا ہوتی ہے جسکی پرواز شاعر کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے.

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!